آج…
کراچی کی ہوا میں ایک ایسی خاموش چیخ ہے
جو سنائی تو نہیں دیتی…
لیکن دل کے اندر گونجتی رہتی ہے۔
تین سالہ ابراہیم…
ایک ایسا بچہ…
جس کی زندگی ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی،
اور ختم کر دی گئی۔
ایک لمحہ…
اور سب بدل گیا۔
میں الزام نہیں دوں گا۔
کیونکہ الزام قوموں کو نہیں بناتے…
سوچ بدلنے والے لوگ بناتے ہیں۔
جو جاگتے ہیں۔
جو اٹھتے ہیں۔
جو خود کو بدلتے ہیں… دنیا سے پہلے۔
ابراہیم کا سانحہ…
ہمیں رُلانے نہیں آیا۔
یہ… ہمیں جگانے آیا ہے۔
سوچو…
ہم کیسا ملک بنا رہے ہیں؟
کیسی گلیاں چھوڑ رہے ہیں؟
کن راستوں سے ہمارے بچے گزرتے ہیں
اور ہم سمجھتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے؟
نہیں۔
سب ٹھیک نہیں ہے۔
لیکن سب ٹھیک ہو سکتا ہے…
اگر ہم فیصلہ کریں۔
آج سے —
میں، آپ، ہم سب —
ایک نیا وعدہ کریں۔
روز صرف ایک گھنٹہ۔
ایک مسئلہ۔
اور تین لوگ۔
بس اتنا ہی۔
ایک گھنٹہ اپنے گاؤں کے لیے،
اپنے محلے کے لیے،
اپنے شہر کے لیے،
اپنے ملک کے لیے۔
ایک چھوٹا سا وقت…
لیکن ایک بہت بڑا ارادہ۔
ہم سب روزانہ ایک گھنٹہ دے دیں،
تو گلیاں بدل جائیں گی،
سسٹمز بدل جائیں گے،
اور زندگیاں… بچ جائیں گی۔
ابراہیم جان چکا ہے۔
اب ہماری جان جگنی چاہیے۔
اللہ اس کے والدین کو وہ طاقت دے
جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو سہارا دیتی ہے۔
اور اللہ ہمیں وہ ہمت دے
کہ ہم ایسا پاکستان بنا سکیں
جہاں ہر بچہ…
صرف بچہ رہے۔
صرف ہنسی بنے…
سانحہ نہیں۔
آؤ…
ایک مسئلہ۔
ایک ٹیم۔
ایک گھنٹہ۔
اور پورا ملک بدل دیں۔
کراچی کی ہوا میں ایک ایسی خاموش چیخ ہے
جو سنائی تو نہیں دیتی…
لیکن دل کے اندر گونجتی رہتی ہے۔
تین سالہ ابراہیم…
ایک ایسا بچہ…
جس کی زندگی ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی،
اور ختم کر دی گئی۔
ایک لمحہ…
اور سب بدل گیا۔
میں الزام نہیں دوں گا۔
کیونکہ الزام قوموں کو نہیں بناتے…
سوچ بدلنے والے لوگ بناتے ہیں۔
جو جاگتے ہیں۔
جو اٹھتے ہیں۔
جو خود کو بدلتے ہیں… دنیا سے پہلے۔
ابراہیم کا سانحہ…
ہمیں رُلانے نہیں آیا۔
یہ… ہمیں جگانے آیا ہے۔
سوچو…
ہم کیسا ملک بنا رہے ہیں؟
کیسی گلیاں چھوڑ رہے ہیں؟
کن راستوں سے ہمارے بچے گزرتے ہیں
اور ہم سمجھتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے؟
نہیں۔
سب ٹھیک نہیں ہے۔
لیکن سب ٹھیک ہو سکتا ہے…
اگر ہم فیصلہ کریں۔
آج سے —
میں، آپ، ہم سب —
ایک نیا وعدہ کریں۔
روز صرف ایک گھنٹہ۔
ایک مسئلہ۔
اور تین لوگ۔
بس اتنا ہی۔
ایک گھنٹہ اپنے گاؤں کے لیے،
اپنے محلے کے لیے،
اپنے شہر کے لیے،
اپنے ملک کے لیے۔
ایک چھوٹا سا وقت…
لیکن ایک بہت بڑا ارادہ۔
ہم سب روزانہ ایک گھنٹہ دے دیں،
تو گلیاں بدل جائیں گی،
سسٹمز بدل جائیں گے،
اور زندگیاں… بچ جائیں گی۔
ابراہیم جان چکا ہے۔
اب ہماری جان جگنی چاہیے۔
اللہ اس کے والدین کو وہ طاقت دے
جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو سہارا دیتی ہے۔
اور اللہ ہمیں وہ ہمت دے
کہ ہم ایسا پاکستان بنا سکیں
جہاں ہر بچہ…
صرف بچہ رہے۔
صرف ہنسی بنے…
سانحہ نہیں۔
آؤ…
ایک مسئلہ۔
ایک ٹیم۔
ایک گھنٹہ۔
اور پورا ملک بدل دیں۔
آج…
کراچی کی ہوا میں ایک ایسی خاموش چیخ ہے
جو سنائی تو نہیں دیتی…
لیکن دل کے اندر گونجتی رہتی ہے۔
تین سالہ ابراہیم…
ایک ایسا بچہ…
جس کی زندگی ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی،
اور ختم کر دی گئی۔
ایک لمحہ…
اور سب بدل گیا۔
میں الزام نہیں دوں گا۔
کیونکہ الزام قوموں کو نہیں بناتے…
سوچ بدلنے والے لوگ بناتے ہیں۔
جو جاگتے ہیں۔
جو اٹھتے ہیں۔
جو خود کو بدلتے ہیں… دنیا سے پہلے۔
ابراہیم کا سانحہ…
ہمیں رُلانے نہیں آیا۔
یہ… ہمیں جگانے آیا ہے۔
سوچو…
ہم کیسا ملک بنا رہے ہیں؟
کیسی گلیاں چھوڑ رہے ہیں؟
کن راستوں سے ہمارے بچے گزرتے ہیں
اور ہم سمجھتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے؟
نہیں۔
سب ٹھیک نہیں ہے۔
لیکن سب ٹھیک ہو سکتا ہے…
اگر ہم فیصلہ کریں۔
آج سے —
میں، آپ، ہم سب —
ایک نیا وعدہ کریں۔
روز صرف ایک گھنٹہ۔
ایک مسئلہ۔
اور تین لوگ۔
بس اتنا ہی۔
ایک گھنٹہ اپنے گاؤں کے لیے،
اپنے محلے کے لیے،
اپنے شہر کے لیے،
اپنے ملک کے لیے۔
ایک چھوٹا سا وقت…
لیکن ایک بہت بڑا ارادہ۔
ہم سب روزانہ ایک گھنٹہ دے دیں،
تو گلیاں بدل جائیں گی،
سسٹمز بدل جائیں گے،
اور زندگیاں… بچ جائیں گی۔
ابراہیم جان چکا ہے۔
اب ہماری جان جگنی چاہیے۔
اللہ اس کے والدین کو وہ طاقت دے
جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو سہارا دیتی ہے۔
اور اللہ ہمیں وہ ہمت دے
کہ ہم ایسا پاکستان بنا سکیں
جہاں ہر بچہ…
صرف بچہ رہے۔
صرف ہنسی بنے…
سانحہ نہیں۔
آؤ…
ایک مسئلہ۔
ایک ٹیم۔
ایک گھنٹہ۔
اور پورا ملک بدل دیں۔
0 Комментарии
0 Поделились
27 Просмотры