ابھی بھی وقت ہے، جاگ جاؤ! ورنہ اگلی نسل بری طرح متاثر ہو جائے گی
ہسپانوی سرزمین پر بسنے والے پیارے پاکستانی بھائیو اور بہنو،
ہم یہاں خالی جیبوں اور بڑے خوابوں کے ساتھ آئے تھے۔ آج بارسلونا میں ہمارے ہوٹل چل رہے ہیں، میڈرڈ میں سپر مارکیٹس ہیں، ویلینسیا میں ٹیکسیاں چلا رہے ہیں، مالاگا سے بلباؤ تک ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ایکسپرٹ اور تاجر بن چکے ہیں۔
انفرادی طور پر ہم نے ثابت کر دیا کہ محنت اور ایمان سے کچھ بھی ممکن ہے۔
لیکن اجتماعی طور پر؟
ہم بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔
دوسری قومیں مضبوط تنظیمیں، ثقافتی مراکز، سیاسی لابی اور بچوں کے لیے ویک اینڈ سکول بنا چکی ہیں۔
اور ہم؟ ابھی تک واٹس ایپ گروپس، برادری بازی، مسلکی جھگڑے اور فیس بک تنازعات تک محدود ہیں۔
اب ایک نیا اور خطرناک طوفان ہمارے سر پر منڈلا رہا ہے:
دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹی **Vox۔
یہ پارٹی کھلے عام کہتی ہے:
- “مسلمان اور تارکین وطن ہسپانیہ کی شناخت کے لیے خطرہ ہیں”
- “مساجد بند کرو، حلال فوڈ پر پابندی لگاؤ، حجاب ممنوع”
- “غیر یورپی تارکین وطن کو سوشل امداد، رہائش اور شہریت نہ دو”
2023 میں Vox نے اندلس، ویلینسیا، میڈرڈ اور بیلئارک جزائر میں حکومتیں بنا لیں۔
2027–2028 تک قومی سطح پر بھی اقتدار میں آ سکتی ہے۔
اگر ہم ابھی منتشر اور غیر منظم رہے تو:
- ہماری بیٹیوں کے سکولوں میں حجاب پر پابندی لگ جائے گی
- مساجد کو “ثقافتی مراکز” کہہ کر بند کر دیا جائے گا
- نیا آنے والا رشتہ دار یا طالب علم ویزا نہیں لے سکے گا
- ہماری دکانیں اور ریسٹورنٹس پر “غیر قانونی تارکین وطن کی مدد” کے الزام میں تالے لگ جائیں گے
- ہماری اگلی نسل ہمیشہ “دوسرے درجے کے شہری” کہلائے گی اور نفرت کا نشانہ بنے گی
یہ کوئی خیالی بات نہیں۔ فرانس، اٹلی، سویڈن، ہالینڈ میں ہو چکا ہے۔ ہسپانیہ میں بھی ہو رہا ہے۔
اور ہم سب سے آسان ہدف ہیں کیونکہ ہم بکھرے ہوئے ہیں۔
ابھی بھی وقت ہے – لیکن بہت کم!
