آج میرا دل ٹوٹ گیا۔
ایک انسان…
B.Com۔
Master of Computer Science۔
18 سال تعلیم۔
اور آخر میں؟
وہ میری وال پر لکھ رہا ہے:
“مجھے نوکری چاہیے…”
کیا یہی خواب تھا؟
کیا اسی دن کے لیے اس کے والدین نے فیس دی؟
کیا اسی کے لیے اس نے جوانی کے سال کتابوں میں جھونک دیے؟
ہائر ایجوکیشن کمیشن!
وزارتِ تعلیم!
یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز!
آپ جواب دیں۔
آپ نے اس نوجوان کو کیا دیا؟
ڈگری؟
یا بے بسی؟
18 سال بعد بھی اگر ایک گریجویٹ اپنی کمائی خود نہیں بنا سکتا…
تو ہمیں سچ بولنا ہوگا —
یہ طالب علم کی ناکامی نہیں۔
یہ سسٹم کی ناکامی ہے۔
کلاس روم میں ہر چیز کا استاد ہے —
ریاضی کا۔
فزکس کا۔
انگریزی کا۔
لیکن “کمائی کا استاد” کیوں نہیں ہے؟
“Earning Coach” کیوں نہیں ہے؟
“Income Builder” کیوں نہیں ہے؟
کیوں نوجوان کو سکھایا جاتا ہے کہ نوکری کیسے ڈھونڈنی ہے…
یہ کیوں نہیں سکھایا جاتا کہ آمدنی کیسے بنانی ہے؟
میرا دل اس وقت جلتا ہے
جب ایک تعلیم یافتہ انسان
100,000 روپے ماہانہ کی بھی چھوٹی سی نوکری مانگ رہا ہوتا ہے۔
یہ اس کی توہین ہے۔
یہ اس کی صلاحیت کی توہین ہے۔
یہ اس کے خوابوں کی توہین ہے۔
اور پھر لوگ پوچھتے ہیں:
آپ اتنے جذباتی کیوں ہوتے ہیں؟
اس لیے کہ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ
ایک قوم کے نوجوان
ڈگریوں کے ساتھ بھی محتاج ہوں۔
اگر ایک آٹھویں جماعت کا بچہ
صحیح سسٹم، صحیح رہنمائی اور صحیح تربیت کے ساتھ
15 سال کی عمر میں 150,000 روپے ماہانہ کمانے کی صلاحیت بنا سکتا ہے…
تو 18 سال پڑھا ہوا گریجویٹ کیوں نہیں؟
مسئلہ نوجوان نہیں ہے۔
مسئلہ نصاب ہے۔
مسئلہ وہ سوچ ہے جو ابھی بھی 200 سال پرانے ماڈل سے چمٹی ہوئی ہے۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ سب ٹھیک ہے —
تو اس اسد حسین کی آنکھوں میں دیکھیں۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ سسٹم کامیاب ہے —
تو ان لاکھوں نوجوانوں کی پوسٹس پڑھیں
جو روز “مجھے نوکری چاہیے” لکھ رہے ہوتے ہیں۔
میں خاموش نہیں رہوں گا۔
اگر آپ واقعی سچ دیکھنا چاہتے ہیں…
اگر آپ واقعی جاننا چاہتے ہیں کہ تعلیم بدل سکتی ہے یا نہیں…
تو فون نہ کریں۔
بحث نہ کریں۔
آئیں۔
اسلام آباد آئیں۔
کراچی (منوّر کیمپس) آئیں۔
2 گھنٹے کلاس میں بیٹھیں۔
3 بچوں سے بات کریں۔
ان کا اعتماد سنیں۔
ان کی آنکھوں میں خود مختاری دیکھیں۔
پھر فیصلہ کریں —
مسئلہ کہاں ہے؟
اگر آپ کے دل میں ابھی بھی درد ہے…
تو آئیں اور دیکھیں کہ تعلیم کمائی کیسے بن سکتی ہے۔
ورنہ ہم ڈگریاں بانٹتے رہیں گے
اور نوجوان دیواروں پر نوکری مانگتے رہیں گے۔
فیصلہ آپ کا ہے۔
— ریحان اللہ والا
ایک انسان…
B.Com۔
Master of Computer Science۔
18 سال تعلیم۔
اور آخر میں؟
وہ میری وال پر لکھ رہا ہے:
“مجھے نوکری چاہیے…”
کیا یہی خواب تھا؟
کیا اسی دن کے لیے اس کے والدین نے فیس دی؟
کیا اسی کے لیے اس نے جوانی کے سال کتابوں میں جھونک دیے؟
ہائر ایجوکیشن کمیشن!
