موبائل فون کی ایجاد – ایک کہانی
بہت پرانے زمانے میں، جب فون صرف دیواروں کے ساتھ لگے ہوتے تھے اور لمبی تاروں کے ذریعے چلتے تھے، لوگ ایک دوسرے کی آواز سن سکتے تھے لیکن صرف اسی وقت جب وہ فون کے قریب موجود ہوں۔ اُس وقت بغیر تار کے بات کرنے کا خواب کسی جادو سے کم نہ لگتا تھا۔
یہ خواب حقیقت بننے لگا جب سائنسدانوں نے ریڈیو لہروں پر تجربات شروع کیے۔ 1940 کی دہائی میں فوجی بڑے بڑے ریڈیو استعمال کرتے تھے، جنہیں “واکی ٹاکی” کہا جاتا تھا۔ یہ بہت بھاری اور بڑے ہوتے تھے لیکن انہوں نے دنیا کو دکھایا کہ آواز بغیر تار کے بھی سفر کر سکتی ہے۔
اصل کہانی شروع ہوئی 1960 اور 1970 کی دہائی میں۔ اُس وقت کمپنیاں کاروں میں فون لگانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان فونز کو کار فون کہا جاتا تھا۔ یہ فون اتنے بڑے ہوتے تھے کہ کئی کلو وزن رکھتے تھے اور صرف چند جگہوں پر چلتے تھے۔ یہ بہت مہنگے بھی تھے۔
پھر ایک شخص آیا جس نے سب کچھ بدل دیا۔ اس کا نام تھا ڈاکٹر مارٹن کوپر، جو موٹورولا کمپنی میں انجینئر تھے۔ اُنہوں نے ایک نیا خواب دیکھا: ایسا فون جو کار سے بندھا نہ ہو بلکہ انسان کے ہاتھ میں آجائے، جسے لے کر کوئی بھی کہیں بھی بات کر سکے۔ 1973 میں انہوں نے دنیا کا پہلا ہینڈ ہیلڈ موبائل فون بنا لیا۔
یہ فون آج کے فون کی طرح پتلا اور ہلکا نہیں تھا بلکہ ایک بڑا سا مستطیل بلاک تھا، جسے مذاق میں “اینٹ” فون کہا جاتا ہے۔ اس کا وزن تقریباً ایک کلو تھا، ایک لمبا اینٹینا لگا ہوتا تھا، اور صرف 30 منٹ بات کرنے کے بعد بیٹری ختم ہو جاتی تھی۔ لیکن یہ ایک انقلاب تھا۔ پہلی بار انسان نے بغیر تار کے، ہاتھ میں پکڑے فون سے کال کی۔
کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کوپر نے پہلی کال اپنے حریف کمپنی کے انجینئر کو کی، تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ ان کا آئیڈیا کامیاب ہے۔ یہ ایجاد صرف ٹیکنالوجی کی نہیں تھی، بلکہ آزادی، حرکت اور انسانوں کو قریب لانے کی کہانی تھی۔
اس کے بعد سفر آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ 1980 کی دہائی میں یہ فون امیر کاروباری لوگوں کے پاس آنا شروع ہوئے۔ پھر 1990 کی دہائی میں فون چھوٹے اور سستے ہونے لگے، اور ساتھ ہی ایس ایم ایس کا زمانہ شروع ہوا۔ 2000 کی دہائی میں موبائل فون نے کیمرہ، گیمز اور انٹرنیٹ اپنے اندر شامل کر لیا۔ اور 2007 میں اسمارٹ فون، جیسے آئی فون، آنے کے بعد موبائل فون ہماری زندگی کا مرکز بن گیا۔
آج دنیا میں سات ارب سے زیادہ لوگ موبائل فون استعمال کر رہے ہیں۔ جو چیز ایک انجینئر کے ہاتھ میں بھاری اینٹ کی طرح شروع ہوئی تھی، وہ آج ہر انسان کی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔
موبائل فون کی ایجاد صرف سائنس کی کہانی نہیں بلکہ انسان کے اُس خواب کی کہانی ہے جو یہ چاہتا تھا کہ فاصلے مٹ جائیں اور دنیا آپ کے ہاتھ کی ہتھیلی پر آجائے۔
Thank you Martin Cooper
