کانول ریکھھی: ایک وژنری لیڈر اور تعلیمی انقلابی

کانول سنگھ ریکھھی، جنہیں آج دنیا ایک کامیاب ٹیکنالوجی لیڈر، سرمایہ کار اور سماجی رہنما کے طور پر جانتی ہے، 29 اگست 1945 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں تقسیمِ ہند کے ہنگاموں کو دیکھنے کے بعد ان کا خاندان بھارت منتقل ہوا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے آئی آئی ٹی بمبئی سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ گئے جہاں Michigan Technological University سے ماسٹرز مکمل کیا۔

امریکہ پہنچ کر انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور انجینئر کیا، لیکن جلد ہی انہوں نے کاروبار اور قیادت کی دنیا میں قدم رکھا۔ وہ پہلے بھارتی-امریکی تھے جنہوں نے Silicon Valley میں ایک وینچر بیکڈ کمپنی (Excelan) کو کامیابی سے عوامی سطح پر NASDAQ پر لسٹ کیا۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کاوش کا نتیجہ تھی بلکہ ہزاروں دیگر بھارتی نژاد انجینئرز اور کاروباری افراد کے لیے ایک مثال بن گئی۔

ریکھھی صرف کاروباری دنیا تک محدود نہ رہے بلکہ انہوں نے نوجوانوں اور اسٹارٹ اپس کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا جو آج دنیا کے سب سے بڑے نیٹ ورکس میں سے ایک ہے — TiE (The Indus Entrepreneurs)۔ TiE نے ہزاروں نئے کاروباری منصوبوں کو رہنمائی، سرمایہ اور مینٹورنگ فراہم کی اور جنوبی ایشیائی کاروباری برادری کو عالمی سطح پر پہچان دلائی۔

ان کی فلاحی خدمات بھی شاندار ہیں۔ انہوں نے بھارت میں Kanwal Rekhi School of Information Technology (IIT بمبئی) کی بنیاد رکھی اور امریکہ میں Ann & Kanwal Rekhi Hall (Michigan Tech) تعمیر کروایا۔ ساتھ ہی وہ RAND Corporation کے Asia Pacific Policy Center کے بورڈ ممبر بھی ہیں۔

کانول ریکھھی کا ویژن ہمیشہ یہی رہا ہے کہ تعلیم، کاروبار اور ٹیکنالوجی کو ایک دوسرے سے جوڑ کر نوجوانوں کو آزادی دی جائے تاکہ وہ ناکام ہو کر بھی سیکھ سکیں۔ ان کے مطابق، روایتی کالج نظام جس میں صرف اسائنمنٹ اور گریڈز کی دوڑ لگی ہو، آج کے دور میں نوجوانوں کو ناکارہ بنا رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ طلبہ کو اپنے کالج کے سالوں میں آئیڈیاز آزمانے، ناکامی سے سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو حقیقت کی دنیا میں پرکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔



کانول ریکھھی کی تحریر (اردو ترجمہ)

اگر میں کالج کا نصاب دوبارہ لکھوں تو سب سے پہلے اس میں طلبہ کو یہ آزادی دوں کہ وہ باہر جا کر حقیقت کی دنیا میں ناکام ہوں اور اس ناکامی سے سیکھیں۔

لیکن آج کے وقت میں ہمارے طلبہ اپنی بہترین عمر ایک مہنگے کالج سسٹم میں قید ہو کر گزار دیتے ہیں، جہاں صرف اسائنمنٹس اور فائنل گریڈ کی پرواہ کی جاتی ہے۔

یہ ماڈل شاید 1980 کی دہائی میں کارآمد تھا، لیکن 2025 میں، جب اے آئی آپ کے پیپرز آپ سے بہتر لکھ سکتی ہے، یہ نظام بالکل غیر متعلق ہو چکا ہے۔

اسے درست کرنے کے لیے ہمیں دو بڑی تبدیلیاں لانی ہوں گی:

طلبہ کو کالج کے ان برسوں میں ایک سیفٹی نیٹ دیا جائے، تاکہ وہ آئیڈیاز آزما سکیں، گِر سکیں اور اصل دنیا سے سیکھ سکیں۔

طلبہ کو بہت جلد مختلف خانوں میں نہ باندھا جائے۔ پہلے چار سال انجینئرنگ کے بنیادی مضامین اور لبرل آرٹس کی مضبوط بنیاد رکھی جائے۔ اسپیشلائزیشن صرف تب آئے جب بنیاد پختہ ہو جائے۔

لیکن مستقبل کے لیے تیاری صرف کالجوں کا کام نہیں، یہ طلبہ کی ذمہ داری بھی ہے۔ کیونکہ کالجوں کو نصاب بدلنے میں وقت لگے گا۔ اس دوران طلبہ کو خود قدم اٹھانا ہوگا — کوئی سائیڈ پراجیکٹ شروع کریں، نئے شعبوں میں انٹرن شپ کریں یا کوئی بزنس لانچ کریں۔ ناکامی کی فکر نہ کریں، بس کوشش پر توجہ دیں۔

ورنہ اگر کچھ نہ بدلا تو ہم اپنی نوجوانی ایک پرانے اور بوسیدہ نظام پر ضائع کرتے رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم بنیادوں کی طرف لوٹیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اے آئی سے چلنے والی نئی دنیا کے لیے خود کو تیار کریں !

