رضا الرحمٰن کی جانب سے 16 تا 18 سال کے طلبہ کے لیے مشروط موٹر سائیکل لائسنس کی تجویز — نوجوانوں کے بنیادی تحفظ اور قانونی اصلاحات کے لیے اہم قدم

لاہور — ماہرِ تعلیم اور صدر Serving Schools & Colleges Association of Pakistan، رضا الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر اپنی موجودہ ٹریفک پالیسی میں اصلاحات کرنا ہوں گی، کیونکہ 16 تا 18 سال کے طلبہ پر ایف آئی آر درج کرنا، ان کو گرفتار کرنا یا حراست میں لینا کسی بھی طرح بچوں کے مفاد میں نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں نوجوان طلبہ روزانہ اسکول، کالج اور ٹیوشن آنے جانے کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں، اور صرف کم عمر ہونے کی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمات، گرفتاری یا ایف آئی آر مستقبل تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

رضا الرحمٰن نے تجویز پیش کی کہ حکومت ان بچوں کو سزا دینے یا جیل بھیجنے کے بجائے ایک مشروط / گریجویٹڈ لائسنس نظام نافذ کرے، تاکہ یہ نوجوان قانون کے اندر، تربیت کے ساتھ اور نگرانی میں سفر کر سکیں۔

انہوں نے کہا:
“یہ بچے مجرم نہیں ہیں، یہ ہمارے ملک کے طلبہ ہیں۔ ان پر ایف آئی آر درج کرنا اور گرفتار کرنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مسئلے کو بڑھانا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پالیسی تبدیل کرے اور ان بچوں کو محفوظ اور منظم لائسنس فراہم کرے۔”

تجویز کے اہم نکات:
• صرف 70 سی سی سے کم انجن والی موٹر سائیکل کی اجازت
• سفر کا وقت صبح 6 بجے تا شام 7 بجے
• ہیلمٹ لازمی (سوار اور پیچھے بیٹھنے والا دونوں)
• سفر صرف گھر، اسکول/کالج اور ٹیوشن تک محدود
• والدین / سرپرست کی تحریری اجازت
• ٹریفک قوانین اور حفاظتی تربیت لازم
• کم عمر طلبہ کے لیے خصوصی رنگ کی نمبر پلیٹ

انہوں نے کہا کہ کسی بھی خلاف ورزی پر فوری جرمانہ یا لائسنس کی معطلی ہونی چاہیے،
لیکن بچوں کو جیل یا ایف آئی آر کا سامنا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔

رضا الرحمٰن نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی نوجوانوں کے لیے Graduated Licensing System (GLS) نافذ ہے، جس کے ذریعے کم عمر طلبہ کو سکھایا جاتا ہے، سزا نہیں دی جاتی۔

آخر میں انہوں نے حکومت، ٹریفک پولیس اور محکمہ تعلیم سے اپیل کی کہ وہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں، کیونکہ یہ قدم نوجوانوں کے مستقبل، قانون کی اصلاح اور محفوظ ٹریفک کلچر کی جانب فیصلہ کن پیش رفت ثابت ہوگا۔

Via Raza Ur Rehman

I endorse this !
رضا الرحمٰن کی جانب سے 16 تا 18 سال کے طلبہ کے لیے مشروط موٹر سائیکل لائسنس کی تجویز — نوجوانوں کے بنیادی تحفظ اور قانونی اصلاحات کے لیے اہم قدم لاہور — ماہرِ تعلیم اور صدر Serving Schools & Colleges Association of Pakistan، رضا الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر اپنی موجودہ ٹریفک پالیسی میں اصلاحات کرنا ہوں گی، کیونکہ 16 تا 18 سال کے طلبہ پر ایف آئی آر درج کرنا، ان کو گرفتار کرنا یا حراست میں لینا کسی بھی طرح بچوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں نوجوان طلبہ روزانہ اسکول، کالج اور ٹیوشن آنے جانے کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں، اور صرف کم عمر ہونے کی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمات، گرفتاری یا ایف آئی آر مستقبل تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ رضا الرحمٰن نے تجویز پیش کی کہ حکومت ان بچوں کو سزا دینے یا جیل بھیجنے کے بجائے ایک مشروط / گریجویٹڈ لائسنس نظام نافذ کرے، تاکہ یہ نوجوان قانون کے اندر، تربیت کے ساتھ اور نگرانی میں سفر کر سکیں۔ انہوں نے کہا: “یہ بچے مجرم نہیں ہیں، یہ ہمارے ملک کے طلبہ ہیں۔ ان پر ایف آئی آر درج کرنا اور گرفتار کرنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مسئلے کو بڑھانا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پالیسی تبدیل کرے اور ان بچوں کو محفوظ اور منظم لائسنس فراہم کرے۔” تجویز کے اہم نکات: • صرف 70 سی سی سے کم انجن والی موٹر سائیکل کی اجازت • سفر کا وقت صبح 6 بجے تا شام 7 بجے • ہیلمٹ لازمی (سوار اور پیچھے بیٹھنے والا دونوں) • سفر صرف گھر، اسکول/کالج اور ٹیوشن تک محدود • والدین / سرپرست کی تحریری اجازت • ٹریفک قوانین اور حفاظتی تربیت لازم • کم عمر طلبہ کے لیے خصوصی رنگ کی نمبر پلیٹ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خلاف ورزی پر فوری جرمانہ یا لائسنس کی معطلی ہونی چاہیے، لیکن بچوں کو جیل یا ایف آئی آر کا سامنا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ رضا الرحمٰن نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی نوجوانوں کے لیے Graduated Licensing System (GLS) نافذ ہے، جس کے ذریعے کم عمر طلبہ کو سکھایا جاتا ہے، سزا نہیں دی جاتی۔ آخر میں انہوں نے حکومت، ٹریفک پولیس اور محکمہ تعلیم سے اپیل کی کہ وہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں، کیونکہ یہ قدم نوجوانوں کے مستقبل، قانون کی اصلاح اور محفوظ ٹریفک کلچر کی جانب فیصلہ کن پیش رفت ثابت ہوگا۔ Via Raza Ur Rehman I endorse this !
0 Kommentare 0 Anteile 18 Ansichten