ٹائٹل: “گدھے کو دو زعفران، تو مو بناتا ہے”
(By Rehan Allahwala)



پچھلے کچھ برسوں سے جب سے فیس بک آیا ہے، میں وہاں اپنی باتیں، اپنے خیالات، اپنے ویڈیوز اور اپنی کتابوں کے اقتباسات شیئر کرتا رہا ہوں۔ آہستہ آہستہ لاکھوں لوگ جڑتے گئے، اور ایک وقت آیا کہ میرے سترہ ملین فالورز ہو گئے۔

پھر فیس بک نے میرا اکاؤنٹ بند کر دیا۔
میں نے دوبارہ سفر شروع کیا۔
اب پھر ڈیڑھ ملین لوگ ساتھ ہیں۔

لیکن آج جب میں کوئی بات، کوئی نصیحت، یا کوئی علم کی بات شیئر کرتا ہوں تو نیچے تبصرے پڑھ کے ہنسی بھی آتی ہے، افسوس بھی۔
کوئی مجھے چورن فروش کہتا ہے،
کوئی منجن فروش،
کوئی الو بنانے والا،
کوئی دھوکے باز۔

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے
نہ کبھی مجھ سے ملاقات کی ہے،
نہ میری کوئی کتاب پڑھی ہے،
نہ میری ہزاروں ویڈیوز میں سے ایک ویڈیو بھی پوری دیکھی ہے۔

یہ وہی لوگ ہیں جو ہر پرائم منسٹر کو گالی دیتے ہیں،
ہر آرمی آفیسر کو برا کہتے ہیں،
ہر بزنس مین کو چور بولتے ہیں۔
کیوں؟ کیونکہ ان کی تربیت اسی زہریلے میڈیا،
اس گندی جرنلزم، اور اس منفی سوچ نے کی ہے جو پچھلے 75 سال سے ہمارے گھروں میں ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعے ڈالی جا رہی ہے۔

یہ میری قوم ہے — پاکستان کی قوم۔
ایک ایسی قوم جسے اتنا منفی دکھایا گیا کہ اب اگر کوئی سچی، صاف، اور مثبت بات کرے،
تو انہیں وہ “مشکوک” لگتی ہے۔

کل ہی ایک شخص نے مجھے کہا:
“میں کئی سال سے آپ کو فالو کر رہا ہوں۔ آپ کی ویڈیوز دیکھی ہیں۔ پچھلے سالوں میں مجھے ایک بھی دھوکے والی بات نظر نہیں آئی۔”
میں نے شکر ادا کیا — کم از کم کسی نے سمجھا۔

اور جو لوگ بغیر سمجھے، بس دیکھے بغیر، گالیاں دیتے ہیں —
میں ان کا بھی شکر گزار ہوں۔
کیونکہ حدیث کے مطابق جب کوئی کسی کی غیبت کرتا ہے یا جھوٹا الزام لگاتا ہے تو اس کے نیک عمل اس شخص کے کھاتے میں چلے جاتے ہیں جس پر الزام لگایا گیا ہو۔
تو آپ سب جو برا بھلا کہہ رہے ہیں —
شکریہ!
قیامت کے دن آپ کے ثواب میرے حصے میں آئیں گے۔
میرا پلڑا آپ کے الفاظ سے بھاری ہو جائے گا۔

میں علم کی زعفران بانٹتا ہوں —
لیکن بہت سے لوگ اسے گھاس سمجھ کر ضائع کر دیتے ہیں۔
میں کہتا ہوں، کوئی بات نہیں۔
پانچ سال بعد، دس سال بعد، شاید بیس سال بعد آپ کو میری بات سمجھ آ جائے۔

میری ماں بھی اکثر کہتی ہیں:
“ریحان کی بات ہمیں دس پندرہ سال بعد سمجھ آتی ہے۔”
تو اگر ماں کو دیر سے سمجھ آتی ہے تو دوسروں کا کیا قصور؟

آپ اپنے کوئے کے اندر بیٹھے رہیں،
اپنی دنیا میں خوش رہیں،
اور ہم اپنے مشن پر چلتے رہیں —
جہاں علم ہے، روشنی ہے، اور امید ہے۔

