ایک امریکی جو پاکستان آیا لینے نہیں، دینے
پاکستان میں بہت سے لوگ باہر کے ملک جانے کا خواب دیکھتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ وہاں زندگی بہتر ہے، سڑکیں صاف ہیں، نظام مضبوط ہے، اور تنخواہیں زیادہ ہیں۔
لیکن کبھی کبھی ایک کہانی سامنے آتی ہے جو دل کو ہلا دیتی ہے —
اور یاد دلاتی ہے کہ greatness اس میں نہیں کہ آپ کہاں جاتے ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ آپ کیا دیتے ہیں۔
یہ کہانی ہے ریچرڈ گیری (Richard Geary) کی —
ایک امریکی انسان، جو اپنی بیوی ہیڈی (Heidi) اور بچوں کے ساتھ پاکستان آیا۔
پیسہ کمانے نہیں، نام بنانے نہیں —
بلکہ محبت، وقت، اور اپنی پوری زندگی پاکستان کے بہرے (deaf) بچوں کے لیے وقف کرنے آیا۔
⸻
کہانی کی شروعات
1980 کی دہائی کے آخر میں ریچرڈ اور ہیڈی پہلی بار پاکستان آئے۔
انہوں نے یہاں ایسے بچوں کو دیکھا جو سن نہیں سکتے تھے —
لیکن ان کی آنکھوں میں خواب تھے، ان کے دلوں میں احساس تھا۔
بدقسمتی سے ان کے لیے نہ اسکول تھے، نہ استاد، نہ زبان جس سے وہ اپنی بات کہہ سکیں۔
ان کے والدین اکثر انہیں گھروں میں بند رکھتے تھے، کیونکہ کوئی نظام نہیں تھا جو ان کی مدد کر سکے۔
ریچرڈ اور ہیڈی کے اپنے بیٹے کو بھی سماعت کا مسئلہ تھا۔
اس لیے وہ ان بچوں کا درد سمجھ سکتے تھے۔
انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ واپس نہیں جائیں گے —
بلکہ پاکستان میں رہیں گے، اور ان کے لیے تعلیم کا دروازہ کھولیں گے۔
⸻
ایک خواب سے حقیقت تک
1989 میں انہوں نے کراچی میں Family Educational Services Foundation (FESF) بنائی۔
ان کا مقصد تھا:
“پاکستان کے ہر بہرے بچے کو تعلیم، زبان اور عزت دینی ہے۔”
1995 میں انہوں نے پہلا Deaf Reach School بنایا۔
شروع میں یہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا، چند بچے اور چند استاد۔
لیکن ان کا ایمان بہت بڑا تھا۔
آج Deaf Reach پاکستان کے سات شہروں میں کام کر رہا ہے:
کراچی، حیدرآباد، سکھر، نواب شاہ، راشد آباد، لاہور اور جہلم۔
ہزاروں بچے وہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
⸻
ریچرڈ گیری نے کیا کیا؟
تعلیم – نرسری سے کالج تک بہرے بچوں کو پڑھایا جا رہا ہے۔
ہنر سکھانا – سلائی، باورچی، کمپیوٹر، ڈیزائن، اور ہاتھوں کا کام سکھایا جاتا ہے تاکہ بچے کمائیں۔
استادوں کی تربیت – بہرے بچوں کے لیے استاد تیار کیے جاتے ہیں۔
پاکستان سائن لینگویج (PSL) – ریچرڈ نے 7000 الفاظ پر مشتمل پاکستانی سائن لینگویج بنائی تاکہ ہر بہرا بچہ اپنے وطن کی زبان میں بات کر سکے۔
ڈیجیٹل تعلیم – ویڈیوز، کہانیاں، اور موبائل ایپس سے گھر بیٹھے پڑھنے کا نظام بنایا۔
نوکریاں – Deaf Reach کے بچے اب KFC، Unilever اور دیگر کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں۔
⸻
زندگیِ خدمت، نہ کہ آرام
پچھلے 30 سال سے ریچرڈ اور ہیڈی پاکستان میں رہ رہے ہیں۔
انہوں نے ہمارے ساتھ عید منائی، ہماری زبان سیکھی، اور ہمارے بچوں کو اپنا سمجھا۔
