چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور قومی نصاب کونسل کے رکن علی رضا کا ریحان اسکول لاہور کا دورہ — 17 اکتوبر 2025

آج محترم علی رضا صاحب، چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور رکن نیشنل کریکولم کونسل (NCC)، حکومتِ پاکستان نے ریحان اسکول لاہور کا دورہ کیا۔
اس دورے کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کس طرح یہ اسکول جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کو تدریس کے عمل میں استعمال کر رہا ہے اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں کیا نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔



پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن کیا ہے؟

پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن ایک قومی پلیٹ فارم ہے جو پورے ملک کے اسکولوں، کالجوں، تعلیمی اداروں، ٹیچر ٹریننگ سینٹرز، این جی اوز اور پالیسی ساز اداروں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔
اس کا مقصد پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا، پبلک اور پرائیویٹ اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا، اور جدید، ہنرمند اور باوقار تعلیم کو فروغ دینا ہے۔

چیئرمین علی رضا کی قیادت میں چیمبر درج ذیل شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے:
• اساتذہ کی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی۔
• نصاب کی جدید کاری اور عالمی معیار سے ہم آہنگی۔
• ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا تعلیمی نظام میں انضمام۔
• نجی و سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ اور پالیسی تجاویز کی تیاری۔

چیمبر کے رکن اداروں میں بڑے تعلیمی نیٹ ورکس، ہنر مندی کے ادارے، غیر منافع بخش تنظیمیں، اور ملک بھر کے آزاد اسکول شامل ہیں۔



علی رضا کا کردار قومی نصاب کی تشکیل میں

چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ علی رضا نیشنل کریکولم کونسل (NCC) کے رکن بھی ہیں — جو حکومتِ پاکستان کا مرکزی ادارہ ہے جو قومی نصاب کی تیاری، نظرِ ثانی اور معیار بندی کرتا ہے۔

اس حیثیت میں علی رضا کا کردار شامل ہے:
• نصاب کے ڈھانچے اور مضامین کی بہتری پر مشاورت۔
• اسکولوں اور اساتذہ کے زمینی تجربات کو نصاب میں شامل کرنے میں مدد۔
• تدریسی معیار، سیکھنے کے نتائج (Learning Outcomes) اور امتحانی طریقوں پر تجاویز۔
• نصاب میں ٹیکنالوجی، تخلیقی سوچ اور مہارت پر مبنی تعلیم کا فروغ۔

ان کا دوہرا کردار — ایک طرف تعلیمی اداروں کی نمائندگی اور دوسری طرف نصاب سازی میں شمولیت — انہیں پالیسی اور عملی تدریس کے درمیان ایک پل بناتا ہے۔



ریحان اسکول لاہور کا دورہ

آج کے دورے میں علی رضا صاحب نے اسکول کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ سے ملاقات کی۔
انہیں دکھایا گیا کہ کس طرح بچے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے انگریزی بول چال، اعتماد، تخلیقی اظہار اور تحقیق سیکھ رہے ہیں۔
اساتذہ نے بتایا کہ AI کے ذریعے وہ ہر طالبعلم کی کارکردگی کو الگ سے سمجھ سکتے ہیں، سبق کو دلچسپ بنا سکتے ہیں، اور کم وسائل میں بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

چیئرمین علی رضا نے اسکول کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے ماڈل پاکستان کے دوسرے تعلیمی اداروں کے لیے عملی مثال بن سکتے ہیں۔
انہوں نے اس موقع پر اساتذہ کی تربیت، ڈیجیٹل تعلیم، اور نصاب میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر مشترکہ منصوبوں کی بات کی۔



دورے کی اہمیت

یہ دورہ پاکستان کے تعلیمی منظرنامے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ اب پالیسی بنانے والے رہنما اور اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔

یہ دورہ درج ذیل پیغامات دیتا ہے:
• نصاب اور پالیسی زمینی حقیقت کو دیکھ کر بننی چاہیے۔
• جدید تعلیم میں مصنوعی ذہانت، تخلیقی صلاحیت، اور اعتماد کی تربیت بنیادی کردار رکھتے ہیں۔
• اسکولوں میں جدت (Innovation) کو صرف سراہا نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلایا جانا چاہیے۔



آگے کا راستہ

دورے کے دوران یہ اتفاق کیا گیا کہ پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور ریحان اسکول آئندہ درج ذیل شعبوں میں باہمی تعاون بڑھائیں گے:
• اساتذہ کے لیے AI ٹریننگ پروگرام۔
• ڈیجیٹل نصاب اور لرننگ میٹیریل کی تیاری۔
• کمیونٹی پر مبنی اسکول ماڈلز کو فروغ دینا۔

اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو یہ پاکستان میں تعلیم کے نظام کو جدید، منصفانہ اور عالمی معیار کے قریب لے جا سکتے ہیں۔



اختتامیہ

محترم علی رضا صاحب — چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور رکن نیشنل کریکولم کونسل — کا آج کا ریحان اسکول لاہور کا دورہ ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ دورہ صرف ملاقات نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ پاکستان میں تعلیمی اصلاحات تب ہی ممکن ہیں جب پالیسی ساز، اسکول، اور اساتذہ مل کر ایک ہی مقصد کے لیے کام کریں۔

پاکستان کا مستقبل انہی کلاس رومز میں لکھا جا رہا ہے — جہاں بچے سیکھنے کے ساتھ سوچنا، بولنا اور بدلنا بھی سیکھ رہے ہیں۔

