زیادہ تر لوگ جہنم میں اپنی زبان کی وجہ سے جائیں گے
— ایک خاموش قاتل، ایک نظرانداز کی گئی حقیقت
ہم عام طور پر گناہوں کی فہرست میں
شراب، زنا، چوری، ظلم… سب کو اوپر رکھتے ہیں۔
لیکن ایک چیز ہے جو ہر وقت ہمارے ساتھ ہے
اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ ہمیں کہاں لے جا رہی ہے۔
ہماری زبان۔
⸻
Prophet Muhammad ﷺ نے فرمایا:
“زیادہ تر لوگ جہنم میں اپنی زبانوں کی وجہ سے جائیں گے۔”
(ترمذی)
یہ کوئی معمولی بات نہیں۔
یہ ایک سیدھی، کھلی، ڈراؤنی وارننگ ہے۔
⸻
ہم سمجھتے ہیں کہ
ہم نے تو کسی کو مارا نہیں
ہم نے تو کسی کا مال نہیں لوٹا
ہم نے تو کوئی بڑا گناہ نہیں کیا
لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ:
• کسی کی غیبت
• کسی کی تضحیک
• کسی کا مذاق
• کسی پر طنز
• کسی کا دل توڑ دینا
• جھوٹ، الزام، بدزبانی
یہ سب زبان کے گناہ ہیں —
اور یہی گناہ سب سے زیادہ لوگوں کو جہنم میں لے جاتے ہیں۔
⸻
نبی ﷺ نے فرمایا:
“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں۔”
(بخاری و مسلم)
سوچنے کی بات ہے:
اگر میری زبان سے لوگ محفوظ نہیں
تو میں کس درجے کا مسلمان ہوں؟
⸻
پھر ایک اور سخت بات:
“اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند وہ شخص ہے جو بدزبان اور گالی دینے والا ہو۔”
(ترمذی)
یعنی بدزبانی صرف اخلاقی خرابی نہیں
یہ اللہ کی ناپسندیدگی ہے۔
⸻
اور سب سے زیادہ چونکا دینے والی حدیث:
“آدمی ایک بات بغیر سوچے کہہ دیتا ہے، اور وہ بات اسے مشرق و مغرب کے فاصلے جتنی دور جہنم میں لے جاتی ہے۔”
(بخاری و مسلم)
ایک جملہ۔
ایک طنز۔
ایک مذاق۔
ایک اسٹیٹس۔
ایک وائس نوٹ۔
اور انجام… ناقابلِ تصور۔
⸻
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ایک سنہری اصول دیا:
“جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔”
(بخاری)
اسلام ہمیں خاموشی سکھاتا ہے
کیونکہ خاموشی نجات ہے
اور بے لگام زبان ہلاکت۔
⸻
آج خود سے ایک سادہ سوال کریں
• کیا میری زبان نے آج کسی کو دکھ دیا؟
• کیا میں نے کسی کی پیٹھ پیچھے بات کی؟
• کیا میں نے کسی کو نیچا دکھایا؟
• کیا خاموش رہ سکتا تھا، مگر بول پڑا؟
اگر ہاں…
تو آج ہی توبہ کریں۔
کیونکہ:
زبان سے گناہ تیز ہوتے ہیں
مگر توبہ ان سے بھی تیز ہے۔
⸻
یاد رکھیں:
جہنم کا راستہ اکثر زبان سے شروع ہوتا ہے
اور جنت کا راستہ اکثر خاموشی سے۔
— ایک خاموش قاتل، ایک نظرانداز کی گئی حقیقت
ہم عام طور پر گناہوں کی فہرست میں
شراب، زنا، چوری، ظلم… سب کو اوپر رکھتے ہیں۔
لیکن ایک چیز ہے جو ہر وقت ہمارے ساتھ ہے
اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ ہمیں کہاں لے جا رہی ہے۔
ہماری زبان۔
⸻
Prophet Muhammad ﷺ نے فرمایا:
“زیادہ تر لوگ جہنم میں اپنی زبانوں کی وجہ سے جائیں گے۔”
(ترمذی)
یہ کوئی معمولی بات نہیں۔
یہ ایک سیدھی، کھلی، ڈراؤنی وارننگ ہے۔
⸻
ہم سمجھتے ہیں کہ
ہم نے تو کسی کو مارا نہیں
ہم نے تو کسی کا مال نہیں لوٹا
ہم نے تو کوئی بڑا گناہ نہیں کیا
لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ:
• کسی کی غیبت
• کسی کی تضحیک
• کسی کا مذاق
• کسی پر طنز
• کسی کا دل توڑ دینا
• جھوٹ، الزام، بدزبانی
یہ سب زبان کے گناہ ہیں —
اور یہی گناہ سب سے زیادہ لوگوں کو جہنم میں لے جاتے ہیں۔
⸻
نبی ﷺ نے فرمایا:
“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں۔”
(بخاری و مسلم)
سوچنے کی بات ہے:
اگر میری زبان سے لوگ محفوظ نہیں
تو میں کس درجے کا مسلمان ہوں؟
⸻
پھر ایک اور سخت بات:
“اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند وہ شخص ہے جو بدزبان اور گالی دینے والا ہو۔”
(ترمذی)
یعنی بدزبانی صرف اخلاقی خرابی نہیں
یہ اللہ کی ناپسندیدگی ہے۔
⸻
اور سب سے زیادہ چونکا دینے والی حدیث:
“آدمی ایک بات بغیر سوچے کہہ دیتا ہے، اور وہ بات اسے مشرق و مغرب کے فاصلے جتنی دور جہنم میں لے جاتی ہے۔”
(بخاری و مسلم)
ایک جملہ۔
ایک طنز۔
ایک مذاق۔
ایک اسٹیٹس۔
ایک وائس نوٹ۔
اور انجام… ناقابلِ تصور۔
⸻
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ایک سنہری اصول دیا:
“جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔”
(بخاری)
اسلام ہمیں خاموشی سکھاتا ہے
کیونکہ خاموشی نجات ہے
اور بے لگام زبان ہلاکت۔
⸻
آج خود سے ایک سادہ سوال کریں
• کیا میری زبان نے آج کسی کو دکھ دیا؟
• کیا میں نے کسی کی پیٹھ پیچھے بات کی؟
• کیا میں نے کسی کو نیچا دکھایا؟
• کیا خاموش رہ سکتا تھا، مگر بول پڑا؟
اگر ہاں…
تو آج ہی توبہ کریں۔
کیونکہ:
زبان سے گناہ تیز ہوتے ہیں
مگر توبہ ان سے بھی تیز ہے۔
⸻
یاد رکھیں:
جہنم کا راستہ اکثر زبان سے شروع ہوتا ہے
اور جنت کا راستہ اکثر خاموشی سے۔
🔥 زیادہ تر لوگ جہنم میں اپنی زبان کی وجہ سے جائیں گے 🔥
— ایک خاموش قاتل، ایک نظرانداز کی گئی حقیقت
ہم عام طور پر گناہوں کی فہرست میں
شراب، زنا، چوری، ظلم… سب کو اوپر رکھتے ہیں۔
لیکن ایک چیز ہے جو ہر وقت ہمارے ساتھ ہے
اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ ہمیں کہاں لے جا رہی ہے۔
👉 ہماری زبان۔
⸻
Prophet Muhammad ﷺ نے فرمایا:
“زیادہ تر لوگ جہنم میں اپنی زبانوں کی وجہ سے جائیں گے۔”
(ترمذی)
یہ کوئی معمولی بات نہیں۔
یہ ایک سیدھی، کھلی، ڈراؤنی وارننگ ہے۔
⸻
ہم سمجھتے ہیں کہ
ہم نے تو کسی کو مارا نہیں
ہم نے تو کسی کا مال نہیں لوٹا
ہم نے تو کوئی بڑا گناہ نہیں کیا
لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ:
• کسی کی غیبت
• کسی کی تضحیک
• کسی کا مذاق
• کسی پر طنز
• کسی کا دل توڑ دینا
• جھوٹ، الزام، بدزبانی
یہ سب زبان کے گناہ ہیں —
اور یہی گناہ سب سے زیادہ لوگوں کو جہنم میں لے جاتے ہیں۔
⸻
نبی ﷺ نے فرمایا:
“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں۔”
(بخاری و مسلم)
سوچنے کی بات ہے:
اگر میری زبان سے لوگ محفوظ نہیں
تو میں کس درجے کا مسلمان ہوں؟
⸻
پھر ایک اور سخت بات:
“اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند وہ شخص ہے جو بدزبان اور گالی دینے والا ہو۔”
(ترمذی)
یعنی بدزبانی صرف اخلاقی خرابی نہیں
یہ اللہ کی ناپسندیدگی ہے۔
⸻
اور سب سے زیادہ چونکا دینے والی حدیث:
“آدمی ایک بات بغیر سوچے کہہ دیتا ہے، اور وہ بات اسے مشرق و مغرب کے فاصلے جتنی دور جہنم میں لے جاتی ہے۔”
(بخاری و مسلم)
ایک جملہ۔
ایک طنز۔
ایک مذاق۔
ایک اسٹیٹس۔
ایک وائس نوٹ۔
اور انجام… ناقابلِ تصور۔
⸻
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ایک سنہری اصول دیا:
“جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔”
(بخاری)
اسلام ہمیں خاموشی سکھاتا ہے
کیونکہ خاموشی نجات ہے
اور بے لگام زبان ہلاکت۔
⸻
آج خود سے ایک سادہ سوال کریں
• کیا میری زبان نے آج کسی کو دکھ دیا؟
• کیا میں نے کسی کی پیٹھ پیچھے بات کی؟
• کیا میں نے کسی کو نیچا دکھایا؟
• کیا خاموش رہ سکتا تھا، مگر بول پڑا؟
اگر ہاں…
تو آج ہی توبہ کریں۔
کیونکہ:
زبان سے گناہ تیز ہوتے ہیں
مگر توبہ ان سے بھی تیز ہے۔
⸻
یاد رکھیں:
جہنم کا راستہ اکثر زبان سے شروع ہوتا ہے
اور جنت کا راستہ اکثر خاموشی سے۔
0 Kommentare
0 Anteile
16 Ansichten