انہوں نے کبھی بڑے بنگلے نہیں بنائے، وہ دولت نہیں بلکہ دلوں کی دولت کما رہے ہیں۔
2020 میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارہِ خدمت دیا —
یہ ان کے لیے نہیں، بلکہ ان ہزاروں بچوں کے لیے ایوارڈ تھا جن کی زندگی بدل گئی۔
⸻
ریحان اسکول کے لیے رول ماڈل
ریحان اسکول میں ہمارا مقصد ہے کہ ہم 1000 ایسے لیڈر بنائیں
جو 10 لاکھ لوگوں کی زندگی بدلیں، اور پاکستان کی آمدنی 100,000 ڈالر فی کس تک لے جائیں۔
ہمارے لیے ریچرڈ گیری ایک “DeafWala” ہیرو ہیں —
ایک ایسے شخص جنہوں نے ایک مسئلہ چُنا، اور پوری زندگی اس پر کام کیا۔
انہوں نے 30 سال لگا کر پاکستان کے بہرے بچوں کے لیے نظام بنایا۔
ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں 1000 اور ریچرڈ گیری جیسے لوگ پیدا ہوں —
جو کسی ایک مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی زندگی لگا دیں۔
ریحان اسکول کے طلبہ کو ہم یہی سکھاتے ہیں:
“ایک مسئلہ چُنو، اس کو سمجھو، اور اپنی زندگی اسی کے حل میں لگا دو۔”
یہی اصل لیڈرشپ ہے۔
اور ریچرڈ گیری اسی لیڈرشپ کی زندہ مثال ہیں۔
⸻
ایک سبق ہم سب کے لیے
بہت سے پاکستانی باہر جانا چاہتے ہیں،
مگر ایک امریکی آیا — اور یہاں اپنی جنت ڈھونڈ لی۔
مسئلہ پاکستان میں نہیں،
مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے بہت کم لوگ پاکستان کے لیے کچھ کرتے ہیں۔
اگر ایک غیر ملکی آ کر لاکھوں بچوں کی زندگی بدل سکتا ہے،
تو ہم، جو یہاں پیدا ہوئے، ہم کیوں نہیں کر سکتے؟
⸻
شکریہ ریچرڈ گیری
آج پاکستان کہتا ہے:
شکریہ ریچرڈ گیری اور ہیڈی،
جنہوں نے ہمیں دکھایا کہ خدمت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
آپ مہمان بن کر آئے،
مگر ہمارے دلوں کے خاندان بن گئے۔
آپ نے ہمارے بچوں کو بولنا سکھایا —
اور ہمیں سُننا سکھایا۔
— ریحان اللہ والا
بانی، ریحان اسکول
#RehanSchool #DeafReach #RichardGeary #HeidiGeary #DeafWala #RoleModel #Pakistan #ServeHumanity #LoveInAction #Inspiration
پاکستان میں بہت سے لوگ باہر کے ملک جانے کا خواب دیکھتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ وہاں زندگی بہتر ہے، سڑکیں صاف ہیں، نظام مضبوط ہے، اور تنخواہیں زیادہ ہیں۔
لیکن کبھی کبھی ایک کہانی سامنے آتی ہے جو دل کو ہلا دیتی ہے —
اور یاد دلاتی ہے کہ greatness اس میں نہیں کہ آپ کہاں جاتے ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ آپ کیا دیتے ہیں۔
یہ کہانی ہے ریچرڈ گیری (Richard Geary) کی —
ایک امریکی انسان، جو اپنی بیوی ہیڈی (Heidi) اور بچوں کے ساتھ پاکستان آیا۔
پیسہ کمانے نہیں، نام بنانے نہیں —
بلکہ محبت، وقت، اور اپنی پوری زندگی پاکستان کے بہرے (deaf) بچوں کے لیے وقف کرنے آیا۔
⸻
کہانی کی شروعات
1980 کی دہائی کے آخر میں ریچرڈ اور ہیڈی پہلی بار پاکستان آئے۔
انہوں نے یہاں ایسے بچوں کو دیکھا جو سن نہیں سکتے تھے —
لیکن ان کی آنکھوں میں خواب تھے، ان کے دلوں میں احساس تھا۔
بدقسمتی سے ان کے لیے نہ اسکول تھے، نہ استاد، نہ زبان جس سے وہ اپنی بات کہہ سکیں۔