بہت پرانے زمانے میں، جب فون صرف دیواروں کے ساتھ لگے ہوتے تھے اور لمبی تاروں کے ذریعے چلتے تھے، لوگ ایک دوسرے کی آواز سن سکتے تھے لیکن صرف اسی وقت جب وہ فون کے قریب موجود ہوں۔ اُس وقت بغیر تار کے بات کرنے کا خواب کسی جادو سے کم نہ لگتا تھا۔
یہ خواب حقیقت بننے لگا جب سائنسدانوں نے ریڈیو لہروں پر تجربات شروع کیے۔ 1940 کی دہائی میں فوجی بڑے بڑے ریڈیو استعمال کرتے تھے، جنہیں “واکی ٹاکی” کہا جاتا تھا۔ یہ بہت بھاری اور بڑے ہوتے تھے لیکن انہوں نے دنیا کو دکھایا کہ آواز بغیر تار کے بھی سفر کر سکتی ہے۔
اصل کہانی شروع ہوئی 1960 اور 1970 کی دہائی میں۔ اُس وقت کمپنیاں کاروں میں فون لگانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان فونز کو کار فون کہا جاتا تھا۔ یہ فون اتنے بڑے ہوتے تھے کہ کئی کلو وزن رکھتے تھے اور صرف چند جگہوں پر چلتے تھے۔ یہ بہت مہنگے بھی تھے۔
پھر ایک شخص آیا جس نے سب کچھ بدل دیا۔ اس کا نام تھا ڈاکٹر مارٹن کوپر، جو موٹورولا کمپنی میں انجینئر تھے۔ اُنہوں نے ایک نیا خواب دیکھا: ایسا فون جو کار سے بندھا نہ ہو بلکہ انسان کے ہاتھ میں آجائے، جسے لے کر کوئی بھی کہیں بھی بات کر سکے۔ 1973 میں انہوں نے دنیا کا پہلا ہینڈ ہیلڈ موبائل فون بنا لیا۔
یہ فون آج کے فون کی طرح پتلا اور ہلکا نہیں تھا بلکہ ایک بڑا سا مستطیل بلاک تھا، جسے مذاق میں “اینٹ” فون کہا جاتا ہے۔ اس کا وزن تقریباً ایک کلو تھا، ایک لمبا اینٹینا لگا ہوتا تھا، اور صرف 30 منٹ بات کرنے کے بعد بیٹری ختم ہو جاتی تھی۔ لیکن یہ ایک انقلاب تھا۔ پہلی بار انسان نے بغیر تار کے، ہاتھ میں پکڑے فون سے کال کی۔
کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کوپر نے پہلی کال اپنے حریف کمپنی کے انجینئر کو کی، تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ ان کا آئیڈیا کامیاب ہے۔ یہ ایجاد صرف ٹیکنالوجی کی نہیں تھی، بلکہ آزادی، حرکت اور انسانوں کو قریب لانے کی کہانی تھی۔
اس کے بعد سفر آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ 1980 کی دہائی میں یہ فون امیر کاروباری لوگوں کے پاس آنا شروع ہوئے۔ پھر 1990 کی دہائی میں فون چھوٹے اور سستے ہونے لگے، اور ساتھ ہی ایس ایم ایس کا زمانہ شروع ہوا۔ 2000 کی دہائی میں موبائل فون نے کیمرہ، گیمز اور انٹرنیٹ اپنے اندر شامل کر لیا۔ اور 2007 میں اسمارٹ فون، جیسے آئی فون، آنے کے بعد موبائل فون ہماری زندگی کا مرکز بن گیا۔
آج دنیا میں سات ارب سے زیادہ لوگ موبائل فون استعمال کر رہے ہیں۔ جو چیز ایک انجینئر کے ہاتھ میں بھاری اینٹ کی طرح شروع ہوئی تھی، وہ آج ہر انسان کی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔
موبائل فون کی ایجاد صرف سائنس کی کہانی نہیں بلکہ انسان کے اُس خواب کی کہانی ہے جو یہ چاہتا تھا کہ فاصلے مٹ جائیں اور دنیا آپ کے ہاتھ کی ہتھیلی پر آجائے۔
Thank you Martin Cooper
موبائل فون کی ایجاد – ایک کہانی
