تقریباً دس سال پہلے کی بات ہے، یا شاید اس سے بھی زیادہ—ہو سکتا ہے بارہ یا تیرہ سال پرانی بات ہو۔
سراج الحق ایک مرتبہ میرے گھر تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان کے پاس ایک سادہ سا نوکیا فون تھا، وہی پرانا اسٹوپڈ فون جس میں بمشکل سو نمبرز محفوظ ہو سکتے تھے۔
میں نے بڑی محبت اور احترام کے ساتھ انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ میں نے کہا کہ آپ ایک قومی سطح کے رہنما ہیں، اُس وقت منسٹر بھی ہیں، آپ کو دیکھ کر آپ کے چاہنے والے، آپ کے پیچھے چلنے والے لوگ فیصلے کرتے ہیں۔ اگر آپ اس زمانے میں اسمارٹ فون استعمال نہیں کریں گے تو بہت سے لوگ آپ کے احترام میں اس طرف نہیں آئیں گے۔
میں نے ان سے کہا:
“اگر آپ اجازت دیں تو میں ابھی آپ کے لیے اسمارٹ فون منگوا دیتا ہوں۔”
کافی گفتگو کے بعد وہ راضی ہو گئے۔ میں نے اسی وقت ان کے لیے نیا اسمارٹ فون منگوا دیا اور کہا:
“یہ پرانا فون اب میں رکھ لوں گا، یہ آپ کو واپس نہیں ملے گا۔”
یہ سن کر وہ پہلے کچھ پریشان ہوئے، پھر اللہ کا شکر ادا کیا اور مسکرا کر کہا:
“ٹھیک ہے۔”
کچھ عرصے بعد—شاید ایک یا دو مہینے بعد—ہم دوبارہ ملے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا:
“آپ نے تو مجھے بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے، یہ اسمارٹ فون بہت مشکل سے چلتا ہے، میں تو چھپ کر پرانا فون استعمال کرتا تھا۔”
وقت گزرتا گیا۔ ایک یا دو سال بعد دوبارہ ملاقات ہوئی تو میں نے دیکھا کہ وہ آئی فون استعمال کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ انہوں نے خود کو اپ گریڈ کر لیا ہے۔
اسی ملاقات میں میں نے ان کا فیس بک اکاؤنٹ بنایا، سب چیزیں سیٹ کیں، سمجھائیں، اور چلانا سکھایا۔
آج تقریباً تیرہ سال بعد، زندگی میں پہلی بار میں نے فیس بک پر ان کا باقاعدہ کمنٹ دیکھا۔ دل سے خوشی ہوئی۔
اور حالیہ ملاقات میں تو وہ خود لوگوں کو بتا رہے تھے:
“آپ فیس بک پر ہمیں فالو کریں، ہمارے دوست بنیں۔”
یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ ایک سیاستدان سوشل میڈیا کو مثبت اور درست انداز میں استعمال کر رہا ہے۔
اللہ کرے ہمارے تمام سیاستدانوں کو اے آئی اور سوشل میڈیا کو سمجھنے، سیکھنے اور قوم کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Thank you Siraj ul Haq
سراج الحق ایک مرتبہ میرے گھر تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان کے پاس ایک سادہ سا نوکیا فون تھا، وہی پرانا اسٹوپڈ فون جس میں بمشکل سو نمبرز محفوظ ہو سکتے تھے۔
میں نے بڑی محبت اور احترام کے ساتھ انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ میں نے کہا کہ آپ ایک قومی سطح کے رہنما ہیں، اُس وقت منسٹر بھی ہیں، آپ کو دیکھ کر آپ کے چاہنے والے، آپ کے پیچھے چلنے والے لوگ فیصلے کرتے ہیں۔ اگر آپ اس زمانے میں اسمارٹ فون استعمال نہیں کریں گے تو بہت سے لوگ آپ کے احترام میں اس طرف نہیں آئیں گے۔
میں نے ان سے کہا:
“اگر آپ اجازت دیں تو میں ابھی آپ کے لیے اسمارٹ فون منگوا دیتا ہوں۔”
کافی گفتگو کے بعد وہ راضی ہو گئے۔ میں نے اسی وقت ان کے لیے نیا اسمارٹ فون منگوا دیا اور کہا:
“یہ پرانا فون اب میں رکھ لوں گا، یہ آپ کو واپس نہیں ملے گا۔”
یہ سن کر وہ پہلے کچھ پریشان ہوئے، پھر اللہ کا شکر ادا کیا اور مسکرا کر کہا:
“ٹھیک ہے۔”
کچھ عرصے بعد—شاید ایک یا دو مہینے بعد—ہم دوبارہ ملے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا:
