زندگی کے 6 سال کیوبا میں گزارے ….. کہا جاتا ہے کہ فی زمانہ صرف کیوبا ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں سوشلزم اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ رائج ہے … صاحب جب میں کیوبا گیا تھا، نہ تو مجھے تب پتہ تھا کہ سوشلزم کس بلا کا نام ہے اور نہ ہی مجھے اب پتہ ہے کہ یہ کیا چیز ہے …. میں فقط اتنا جانتا ہوں کہ کیوبا محبت کرنے والوں کا ملک ہے ….

جن سہولیات کے حصول کے لیے ہم ساری زندگی کولھو کے بیل کی طرح پیسہ کمانے میں جٹے رہتے ہیں، وہ سہولیات ادھر عام عوام کو مفت میسر ہیں، یعنی صحت اور تعلیم … ہاں تنخواہیں کم ہیں مگر ہر شخص کو اپنی تنخواہ اپنی ذات پر خرچ کرنے کو میسر ہے …

بیٹے کی فیس کس طرح ادا ہوگی؟ …. ماں جی کے آپریشن کے پیسے کہاں سے لاؤں؟ … ایسی تمام پریشانیوں کی دیوی کی پوجا کیوبا والوں نے کب کی چھوڑ دی ….

کیوبا میں عام طور پر ہانڈی بجلی کے چولہے پر بنائی جاتی ہے … مگر حکومت ہر اس گھر میں جہاں شوگر کا مریض رہتا ہو، ایک گیس کا سلنڈر بھی مہیا کرتی ہے تاکہ اگر کسی روز اتفاقاً بجلی نہ ہو تو شوگر کا مریض بھوکا نہ رہے کیونکہ بہت زیادہ دیر تک بھوکا رہنا اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے … اور ہاں گیس ختم ہو جانے پر دوبارہ بھروانا بھی حکومت نے اپنے سر لے رکھا ہے …

2005 میں 3000 کیوبن ڈاکٹرز نے پاکستان کے سخت ترین موسم اور خطرناک ترین علاقوں میں زلزلہ زدگان کو علاج کی سہولت مہیا کی … یہ بات تو شاید آپ کو پتہ ہی ہو … مگر شاید آپ یہ نہ جانتے ہوں کہ کیوبا نے 1000 پاکستانی طلبہ کو اپنے ملک میں رکھ کر 1 روپیہ لیے بغیر ڈاکٹر بھی بنایا …

اگر آپ یہ بات نہیں جانتے تو جانتے ہیں کیوں؟؟ کیوں کہ کیوبا نے یہ سب انسانیت کے ناطے کیا … نہ کہ تشہیر کے لیے … اور ہزاروں باتیں، ہزاروں یادیں ہیں جو لکھ سکتا ہوں … مجھے نہیں پتہ کہ یہ سب سوشلزم کا نتیجہ ہیں یا کسی اور کا …..

میں بس اس بات پر خون روتا ہوں کہ ہر طرف سے پانی میں گھِرے چھوٹے سے جزیرے پر رہتے لوگوں کو کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی وہ سب کچھ میسر ہے جو میرے وطن کے باسیوں کو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی نہیں میسر…

وسعت اللہ خاں
زندگی کے 6 سال کیوبا میں گزارے ….. کہا جاتا ہے کہ فی زمانہ صرف کیوبا ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں سوشلزم اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ رائج ہے … صاحب جب میں کیوبا گیا تھا، نہ تو مجھے تب پتہ تھا کہ سوشلزم کس بلا کا نام ہے اور نہ ہی مجھے اب پتہ ہے کہ یہ کیا چیز ہے …. میں فقط اتنا جانتا ہوں کہ کیوبا محبت کرنے والوں کا ملک ہے …. جن سہولیات کے حصول کے لیے ہم ساری زندگی کولھو کے بیل کی طرح پیسہ کمانے میں جٹے رہتے ہیں، وہ سہولیات ادھر عام عوام کو مفت میسر ہیں، یعنی صحت اور تعلیم … ہاں تنخواہیں کم ہیں مگر ہر شخص کو اپنی تنخواہ اپنی ذات پر خرچ کرنے کو میسر ہے … بیٹے کی فیس کس طرح ادا ہوگی؟ …. ماں جی کے آپریشن کے پیسے کہاں سے لاؤں؟ … ایسی تمام پریشانیوں کی دیوی کی پوجا کیوبا والوں نے کب کی چھوڑ دی …. کیوبا میں عام طور پر ہانڈی بجلی کے چولہے پر بنائی جاتی ہے … مگر حکومت ہر اس گھر میں جہاں شوگر کا مریض رہتا ہو، ایک گیس کا سلنڈر بھی مہیا کرتی ہے تاکہ اگر کسی روز اتفاقاً بجلی نہ ہو تو شوگر کا مریض بھوکا نہ رہے کیونکہ بہت زیادہ دیر تک بھوکا رہنا اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے … اور ہاں گیس ختم ہو جانے پر دوبارہ بھروانا بھی حکومت نے اپنے سر لے رکھا ہے … 2005 میں 3000 کیوبن ڈاکٹرز نے پاکستان کے سخت ترین موسم اور خطرناک ترین علاقوں میں زلزلہ زدگان کو علاج کی سہولت مہیا کی … یہ بات تو شاید آپ کو پتہ ہی ہو … مگر شاید آپ یہ نہ جانتے ہوں کہ کیوبا نے 1000 پاکستانی طلبہ کو اپنے ملک میں رکھ کر 1 روپیہ لیے بغیر ڈاکٹر بھی بنایا … اگر آپ یہ بات نہیں جانتے تو جانتے ہیں کیوں؟؟ کیوں کہ کیوبا نے یہ سب انسانیت کے ناطے کیا … نہ کہ تشہیر کے لیے … اور ہزاروں باتیں، ہزاروں یادیں ہیں جو لکھ سکتا ہوں … مجھے نہیں پتہ کہ یہ سب سوشلزم کا نتیجہ ہیں یا کسی اور کا ….. میں بس اس بات پر خون روتا ہوں کہ ہر طرف سے پانی میں گھِرے چھوٹے سے جزیرے پر رہتے لوگوں کو کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی وہ سب کچھ میسر ہے جو میرے وطن کے باسیوں کو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی نہیں میسر… وسعت اللہ خاں
0 Comentários 0 Compartilhamentos 25 Visualizações