حل ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے:
1. نوجوان قیادت کریں، بڑوں کی حکمت ساتھ رکھیں
25 سال کا صدر + 60 سال کا مشیر = ناقابلِ شکست ٹیم
2. ایک کمیونٹی، ایک آواز
بس کرو “پنجابی”، “پٹھان”، “مہاجر”، “شیعہ”، “سنی” والی تقسیم۔
ایک مضبوط، رجسٹرڈ، پروفیشنل “Asociación de Paquistaníes en España” بناؤ جو سب کو شامل کرے۔
3. واضح مقاصد
- قانونی مدد کا مرکز
- بچوں کے لیے اردو اور اسلامی سکول
- نوکریوں اور کاروبار کا نیٹ ورک
- سیاسی لابی – پاکستانی کونسلرز اور میئرز بناؤ
- کرکٹ اور ثقافتی فیسٹیول
- ایمرجنسی فنڈ
4. صحیح عمل درآمد
شفاف اکاؤنٹس، ماہانہ رپورٹ، سالانہ الیکشن، اور ایک پارٹ ٹائم تنخواہ یافتہ کوآرڈینیٹر۔
ہمارے پاس پیسہ ہے، ٹیلنٹ ہے، تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔
بس بھروسہ اور وژن کی کمی ہے۔
Vox سے پہلے پہلے متحد ہو جاؤ۔
ایک لاکھ ووٹوں کی طاقت دکھاؤ۔
اپنا میڈیا بیانیہ خود بناؤ۔
دوسری مسلم اور تارکین وطن کمیونٹیز کے ساتھ اتحاد کرو۔
ورنہ ہمارے بچے کل ہمیں پوچھیں گے:
“تم لوگوں نے کچھ کیوں نہ کیا؟”
ابھی بھی وقت ہے۔
انفرادی طور پر ہم شیر ہیں۔
متحد نہ ہوئے تو Vox اور اس جیسے لوگ ہمیں کچل کر رکھ دیں گے۔
اب ایک ساتھ دھاڑو – ورنہ چپ چاپ غائب ہو جاؤ گے۔
اللہ ہم سب کو ہمت، اتحاد اور توفیق دے۔ آمین
جزاک اللہ
Via Camran Hyatt
ہسپانوی سرزمین پر بسنے والے پیارے پاکستانی بھائیو اور بہنو،
ہم یہاں خالی جیبوں اور بڑے خوابوں کے ساتھ آئے تھے۔ آج بارسلونا میں ہمارے ہوٹل چل رہے ہیں، میڈرڈ میں سپر مارکیٹس ہیں، ویلینسیا میں ٹیکسیاں چلا رہے ہیں، مالاگا سے بلباؤ تک ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ایکسپرٹ اور تاجر بن چکے ہیں۔
انفرادی طور پر ہم نے ثابت کر دیا کہ محنت اور ایمان سے کچھ بھی ممکن ہے۔
لیکن اجتماعی طور پر؟
ہم بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔
دوسری قومیں مضبوط تنظیمیں، ثقافتی مراکز، سیاسی لابی اور بچوں کے لیے ویک اینڈ سکول بنا چکی ہیں۔
اور ہم؟ ابھی تک واٹس ایپ گروپس، برادری بازی، مسلکی جھگڑے اور فیس بک تنازعات تک محدود ہیں۔
اب ایک نیا اور خطرناک طوفان ہمارے سر پر منڈلا رہا ہے:
دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹی **Vox۔
یہ پارٹی کھلے عام کہتی ہے:
- “مسلمان اور تارکین وطن ہسپانیہ کی شناخت کے لیے خطرہ ہیں”
- “مساجد بند کرو، حلال فوڈ پر پابندی لگاؤ، حجاب ممنوع”
- “غیر یورپی تارکین وطن کو سوشل امداد، رہائش اور شہریت نہ دو”
2023 میں Vox نے اندلس، ویلینسیا، میڈرڈ اور بیلئارک جزائر میں حکومتیں بنا لیں۔
2027–2028 تک قومی سطح پر بھی اقتدار میں آ سکتی ہے۔
اگر ہم ابھی منتشر اور غیر منظم رہے تو:
- ہماری بیٹیوں کے سکولوں میں حجاب پر پابندی لگ جائے گی
- مساجد کو “ثقافتی مراکز” کہہ کر بند کر دیا جائے گا
- نیا آنے والا رشتہ دار یا طالب علم ویزا نہیں لے سکے گا
- ہماری دکانیں اور ریسٹورنٹس پر “غیر قانونی تارکین وطن کی مدد” کے الزام میں تالے لگ جائیں گے
- ہماری اگلی نسل ہمیشہ “دوسرے درجے کے شہری” کہلائے گی اور نفرت کا نشانہ بنے گی
یہ کوئی خیالی بات نہیں۔ فرانس، اٹلی، سویڈن، ہالینڈ میں ہو چکا ہے۔ ہسپانیہ میں بھی ہو رہا ہے۔
اور ہم سب سے آسان ہدف ہیں کیونکہ ہم بکھرے ہوئے ہیں۔
ابھی بھی وقت ہے – لیکن بہت کم!