وزارتِ تعلیم!
یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز!
آپ جواب دیں۔
آپ نے اس نوجوان کو کیا دیا؟
ڈگری؟
یا بے بسی؟
18 سال بعد بھی اگر ایک گریجویٹ اپنی کمائی خود نہیں بنا سکتا…
تو ہمیں سچ بولنا ہوگا —
یہ طالب علم کی ناکامی نہیں۔
یہ سسٹم کی ناکامی ہے۔
کلاس روم میں ہر چیز کا استاد ہے —
ریاضی کا۔
فزکس کا۔
انگریزی کا۔
لیکن “کمائی کا استاد” کیوں نہیں ہے؟
“Earning Coach” کیوں نہیں ہے؟
“Income Builder” کیوں نہیں ہے؟
کیوں نوجوان کو سکھایا جاتا ہے کہ نوکری کیسے ڈھونڈنی ہے…
یہ کیوں نہیں سکھایا جاتا کہ آمدنی کیسے بنانی ہے؟
میرا دل اس وقت جلتا ہے
جب ایک تعلیم یافتہ انسان
100,000 روپے ماہانہ کی بھی چھوٹی سی نوکری مانگ رہا ہوتا ہے۔
یہ اس کی توہین ہے۔
یہ اس کی صلاحیت کی توہین ہے۔
یہ اس کے خوابوں کی توہین ہے۔
اور پھر لوگ پوچھتے ہیں:
آپ اتنے جذباتی کیوں ہوتے ہیں؟
اس لیے کہ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ
ایک قوم کے نوجوان
ڈگریوں کے ساتھ بھی محتاج ہوں۔
اگر ایک آٹھویں جماعت کا بچہ
صحیح سسٹم، صحیح رہنمائی اور صحیح تربیت کے ساتھ
15 سال کی عمر میں 150,000 روپے ماہانہ کمانے کی صلاحیت بنا سکتا ہے…
تو 18 سال پڑھا ہوا گریجویٹ کیوں نہیں؟
مسئلہ نوجوان نہیں ہے۔
مسئلہ نصاب ہے۔
مسئلہ وہ سوچ ہے جو ابھی بھی 200 سال پرانے ماڈل سے چمٹی ہوئی ہے۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ سب ٹھیک ہے —
تو اس اسد حسین کی آنکھوں میں دیکھیں۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ سسٹم کامیاب ہے —
تو ان لاکھوں نوجوانوں کی پوسٹس پڑھیں
جو روز “مجھے نوکری چاہیے” لکھ رہے ہوتے ہیں۔
میں خاموش نہیں رہوں گا۔
اگر آپ واقعی سچ دیکھنا چاہتے ہیں…
اگر آپ واقعی جاننا چاہتے ہیں کہ تعلیم بدل سکتی ہے یا نہیں…
تو فون نہ کریں۔
بحث نہ کریں۔
آئیں۔
اسلام آباد آئیں۔
کراچی (منوّر کیمپس) آئیں۔
2 گھنٹے کلاس میں بیٹھیں۔
3 بچوں سے بات کریں۔
ان کا اعتماد سنیں۔
ان کی آنکھوں میں خود مختاری دیکھیں۔
پھر فیصلہ کریں —
مسئلہ کہاں ہے؟
اگر آپ کے دل میں ابھی بھی درد ہے…
تو آئیں اور دیکھیں کہ تعلیم کمائی کیسے بن سکتی ہے۔
ورنہ ہم ڈگریاں بانٹتے رہیں گے
اور نوجوان دیواروں پر نوکری مانگتے رہیں گے۔
فیصلہ آپ کا ہے۔
— ریحان اللہ والا
آج میرا دل ٹوٹ گیا۔
ایک انسان…
B.Com۔
Master of Computer Science۔
18 سال تعلیم۔
اور آخر میں؟
وہ میری وال پر لکھ رہا ہے:
“مجھے نوکری چاہیے…”
کیا یہی خواب تھا؟
کیا اسی دن کے لیے اس کے والدین نے فیس دی؟
کیا اسی کے لیے اس نے جوانی کے سال کتابوں میں جھونک دیے؟
📢 ہائر ایجوکیشن کمیشن!