ان کے والدین اکثر انہیں گھروں میں بند رکھتے تھے، کیونکہ کوئی نظام نہیں تھا جو ان کی مدد کر سکے۔
ریچرڈ اور ہیڈی کے اپنے بیٹے کو بھی سماعت کا مسئلہ تھا۔
اس لیے وہ ان بچوں کا درد سمجھ سکتے تھے۔
انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ واپس نہیں جائیں گے —
بلکہ پاکستان میں رہیں گے، اور ان کے لیے تعلیم کا دروازہ کھولیں گے۔
⸻
ایک خواب سے حقیقت تک
1989 میں انہوں نے کراچی میں Family Educational Services Foundation (FESF) بنائی۔
ان کا مقصد تھا:
“پاکستان کے ہر بہرے بچے کو تعلیم، زبان اور عزت دینی ہے۔”
1995 میں انہوں نے پہلا Deaf Reach School بنایا۔
شروع میں یہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا، چند بچے اور چند استاد۔
لیکن ان کا ایمان بہت بڑا تھا۔
آج Deaf Reach پاکستان کے سات شہروں میں کام کر رہا ہے:
کراچی، حیدرآباد، سکھر، نواب شاہ، راشد آباد، لاہور اور جہلم۔
ہزاروں بچے وہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
⸻
ریچرڈ گیری نے کیا کیا؟
تعلیم – نرسری سے کالج تک بہرے بچوں کو پڑھایا جا رہا ہے۔
ہنر سکھانا – سلائی، باورچی، کمپیوٹر، ڈیزائن، اور ہاتھوں کا کام سکھایا جاتا ہے تاکہ بچے کمائیں۔
استادوں کی تربیت – بہرے بچوں کے لیے استاد تیار کیے جاتے ہیں۔
پاکستان سائن لینگویج (PSL) – ریچرڈ نے 7000 الفاظ پر مشتمل پاکستانی سائن لینگویج بنائی تاکہ ہر بہرا بچہ اپنے وطن کی زبان میں بات کر سکے۔
ڈیجیٹل تعلیم – ویڈیوز، کہانیاں، اور موبائل ایپس سے گھر بیٹھے پڑھنے کا نظام بنایا۔
نوکریاں – Deaf Reach کے بچے اب KFC، Unilever اور دیگر کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں۔
⸻
زندگیِ خدمت، نہ کہ آرام
پچھلے 30 سال سے ریچرڈ اور ہیڈی پاکستان میں رہ رہے ہیں۔
انہوں نے ہمارے ساتھ عید منائی، ہماری زبان سیکھی، اور ہمارے بچوں کو اپنا سمجھا۔
انہوں نے کبھی بڑے بنگلے نہیں بنائے، وہ دولت نہیں بلکہ دلوں کی دولت کما رہے ہیں۔
2020 میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارہِ خدمت دیا —
یہ ان کے لیے نہیں، بلکہ ان ہزاروں بچوں کے لیے ایوارڈ تھا جن کی زندگی بدل گئی۔
⸻
ریحان اسکول کے لیے رول ماڈل
ریحان اسکول میں ہمارا مقصد ہے کہ ہم 1000 ایسے لیڈر بنائیں
جو 10 لاکھ لوگوں کی زندگی بدلیں، اور پاکستان کی آمدنی 100,000 ڈالر فی کس تک لے جائیں۔
ہمارے لیے ریچرڈ گیری ایک “DeafWala” ہیرو ہیں —
ایک ایسے شخص جنہوں نے ایک مسئلہ چُنا، اور پوری زندگی اس پر کام کیا۔
انہوں نے 30 سال لگا کر پاکستان کے بہرے بچوں کے لیے نظام بنایا۔
ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں 1000 اور ریچرڈ گیری جیسے لوگ پیدا ہوں —
جو کسی ایک مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی زندگی لگا دیں۔
ریحان اسکول کے طلبہ کو ہم یہی سکھاتے ہیں:
“ایک مسئلہ چُنو، اس کو سمجھو، اور اپنی زندگی اسی کے حل میں لگا دو۔”
یہی اصل لیڈرشپ ہے۔