Connect with Ali Raza
چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور قومی نصاب کونسل کے رکن علی رضا کا ریحان اسکول لاہور کا دورہ — 17 اکتوبر 2025 آج محترم علی رضا صاحب، چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور رکن نیشنل کریکولم کونسل (NCC)، حکومتِ پاکستان نے ریحان اسکول لاہور کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کس طرح یہ اسکول جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کو تدریس کے عمل میں استعمال کر رہا ہے اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں کیا نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ ⸻ پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن کیا ہے؟ پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن ایک قومی پلیٹ فارم ہے جو پورے ملک کے اسکولوں، کالجوں، تعلیمی اداروں، ٹیچر ٹریننگ سینٹرز، این جی اوز اور پالیسی ساز اداروں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا، پبلک اور پرائیویٹ اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا، اور جدید، ہنرمند اور باوقار تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ چیئرمین علی رضا کی قیادت میں چیمبر درج ذیل شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے: • اساتذہ کی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی۔ • نصاب کی جدید کاری اور عالمی معیار سے ہم آہنگی۔ • ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا تعلیمی نظام میں انضمام۔ • نجی و سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ اور پالیسی تجاویز کی تیاری۔ چیمبر کے رکن اداروں میں بڑے تعلیمی نیٹ ورکس، ہنر مندی کے ادارے، غیر منافع بخش تنظیمیں، اور ملک بھر کے آزاد اسکول شامل ہیں۔ ⸻ علی رضا کا کردار قومی نصاب کی تشکیل میں چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ علی رضا نیشنل کریکولم کونسل (NCC) کے رکن بھی ہیں — جو حکومتِ پاکستان کا مرکزی ادارہ ہے جو قومی نصاب کی تیاری، نظرِ ثانی اور معیار بندی کرتا ہے۔ اس حیثیت میں علی رضا کا کردار شامل ہے: • نصاب کے ڈھانچے اور مضامین کی بہتری پر مشاورت۔ • اسکولوں اور اساتذہ کے زمینی تجربات کو نصاب میں شامل کرنے میں مدد۔ • تدریسی معیار، سیکھنے کے نتائج (Learning Outcomes) اور امتحانی طریقوں پر تجاویز۔ • نصاب میں ٹیکنالوجی، تخلیقی سوچ اور مہارت پر مبنی تعلیم کا فروغ۔ ان کا دوہرا کردار — ایک طرف تعلیمی اداروں کی نمائندگی اور دوسری طرف نصاب سازی میں شمولیت — انہیں پالیسی اور عملی تدریس کے درمیان ایک پل بناتا ہے۔ ⸻ ریحان اسکول لاہور کا دورہ آج کے دورے میں علی رضا صاحب نے اسکول کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ سے ملاقات کی۔ انہیں دکھایا گیا کہ کس طرح بچے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے انگریزی بول چال، اعتماد، تخلیقی اظہار اور تحقیق سیکھ رہے ہیں۔ اساتذہ نے بتایا کہ AI کے ذریعے وہ ہر طالبعلم کی کارکردگی کو الگ سے سمجھ سکتے ہیں، سبق کو دلچسپ بنا سکتے ہیں، اور کم وسائل میں بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ چیئرمین علی رضا نے اسکول کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے ماڈل پاکستان کے دوسرے تعلیمی اداروں کے لیے عملی مثال بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر اساتذہ کی تربیت، ڈیجیٹل تعلیم، اور نصاب میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر مشترکہ منصوبوں کی بات کی۔ ⸻ دورے کی اہمیت یہ دورہ پاکستان کے تعلیمی منظرنامے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اب پالیسی بنانے والے رہنما اور اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ یہ دورہ درج ذیل پیغامات دیتا ہے: • نصاب اور پالیسی زمینی حقیقت کو دیکھ کر بننی چاہیے۔ • جدید تعلیم میں مصنوعی ذہانت، تخلیقی صلاحیت، اور اعتماد کی تربیت بنیادی کردار رکھتے ہیں۔ • اسکولوں میں جدت (Innovation) کو صرف سراہا نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلایا جانا چاہیے۔ ⸻ آگے کا راستہ دورے کے دوران یہ اتفاق کیا گیا کہ پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور ریحان اسکول آئندہ درج ذیل شعبوں میں باہمی تعاون بڑھائیں گے: • اساتذہ کے لیے AI ٹریننگ پروگرام۔ • ڈیجیٹل نصاب اور لرننگ میٹیریل کی تیاری۔ • کمیونٹی پر مبنی اسکول ماڈلز کو فروغ دینا۔ اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو یہ پاکستان میں تعلیم کے نظام کو جدید، منصفانہ اور عالمی معیار کے قریب لے جا سکتے ہیں۔ ⸻ اختتامیہ محترم علی رضا صاحب — چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور رکن نیشنل کریکولم کونسل — کا آج کا ریحان اسکول لاہور کا دورہ ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ دورہ صرف ملاقات نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ پاکستان میں تعلیمی اصلاحات تب ہی ممکن ہیں جب پالیسی ساز، اسکول، اور اساتذہ مل کر ایک ہی مقصد کے لیے کام کریں۔ پاکستان کا مستقبل انہی کلاس رومز میں لکھا جا رہا ہے — جہاں بچے سیکھنے کے ساتھ سوچنا، بولنا اور بدلنا بھی سیکھ رہے ہیں۔ Connect with Ali Raza
0 Comentários 0 Compartilhamentos 514 Visualizações