بہت پرانے زمانے میں، جب فون صرف دیواروں کے ساتھ لگے ہوتے تھے اور لمبی تاروں کے ذریعے چلتے تھے، لوگ ایک دوسرے کی آواز سن سکتے تھے لیکن صرف اسی وقت جب وہ فون کے قریب موجود ہوں۔ اُس وقت بغیر تار کے بات کرنے کا خواب کسی جادو سے کم نہ لگتا تھا۔
یہ خواب حقیقت بننے لگا جب سائنسدانوں نے ریڈیو لہروں پر تجربات شروع کیے۔ 1940 کی دہائی میں فوجی بڑے بڑے ریڈیو استعمال کرتے تھے، جنہیں “واکی ٹاکی” کہا جاتا تھا۔ یہ بہت بھاری اور بڑے ہوتے تھے لیکن انہوں نے دنیا کو دکھایا کہ آواز بغیر تار کے بھی سفر کر سکتی ہے۔
اصل کہانی شروع ہوئی 1960 اور 1970 کی دہائی میں۔ اُس وقت کمپنیاں کاروں میں فون لگانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان فونز کو کار فون کہا جاتا تھا۔ یہ فون اتنے بڑے ہوتے تھے کہ کئی کلو وزن رکھتے تھے اور صرف چند جگہوں پر چلتے تھے۔ یہ بہت مہنگے بھی تھے۔
پھر ایک شخص آیا جس نے سب کچھ بدل دیا۔ اس کا نام تھا ڈاکٹر مارٹن کوپر، جو موٹورولا کمپنی میں انجینئر تھے۔ اُنہوں نے ایک نیا خواب دیکھا: ایسا فون جو کار سے بندھا نہ ہو بلکہ انسان کے ہاتھ میں آجائے، جسے لے کر کوئی بھی کہیں بھی بات کر سکے۔ 1973 میں انہوں نے دنیا کا پہلا ہینڈ ہیلڈ موبائل فون بنا لیا۔
یہ فون آج کے فون کی طرح پتلا اور ہلکا نہیں تھا بلکہ ایک بڑا سا مستطیل بلاک تھا، جسے مذاق میں “اینٹ” فون کہا جاتا ہے۔ اس کا وزن تقریباً ایک کلو تھا، ایک لمبا اینٹینا لگا ہوتا تھا، اور صرف 30 منٹ بات کرنے کے بعد بیٹری ختم ہو جاتی تھی۔ لیکن یہ ایک انقلاب تھا۔ پہلی بار انسان نے بغیر تار کے، ہاتھ میں پکڑے فون سے کال کی۔
کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کوپر نے پہلی کال اپنے حریف کمپنی کے انجینئر کو کی، تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ ان کا آئیڈیا کامیاب ہے۔ یہ ایجاد صرف ٹیکنالوجی کی نہیں تھی، بلکہ آزادی، حرکت اور انسانوں کو قریب لانے کی کہانی تھی۔
اس کے بعد سفر آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ 1980 کی دہائی میں یہ فون امیر کاروباری لوگوں کے پاس آنا شروع ہوئے۔ پھر 1990 کی دہائی میں فون چھوٹے اور سستے ہونے لگے، اور ساتھ ہی ایس ایم ایس کا زمانہ شروع ہوا۔ 2000 کی دہائی میں موبائل فون نے کیمرہ، گیمز اور انٹرنیٹ اپنے اندر شامل کر لیا۔ اور 2007 میں اسمارٹ فون، جیسے آئی فون، آنے کے بعد موبائل فون ہماری زندگی کا مرکز بن گیا۔
آج دنیا میں سات ارب سے زیادہ لوگ موبائل فون استعمال کر رہے ہیں۔ جو چیز ایک انجینئر کے ہاتھ میں بھاری اینٹ کی طرح شروع ہوئی تھی، وہ آج ہر انسان کی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔
موبائل فون کی ایجاد صرف سائنس کی کہانی نہیں بلکہ انسان کے اُس خواب کی کہانی ہے جو یہ چاہتا تھا کہ فاصلے مٹ جائیں اور دنیا آپ کے ہاتھ کی ہتھیلی پر آجائے۔
Thank you Martin Cooper
0 Yorumlar
0 hisse senetleri
94 Views