سائنس دانوں نے بغیر ایک لفظ بولے ’’دماغ سے دماغ‘‘ رابطے کا کارنامہ انجام دے دیا

سائنس دانوں نے وہ کام کردکھایا جو کبھی صرف سائنسی افسانوں میں ممکن سمجھا جاتا تھا — یعنی انسانی دماغوں کے درمیان براہِ راست پیغام رسانی، بغیر بولے، لکھے یا حرکت کیے۔ جدید نیوروٹیکنالوجی (دماغی ٹیکنالوجی) کی مدد سے محققین نے ایک ایسا نظام تیار کیا جس میں خیالات براہِ راست ایک دماغ سے دوسرے دماغ تک منتقل کیے جا سکتے ہیں۔

تجربے میں شریک افراد نے انتہائی حساس نیورل ہیڈسیٹس پہنے جو دماغ سے خارج ہونے والے برقی سگنلز (electrical signals) کو پڑھ کر ان کا ترجمہ کرتے ہیں۔ یہی سگنلز خیالات، جذبات اور ارادوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ ان سگنلز کو وائرلیس کے ذریعے دوسرے فرد کے دماغ تک بھیجا گیا، جہاں انہیں ڈی کوڈ کر کے معنی خیز معلومات میں بدلا گیا۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو ایک دماغ براہِ راست دوسرے دماغ سے ’’بات‘‘ کرنے کے قابل ہو گیا۔

اس پیش رفت کے اثرات حیران کن ہیں۔ سوچیں، اگر پیچیدہ خیالات کو فوراً منتقل کیا جا سکے تو زبان کی رکاوٹیں یا غلط فہمیاں ختم ہو جائیں گی۔ ڈاکٹرز اُن مریضوں سے رابطہ کر سکیں گے جو بولنے سے قاصر ہیں۔ فوجی، خلا نورد یا امدادی ٹیمیں خطرناک حالات میں خاموشی سے ہم آہنگی کے ساتھ کام کر سکیں گی۔ تعلیم اور علاج کے میدان میں بھی انقلاب آ سکتا ہے، جہاں اساتذہ، طلبہ اور مریض ایک دوسرے کو گہرائی سے سمجھ سکیں۔

تاہم، یہ ٹیکنالوجی کئی اخلاقی اور نجی نوعیت کے سوالات کو بھی جنم دیتی ہے۔ اگر خیالات کو بانٹا جا سکتا ہے تو کیا انہیں بغیر اجازت پڑھا بھی جا سکے گا؟ سائنس دان اس نئی دنیا کے لیے سخت حفاظتی اقدامات پر زور دے رہے ہیں تاکہ یہ ایجاد رابطے کا ذریعہ بنے، کنٹرول کا نہیں۔

پھر بھی، یہ کامیابی انسانی ارتقاء میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ تاریخ میں پہلی بار ثابت ہو گیا ہے کہ انسانی ذہن ایک دوسرے سے براہِ راست جڑ سکتے ہیں، زبان اور آواز کی حدود سے آگے بڑھ کر۔

شاید ہم ایک ایسے مستقبل کی دہلیز پر ہیں جہاں ہمدردی، سمجھ بوجھ اور تعاون الفاظ سے بالاتر ہو جائیں — اور انسانیت واقعی ’’ایک ساتھ سوچنا‘‘ سیکھ لے۔
https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/25137064

Via DrJavaid Afzal
سائنس دانوں نے بغیر ایک لفظ بولے ’’دماغ سے دماغ‘‘ رابطے کا کارنامہ انجام دے دیا سائنس دانوں نے وہ کام کردکھایا جو کبھی صرف سائنسی افسانوں میں ممکن سمجھا جاتا تھا — یعنی انسانی دماغوں کے درمیان براہِ راست پیغام رسانی، بغیر بولے، لکھے یا حرکت کیے۔ جدید نیوروٹیکنالوجی (دماغی ٹیکنالوجی) کی مدد سے محققین نے ایک ایسا نظام تیار کیا جس میں خیالات براہِ راست ایک دماغ سے دوسرے دماغ تک منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ تجربے میں شریک افراد نے انتہائی حساس نیورل ہیڈسیٹس پہنے جو دماغ سے خارج ہونے والے برقی سگنلز (electrical signals) کو پڑھ کر ان کا ترجمہ کرتے ہیں۔ یہی سگنلز خیالات، جذبات اور ارادوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ ان سگنلز کو وائرلیس کے ذریعے دوسرے فرد کے دماغ تک بھیجا گیا، جہاں انہیں ڈی کوڈ کر کے معنی خیز معلومات میں بدلا گیا۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو ایک دماغ براہِ راست دوسرے دماغ سے ’’بات‘‘ کرنے کے قابل ہو گیا۔ اس پیش رفت کے اثرات حیران کن ہیں۔ سوچیں، اگر پیچیدہ خیالات کو فوراً منتقل کیا جا سکے تو زبان کی رکاوٹیں یا غلط فہمیاں ختم ہو جائیں گی۔ ڈاکٹرز اُن مریضوں سے رابطہ کر سکیں گے جو بولنے سے قاصر ہیں۔ فوجی، خلا نورد یا امدادی ٹیمیں خطرناک حالات میں خاموشی سے ہم آہنگی کے ساتھ کام کر سکیں گی۔ تعلیم اور علاج کے میدان میں بھی انقلاب آ سکتا ہے، جہاں اساتذہ، طلبہ اور مریض ایک دوسرے کو گہرائی سے سمجھ سکیں۔ تاہم، یہ ٹیکنالوجی کئی اخلاقی اور نجی نوعیت کے سوالات کو بھی جنم دیتی ہے۔ اگر خیالات کو بانٹا جا سکتا ہے تو کیا انہیں بغیر اجازت پڑھا بھی جا سکے گا؟ سائنس دان اس نئی دنیا کے لیے سخت حفاظتی اقدامات پر زور دے رہے ہیں تاکہ یہ ایجاد رابطے کا ذریعہ بنے، کنٹرول کا نہیں۔ پھر بھی، یہ کامیابی انسانی ارتقاء میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ تاریخ میں پہلی بار ثابت ہو گیا ہے کہ انسانی ذہن ایک دوسرے سے براہِ راست جڑ سکتے ہیں، زبان اور آواز کی حدود سے آگے بڑھ کر۔ شاید ہم ایک ایسے مستقبل کی دہلیز پر ہیں جہاں ہمدردی، سمجھ بوجھ اور تعاون الفاظ سے بالاتر ہو جائیں — اور انسانیت واقعی ’’ایک ساتھ سوچنا‘‘ سیکھ لے۔ https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/25137064 Via DrJavaid Afzal
0 Commentarii 0 Distribuiri 152 Views