مفتی فرحان نعیم — ایمان، علم اور وژن کی داستان
تحریر: ریحان اللہ والا — از ChatGPT
کراچی کے قلب میں ایک عظیم دینی درسگاہ واقع ہے — جامعہ بنوریہ عالمیہ۔ یہی وہ ادارہ ہے جہاں سے پاکستان کے ہزاروں علماء نے علمِ دین حاصل کیا، اور آج اس ادارے کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں مفتی فرحان نعیم — ایک ایسے عالم جو اپنے والد، مرحوم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ، کے مشن کو نئی جہتوں کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔
بچپن ہی سے مفتی فرحان نعیم کا تعلق علم و عمل کے ماحول سے رہا۔ گھر میں قرآن کی تلاوت، دینی مباحثے، طلبہ کی سرگرمیاں اور والد کا علمی وقار ان کی تربیت کا حصہ بنے۔ انہوں نے کم عمری میں حفظِ قرآن مکمل کیا اور پھر جامعہ بنوریہ عالمیہ سے درسِ نظامی کی تکمیل کی — وہی روایتی نصاب جس نے صدیوں سے علماء کو تربیت دی ہے۔
لیکن مفتی فرحان نعیم نے خود کو صرف روایتی تعلیم تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے جدید تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور جامعہ کراچی سے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔ بعدازاں انہیں جرمنی میں ایک علمی و تحقیقی فیلوشپ کا موقع بھی ملا جس نے ان کے نظریات میں وسعت پیدا کی اور انہیں عالمی تناظر میں سوچنے کا ہنر سکھایا۔
آج وہ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف ایک دینی ادارہ چلانا نہیں بلکہ دین کو جدید تعلیم، ٹیکنالوجی، اور عالمی رابطوں سے جوڑنا ہے تاکہ نئی نسل قرآن و سنت کی روشنی میں دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔
⸻
اسی جمعے کے دن لندن میں، میں نمازِ جمعہ ادا کرنے ایک مسجد گیا۔ خوشی کی بات یہ تھی کہ اس مسجد کے منتظم مفتی فرحان نعیم صاحب خود تھے۔ ان کی مسکراہٹ، عاجزی اور محبت نے فوراً دل جیت لیا۔ نماز کے بعد میں ان کے دفتر گیا جہاں ہم نے ایک پوڈکاسٹ ریکارڈ کیا۔
یہ ملاقات صرف ایک رسمی بات چیت نہیں تھی، بلکہ ایک خیالاتی انقلاب کی گفتگو تھی۔ میں نے انہیں ریحان اسکول کے وژن کے بارے میں بتایا — ہمارا خواب کہ ہم ایک ہزار ایسے لیڈر بنائیں جو ایک ملین ڈالر کے اسٹارٹ اپس قائم کریں، دس لاکھ لوگوں کی زندگیاں بہتر بنائیں، اور پاکستان کی فی کس آمدنی کو نئی بلندیوں تک پہنچائیں۔
جب میں نے انہیں ہمارا ACCL پروگرام (AI، Confidence، Communication، Leadership) سمجھایا تو وہ بہت پرجوش ہوئے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا:
“یہی وہ چیز ہے جس کی ہمارے تمام اسکولوں کو دنیا بھر میں ضرورت ہے۔”
انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ یہ پروگرام اپنے تمام اداروں میں دنیا بھر میں متعارف کرانا چاہتے ہیں — تاکہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ میں جدید دنیا کے لیے اعتماد، قیادت، اور ٹیکنالوجی کی سمجھ پیدا کی جا سکے۔
⸻
لندن میں مفتی فرحان نعیم سے ملاقات میرے لیے ایک روحانی خوشی اور فکری تقویت کا باعث بنی۔ یہ ملاقات اس حقیقت کی یاد دہانی تھی کہ ایمان اور جدت ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ دین اور دنیا کا امتزاج ممکن ہے — جب رہنمائی ایسے علماء کے ہاتھوں میں ہو جو ماضی کی میراث کے امین بھی ہوں اور مستقبل کے معمار بھی۔
کراچی کے جامعہ بنوریہ سے لے کر لندن کی مساجد تک، مفتی فرحان نعیم کا سفر اس بات کی علامت ہے کہ دین کی روشنی سرحدوں سے آزاد ہے۔ وہ آج کے دور کے ایک ایسے عالم ہیں جو عاجزی میں عظمت رکھتے ہیں، علم میں گہرائی رکھتے ہیں، اور وژن میں وسعت۔
