کتاب سے آگے کا جہاں
جب سے میری فراغت ہوئی میں ایک بے چینی اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا رہا اور اکثروبیشتر رفقاء کے ساتھ معاشی چینلجز کے موضوع پر گھنٹوں مکالمے رہتے کہ کیسے اپنے سماج اور اپنے ہم مشرب لوگوں کے معاشی مستقبل کو سنوارا جائے
اور کوئی ایسا منظم طرز تعلیم یا سسٹم تشکیل دیا جائے
کہ ہمارا دوست ہمارا بھائی ہمارا شاگرد جب سند فراغت حاصل کرے تو معاشی استحکام نہ سہی کم از کم اتنا ہو کہ وہ گھریلو اخراجات کے بابت خود کفیل ہو جائے
مگر یہ سب ایک خواب قصہ کہانی ہی محسوس ہوتا تھا
مگر ریحان سکول میں جاکر چشم کشا حالات سامنے آئے
اور یہ انکشاف ہوا کہ اگر نظام تشکیل دیا جائے تو اس نظام سے نکلنے والا تھوڑے عرصے میں ہی خود کفیل ہو سکتا ہے
بس کیا تھا وہی بیٹھے بیٹھے جناب مہتمم صاحب کی موجودگی میں اس عزم کا اظہار کیا کہ جلد تعلیمی کمیٹی کی مشاورت سے ہم ایک تخصص یا کورس الغرض کسی بھی شکل میں اپنے طبقے کی اس مشکل کو آسان کرنے کی اپنے تئی ہر ممکن کوشش کریں گے
تاکہ جن مسائل سے ہم نکلے ہمارا آنے والا مستقبل ان مسائل کا شکار نہ ہو اور وہ خود کفیل عالم خطیب مدرس مبلغ اور مفتی بن کر معاشرے کی دینی ضرورتوں کو پورا کر سکے
ان شاءاللہ اللہ سے دعا ہے جلد از جلد اس مبارک عزم کو عملی شکل میں لایا جائے
اس کے ساتھ ساتھ جناب Rehan Allahwala
کا بھرپور شکریہ اور نیک تمنائیں کہ کتنے خوبصورتی اور نیک نیتی سے آپ اپنی ذات میں انجمن بن کر معاشرے ملک و ملت کی خدمت میں مصروف عمل ہیں اللہ آپ کی تائید و نصرت فرما کر معاشرے کو آپکی تخلیقی صلاحیتوں سے خوب استفادے کی توفیقات سے نوازے
بلا شبہ آپ دوسروں کو خود کفیل بنانے کی محنت کرکے
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت کو زندہ کر رہے ہیں
اور اگر میں یوں کہوں تو شائد غلط نہیں ہوں گا
کہ آپ مِٹی ہوئی سنت کو زندہ کر رہے ہیں
اللہ آپ کا نگہبان ہو
خیر اندیش عثمان طاہر

Moulana Usman Tahir
Cc Parvez Abbasi
کتاب سے آگے کا جہاں جب سے میری فراغت ہوئی میں ایک بے چینی اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا رہا اور اکثروبیشتر رفقاء کے ساتھ معاشی چینلجز کے موضوع پر گھنٹوں مکالمے رہتے کہ کیسے اپنے سماج اور اپنے ہم مشرب لوگوں کے معاشی مستقبل کو سنوارا جائے اور کوئی ایسا منظم طرز تعلیم یا سسٹم تشکیل دیا جائے کہ ہمارا دوست ہمارا بھائی ہمارا شاگرد جب سند فراغت حاصل کرے تو معاشی استحکام نہ سہی کم از کم اتنا ہو کہ وہ گھریلو اخراجات کے بابت خود کفیل ہو جائے مگر یہ سب ایک خواب قصہ کہانی ہی محسوس ہوتا تھا مگر ریحان سکول میں جاکر چشم کشا حالات سامنے آئے اور یہ انکشاف ہوا کہ اگر نظام تشکیل دیا جائے تو اس نظام سے نکلنے والا تھوڑے عرصے میں ہی خود کفیل ہو سکتا ہے بس کیا تھا وہی بیٹھے بیٹھے جناب مہتمم صاحب کی موجودگی میں اس عزم کا اظہار کیا کہ جلد تعلیمی کمیٹی کی مشاورت سے ہم ایک تخصص یا کورس الغرض کسی بھی شکل میں اپنے طبقے کی اس مشکل کو آسان کرنے کی اپنے تئی ہر ممکن کوشش کریں گے تاکہ جن مسائل سے ہم نکلے ہمارا آنے والا مستقبل ان مسائل کا شکار نہ ہو اور وہ خود کفیل عالم خطیب مدرس مبلغ اور مفتی بن کر معاشرے کی دینی ضرورتوں کو پورا کر سکے ان شاءاللہ اللہ سے دعا ہے جلد از جلد اس مبارک عزم کو عملی شکل میں لایا جائے اس کے ساتھ ساتھ جناب Rehan Allahwala کا بھرپور شکریہ اور نیک تمنائیں کہ کتنے خوبصورتی اور نیک نیتی سے آپ اپنی ذات میں انجمن بن کر معاشرے ملک و ملت کی خدمت میں مصروف عمل ہیں اللہ آپ کی تائید و نصرت فرما کر معاشرے کو آپکی تخلیقی صلاحیتوں سے خوب استفادے کی توفیقات سے نوازے بلا شبہ آپ دوسروں کو خود کفیل بنانے کی محنت کرکے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت کو زندہ کر رہے ہیں اور اگر میں یوں کہوں تو شائد غلط نہیں ہوں گا کہ آپ مِٹی ہوئی سنت کو زندہ کر رہے ہیں اللہ آپ کا نگہبان ہو خیر اندیش عثمان طاہر ✍️ Moulana Usman Tahir Cc Parvez Abbasi
0 Commentaires 0 Parts 26 Vue