ایک سفر… آٹھ چیک… اور پھر بھی ہم AI میں اربوں لگا رہے ہیں!

ایئرپورٹ داخل ہوتے ہی پاسپورٹ دکھاؤ۔
پھر کسٹمز۔
پھر اینٹی نارکوٹکس۔
پھر ایئرلائن کاؤنٹر۔
پھر امیگریشن کاؤنٹر۔
پھر امیگریشن آفیسر۔
پھر گیٹ۔
اور پھر جہاز کے ٹنل سے پہلے ایک اور چیک۔

ایک مسافر سوچتا ہے:
میں سفر پر جا رہا ہوں… یا امتحان دینے؟

امیگریشن افسر پاسپورٹ دیکھتے ہیں۔
پھر مجھے دیکھتے ہیں۔
پھر پاسپورٹ۔
پھر ٹکٹ۔
پھر مجھے۔
پھر دوبارہ پاسپورٹ۔

۳ سے ۴ منٹ تک یہی عمل جاری رہتا ہے۔

اور ہم اعلان کرتے ہیں:
“حکومت ایک ارب ڈالر Artificial Intelligence پر لگا رہی ہے!”

سوال یہ نہیں کہ سیکیورٹی کیوں ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر AI آ رہا ہے تو
کیا یہ سب پروسیس 10 سیکنڈ میں نہیں ہو سکتا؟

کیا ایک بایومیٹرک اسکین کافی نہیں؟
کیا ایک انٹیگریٹڈ سسٹم نہیں بن سکتا؟
کیا ٹیکنالوجی کا مطلب صرف اعلان ہے یا آسانی بھی؟

AI سرور میں نہیں…
AI نظام میں ہوتا ہے۔

اگر نظام وہی پرانا رہے
تو اربوں ڈالر بھی
صرف فائلوں میں AI رہ جائیں گے۔

— Khurram Zuberi
✈️ ایک سفر… آٹھ چیک… اور پھر بھی ہم AI میں اربوں لگا رہے ہیں! ایئرپورٹ داخل ہوتے ہی پاسپورٹ دکھاؤ۔ پھر کسٹمز۔ پھر اینٹی نارکوٹکس۔ پھر ایئرلائن کاؤنٹر۔ پھر امیگریشن کاؤنٹر۔ پھر امیگریشن آفیسر۔ پھر گیٹ۔ اور پھر جہاز کے ٹنل سے پہلے ایک اور چیک۔ ایک مسافر سوچتا ہے: میں سفر پر جا رہا ہوں… یا امتحان دینے؟ امیگریشن افسر پاسپورٹ دیکھتے ہیں۔ پھر مجھے دیکھتے ہیں۔ پھر پاسپورٹ۔ پھر ٹکٹ۔ پھر مجھے۔ پھر دوبارہ پاسپورٹ۔ ۳ سے ۴ منٹ تک یہی عمل جاری رہتا ہے۔ اور ہم اعلان کرتے ہیں: “حکومت ایک ارب ڈالر Artificial Intelligence پر لگا رہی ہے!” سوال یہ نہیں کہ سیکیورٹی کیوں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر AI آ رہا ہے تو کیا یہ سب پروسیس 10 سیکنڈ میں نہیں ہو سکتا؟ کیا ایک بایومیٹرک اسکین کافی نہیں؟ کیا ایک انٹیگریٹڈ سسٹم نہیں بن سکتا؟ کیا ٹیکنالوجی کا مطلب صرف اعلان ہے یا آسانی بھی؟ AI سرور میں نہیں… AI نظام میں ہوتا ہے۔ اگر نظام وہی پرانا رہے تو اربوں ڈالر بھی صرف فائلوں میں AI رہ جائیں گے۔ — Khurram Zuberi
0 تبصرے 0 شیئرز 181 ویوز