پاکستان زندہ باد۔
✳️ ٹائٹل: “گدھے کو دو زعفران، تو مو بناتا ہے” (By Rehan Allahwala) ⸻ پچھلے کچھ برسوں سے جب سے فیس بک آیا ہے، میں وہاں اپنی باتیں، اپنے خیالات، اپنے ویڈیوز اور اپنی کتابوں کے اقتباسات شیئر کرتا رہا ہوں۔ آہستہ آہستہ لاکھوں لوگ جڑتے گئے، اور ایک وقت آیا کہ میرے سترہ ملین فالورز ہو گئے۔ پھر فیس بک نے میرا اکاؤنٹ بند کر دیا۔ میں نے دوبارہ سفر شروع کیا۔ اب پھر ڈیڑھ ملین لوگ ساتھ ہیں۔ لیکن آج جب میں کوئی بات، کوئی نصیحت، یا کوئی علم کی بات شیئر کرتا ہوں تو نیچے تبصرے پڑھ کے ہنسی بھی آتی ہے، افسوس بھی۔ کوئی مجھے چورن فروش کہتا ہے، کوئی منجن فروش، کوئی الو بنانے والا، کوئی دھوکے باز۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے نہ کبھی مجھ سے ملاقات کی ہے، نہ میری کوئی کتاب پڑھی ہے، نہ میری ہزاروں ویڈیوز میں سے ایک ویڈیو بھی پوری دیکھی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہر پرائم منسٹر کو گالی دیتے ہیں، ہر آرمی آفیسر کو برا کہتے ہیں، ہر بزنس مین کو چور بولتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کی تربیت اسی زہریلے میڈیا، اس گندی جرنلزم، اور اس منفی سوچ نے کی ہے جو پچھلے 75 سال سے ہمارے گھروں میں ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعے ڈالی جا رہی ہے۔ یہ میری قوم ہے — پاکستان کی قوم۔ ایک ایسی قوم جسے اتنا منفی دکھایا گیا کہ اب اگر کوئی سچی، صاف، اور مثبت بات کرے، تو انہیں وہ “مشکوک” لگتی ہے۔ کل ہی ایک شخص نے مجھے کہا: “میں کئی سال سے آپ کو فالو کر رہا ہوں۔ آپ کی ویڈیوز دیکھی ہیں۔ پچھلے سالوں میں مجھے ایک بھی دھوکے والی بات نظر نہیں آئی۔” میں نے شکر ادا کیا — کم از کم کسی نے سمجھا۔ اور جو لوگ بغیر سمجھے، بس دیکھے بغیر، گالیاں دیتے ہیں — میں ان کا بھی شکر گزار ہوں۔ کیونکہ حدیث کے مطابق جب کوئی کسی کی غیبت کرتا ہے یا جھوٹا الزام لگاتا ہے تو اس کے نیک عمل اس شخص کے کھاتے میں چلے جاتے ہیں جس پر الزام لگایا گیا ہو۔ تو آپ سب جو برا بھلا کہہ رہے ہیں — شکریہ! قیامت کے دن آپ کے ثواب میرے حصے میں آئیں گے۔ میرا پلڑا آپ کے الفاظ سے بھاری ہو جائے گا۔ میں علم کی زعفران بانٹتا ہوں — لیکن بہت سے لوگ اسے گھاس سمجھ کر ضائع کر دیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں، کوئی بات نہیں۔ پانچ سال بعد، دس سال بعد، شاید بیس سال بعد آپ کو میری بات سمجھ آ جائے۔ میری ماں بھی اکثر کہتی ہیں: “ریحان کی بات ہمیں دس پندرہ سال بعد سمجھ آتی ہے۔” تو اگر ماں کو دیر سے سمجھ آتی ہے تو دوسروں کا کیا قصور؟ آپ اپنے کوئے کے اندر بیٹھے رہیں، اپنی دنیا میں خوش رہیں، اور ہم اپنے مشن پر چلتے رہیں — جہاں علم ہے، روشنی ہے، اور امید ہے۔ پاکستان زندہ باد۔ 🇵🇰
0 Kommentare 0 Anteile 60 Ansichten