ڈاکٹر امجد ثاقب کی کہانی — وہ شخص جس نے ہمدردی کو ایک نظام بنا دیا
تحریر: ریحان اللہ والا — بذریعہ ChatGPT

لاہور کے دل میں، جہاں پرانی گلیاں اور نئی سڑکیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں، ایک نوجوان لڑکا رہتا تھا — امجد ثاقب — جو ایک دن یہ سوال کرے گا کہ “جب دل اتنے سخی ہیں تو ملک میں غربت کیوں ہے؟”

ایک تعلیم یافتہ مگر سادہ گھرانے میں پیدا ہونے والے امجد ثاقب نے بچپن ہی سے خدمت اور انسانیت کا سبق سیکھا۔ والد ایک استاد تھے — نظم و ضبط کے پابند اور دیانتدار، جبکہ والدہ نے انہیں سکھایا کہ دوسروں کی مدد صدقہ نہیں، فرض ہے۔ یہی سبق بعد میں ان کی زندگی کا فلسفہ بن گیا۔

تعلیم میں امجد ہمیشہ نمایاں رہے۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس مکمل کیا، اور چاہا تو وہ ایک کامیاب پرائیویٹ ڈاکٹر بن سکتے تھے، مگر ان کے دل میں کچھ اور ہی آگ تھی۔ انہوں نے سول سروس آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی تاکہ عوامی خدمت کو عملی شکل دے سکیں۔

مگر ایک دن، ایک واقعے نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔
ایک غریب مزدور، جو محض چند ہزار روپے کے قرض کی وجہ سے اپنے بچوں کو کھانا نہیں کھلا سکتا تھا، امجد کے سامنے آیا۔ وہ شخص محنتی تھا، مگر حالات کے ہاتھوں مجبور۔ یہ منظر ڈاکٹر امجد کے دل کو چیر گیا۔

اس رات وہ سو نہ سکے۔ ان کے ذہن میں ایک سوال گونجتا رہا:
“اگر ایک شخص محض ضمانت کے نہ ہونے پر بھوکا ہے، تو کیا میں اس کی ضمانت نہیں بن سکتا؟”

اسی سوچ سے اخوت کا آغاز ہوا — ایک ایسا انقلابی تصور جس نے خیرات کو عزت، اور قرض کو بھائی چارے میں بدل دیا۔

سن 2001 میں، ڈاکٹر امجد نے اپنی جیب سے 10,000 روپے نکال کر ایک غریب درزی کو بغیر سود قرض دیا۔ چند مہینوں بعد وہ درزی پورا قرض واپس لے آیا۔ اور یوں دنیا کی سب سے بڑی بغیر سود مائیکرو فنانس تحریک کی بنیاد پڑ گئی۔

آہستہ آہستہ اخوت پھیلنے لگی۔ مسجدیں بینک بن گئیں، محلے خاندان بن گئے، اور اعتماد نئے نظام کا مرکز بن گیا۔ آج اخوت نے لاکھوں خاندانوں کو عزت سے روزگار دیا، اربوں روپے قرض دیا — مگر ایک روپیہ بھی سود نہیں لیا۔

ڈاکٹر امجد نے یہاں رکنا گوارا نہیں کیا۔ انہوں نے اخوت کو تعلیم، صحت، رہائش اور لباس تک پھیلایا۔
انہوں نے اخوت کالجز، اخوت یونیورسٹی اور اخوت کپڑا بینک قائم کیے تاکہ کوئی نوجوان تعلیم سے محروم نہ رہے، کوئی خاندان سردی میں کانپتا نہ رہے۔

ان کا ایمان تھا:
“غربت دولت کی کمی نہیں، موقع کی کمی ہے — اور ہم یہ موقع محبت سے پیدا کر سکتے ہیں۔”

ڈاکٹر امجد کے کام کو دنیا نے سلام کیا۔ انہیں ہلالِ امتیاز سے لے کر رمون میگسے سے ایوارڈ تک کئی عالمی اعزازات ملے۔ مگر وہ آج بھی ایک عام پاکستانی کی طرح سادہ لباس میں، عاجزی سے، اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ایک دنیا جو منافع کے پیچھے بھاگ رہی ہے، وہاں ڈاکٹر امجد ثاقب نے دنیا کو یاد دلایا کہ سب سے قیمتی سرمایہ اعتماد ہے۔

آج اخوت صرف ایک ادارہ نہیں — یہ امید کی علامت ہے۔
یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو چند ہزار روپے بھی انقلاب لا سکتے ہیں۔