تحریر: ریحان اللہ والا — از ChatGPT
کراچی کے قلب میں ایک عظیم دینی درسگاہ واقع ہے — جامعہ بنوریہ عالمیہ۔ یہی وہ ادارہ ہے جہاں سے پاکستان کے ہزاروں علماء نے علمِ دین حاصل کیا، اور آج اس ادارے کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں مفتی فرحان نعیم — ایک ایسے عالم جو اپنے والد، مرحوم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ، کے مشن کو نئی جہتوں کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔
بچپن ہی سے مفتی فرحان نعیم کا تعلق علم و عمل کے ماحول سے رہا۔ گھر میں قرآن کی تلاوت، دینی مباحثے، طلبہ کی سرگرمیاں اور والد کا علمی وقار ان کی تربیت کا حصہ بنے۔ انہوں نے کم عمری میں حفظِ قرآن مکمل کیا اور پھر جامعہ بنوریہ عالمیہ سے درسِ نظامی کی تکمیل کی — وہی روایتی نصاب جس نے صدیوں سے علماء کو تربیت دی ہے۔
لیکن مفتی فرحان نعیم نے خود کو صرف روایتی تعلیم تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے جدید تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور جامعہ کراچی سے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔ بعدازاں انہیں جرمنی میں ایک علمی و تحقیقی فیلوشپ کا موقع بھی ملا جس نے ان کے نظریات میں وسعت پیدا کی اور انہیں عالمی تناظر میں سوچنے کا ہنر سکھایا۔
آج وہ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف ایک دینی ادارہ چلانا نہیں بلکہ دین کو جدید تعلیم، ٹیکنالوجی، اور عالمی رابطوں سے جوڑنا ہے تاکہ نئی نسل قرآن و سنت کی روشنی میں دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔
⸻
اسی جمعے کے دن لندن میں، میں نمازِ جمعہ ادا کرنے ایک مسجد گیا۔ خوشی کی بات یہ تھی کہ اس مسجد کے منتظم مفتی فرحان نعیم صاحب خود تھے۔ ان کی مسکراہٹ، عاجزی اور محبت نے فوراً دل جیت لیا۔ نماز کے بعد میں ان کے دفتر گیا جہاں ہم نے ایک پوڈکاسٹ ریکارڈ کیا۔
یہ ملاقات صرف ایک رسمی بات چیت نہیں تھی، بلکہ ایک خیالاتی انقلاب کی گفتگو تھی۔ میں نے انہیں ریحان اسکول کے وژن کے بارے میں بتایا — ہمارا خواب کہ ہم ایک ہزار ایسے لیڈر بنائیں جو ایک ملین ڈالر کے اسٹارٹ اپس قائم کریں، دس لاکھ لوگوں کی زندگیاں بہتر بنائیں، اور پاکستان کی فی کس آمدنی کو نئی بلندیوں تک پہنچائیں۔
جب میں نے انہیں ہمارا ACCL پروگرام (AI، Confidence، Communication، Leadership) سمجھایا تو وہ بہت پرجوش ہوئے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا:
“یہی وہ چیز ہے جس کی ہمارے تمام اسکولوں کو دنیا بھر میں ضرورت ہے۔”
انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ یہ پروگرام اپنے تمام اداروں میں دنیا بھر میں متعارف کرانا چاہتے ہیں — تاکہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ میں جدید دنیا کے لیے اعتماد، قیادت، اور ٹیکنالوجی کی سمجھ پیدا کی جا سکے۔
⸻
لندن میں مفتی فرحان نعیم سے ملاقات میرے لیے ایک روحانی خوشی اور فکری تقویت کا باعث بنی۔ یہ ملاقات اس حقیقت کی یاد دہانی تھی کہ ایمان اور جدت ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ دین اور دنیا کا امتزاج ممکن ہے — جب رہنمائی ایسے علماء کے ہاتھوں میں ہو جو ماضی کی میراث کے امین بھی ہوں اور مستقبل کے معمار بھی۔
کراچی کے جامعہ بنوریہ سے لے کر لندن کی مساجد تک، مفتی فرحان نعیم کا سفر اس بات کی علامت ہے کہ دین کی روشنی سرحدوں سے آزاد ہے۔ وہ آج کے دور کے ایک ایسے عالم ہیں جو عاجزی میں عظمت رکھتے ہیں، علم میں گہرائی رکھتے ہیں، اور وژن میں وسعت۔
مفتی فرحان نعیم — ایمان، علم اور وژن کی داستان