📢 وزارتِ تعلیم!
📢 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز!
آپ جواب دیں۔
آپ نے اس نوجوان کو کیا دیا؟
ڈگری؟
یا بے بسی؟
18 سال بعد بھی اگر ایک گریجویٹ اپنی کمائی خود نہیں بنا سکتا…
تو ہمیں سچ بولنا ہوگا —
یہ طالب علم کی ناکامی نہیں۔
یہ سسٹم کی ناکامی ہے۔
کلاس روم میں ہر چیز کا استاد ہے —
ریاضی کا۔
فزکس کا۔
انگریزی کا۔
لیکن “کمائی کا استاد” کیوں نہیں ہے؟
“Earning Coach” کیوں نہیں ہے؟
“Income Builder” کیوں نہیں ہے؟
کیوں نوجوان کو سکھایا جاتا ہے کہ نوکری کیسے ڈھونڈنی ہے…
یہ کیوں نہیں سکھایا جاتا کہ آمدنی کیسے بنانی ہے؟
میرا دل اس وقت جلتا ہے
جب ایک تعلیم یافتہ انسان
100,000 روپے ماہانہ کی بھی چھوٹی سی نوکری مانگ رہا ہوتا ہے۔
یہ اس کی توہین ہے۔
یہ اس کی صلاحیت کی توہین ہے۔
یہ اس کے خوابوں کی توہین ہے۔
اور پھر لوگ پوچھتے ہیں:
آپ اتنے جذباتی کیوں ہوتے ہیں؟
اس لیے کہ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ
ایک قوم کے نوجوان
ڈگریوں کے ساتھ بھی محتاج ہوں۔
اگر ایک آٹھویں جماعت کا بچہ
صحیح سسٹم، صحیح رہنمائی اور صحیح تربیت کے ساتھ
15 سال کی عمر میں 150,000 روپے ماہانہ کمانے کی صلاحیت بنا سکتا ہے…
تو 18 سال پڑھا ہوا گریجویٹ کیوں نہیں؟
مسئلہ نوجوان نہیں ہے۔
مسئلہ نصاب ہے۔
مسئلہ وہ سوچ ہے جو ابھی بھی 200 سال پرانے ماڈل سے چمٹی ہوئی ہے۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ سب ٹھیک ہے —
تو اس اسد حسین کی آنکھوں میں دیکھیں۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ سسٹم کامیاب ہے —
تو ان لاکھوں نوجوانوں کی پوسٹس پڑھیں
جو روز “مجھے نوکری چاہیے” لکھ رہے ہوتے ہیں۔
میں خاموش نہیں رہوں گا۔
اگر آپ واقعی سچ دیکھنا چاہتے ہیں…
اگر آپ واقعی جاننا چاہتے ہیں کہ تعلیم بدل سکتی ہے یا نہیں…
تو فون نہ کریں۔
بحث نہ کریں۔
آئیں۔
اسلام آباد آئیں۔
کراچی (منوّر کیمپس) آئیں۔
2 گھنٹے کلاس میں بیٹھیں۔
3 بچوں سے بات کریں۔
ان کا اعتماد سنیں۔
ان کی آنکھوں میں خود مختاری دیکھیں۔
پھر فیصلہ کریں —
مسئلہ کہاں ہے؟
اگر آپ کے دل میں ابھی بھی درد ہے…
تو آئیں اور دیکھیں کہ تعلیم کمائی کیسے بن سکتی ہے۔
ورنہ ہم ڈگریاں بانٹتے رہیں گے
اور نوجوان دیواروں پر نوکری مانگتے رہیں گے۔
فیصلہ آپ کا ہے۔
— ریحان اللہ والا
0 Reacties
0 aandelen
28 Views