Thank you Kanwal Rekhi
کانول ریکھھی: ایک وژنری لیڈر اور تعلیمی انقلابی کانول سنگھ ریکھھی، جنہیں آج دنیا ایک کامیاب ٹیکنالوجی لیڈر، سرمایہ کار اور سماجی رہنما کے طور پر جانتی ہے، 29 اگست 1945 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں تقسیمِ ہند کے ہنگاموں کو دیکھنے کے بعد ان کا خاندان بھارت منتقل ہوا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے آئی آئی ٹی بمبئی سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ گئے جہاں Michigan Technological University سے ماسٹرز مکمل کیا۔ امریکہ پہنچ کر انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور انجینئر کیا، لیکن جلد ہی انہوں نے کاروبار اور قیادت کی دنیا میں قدم رکھا۔ وہ پہلے بھارتی-امریکی تھے جنہوں نے Silicon Valley میں ایک وینچر بیکڈ کمپنی (Excelan) کو کامیابی سے عوامی سطح پر NASDAQ پر لسٹ کیا۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کاوش کا نتیجہ تھی بلکہ ہزاروں دیگر بھارتی نژاد انجینئرز اور کاروباری افراد کے لیے ایک مثال بن گئی۔ ریکھھی صرف کاروباری دنیا تک محدود نہ رہے بلکہ انہوں نے نوجوانوں اور اسٹارٹ اپس کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا جو آج دنیا کے سب سے بڑے نیٹ ورکس میں سے ایک ہے — TiE (The Indus Entrepreneurs)۔ TiE نے ہزاروں نئے کاروباری منصوبوں کو رہنمائی، سرمایہ اور مینٹورنگ فراہم کی اور جنوبی ایشیائی کاروباری برادری کو عالمی سطح پر پہچان دلائی۔ ان کی فلاحی خدمات بھی شاندار ہیں۔ انہوں نے بھارت میں Kanwal Rekhi School of Information Technology (IIT بمبئی) کی بنیاد رکھی اور امریکہ میں Ann & Kanwal Rekhi Hall (Michigan Tech) تعمیر کروایا۔ ساتھ ہی وہ RAND Corporation کے Asia Pacific Policy Center کے بورڈ ممبر بھی ہیں۔ کانول ریکھھی کا ویژن ہمیشہ یہی رہا ہے کہ تعلیم، کاروبار اور ٹیکنالوجی کو ایک دوسرے سے جوڑ کر نوجوانوں کو آزادی دی جائے تاکہ وہ ناکام ہو کر بھی سیکھ سکیں۔ ان کے مطابق، روایتی کالج نظام جس میں صرف اسائنمنٹ اور گریڈز کی دوڑ لگی ہو، آج کے دور میں نوجوانوں کو ناکارہ بنا رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ طلبہ کو اپنے کالج کے سالوں میں آئیڈیاز آزمانے، ناکامی سے سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو حقیقت کی دنیا میں پرکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ⸻ کانول ریکھھی کی تحریر (اردو ترجمہ) اگر میں کالج کا نصاب دوبارہ لکھوں تو سب سے پہلے اس میں طلبہ کو یہ آزادی دوں کہ وہ باہر جا کر حقیقت کی دنیا میں ناکام ہوں اور اس ناکامی سے سیکھیں۔ لیکن آج کے وقت میں ہمارے طلبہ اپنی بہترین عمر ایک مہنگے کالج سسٹم میں قید ہو کر گزار دیتے ہیں، جہاں صرف اسائنمنٹس اور فائنل گریڈ کی پرواہ کی جاتی ہے۔ یہ ماڈل شاید 1980 کی دہائی میں کارآمد تھا، لیکن 2025 میں، جب اے آئی آپ کے پیپرز آپ سے بہتر لکھ سکتی ہے، یہ نظام بالکل غیر متعلق ہو چکا ہے۔ اسے درست کرنے کے لیے ہمیں دو بڑی تبدیلیاں لانی ہوں گی: 1️⃣ طلبہ کو کالج کے ان برسوں میں ایک سیفٹی نیٹ دیا جائے، تاکہ وہ آئیڈیاز آزما سکیں، گِر سکیں اور اصل دنیا سے سیکھ سکیں۔ 2️⃣ طلبہ کو بہت جلد مختلف خانوں میں نہ باندھا جائے۔ پہلے چار سال انجینئرنگ کے بنیادی مضامین اور لبرل آرٹس کی مضبوط بنیاد رکھی جائے۔ اسپیشلائزیشن صرف تب آئے جب بنیاد پختہ ہو جائے۔ لیکن مستقبل کے لیے تیاری صرف کالجوں کا کام نہیں، یہ طلبہ کی ذمہ داری بھی ہے۔ کیونکہ کالجوں کو نصاب بدلنے میں وقت لگے گا۔ اس دوران طلبہ کو خود قدم اٹھانا ہوگا — کوئی سائیڈ پراجیکٹ شروع کریں، نئے شعبوں میں انٹرن شپ کریں یا کوئی بزنس لانچ کریں۔ ناکامی کی فکر نہ کریں، بس کوشش پر توجہ دیں۔ ورنہ اگر کچھ نہ بدلا تو ہم اپنی نوجوانی ایک پرانے اور بوسیدہ نظام پر ضائع کرتے رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم بنیادوں کی طرف لوٹیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اے آئی سے چلنے والی نئی دنیا کے لیے خود کو تیار کریں 🎓! Thank you Kanwal Rekhi
0 Comentários 0 Compartilhamentos 113 Visualizações