⸻
فقیری کا راز: بے ضرر ہونا شروعات ہے… منفعت بخش ہونا کمال ہے
اور اکثر لوگ شروعات تک پہنچتے ہیں، کمال تک نہیں۔
ایک پرانی عمارت کی دیوار پر سبز تختی لگی ہے۔
لوگ روز وہاں سے گزرتے ہیں۔
اکثر نے کبھی اس پر لکھی بات کو غور سے نہیں پڑھا۔
لیکن اس تختی پر ایک ایسا جملہ لکھا ہوا ہے
جو پوری زندگی بدل سکتا ہے:
**“فقیری شروع ہوتی ہے بے ضرر ہو جانے سے
اور مکمل ہوتی ہے منفعت بخش ہو جانے پر!”**
فقیری — وہ باطنی آزادی جو صوفیاء نے سیکھی —
نہ لمبی عبادتوں سے شروع ہوتی ہے،
نہ مسلسل روزوں سے،
نہ جنگلوں میں جا کر غاروں میں بیٹھنے سے۔
فقیری کی شروعات ہوتی ہے ایک سادہ…
اور بے حد مشکل قدم سے:
کسی کو نقصان نہ پہنچانا۔
نہ جھوٹ دینا۔
نہ حسد کرنا۔
نہ دل دکھانا۔
نہ چغلی، نہ بدگمانی۔
نہ کسی کا رزق روکنا، نہ کسی کی راہ میں رکاوٹ بننا۔
جب تمہاری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے،
تمہاری فقیری شروع ہوتی ہے۔
لیکن تختی یہیں ختم نہیں ہوتی۔
اصل بات… اصل راز…
اس کا دوسرا مصرع بتاتا ہے:
فقیری اس وقت مکمل ہوتی ہے جب انسان منفعت بخش بن جائے۔
جب تم کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کر دو۔
جب تمہاری وجہ سے کسی کو حوصلہ ملے۔
جب تمہاری بات سے کسی کے آنسو رک جائیں۔
جب تمہاری رہنمائی سے کسی کی کمائی بڑھ جائے۔
جب تمہارے ایک اچھے لفظ سے کسی کی زندگی بدل جائے۔
یہ ہے فقیری کا مقام:
نہ صرف نقصان نہ دینا… بلکہ فائدہ پہنچانا۔
صرف خود کو ٹھیک کرنا نہیں… دوسروں کو اٹھا لینا۔
اوریہ کمال سب کے بس کی بات نہیں۔
لیکن ایک بات یاد رکھو:
منفعت بخش بننے کے لیے دولت نہیں—نیت چاہیے۔
ایک مسکراہٹ کافی ہے۔
ایک اچھا جملہ کافی ہے۔
ایک چھوٹی رہنمائی کافی ہے۔
ایک موقع بتا دینا کافی ہے۔
ایک دعا کافی ہے۔
دنیا بھر میں ایسے لوگ بہت ہیں جو نقصان دیتے ہیں۔
کچھ وہ ہیں جو بس نقصان نہیں دیتے۔
لیکن دنیا کو ضرورت ان لوگوں کی ہے
جو فائدہ دیتے ہیں۔
جو روشنی بنتے ہیں۔
جو امید بنتے ہیں۔
جو دلوں کو جوڑتے ہیں۔
اب وہ تختی دوبارہ پڑھو:
**“فقیری شروع ہوتی ہے بے ضرر ہو جانے سے
اور مکمل ہوتی ہے منفعت بخش ہو جانے پر!”**
بے ضرر بن جاؤ۔
پھر فائدہ مند بن جاؤ۔
پھر وہ انسان بنو… جس کے قدموں سے زمین کو سکون ملے۔
Via Mufti Ihsan Hussaini
فقیری کا راز: بے ضرر ہونا شروعات ہے… منفعت بخش ہونا کمال ہے
اور اکثر لوگ شروعات تک پہنچتے ہیں، کمال تک نہیں۔
ایک پرانی عمارت کی دیوار پر سبز تختی لگی ہے۔
لوگ روز وہاں سے گزرتے ہیں۔
اکثر نے کبھی اس پر لکھی بات کو غور سے نہیں پڑھا۔
لیکن اس تختی پر ایک ایسا جملہ لکھا ہوا ہے
جو پوری زندگی بدل سکتا ہے:
**“فقیری شروع ہوتی ہے بے ضرر ہو جانے سے
اور مکمل ہوتی ہے منفعت بخش ہو جانے پر!”**
فقیری — وہ باطنی آزادی جو صوفیاء نے سیکھی —
نہ لمبی عبادتوں سے شروع ہوتی ہے،
نہ مسلسل روزوں سے،
نہ جنگلوں میں جا کر غاروں میں بیٹھنے سے۔
فقیری کی شروعات ہوتی ہے ایک سادہ…
اور بے حد مشکل قدم سے:
کسی کو نقصان نہ پہنچانا۔
نہ جھوٹ دینا۔
نہ حسد کرنا۔
نہ دل دکھانا۔
نہ چغلی، نہ بدگمانی۔
نہ کسی کا رزق روکنا، نہ کسی کی راہ میں رکاوٹ بننا۔
جب تمہاری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے،
تمہاری فقیری شروع ہوتی ہے۔
لیکن تختی یہیں ختم نہیں ہوتی۔
اصل بات… اصل راز…
اس کا دوسرا مصرع بتاتا ہے:
فقیری اس وقت مکمل ہوتی ہے جب انسان منفعت بخش بن جائے۔
جب تم کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کر دو۔