“آپ نے تو مجھے بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے، یہ اسمارٹ فون بہت مشکل سے چلتا ہے، میں تو چھپ کر پرانا فون استعمال کرتا تھا۔”
وقت گزرتا گیا۔ ایک یا دو سال بعد دوبارہ ملاقات ہوئی تو میں نے دیکھا کہ وہ آئی فون استعمال کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ انہوں نے خود کو اپ گریڈ کر لیا ہے۔
اسی ملاقات میں میں نے ان کا فیس بک اکاؤنٹ بنایا، سب چیزیں سیٹ کیں، سمجھائیں، اور چلانا سکھایا۔
آج تقریباً تیرہ سال بعد، زندگی میں پہلی بار میں نے فیس بک پر ان کا باقاعدہ کمنٹ دیکھا۔ دل سے خوشی ہوئی۔
اور حالیہ ملاقات میں تو وہ خود لوگوں کو بتا رہے تھے:
“آپ فیس بک پر ہمیں فالو کریں، ہمارے دوست بنیں۔”
یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ ایک سیاستدان سوشل میڈیا کو مثبت اور درست انداز میں استعمال کر رہا ہے۔
اللہ کرے ہمارے تمام سیاستدانوں کو اے آئی اور سوشل میڈیا کو سمجھنے، سیکھنے اور قوم کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Thank you Siraj ul Haq
تقریباً دس سال پہلے کی بات ہے، یا شاید اس سے بھی زیادہ—ہو سکتا ہے بارہ یا تیرہ سال پرانی بات ہو۔
سراج الحق ایک مرتبہ میرے گھر تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان کے پاس ایک سادہ سا نوکیا فون تھا، وہی پرانا اسٹوپڈ فون جس میں بمشکل سو نمبرز محفوظ ہو سکتے تھے۔
میں نے بڑی محبت اور احترام کے ساتھ انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ میں نے کہا کہ آپ ایک قومی سطح کے رہنما ہیں، اُس وقت منسٹر بھی ہیں، آپ کو دیکھ کر آپ کے چاہنے والے، آپ کے پیچھے چلنے والے لوگ فیصلے کرتے ہیں۔ اگر آپ اس زمانے میں اسمارٹ فون استعمال نہیں کریں گے تو بہت سے لوگ آپ کے احترام میں اس طرف نہیں آئیں گے۔
میں نے ان سے کہا:
“اگر آپ اجازت دیں تو میں ابھی آپ کے لیے اسمارٹ فون منگوا دیتا ہوں۔”
کافی گفتگو کے بعد وہ راضی ہو گئے۔ میں نے اسی وقت ان کے لیے نیا اسمارٹ فون منگوا دیا اور کہا:
“یہ پرانا فون اب میں رکھ لوں گا، یہ آپ کو واپس نہیں ملے گا۔”
یہ سن کر وہ پہلے کچھ پریشان ہوئے، پھر اللہ کا شکر ادا کیا اور مسکرا کر کہا:
“ٹھیک ہے۔”
کچھ عرصے بعد—شاید ایک یا دو مہینے بعد—ہم دوبارہ ملے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا:
“آپ نے تو مجھے بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے، یہ اسمارٹ فون بہت مشکل سے چلتا ہے، میں تو چھپ کر پرانا فون استعمال کرتا تھا۔”
وقت گزرتا گیا۔ ایک یا دو سال بعد دوبارہ ملاقات ہوئی تو میں نے دیکھا کہ وہ آئی فون استعمال کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ انہوں نے خود کو اپ گریڈ کر لیا ہے۔
اسی ملاقات میں میں نے ان کا فیس بک اکاؤنٹ بنایا، سب چیزیں سیٹ کیں، سمجھائیں، اور چلانا سکھایا۔
آج تقریباً تیرہ سال بعد، زندگی میں پہلی بار میں نے فیس بک پر ان کا باقاعدہ کمنٹ دیکھا۔ دل سے خوشی ہوئی۔
اور حالیہ ملاقات میں تو وہ خود لوگوں کو بتا رہے تھے:
“آپ فیس بک پر ہمیں فالو کریں، ہمارے دوست بنیں۔”
یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ ایک سیاستدان سوشل میڈیا کو مثبت اور درست انداز میں استعمال کر رہا ہے۔
اللہ کرے ہمارے تمام سیاستدانوں کو اے آئی اور سوشل میڈیا کو سمجھنے، سیکھنے اور قوم کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Thank you Siraj ul Haq
0 Commentarii
0 Distribuiri
19 Views