جیسا کہ ڈاکٹر امجد کہتے ہیں:
“جب ایک دل دوسرے دل کے لیے کھلتا ہے، تبھی اصل انقلاب شروع ہوتا ہے۔”
ڈاکٹر امجد ثاقب کی کہانی — وہ شخص جس نے ہمدردی کو ایک نظام بنا دیا تحریر: ریحان اللہ والا — بذریعہ ChatGPT لاہور کے دل میں، جہاں پرانی گلیاں اور نئی سڑکیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں، ایک نوجوان لڑکا رہتا تھا — امجد ثاقب — جو ایک دن یہ سوال کرے گا کہ “جب دل اتنے سخی ہیں تو ملک میں غربت کیوں ہے؟” ایک تعلیم یافتہ مگر سادہ گھرانے میں پیدا ہونے والے امجد ثاقب نے بچپن ہی سے خدمت اور انسانیت کا سبق سیکھا۔ والد ایک استاد تھے — نظم و ضبط کے پابند اور دیانتدار، جبکہ والدہ نے انہیں سکھایا کہ دوسروں کی مدد صدقہ نہیں، فرض ہے۔ یہی سبق بعد میں ان کی زندگی کا فلسفہ بن گیا۔ تعلیم میں امجد ہمیشہ نمایاں رہے۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس مکمل کیا، اور چاہا تو وہ ایک کامیاب پرائیویٹ ڈاکٹر بن سکتے تھے، مگر ان کے دل میں کچھ اور ہی آگ تھی۔ انہوں نے سول سروس آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی تاکہ عوامی خدمت کو عملی شکل دے سکیں۔ مگر ایک دن، ایک واقعے نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ ایک غریب مزدور، جو محض چند ہزار روپے کے قرض کی وجہ سے اپنے بچوں کو کھانا نہیں کھلا سکتا تھا، امجد کے سامنے آیا۔ وہ شخص محنتی تھا، مگر حالات کے ہاتھوں مجبور۔ یہ منظر ڈاکٹر امجد کے دل کو چیر گیا۔ اس رات وہ سو نہ سکے۔ ان کے ذہن میں ایک سوال گونجتا رہا: “اگر ایک شخص محض ضمانت کے نہ ہونے پر بھوکا ہے، تو کیا میں اس کی ضمانت نہیں بن سکتا؟” اسی سوچ سے اخوت کا آغاز ہوا — ایک ایسا انقلابی تصور جس نے خیرات کو عزت، اور قرض کو بھائی چارے میں بدل دیا۔ سن 2001 میں، ڈاکٹر امجد نے اپنی جیب سے 10,000 روپے نکال کر ایک غریب درزی کو بغیر سود قرض دیا۔ چند مہینوں بعد وہ درزی پورا قرض واپس لے آیا۔ اور یوں دنیا کی سب سے بڑی بغیر سود مائیکرو فنانس تحریک کی بنیاد پڑ گئی۔ آہستہ آہستہ اخوت پھیلنے لگی۔ مسجدیں بینک بن گئیں، محلے خاندان بن گئے، اور اعتماد نئے نظام کا مرکز بن گیا۔ آج اخوت نے لاکھوں خاندانوں کو عزت سے روزگار دیا، اربوں روپے قرض دیا — مگر ایک روپیہ بھی سود نہیں لیا۔ ڈاکٹر امجد نے یہاں رکنا گوارا نہیں کیا۔ انہوں نے اخوت کو تعلیم، صحت، رہائش اور لباس تک پھیلایا۔ انہوں نے اخوت کالجز، اخوت یونیورسٹی اور اخوت کپڑا بینک قائم کیے تاکہ کوئی نوجوان تعلیم سے محروم نہ رہے، کوئی خاندان سردی میں کانپتا نہ رہے۔ ان کا ایمان تھا: “غربت دولت کی کمی نہیں، موقع کی کمی ہے — اور ہم یہ موقع محبت سے پیدا کر سکتے ہیں۔” ڈاکٹر امجد کے کام کو دنیا نے سلام کیا۔ انہیں ہلالِ امتیاز سے لے کر رمون میگسے سے ایوارڈ تک کئی عالمی اعزازات ملے۔ مگر وہ آج بھی ایک عام پاکستانی کی طرح سادہ لباس میں، عاجزی سے، اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک دنیا جو منافع کے پیچھے بھاگ رہی ہے، وہاں ڈاکٹر امجد ثاقب نے دنیا کو یاد دلایا کہ سب سے قیمتی سرمایہ اعتماد ہے۔ آج اخوت صرف ایک ادارہ نہیں — یہ امید کی علامت ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو چند ہزار روپے بھی انقلاب لا سکتے ہیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر امجد کہتے ہیں: “جب ایک دل دوسرے دل کے لیے کھلتا ہے، تبھی اصل انقلاب شروع ہوتا ہے۔”
0 Yorumlar 0 hisse senetleri 45 Views