ایک کہانی:

Rehan School میں ہم بچوں کو فیوچر کی تعلیم کیسے دے رہے ہیں

کراچی کے ایک عام سے محلے میں ایک بچہ تھا، نام تھا علی۔
نہ بہت ذہین، نہ بہت کمزور۔ ایک عام پاکستانی بچہ، جیسے لاکھوں اور۔

علی اسکول جاتا تھا، جہاں:
• کتاب کھولو
• سبق یاد کرو
• امتحان دو
• نمبر آ گئے تو اچھا بچہ
• نہ آئے تو “نالائق”

علی کے دل میں ایک سوال رہتا تھا:

“یہ سب پڑھ کر میں بنوں گا کیا؟
دنیا تو کچھ اور ہی طرف جا رہی ہے”

مگر سوال پوچھنے کی جگہ نہیں تھی۔



پھر علی Rehan School آیا

پہلے ہی دن استاد نے ایک عجیب بات کہی:

“ہم تمہیں فیوچر کی چیزیں رٹا کر نہیں سکھائیں گے،
ہم تمہیں فیوچر کو سمجھنے کا طریقہ سکھائیں گے”

علی کو سمجھ نہیں آئی۔

اور یہی بالکل فطری تھا۔



Rehan School نے ایک بات سمجھ لی تھی

ہم نے یہ مان لیا تھا کہ:
• بچوں کو فیوچر اس لیے سمجھ نہیں آتا
کیونکہ وہ بہت نیا ہوتا ہے
• دماغ چھلانگ نہیں لگا سکتا
• دماغ سیڑھیوں سے سیکھتا ہے

لہٰذا اگر آپ بچے کو سیدھا AI، بزنس، یا لیڈرشپ میں پھینک دیں
تو وہ گھبرا جائے گا، بند ہو جائے گا، یا ہار مان لے گا۔



ہم نے کیا مختلف کیا؟

1. ہم نے سیڑھیاں بنائیں

Rehan School میں ہم:
• پہلے بچے کو بات کرنا سکھاتے ہیں
• سوال پوچھنا سکھاتے ہیں
• اپنی زبان میں سوچنا سکھاتے ہیں

پھر:
• موبائل
• انٹرنیٹ
• سادہ ڈیجیٹل ٹولز

اور پھر آہستہ آہستہ:
• AI
• ChatGPT
• گلوبل سوچ



ChatGPT یہاں کیوں ہے؟

ایک دن علی نے پوچھا:

“ChatGPT کیا ہے؟”

استاد نے کہا:

“یہ ایک ایسا استاد ہے جو
کبھی نہیں تھکتا
کبھی نہیں ڈانٹتا
اور تمہیں تمہارے لیول پر سمجھاتا ہے”

علی نے پوچھا:

“اگر مجھے کچھ بھی نہ آتا ہو؟”

جواب ملا:

“تب تو یہ اور بھی بہترین ہے”



علی کی سیکھنے کی رفتار بدل گئی

پہلا سوال:

“آسان اردو میں بتاؤ، پیسہ کیسے کمایا جاتا ہے؟”

پھر:

“میرے محلے کا مسئلہ کیا ہے؟”

پھر:

“دنیا میں لوگ آن لائن کیا کام کرتے ہیں؟”

ہر سوال:
• علی کی اپنی زندگی سے جڑا
• تھوڑا نیا
• تھوڑا پرانا

دماغ نے مزاحمت چھوڑ دی۔



یہی Rehan School کا اصل کام ہے

ہم:
• بچوں کو سب کچھ نہیں سکھاتے
• ہم بچوں کو سیکھنے والا انسان بناتے ہیں

ہم:
• رٹّہ نہیں لگواتے
• سمجھ، تجربہ، اور عمل کرواتے ہیں

ہم:
• نوکری کے لیے نہیں
• مسئلہ حل کرنے والے تیار کرتے ہیں



Rehan School کے بچے کون ہوتے ہیں؟

یہ وہ بچے ہوتے ہیں جو:
• نئی چیز سے نہیں ڈرتے
• سوال پوچھنے میں شرمندہ نہیں ہوتے
• کہتے ہیں:
“مجھے ابھی نہیں آتا، مگر میں سیکھ سکتا ہوں”

اور یہی فیوچر کی سب سے بڑی اسکل ہے۔



کہانی کا انجام

کچھ سال بعد علی کہتا ہے:

“مجھے سب کچھ نہیں آتا،
مگر مجھے یہ آتا ہے کہ
جب دنیا بدلے —
تو میں خود کو بدل سکتا ہوں”



یہی Rehan School ہے

ہم بچوں کو:
• فیوچر میں نہیں پھینکتے
• ہم بچوں کو فیوچر تک لے کر چلتے ہیں

کیونکہ:

فیوچر اُن کا نہیں
جو سب کچھ جانتے ہوں،
فیوچر اُن کا ہے
جو سیکھنا جانتے ہوں۔

— Rehan School
ایک کہانی: Rehan School میں ہم بچوں کو فیوچر کی تعلیم کیسے دے رہے ہیں کراچی کے ایک عام سے محلے میں ایک بچہ تھا، نام تھا علی۔ نہ بہت ذہین، نہ بہت کمزور۔ ایک عام پاکستانی بچہ، جیسے لاکھوں اور۔ علی اسکول جاتا تھا، جہاں: • کتاب کھولو • سبق یاد کرو • امتحان دو • نمبر آ گئے تو اچھا بچہ • نہ آئے تو “نالائق” علی کے دل میں ایک سوال رہتا تھا: “یہ سب پڑھ کر میں بنوں گا کیا؟ دنیا تو کچھ اور ہی طرف جا رہی ہے” مگر سوال پوچھنے کی جگہ نہیں تھی۔ ⸻ پھر علی Rehan School آیا پہلے ہی دن استاد نے ایک عجیب بات کہی: “ہم تمہیں فیوچر کی چیزیں رٹا کر نہیں سکھائیں گے، ہم تمہیں فیوچر کو سمجھنے کا طریقہ سکھائیں گے” علی کو سمجھ نہیں آئی۔ اور یہی بالکل فطری تھا۔ ⸻ Rehan School نے ایک بات سمجھ لی تھی ہم نے یہ مان لیا تھا کہ: • بچوں کو فیوچر اس لیے سمجھ نہیں آتا کیونکہ وہ بہت نیا ہوتا ہے • دماغ چھلانگ نہیں لگا سکتا • دماغ سیڑھیوں سے سیکھتا ہے لہٰذا اگر آپ بچے کو سیدھا AI، بزنس، یا لیڈرشپ میں پھینک دیں تو وہ گھبرا جائے گا، بند ہو جائے گا، یا ہار مان لے گا۔ ⸻ ہم نے کیا مختلف کیا؟ 1. ہم نے سیڑھیاں بنائیں Rehan School میں ہم: • پہلے بچے کو بات کرنا سکھاتے ہیں • سوال پوچھنا سکھاتے ہیں • اپنی زبان میں سوچنا سکھاتے ہیں پھر: • موبائل • انٹرنیٹ • سادہ ڈیجیٹل ٹولز اور پھر آہستہ آہستہ: • AI • ChatGPT • گلوبل سوچ ⸻ ChatGPT یہاں کیوں ہے؟ ایک دن علی نے پوچھا: “ChatGPT کیا ہے؟” استاد نے کہا: “یہ ایک ایسا استاد ہے جو کبھی نہیں تھکتا کبھی نہیں ڈانٹتا اور تمہیں تمہارے لیول پر سمجھاتا ہے” علی نے پوچھا: “اگر مجھے کچھ بھی نہ آتا ہو؟” جواب ملا: “تب تو یہ اور بھی بہترین ہے” ⸻ علی کی سیکھنے کی رفتار بدل گئی پہلا سوال: “آسان اردو میں بتاؤ، پیسہ کیسے کمایا جاتا ہے؟” پھر: “میرے محلے کا مسئلہ کیا ہے؟” پھر: “دنیا میں لوگ آن لائن کیا کام کرتے ہیں؟” ہر سوال: • علی کی اپنی زندگی سے جڑا • تھوڑا نیا • تھوڑا پرانا دماغ نے مزاحمت چھوڑ دی۔ ⸻ یہی Rehan School کا اصل کام ہے ہم: • بچوں کو سب کچھ نہیں سکھاتے • ہم بچوں کو سیکھنے والا انسان بناتے ہیں ہم: • رٹّہ نہیں لگواتے • سمجھ، تجربہ، اور عمل کرواتے ہیں ہم: • نوکری کے لیے نہیں • مسئلہ حل کرنے والے تیار کرتے ہیں ⸻ Rehan School کے بچے کون ہوتے ہیں؟ یہ وہ بچے ہوتے ہیں جو: • نئی چیز سے نہیں ڈرتے • سوال پوچھنے میں شرمندہ نہیں ہوتے • کہتے ہیں: “مجھے ابھی نہیں آتا، مگر میں سیکھ سکتا ہوں” اور یہی فیوچر کی سب سے بڑی اسکل ہے۔ ⸻ کہانی کا انجام کچھ سال بعد علی کہتا ہے: “مجھے سب کچھ نہیں آتا، مگر مجھے یہ آتا ہے کہ جب دنیا بدلے — تو میں خود کو بدل سکتا ہوں” ⸻ یہی Rehan School ہے ہم بچوں کو: • فیوچر میں نہیں پھینکتے • ہم بچوں کو فیوچر تک لے کر چلتے ہیں کیونکہ: فیوچر اُن کا نہیں جو سب کچھ جانتے ہوں، فیوچر اُن کا ہے جو سیکھنا جانتے ہوں۔ — Rehan School
0 Comments 0 Shares 25 Views