اور ریچرڈ گیری اسی لیڈرشپ کی زندہ مثال ہیں۔
⸻
ایک سبق ہم سب کے لیے
بہت سے پاکستانی باہر جانا چاہتے ہیں،
مگر ایک امریکی آیا — اور یہاں اپنی جنت ڈھونڈ لی۔
مسئلہ پاکستان میں نہیں،
مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے بہت کم لوگ پاکستان کے لیے کچھ کرتے ہیں۔
اگر ایک غیر ملکی آ کر لاکھوں بچوں کی زندگی بدل سکتا ہے،
تو ہم، جو یہاں پیدا ہوئے، ہم کیوں نہیں کر سکتے؟
⸻
شکریہ ریچرڈ گیری
آج پاکستان کہتا ہے:
شکریہ ریچرڈ گیری اور ہیڈی،
جنہوں نے ہمیں دکھایا کہ خدمت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
آپ مہمان بن کر آئے،
مگر ہمارے دلوں کے خاندان بن گئے۔
آپ نے ہمارے بچوں کو بولنا سکھایا —
اور ہمیں سُننا سکھایا۔
— ریحان اللہ والا
بانی، ریحان اسکول
#RehanSchool #DeafReach #RichardGeary #HeidiGeary #DeafWala #RoleModel #Pakistan #ServeHumanity #LoveInAction #Inspiration
❤️ ایک امریکی جو پاکستان آیا لینے نہیں، دینے
پاکستان میں بہت سے لوگ باہر کے ملک جانے کا خواب دیکھتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ وہاں زندگی بہتر ہے، سڑکیں صاف ہیں، نظام مضبوط ہے، اور تنخواہیں زیادہ ہیں۔
لیکن کبھی کبھی ایک کہانی سامنے آتی ہے جو دل کو ہلا دیتی ہے —
اور یاد دلاتی ہے کہ greatness اس میں نہیں کہ آپ کہاں جاتے ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ آپ کیا دیتے ہیں۔
یہ کہانی ہے ریچرڈ گیری (Richard Geary) کی —
ایک امریکی انسان، جو اپنی بیوی ہیڈی (Heidi) اور بچوں کے ساتھ پاکستان آیا۔
پیسہ کمانے نہیں، نام بنانے نہیں —
بلکہ محبت، وقت، اور اپنی پوری زندگی پاکستان کے بہرے (deaf) بچوں کے لیے وقف کرنے آیا۔
⸻
🌿 کہانی کی شروعات
1980 کی دہائی کے آخر میں ریچرڈ اور ہیڈی پہلی بار پاکستان آئے۔
انہوں نے یہاں ایسے بچوں کو دیکھا جو سن نہیں سکتے تھے —
لیکن ان کی آنکھوں میں خواب تھے، ان کے دلوں میں احساس تھا۔
بدقسمتی سے ان کے لیے نہ اسکول تھے، نہ استاد، نہ زبان جس سے وہ اپنی بات کہہ سکیں۔
ان کے والدین اکثر انہیں گھروں میں بند رکھتے تھے، کیونکہ کوئی نظام نہیں تھا جو ان کی مدد کر سکے۔
ریچرڈ اور ہیڈی کے اپنے بیٹے کو بھی سماعت کا مسئلہ تھا۔
اس لیے وہ ان بچوں کا درد سمجھ سکتے تھے۔
انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ واپس نہیں جائیں گے —
بلکہ پاکستان میں رہیں گے، اور ان کے لیے تعلیم کا دروازہ کھولیں گے۔
⸻
🏫 ایک خواب سے حقیقت تک
1989 میں انہوں نے کراچی میں Family Educational Services Foundation (FESF) بنائی۔
ان کا مقصد تھا:
“پاکستان کے ہر بہرے بچے کو تعلیم، زبان اور عزت دینی ہے۔”
1995 میں انہوں نے پہلا Deaf Reach School بنایا۔
شروع میں یہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا، چند بچے اور چند استاد۔
لیکن ان کا ایمان بہت بڑا تھا۔
آج Deaf Reach پاکستان کے سات شہروں میں کام کر رہا ہے:
کراچی، حیدرآباد، سکھر، نواب شاہ، راشد آباد، لاہور اور جہلم۔
