کانول سنگھ ریکھھی — راولپنڈی کا بیٹا، دنیا کا روشن چراغ

کامیابی کی کہانیاں ہمیشہ دل کو چھو لیتی ہیں۔ لیکن کچھ کہانیاں صرف متاثر نہیں کرتیں بلکہ قوموں کو جگا دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی ہے کانول سنگھ ریکھھی کی، جو 1945 میں پاکستان کے شہر راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان بھارت منتقل ہوا، اور یہیں سے ایک عام بچے نے غیر معمولی سفر شروع کیا۔

چھوٹے سے گھرانے سے نکل کر انہوں نے محنت اور تعلیم کو اپنا ہتھیار بنایا۔ پہلے IIT بمبئی سے انجینئرنگ کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے جہاں Michigan Technological University سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہ نوجوان ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب لے آئے گا۔

سلکان ویلی کی فتح

امریکہ پہنچ کر انہوں نے ایک کمپنی بنائی جس کا نام تھا Excelan۔ اس کمپنی نے انٹرنیٹ اور نیٹ ورکنگ کی دنیا میں نئے در کھول دیے۔ چند سالوں بعد یہ کمپنی امریکہ کے بڑے اسٹاک ایکسچینج NASDAQ پر پبلک ہوئی — اور یوں کانول ریکھھی پہلے بھارتی نژاد CEO بنے جنہوں نے یہ تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ اس کے بعد وہ دنیا کی مشہور کمپنی Novell کے ٹاپ ایگزیکٹو بھی بنے۔

TiE کی بنیاد — نوجوانوں کے لیے روشنی

کامیابی کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کے لیے راستے کھولنے والے بن گئے۔ انہوں نے TiE (The Indus Entrepreneurs) کی بنیاد رکھی۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا بزنس مینٹورنگ نیٹ ورک ہے جو ہزاروں نوجوانوں کو کاروبار، سرمایہ اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آج دنیا بھر میں لاکھوں نوجوان ان سے انسپائر ہو کر اپنے خوابوں کو حقیقت بنا رہے ہیں۔

علم کے چراغ

انہوں نے تعلیم کو بھی کبھی نہیں بھلایا۔ بھارت میں Kanwal Rekhi School of Information Technology قائم کیا، اور امریکہ میں اپنی مادرِ علمی کو کروڑوں ڈالر عطیہ دیے۔ ان کا ماننا ہے کہ تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جو قوموں کو کھڑا کرتی ہے۔

دولت اور اثر و رسوخ

آج ان کی دولت کا شمار سینکڑوں ملین ڈالرز میں ہوتا ہے۔ لیکن اصل دولت صرف پیسہ نہیں، بلکہ ہزاروں زندگیاں ہیں جنہیں انہوں نے متاثر کیا اور وہ خواب ہیں جنہیں انہوں نے حقیقت کا راستہ دکھایا۔



سبق جو ہمیں سیکھنا چاہیے

کانول ریکھھی کی زندگی ہمیں ایک بڑا سبق دیتی ہے:
• آپ چاہے کسی عام گھر میں پیدا ہوں، دنیا میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
• تعلیم اور محنت کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
• اصل کامیابی وہ ہے جب آپ اپنی کامیابی سے دوسروں کے لیے بھی دروازے کھولیں۔



پیغام برائے نوجوانان پاکستان

یاد رکھو، یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس کا آغاز راولپنڈی کی گلیوں سے ہوا اور اختتام دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک جا پہنچا۔ اگر وہ کر سکتے ہیں، تو آپ کیوں نہیں؟

اپنے خوابوں پر یقین رکھو، ہمت دکھاؤ، ناکامی سے ڈرو مت۔ ایک دن تمہاری کہانی بھی دنیا کو انسپائر کرے گی۔



اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی بھی بدلے تو اس پوسٹ کو شیئر کریں، کمنٹ کریں اور فالو کریں تاکہ مزید ایسی کہانیاں آپ تک پہنچتی رہیں۔ کیونکہ تبدیلی کا آغاز صرف ایک خواب اور ایک قدم سے ہوتا ہے۔



