یہ میرا دل بدلنے کی کہانی ہے…
اور شاید ایک قومی سوچ بدلنے کی بھی۔

میں شروع میں سمجھتا تھا کہ
بَسنت
ایک غریب ملک کے لیے ایک غیر ضروری خوشی ہے۔
ہمیں کمانا ہے، بچانا ہے،
زندہ رہنا ہے —
پتنگیں اُڑانا ہماری ترجیح نہیں ہونی چاہیے۔

لیکن پھر میں نے لاہور کی بسنت دیکھی…
اور میری رائے بدل گئی۔

یہ صرف پتنگیں نہیں تھیں۔
یہ صرف رنگ نہیں تھے۔
یہ صرف ایک دن کی خوشی نہیں تھی۔

یہ ایسا لگا جیسے:
ورلڈ کپ — مگر کھیل خوشی کا
اولمپکس — مگر قوم کے جذبے کے
انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر — مگر ثقافت اور مسکراہٹوں کا

دنیا بھر سے لوگ آ سکتے ہیں
صرف ایک مقصد کے لیے:
آسمان میں خواب اُڑتے دیکھنے کے لیے۔

بسنت میں ایک خاموش طاقت ہے۔
یہ پاکستان کو وہ دیتا ہے
جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے:
ایک نرم، خوبصورت، زندہ تصویر (Soft Image)

دنیا ہمیں
خبروں میں دھماکوں سے جانتی ہے،
لیکن بسنت ہمیں
رنگوں، موسیقی اور خوشی سے متعارف کراتی ہے۔

یہ تہوار
انٹرنیشنل ٹورسٹس کو کھینچ سکتا ہے،
ہر سال، ہر موسمِ بہار میں۔
کیونکہ لوگ جنگ نہیں دیکھنا چاہتے،
لوگ زندگی دیکھنا چاہتے ہیں۔

بسنت ہوٹل بھرتی ہے،
بسنت کاریگر کو روزگار دیتی ہے،
بسنت فوٹوگرافر، فنکار، موسیقار،
کھانے والے، گھومنے والے —
سب کو کمانے کا موقع دیتی ہے۔

یہ غربت کے خلاف جنگ نہیں تو کیا ہے؟
خوشی بھی تو ایک معیشت ہوتی ہے۔

مجھے برازیل کا کارنیوال یاد آیا،
جہاں دنیا دیوانہ وار آتی ہے
صرف جینے کا جشن منانے۔

تو پھر ہم کیوں نہیں؟

میں اب یقین سے کہتا ہوں:
بسنت کو پاکستان کا قومی تہوارِ خوشی ہونا چاہیے۔

یہ صرف تہوار نہیں،
یہ پاکستان کی Soft Power بن سکتا ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب دنیا ہمیں
خبروں میں نہیں —
خوشیوں میں دیکھے۔

آسمان پر پتنگیں ہوں،
زمین پر امیدیں ہوں،
اور دلوں میں یہ یقین ہو
کہ پاکستان
صرف مسائل کا نام نہیں —
ایک جشن کا نام بھی ہو سکتا ہے۔

کبھی کبھی قوموں کو
روٹی کے ساتھ
رنگ بھی چاہیے ہوتے ہیں۔

اور شاید…
بسنت وہ رنگ ہے
جس کا ہمیں برسوں سے انتظار تھا۔
یہ میرا دل بدلنے کی کہانی ہے… اور شاید ایک قومی سوچ بدلنے کی بھی۔ میں شروع میں سمجھتا تھا کہ بَسنت ایک غریب ملک کے لیے ایک غیر ضروری خوشی ہے۔ ہمیں کمانا ہے، بچانا ہے، زندہ رہنا ہے — پتنگیں اُڑانا ہماری ترجیح نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن پھر میں نے لاہور کی بسنت دیکھی… اور میری رائے بدل گئی۔ یہ صرف پتنگیں نہیں تھیں۔ یہ صرف رنگ نہیں تھے۔ یہ صرف ایک دن کی خوشی نہیں تھی۔ یہ ایسا لگا جیسے: 🎯 ورلڈ کپ — مگر کھیل خوشی کا 🏅 اولمپکس — مگر قوم کے جذبے کے 🌍 انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر — مگر ثقافت اور مسکراہٹوں کا دنیا بھر سے لوگ آ سکتے ہیں صرف ایک مقصد کے لیے: آسمان میں خواب اُڑتے دیکھنے کے لیے۔ بسنت میں ایک خاموش طاقت ہے۔ یہ پاکستان کو وہ دیتا ہے جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے: 🌍 ایک نرم، خوبصورت، زندہ تصویر (Soft Image) دنیا ہمیں خبروں میں دھماکوں سے جانتی ہے، لیکن بسنت ہمیں رنگوں، موسیقی اور خوشی سے متعارف کراتی ہے۔ یہ تہوار انٹرنیشنل ٹورسٹس کو کھینچ سکتا ہے، ہر سال، ہر موسمِ بہار میں۔ کیونکہ لوگ جنگ نہیں دیکھنا چاہتے، لوگ زندگی دیکھنا چاہتے ہیں۔ بسنت ہوٹل بھرتی ہے، بسنت کاریگر کو روزگار دیتی ہے، بسنت فوٹوگرافر، فنکار، موسیقار، کھانے والے، گھومنے والے — سب کو کمانے کا موقع دیتی ہے۔ یہ غربت کے خلاف جنگ نہیں تو کیا ہے؟ خوشی بھی تو ایک معیشت ہوتی ہے۔ مجھے برازیل کا کارنیوال یاد آیا، جہاں دنیا دیوانہ وار آتی ہے صرف جینے کا جشن منانے۔ تو پھر ہم کیوں نہیں؟ میں اب یقین سے کہتا ہوں: بسنت کو پاکستان کا قومی تہوارِ خوشی ہونا چاہیے۔ یہ صرف تہوار نہیں، یہ پاکستان کی Soft Power بن سکتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب دنیا ہمیں خبروں میں نہیں — خوشیوں میں دیکھے۔ آسمان پر پتنگیں ہوں، زمین پر امیدیں ہوں، اور دلوں میں یہ یقین ہو کہ پاکستان صرف مسائل کا نام نہیں — ایک جشن کا نام بھی ہو سکتا ہے۔ 🪁💛 کبھی کبھی قوموں کو روٹی کے ساتھ رنگ بھی چاہیے ہوتے ہیں۔ اور شاید… بسنت وہ رنگ ہے جس کا ہمیں برسوں سے انتظار تھا۔
0 Comments 0 Shares 2 Views