تحریر: ریحان اللہ والا — از ChatGPT
کراچی کے قلب میں ایک عظیم دینی درسگاہ واقع ہے — جامعہ بنوریہ عالمیہ۔ یہی وہ ادارہ ہے جہاں سے پاکستان کے ہزاروں علماء نے علمِ دین حاصل کیا، اور آج اس ادارے کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں مفتی فرحان نعیم — ایک ایسے عالم جو اپنے والد، مرحوم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ، کے مشن کو نئی جہتوں کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔
بچپن ہی سے مفتی فرحان نعیم کا تعلق علم و عمل کے ماحول سے رہا۔ گھر میں قرآن کی تلاوت، دینی مباحثے، طلبہ کی سرگرمیاں اور والد کا علمی وقار ان کی تربیت کا حصہ بنے۔ انہوں نے کم عمری میں حفظِ قرآن مکمل کیا اور پھر جامعہ بنوریہ عالمیہ سے درسِ نظامی کی تکمیل کی — وہی روایتی نصاب جس نے صدیوں سے علماء کو تربیت دی ہے۔
لیکن مفتی فرحان نعیم نے خود کو صرف روایتی تعلیم تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے جدید تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور جامعہ کراچی سے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔ بعدازاں انہیں جرمنی میں ایک علمی و تحقیقی فیلوشپ کا موقع بھی ملا جس نے ان کے نظریات میں وسعت پیدا کی اور انہیں عالمی تناظر میں سوچنے کا ہنر سکھایا۔
آج وہ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف ایک دینی ادارہ چلانا نہیں بلکہ دین کو جدید تعلیم، ٹیکنالوجی، اور عالمی رابطوں سے جوڑنا ہے تاکہ نئی نسل قرآن و سنت کی روشنی میں دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔
⸻
اسی جمعے کے دن لندن میں، میں نمازِ جمعہ ادا کرنے ایک مسجد گیا۔ خوشی کی بات یہ تھی کہ اس مسجد کے منتظم مفتی فرحان نعیم صاحب خود تھے۔ ان کی مسکراہٹ، عاجزی اور محبت نے فوراً دل جیت لیا۔ نماز کے بعد میں ان کے دفتر گیا جہاں ہم نے ایک پوڈکاسٹ ریکارڈ کیا۔
یہ ملاقات صرف ایک رسمی بات چیت نہیں تھی، بلکہ ایک خیالاتی انقلاب کی گفتگو تھی۔ میں نے انہیں ریحان اسکول کے وژن کے بارے میں بتایا — ہمارا خواب کہ ہم ایک ہزار ایسے لیڈر بنائیں جو ایک ملین ڈالر کے اسٹارٹ اپس قائم کریں، دس لاکھ لوگوں کی زندگیاں بہتر بنائیں، اور پاکستان کی فی کس آمدنی کو نئی بلندیوں تک پہنچائیں۔
جب میں نے انہیں ہمارا ACCL پروگرام (AI، Confidence، Communication، Leadership) سمجھایا تو وہ بہت پرجوش ہوئے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا:
“یہی وہ چیز ہے جس کی ہمارے تمام اسکولوں کو دنیا بھر میں ضرورت ہے۔”
انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ یہ پروگرام اپنے تمام اداروں میں دنیا بھر میں متعارف کرانا چاہتے ہیں — تاکہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ میں جدید دنیا کے لیے اعتماد، قیادت، اور ٹیکنالوجی کی سمجھ پیدا کی جا سکے۔
⸻
لندن میں مفتی فرحان نعیم سے ملاقات میرے لیے ایک روحانی خوشی اور فکری تقویت کا باعث بنی۔ یہ ملاقات اس حقیقت کی یاد دہانی تھی کہ ایمان اور جدت ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ دین اور دنیا کا امتزاج ممکن ہے — جب رہنمائی ایسے علماء کے ہاتھوں میں ہو جو ماضی کی میراث کے امین بھی ہوں اور مستقبل کے معمار بھی۔
کراچی کے جامعہ بنوریہ سے لے کر لندن کی مساجد تک، مفتی فرحان نعیم کا سفر اس بات کی علامت ہے کہ دین کی روشنی سرحدوں سے آزاد ہے۔ وہ آج کے دور کے ایک ایسے عالم ہیں جو عاجزی میں عظمت رکھتے ہیں، علم میں گہرائی رکھتے ہیں، اور وژن میں وسعت۔
0 التعليقات
0 المشاركات
45 مشاهدة