آج میں ایک انٹرویو دے رہا تھا۔ اسی دوران مری سے ایک صاحب مجھ سے ملنے آئے۔ میں نے اُن سے عرض کیا کہ ایکسپو میں آئیے، وہاں تفصیل سے ملاقات ہو جائے گی۔
گفتگو کے دوران بار بار یہ ہوتا رہا کہ کچھ لوگ—بچے بھی اور بڑے بھی—بیچ میں آ کر بات کاٹ رہے تھے، مداخلت کر رہے تھے۔ سچ کہوں تو اس رویّے سے مجھے کوفت ہوتی ہے، کیونکہ جب دو لوگ بات کر رہے ہوں اور ویڈیو ریکارڈ ہو رہی ہو تو بیچ میں آنا بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ صرف آج نہیں ہوا۔ ایک اور انٹرویو میں بھی ایک بزرگ مسلسل پیچھے پڑے رہے، حالانکہ صاف نظر آ رہا تھا کہ گفتگو جاری ہے، کیمرہ چل رہا ہے، پھر بھی وہ بیچ میں گھستے رہے۔

آج ایک بچہ بھی آیا۔ پہلے دور سے کھڑا رہا، پھر بار بار کوشش کرتا رہا، اور آخرکار اس نے آ کر مجھے مخاطب کیا۔ اس نے کہا:
“جوتے اتار دیں۔”

مجھے اُس وقت اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس بات کے لیے آیا ہے، مگر جب اس نے جوتے اتارنے کا کہا تو میں مسکرا دیا اور کہا:
“ابھی اتارتا ہوں بیٹے۔”

شاید اب میں “جوتے اتارنے والا ریحان اللہ والا” کے نام سے مشہور ہو جاؤں—کوئی بات نہیں، زندگی میں یہ بھی ایک تجربہ سہی۔
ممکن ہے آئندہ بہت سے لوگ آئیں اور مجھے جوتے اتروائیں، اور میں ننگے پاؤں اُن درباروں میں گھوموں جہاں باقی سب جوتوں سمیت ہوں۔

لیکن ایک بات دل سے کہنا چاہتا ہوں:
جن لوگوں کو، خصوصاً میرے اسکول سے وابستہ افراد کو، یہ بات بری لگی ہو کہ کسی نے مجھ سے جوتے اتروائے—میں اُن سب سے دل کی گہرائی سے معذرت خواہ ہوں۔

میرا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں، نہ بے ادبی کو فروغ دینا ہے۔
بس ایک گزارش ہے:
جب کوئی بات کر رہا ہو، انٹرویو دے رہا ہو، یا کسی سے گفتگو میں مصروف ہو—تو ذرا سا صبر، ذرا سا لحاظ، اور ذرا سی تربیت ہم سب کو سیکھنی چاہیے۔

احترام، خاموشی سے شروع ہوتا ہے۔

— ریحان اللہ والا
آج میں ایک انٹرویو دے رہا تھا۔ اسی دوران مری سے ایک صاحب مجھ سے ملنے آئے۔ میں نے اُن سے عرض کیا کہ ایکسپو میں آئیے، وہاں تفصیل سے ملاقات ہو جائے گی۔ گفتگو کے دوران بار بار یہ ہوتا رہا کہ کچھ لوگ—بچے بھی اور بڑے بھی—بیچ میں آ کر بات کاٹ رہے تھے، مداخلت کر رہے تھے۔ سچ کہوں تو اس رویّے سے مجھے کوفت ہوتی ہے، کیونکہ جب دو لوگ بات کر رہے ہوں اور ویڈیو ریکارڈ ہو رہی ہو تو بیچ میں آنا بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ صرف آج نہیں ہوا۔ ایک اور انٹرویو میں بھی ایک بزرگ مسلسل پیچھے پڑے رہے، حالانکہ صاف نظر آ رہا تھا کہ گفتگو جاری ہے، کیمرہ چل رہا ہے، پھر بھی وہ بیچ میں گھستے رہے۔ آج ایک بچہ بھی آیا۔ پہلے دور سے کھڑا رہا، پھر بار بار کوشش کرتا رہا، اور آخرکار اس نے آ کر مجھے مخاطب کیا۔ اس نے کہا: “جوتے اتار دیں۔” مجھے اُس وقت اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس بات کے لیے آیا ہے، مگر جب اس نے جوتے اتارنے کا کہا تو میں مسکرا دیا اور کہا: “ابھی اتارتا ہوں بیٹے۔” شاید اب میں “جوتے اتارنے والا ریحان اللہ والا” کے نام سے مشہور ہو جاؤں—کوئی بات نہیں، زندگی میں یہ بھی ایک تجربہ سہی۔ ممکن ہے آئندہ بہت سے لوگ آئیں اور مجھے جوتے اتروائیں، اور میں ننگے پاؤں اُن درباروں میں گھوموں جہاں باقی سب جوتوں سمیت ہوں۔ لیکن ایک بات دل سے کہنا چاہتا ہوں: جن لوگوں کو، خصوصاً میرے اسکول سے وابستہ افراد کو، یہ بات بری لگی ہو کہ کسی نے مجھ سے جوتے اتروائے—میں اُن سب سے دل کی گہرائی سے معذرت خواہ ہوں۔ میرا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں، نہ بے ادبی کو فروغ دینا ہے۔ بس ایک گزارش ہے: جب کوئی بات کر رہا ہو، انٹرویو دے رہا ہو، یا کسی سے گفتگو میں مصروف ہو—تو ذرا سا صبر، ذرا سا لحاظ، اور ذرا سی تربیت ہم سب کو سیکھنی چاہیے۔ احترام، خاموشی سے شروع ہوتا ہے۔ — ریحان اللہ والا
0 Σχόλια 0 Μοιράστηκε 21 Views