حل ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے:
1. نوجوان قیادت کریں، بڑوں کی حکمت ساتھ رکھیں
25 سال کا صدر + 60 سال کا مشیر = ناقابلِ شکست ٹیم
2. ایک کمیونٹی، ایک آواز
بس کرو “پنجابی”، “پٹھان”، “مہاجر”، “شیعہ”، “سنی” والی تقسیم۔
ایک مضبوط، رجسٹرڈ، پروفیشنل “Asociación de Paquistaníes en España” بناؤ جو سب کو شامل کرے۔
3. واضح مقاصد
- قانونی مدد کا مرکز
- بچوں کے لیے اردو اور اسلامی سکول
- نوکریوں اور کاروبار کا نیٹ ورک
- سیاسی لابی – پاکستانی کونسلرز اور میئرز بناؤ
- کرکٹ اور ثقافتی فیسٹیول
- ایمرجنسی فنڈ
4. صحیح عمل درآمد
شفاف اکاؤنٹس، ماہانہ رپورٹ، سالانہ الیکشن، اور ایک پارٹ ٹائم تنخواہ یافتہ کوآرڈینیٹر۔
ہمارے پاس پیسہ ہے، ٹیلنٹ ہے، تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔
بس بھروسہ اور وژن کی کمی ہے۔
Vox سے پہلے پہلے متحد ہو جاؤ۔
ایک لاکھ ووٹوں کی طاقت دکھاؤ۔
اپنا میڈیا بیانیہ خود بناؤ۔
دوسری مسلم اور تارکین وطن کمیونٹیز کے ساتھ اتحاد کرو۔
ورنہ ہمارے بچے کل ہمیں پوچھیں گے:
“تم لوگوں نے کچھ کیوں نہ کیا؟”
ابھی بھی وقت ہے۔
انفرادی طور پر ہم شیر ہیں۔
متحد نہ ہوئے تو Vox اور اس جیسے لوگ ہمیں کچل کر رکھ دیں گے۔
اب ایک ساتھ دھاڑو – ورنہ چپ چاپ غائب ہو جاؤ گے۔
اللہ ہم سب کو ہمت، اتحاد اور توفیق دے۔ آمین
جزاک اللہ
Via Camran Hyatt
ابھی بھی وقت ہے، جاگ جاؤ! ورنہ اگلی نسل بری طرح متاثر ہو جائے گی
ہسپانوی سرزمین پر بسنے والے پیارے پاکستانی بھائیو اور بہنو،
ہم یہاں خالی جیبوں اور بڑے خوابوں کے ساتھ آئے تھے۔ آج بارسلونا میں ہمارے ہوٹل چل رہے ہیں، میڈرڈ میں سپر مارکیٹس ہیں، ویلینسیا میں ٹیکسیاں چلا رہے ہیں، مالاگا سے بلباؤ تک ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ایکسپرٹ اور تاجر بن چکے ہیں۔
انفرادی طور پر ہم نے ثابت کر دیا کہ محنت اور ایمان سے کچھ بھی ممکن ہے۔
لیکن اجتماعی طور پر؟
ہم بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔
دوسری قومیں مضبوط تنظیمیں، ثقافتی مراکز، سیاسی لابی اور بچوں کے لیے ویک اینڈ سکول بنا چکی ہیں۔
اور ہم؟ ابھی تک واٹس ایپ گروپس، برادری بازی، مسلکی جھگڑے اور فیس بک تنازعات تک محدود ہیں۔
اب ایک نیا اور خطرناک طوفان ہمارے سر پر منڈلا رہا ہے:
دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹی **Vox۔
یہ پارٹی کھلے عام کہتی ہے:
- “مسلمان اور تارکین وطن ہسپانیہ کی شناخت کے لیے خطرہ ہیں”
- “مساجد بند کرو، حلال فوڈ پر پابندی لگاؤ، حجاب ممنوع”
- “غیر یورپی تارکین وطن کو سوشل امداد، رہائش اور شہریت نہ دو”
2023 میں Vox نے اندلس، ویلینسیا، میڈرڈ اور بیلئارک جزائر میں حکومتیں بنا لیں۔
2027–2028 تک قومی سطح پر بھی اقتدار میں آ سکتی ہے۔
اگر ہم ابھی منتشر اور غیر منظم رہے تو:
- ہماری بیٹیوں کے سکولوں میں حجاب پر پابندی لگ جائے گی
- مساجد کو “ثقافتی مراکز” کہہ کر بند کر دیا جائے گا
- نیا آنے والا رشتہ دار یا طالب علم ویزا نہیں لے سکے گا
- ہماری دکانیں اور ریسٹورنٹس پر “غیر قانونی تارکین وطن کی مدد” کے الزام میں تالے لگ جائیں گے
- ہماری اگلی نسل ہمیشہ “دوسرے درجے کے شہری” کہلائے گی اور نفرت کا نشانہ بنے گی
یہ کوئی خیالی بات نہیں۔ فرانس، اٹلی، سویڈن، ہالینڈ میں ہو چکا ہے۔ ہسپانیہ میں بھی ہو رہا ہے۔
اور ہم سب سے آسان ہدف ہیں کیونکہ ہم بکھرے ہوئے ہیں۔
ابھی بھی وقت ہے – لیکن بہت کم!
حل ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے:
1. نوجوان قیادت کریں، بڑوں کی حکمت ساتھ رکھیں
25 سال کا صدر + 60 سال کا مشیر = ناقابلِ شکست ٹیم
2. ایک کمیونٹی، ایک آواز
بس کرو “پنجابی”، “پٹھان”، “مہاجر”، “شیعہ”، “سنی” والی تقسیم۔
ایک مضبوط، رجسٹرڈ، پروفیشنل “Asociación de Paquistaníes en España” بناؤ جو سب کو شامل کرے۔
3. واضح مقاصد
- قانونی مدد کا مرکز
- بچوں کے لیے اردو اور اسلامی سکول
- نوکریوں اور کاروبار کا نیٹ ورک
- سیاسی لابی – پاکستانی کونسلرز اور میئرز بناؤ
- کرکٹ اور ثقافتی فیسٹیول
- ایمرجنسی فنڈ
4. صحیح عمل درآمد
شفاف اکاؤنٹس، ماہانہ رپورٹ، سالانہ الیکشن، اور ایک پارٹ ٹائم تنخواہ یافتہ کوآرڈینیٹر۔
ہمارے پاس پیسہ ہے، ٹیلنٹ ہے، تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔
بس بھروسہ اور وژن کی کمی ہے۔
Vox سے پہلے پہلے متحد ہو جاؤ۔
ایک لاکھ ووٹوں کی طاقت دکھاؤ۔
اپنا میڈیا بیانیہ خود بناؤ۔
دوسری مسلم اور تارکین وطن کمیونٹیز کے ساتھ اتحاد کرو۔
ورنہ ہمارے بچے کل ہمیں پوچھیں گے:
“تم لوگوں نے کچھ کیوں نہ کیا؟”
ابھی بھی وقت ہے۔
انفرادی طور پر ہم شیر ہیں۔
متحد نہ ہوئے تو Vox اور اس جیسے لوگ ہمیں کچل کر رکھ دیں گے۔
اب ایک ساتھ دھاڑو – ورنہ چپ چاپ غائب ہو جاؤ گے۔
اللہ ہم سب کو ہمت، اتحاد اور توفیق دے۔ آمین
جزاک اللہ
Via Camran Hyatt
0 Reacties
0 aandelen
51 Views