Follow Him on Kanwal Rekhi and other social media
کانول سنگھ ریکھھی — راولپنڈی کا بیٹا، دنیا کا روشن چراغ کامیابی کی کہانیاں ہمیشہ دل کو چھو لیتی ہیں۔ لیکن کچھ کہانیاں صرف متاثر نہیں کرتیں بلکہ قوموں کو جگا دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی ہے کانول سنگھ ریکھھی کی، جو 1945 میں پاکستان کے شہر راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان بھارت منتقل ہوا، اور یہیں سے ایک عام بچے نے غیر معمولی سفر شروع کیا۔ چھوٹے سے گھرانے سے نکل کر انہوں نے محنت اور تعلیم کو اپنا ہتھیار بنایا۔ پہلے IIT بمبئی سے انجینئرنگ کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے جہاں Michigan Technological University سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہ نوجوان ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب لے آئے گا۔ سلکان ویلی کی فتح امریکہ پہنچ کر انہوں نے ایک کمپنی بنائی جس کا نام تھا Excelan۔ اس کمپنی نے انٹرنیٹ اور نیٹ ورکنگ کی دنیا میں نئے در کھول دیے۔ چند سالوں بعد یہ کمپنی امریکہ کے بڑے اسٹاک ایکسچینج NASDAQ پر پبلک ہوئی — اور یوں کانول ریکھھی پہلے بھارتی نژاد CEO بنے جنہوں نے یہ تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ اس کے بعد وہ دنیا کی مشہور کمپنی Novell کے ٹاپ ایگزیکٹو بھی بنے۔ TiE کی بنیاد — نوجوانوں کے لیے روشنی کامیابی کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کے لیے راستے کھولنے والے بن گئے۔ انہوں نے TiE (The Indus Entrepreneurs) کی بنیاد رکھی۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا بزنس مینٹورنگ نیٹ ورک ہے جو ہزاروں نوجوانوں کو کاروبار، سرمایہ اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آج دنیا بھر میں لاکھوں نوجوان ان سے انسپائر ہو کر اپنے خوابوں کو حقیقت بنا رہے ہیں۔ علم کے چراغ انہوں نے تعلیم کو بھی کبھی نہیں بھلایا۔ بھارت میں Kanwal Rekhi School of Information Technology قائم کیا، اور امریکہ میں اپنی مادرِ علمی کو کروڑوں ڈالر عطیہ دیے۔ ان کا ماننا ہے کہ تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جو قوموں کو کھڑا کرتی ہے۔ دولت اور اثر و رسوخ آج ان کی دولت کا شمار سینکڑوں ملین ڈالرز میں ہوتا ہے۔ لیکن اصل دولت صرف پیسہ نہیں، بلکہ ہزاروں زندگیاں ہیں جنہیں انہوں نے متاثر کیا اور وہ خواب ہیں جنہیں انہوں نے حقیقت کا راستہ دکھایا۔ ⸻ سبق جو ہمیں سیکھنا چاہیے کانول ریکھھی کی زندگی ہمیں ایک بڑا سبق دیتی ہے: • آپ چاہے کسی عام گھر میں پیدا ہوں، دنیا میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ • تعلیم اور محنت کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ • اصل کامیابی وہ ہے جب آپ اپنی کامیابی سے دوسروں کے لیے بھی دروازے کھولیں۔ ⸻ پیغام برائے نوجوانان پاکستان 🇵🇰 یاد رکھو، یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس کا آغاز راولپنڈی کی گلیوں سے ہوا اور اختتام دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک جا پہنچا۔ اگر وہ کر سکتے ہیں، تو آپ کیوں نہیں؟ اپنے خوابوں پر یقین رکھو، ہمت دکھاؤ، ناکامی سے ڈرو مت۔ ایک دن تمہاری کہانی بھی دنیا کو انسپائر کرے گی۔ ⸻ 🔥 اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی بھی بدلے تو اس پوسٹ کو شیئر کریں، کمنٹ کریں اور فالو کریں تاکہ مزید ایسی کہانیاں آپ تک پہنچتی رہیں۔ کیونکہ تبدیلی کا آغاز صرف ایک خواب اور ایک قدم سے ہوتا ہے۔ ⸻ Follow Him on Kanwal Rekhi and other social media
0 Reacties 0 aandelen 118 Views