ایک شعر… مگر پورا نظامِ تعلیم ہلا دینے والا۔
“شکایت ہے مجھے یا رب خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا”
یہ شعر ہے شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کا۔
آسان لفظوں میں مطلب کیا ہے؟
اقبال اللہ سے شکوہ کر رہے ہیں…
کہ اے اللہ!
یہ جو اسکولوں کے مالک اور استاد ہیں…
یہ بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟
شاہین کون ہے؟
شاہین وہ پرندہ ہے جو آسمان کی بلندیوں میں اڑتا ہے۔
بلند نظر، آزاد، بہادر، خوددار۔
اقبال کہتے ہیں:
ہمارے بچے شاہین بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لیکن…
انہیں کیا سکھایا جا رہا ہے؟
خاک بازی —
یعنی زمین پر رینگنا،
چھوٹے خواب دیکھنا،
صرف رٹنا،
صرف نوکری کے پیچھے بھاگنا،
صرف امتحان پاس کرنا۔
اقبال کا درد یہ ہے کہ:
جن بچوں کو آسمان فتح کرنا تھا
انہیں مٹی میں کھیلنا سکھایا جا رہا ہے۔
یہ صرف شعر نہیں۔
یہ پورے تعلیمی نظام پر چارج شیٹ ہے۔
سوال آپ سے ہے:
آپ اپنے بچے کو شاہین بنا رہے ہیں؟
یا صرف اچھے نمبروں کی مشین؟
اگر یہ شعر دل کو لگا…
تو اسے پڑھ کر مت چھوڑیں۔
سوچیں۔
اپنے اسکول سے سوال کریں۔
اپنے نظام سے سوال کریں۔
اور سب سے پہلے خود سے سوال کریں۔
کیونکہ قومیں وہی بنتی ہیں
جو شاہینوں کو شاہین رہنے دیتی ہیں۔
“شکایت ہے مجھے یا رب خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا”
یہ شعر ہے شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کا۔
آسان لفظوں میں مطلب کیا ہے؟
اقبال اللہ سے شکوہ کر رہے ہیں…
کہ اے اللہ!
یہ جو اسکولوں کے مالک اور استاد ہیں…
یہ بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟
شاہین کون ہے؟
شاہین وہ پرندہ ہے جو آسمان کی بلندیوں میں اڑتا ہے۔
بلند نظر، آزاد، بہادر، خوددار۔
اقبال کہتے ہیں:
ہمارے بچے شاہین بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لیکن…
انہیں کیا سکھایا جا رہا ہے؟
خاک بازی —
یعنی زمین پر رینگنا،
چھوٹے خواب دیکھنا،
صرف رٹنا،
صرف نوکری کے پیچھے بھاگنا،
صرف امتحان پاس کرنا۔
اقبال کا درد یہ ہے کہ:
جن بچوں کو آسمان فتح کرنا تھا
انہیں مٹی میں کھیلنا سکھایا جا رہا ہے۔
یہ صرف شعر نہیں۔
یہ پورے تعلیمی نظام پر چارج شیٹ ہے۔
سوال آپ سے ہے:
آپ اپنے بچے کو شاہین بنا رہے ہیں؟
یا صرف اچھے نمبروں کی مشین؟
اگر یہ شعر دل کو لگا…
تو اسے پڑھ کر مت چھوڑیں۔
سوچیں۔
اپنے اسکول سے سوال کریں۔
اپنے نظام سے سوال کریں۔
اور سب سے پہلے خود سے سوال کریں۔
کیونکہ قومیں وہی بنتی ہیں
جو شاہینوں کو شاہین رہنے دیتی ہیں۔
🔥 ایک شعر… مگر پورا نظامِ تعلیم ہلا دینے والا۔
“شکایت ہے مجھے یا رب خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا”
یہ شعر ہے شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کا۔
آسان لفظوں میں مطلب کیا ہے؟
اقبال اللہ سے شکوہ کر رہے ہیں…
کہ اے اللہ!
یہ جو اسکولوں کے مالک اور استاد ہیں…
یہ بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟
🦅 شاہین کون ہے؟
شاہین وہ پرندہ ہے جو آسمان کی بلندیوں میں اڑتا ہے۔
بلند نظر، آزاد، بہادر، خوددار۔
اقبال کہتے ہیں:
ہمارے بچے شاہین بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لیکن…
انہیں کیا سکھایا جا رہا ہے؟
🌪️ خاک بازی —
یعنی زمین پر رینگنا،
چھوٹے خواب دیکھنا،
صرف رٹنا،
صرف نوکری کے پیچھے بھاگنا،
صرف امتحان پاس کرنا۔
اقبال کا درد یہ ہے کہ:
جن بچوں کو آسمان فتح کرنا تھا
انہیں مٹی میں کھیلنا سکھایا جا رہا ہے۔
یہ صرف شعر نہیں۔
یہ پورے تعلیمی نظام پر چارج شیٹ ہے۔
سوال آپ سے ہے:
آپ اپنے بچے کو شاہین بنا رہے ہیں؟
یا صرف اچھے نمبروں کی مشین؟
🔥 اگر یہ شعر دل کو لگا…
تو اسے پڑھ کر مت چھوڑیں۔
سوچیں۔
اپنے اسکول سے سوال کریں۔
اپنے نظام سے سوال کریں۔
اور سب سے پہلے خود سے سوال کریں۔
کیونکہ قومیں وہی بنتی ہیں
جو شاہینوں کو شاہین رہنے دیتی ہیں۔
0 Reacties
0 aandelen
28 Views