ہزاروں بچے وہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
⸻
🌍 ریچرڈ گیری نے کیا کیا؟
✅ تعلیم – نرسری سے کالج تک بہرے بچوں کو پڑھایا جا رہا ہے۔
✅ ہنر سکھانا – سلائی، باورچی، کمپیوٹر، ڈیزائن، اور ہاتھوں کا کام سکھایا جاتا ہے تاکہ بچے کمائیں۔
✅ استادوں کی تربیت – بہرے بچوں کے لیے استاد تیار کیے جاتے ہیں۔
✅ پاکستان سائن لینگویج (PSL) – ریچرڈ نے 7000 الفاظ پر مشتمل پاکستانی سائن لینگویج بنائی تاکہ ہر بہرا بچہ اپنے وطن کی زبان میں بات کر سکے۔
✅ ڈیجیٹل تعلیم – ویڈیوز، کہانیاں، اور موبائل ایپس سے گھر بیٹھے پڑھنے کا نظام بنایا۔
✅ نوکریاں – Deaf Reach کے بچے اب KFC، Unilever اور دیگر کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں۔
⸻
💚 زندگیِ خدمت، نہ کہ آرام
پچھلے 30 سال سے ریچرڈ اور ہیڈی پاکستان میں رہ رہے ہیں۔
انہوں نے ہمارے ساتھ عید منائی، ہماری زبان سیکھی، اور ہمارے بچوں کو اپنا سمجھا۔
انہوں نے کبھی بڑے بنگلے نہیں بنائے، وہ دولت نہیں بلکہ دلوں کی دولت کما رہے ہیں۔
2020 میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارہِ خدمت دیا —
یہ ان کے لیے نہیں، بلکہ ان ہزاروں بچوں کے لیے ایوارڈ تھا جن کی زندگی بدل گئی۔
⸻
🌟 ریحان اسکول کے لیے رول ماڈل
ریحان اسکول میں ہمارا مقصد ہے کہ ہم 1000 ایسے لیڈر بنائیں
جو 10 لاکھ لوگوں کی زندگی بدلیں، اور پاکستان کی آمدنی 100,000 ڈالر فی کس تک لے جائیں۔
ہمارے لیے ریچرڈ گیری ایک “DeafWala” ہیرو ہیں —
ایک ایسے شخص جنہوں نے ایک مسئلہ چُنا، اور پوری زندگی اس پر کام کیا۔
انہوں نے 30 سال لگا کر پاکستان کے بہرے بچوں کے لیے نظام بنایا۔
ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں 1000 اور ریچرڈ گیری جیسے لوگ پیدا ہوں —
جو کسی ایک مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی زندگی لگا دیں۔
ریحان اسکول کے طلبہ کو ہم یہی سکھاتے ہیں:
“ایک مسئلہ چُنو، اس کو سمجھو، اور اپنی زندگی اسی کے حل میں لگا دو۔”
یہی اصل لیڈرشپ ہے۔
اور ریچرڈ گیری اسی لیڈرشپ کی زندہ مثال ہیں۔
⸻
🇵🇰 ایک سبق ہم سب کے لیے
بہت سے پاکستانی باہر جانا چاہتے ہیں،
مگر ایک امریکی آیا — اور یہاں اپنی جنت ڈھونڈ لی۔
مسئلہ پاکستان میں نہیں،
مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے بہت کم لوگ پاکستان کے لیے کچھ کرتے ہیں۔
اگر ایک غیر ملکی آ کر لاکھوں بچوں کی زندگی بدل سکتا ہے،
تو ہم، جو یہاں پیدا ہوئے، ہم کیوں نہیں کر سکتے؟
⸻
🌷 شکریہ ریچرڈ گیری
آج پاکستان کہتا ہے:
شکریہ ریچرڈ گیری اور ہیڈی،
جنہوں نے ہمیں دکھایا کہ خدمت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
آپ مہمان بن کر آئے،
مگر ہمارے دلوں کے خاندان بن گئے۔
آپ نے ہمارے بچوں کو بولنا سکھایا —
اور ہمیں سُننا سکھایا۔ ❤️🇵🇰
— ریحان اللہ والا
بانی، ریحان اسکول
#RehanSchool #DeafReach #RichardGeary #HeidiGeary #DeafWala #RoleModel #Pakistan #ServeHumanity #LoveInAction #Inspiration
0 Commenti
0 condivisioni
1316 Views