جب تمہاری وجہ سے کسی کو حوصلہ ملے۔
جب تمہاری بات سے کسی کے آنسو رک جائیں۔
جب تمہاری رہنمائی سے کسی کی کمائی بڑھ جائے۔
جب تمہارے ایک اچھے لفظ سے کسی کی زندگی بدل جائے۔
یہ ہے فقیری کا مقام:
نہ صرف نقصان نہ دینا… بلکہ فائدہ پہنچانا۔
صرف خود کو ٹھیک کرنا نہیں… دوسروں کو اٹھا لینا۔
اوریہ کمال سب کے بس کی بات نہیں۔
لیکن ایک بات یاد رکھو:
منفعت بخش بننے کے لیے دولت نہیں—نیت چاہیے۔
ایک مسکراہٹ کافی ہے۔
ایک اچھا جملہ کافی ہے۔
ایک چھوٹی رہنمائی کافی ہے۔
ایک موقع بتا دینا کافی ہے۔
ایک دعا کافی ہے۔
دنیا بھر میں ایسے لوگ بہت ہیں جو نقصان دیتے ہیں۔
کچھ وہ ہیں جو بس نقصان نہیں دیتے۔
لیکن دنیا کو ضرورت ان لوگوں کی ہے
جو فائدہ دیتے ہیں۔
جو روشنی بنتے ہیں۔
جو امید بنتے ہیں۔
جو دلوں کو جوڑتے ہیں۔
اب وہ تختی دوبارہ پڑھو:
**“فقیری شروع ہوتی ہے بے ضرر ہو جانے سے
اور مکمل ہوتی ہے منفعت بخش ہو جانے پر!”**
بے ضرر بن جاؤ۔
پھر فائدہ مند بن جاؤ۔
پھر وہ انسان بنو… جس کے قدموں سے زمین کو سکون ملے۔
Via Mufti Ihsan Hussaini
⸻
🌿 فقیری کا راز: بے ضرر ہونا شروعات ہے… منفعت بخش ہونا کمال ہے
اور اکثر لوگ شروعات تک پہنچتے ہیں، کمال تک نہیں۔
ایک پرانی عمارت کی دیوار پر سبز تختی لگی ہے۔
لوگ روز وہاں سے گزرتے ہیں۔
اکثر نے کبھی اس پر لکھی بات کو غور سے نہیں پڑھا۔
لیکن اس تختی پر ایک ایسا جملہ لکھا ہوا ہے
جو پوری زندگی بدل سکتا ہے:
**“فقیری شروع ہوتی ہے بے ضرر ہو جانے سے
اور مکمل ہوتی ہے منفعت بخش ہو جانے پر!”**
فقیری — وہ باطنی آزادی جو صوفیاء نے سیکھی —
نہ لمبی عبادتوں سے شروع ہوتی ہے،
نہ مسلسل روزوں سے،
نہ جنگلوں میں جا کر غاروں میں بیٹھنے سے۔
فقیری کی شروعات ہوتی ہے ایک سادہ…
اور بے حد مشکل قدم سے:
کسی کو نقصان نہ پہنچانا۔
نہ جھوٹ دینا۔
نہ حسد کرنا۔
نہ دل دکھانا۔
نہ چغلی، نہ بدگمانی۔
نہ کسی کا رزق روکنا، نہ کسی کی راہ میں رکاوٹ بننا۔
جب تمہاری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے،
تمہاری فقیری شروع ہوتی ہے۔
لیکن تختی یہیں ختم نہیں ہوتی۔
اصل بات… اصل راز…
اس کا دوسرا مصرع بتاتا ہے:
فقیری اس وقت مکمل ہوتی ہے جب انسان منفعت بخش بن جائے۔
جب تم کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کر دو۔
جب تمہاری وجہ سے کسی کو حوصلہ ملے۔
جب تمہاری بات سے کسی کے آنسو رک جائیں۔
جب تمہاری رہنمائی سے کسی کی کمائی بڑھ جائے۔
جب تمہارے ایک اچھے لفظ سے کسی کی زندگی بدل جائے۔
یہ ہے فقیری کا مقام:
نہ صرف نقصان نہ دینا… بلکہ فائدہ پہنچانا۔
صرف خود کو ٹھیک کرنا نہیں… دوسروں کو اٹھا لینا۔
اوریہ کمال سب کے بس کی بات نہیں۔
لیکن ایک بات یاد رکھو:
منفعت بخش بننے کے لیے دولت نہیں—نیت چاہیے۔
ایک مسکراہٹ کافی ہے۔
ایک اچھا جملہ کافی ہے۔
ایک چھوٹی رہنمائی کافی ہے۔
ایک موقع بتا دینا کافی ہے۔
ایک دعا کافی ہے۔
دنیا بھر میں ایسے لوگ بہت ہیں جو نقصان دیتے ہیں۔
کچھ وہ ہیں جو بس نقصان نہیں دیتے۔
لیکن دنیا کو ضرورت ان لوگوں کی ہے
جو فائدہ دیتے ہیں۔
جو روشنی بنتے ہیں۔
جو امید بنتے ہیں۔
جو دلوں کو جوڑتے ہیں۔
اب وہ تختی دوبارہ پڑھو:
**“فقیری شروع ہوتی ہے بے ضرر ہو جانے سے
اور مکمل ہوتی ہے منفعت بخش ہو جانے پر!”**
بے ضرر بن جاؤ۔
پھر فائدہ مند بن جاؤ۔
پھر وہ انسان بنو… جس کے قدموں سے زمین کو سکون ملے۔
Via Mufti Ihsan Hussaini
0 Comentários
0 Compartilhamentos
23 Visualizações