شک سے یقین تک – الطاف ایجوکیشن والا کا سفر
تین سال پہلے میں نے کورنگی کے دل میں ایک چھوٹا سا اسکول خریدا۔ یہ اسکول تنگ گلیوں، ٹوٹی سڑکوں اور ایک ایسے کچی آبادی کے بیچ میں تھا، جہاں جانے کا زیادہ تر لوگ سوچتے بھی نہیں۔
اس اسکول کے پرنسپل ایک عاجز، خاموش اور نیک دل انسان تھے – الطاف حسین، الطاف ایجوکیشن والا۔
جب میں نے پہلی بار اُن سے ملاقات کی تو دل ہی دل میں سوچا:
“یا اللہ… یہ آدمی شاید دو مہینے بھی نہ ٹکے۔ نہ سوشل میڈیا جانتے ہیں، نہ انٹرنیٹ۔ یہ اس تیز رفتار وژن میں کیسے چل پائیں گے؟”
لیکن زندگی کو ہمیں غلط ثابت کرنا بہت پسند ہے۔
شروع میں وہ بس دیکھتے اور سنتے رہے۔ چھ مہینے گزر گئے… پھر ایک سال۔ آہستہ آہستہ کچھ بدلنے لگا۔
وہ اسکول آنے والے مہمانوں سے بات کرنے لگے۔ انہوں نے دین محمد (جو مِٹھی تھرپارکر میں ہمارا ڈیجیٹل لٹریسی اسکول چلا رہے ہیں) اور زاہد ترکھیوالا جیسے لوگوں کے ساتھ کام شروع کیا۔
پھر ایک دن اصل تبدیلی آئی۔
الطاف نے سوشل میڈیا سیکھنا شروع کیا۔
انہوں نے انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کیا۔
فیس بُک کھولا، کہانیاں اور اپنے کام کا سفر دنیا سے بانٹنا شروع کیا۔
میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک شخص کو بدلتے، نکھرتے اور آگے بڑھتے دیکھا۔
میں انہیں کئی ٹُورز پر اپنے ساتھ لے گیا۔ ہم نے کئی دن ساتھ گزارے – باتیں کیں، منصوبے بنائے، خواب دیکھے۔ اور میں نے دیکھا کہ ایک چنگاری شعلہ بن گئی۔
آج الطاف روزانہ 12 سے 16 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک شاندار اسٹوڈنٹ نیٹ ورک بنایا ہے۔ ان کے فیس بُک پر 10 ہزار سے زائد فالورز ہیں۔ وہ تقاریر کرتے ہیں، لیکچر دیتے ہیں، ہمارے اسکول کی طرف سے ایوارڈ وصول کرتے ہیں، اور فخر سے ڈیجیٹل اسکول تحریک کے لیڈر کے طور پر کھڑے ہیں۔
انہوں نے اس مشن کے لیے اپنا خون، پسینہ اور دل سب کچھ دے دیا – اور ان کی بیوی نے ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا۔
اس وقت الطاف گلگت میں ہیں، کچھ خاندانی اور موسمی مسائل کی وجہ سے۔ لیکن ان کا دل اب بھی اسکول کے ساتھ دھڑکتا ہے، اور وہ وہاں بیٹھ کر بھی دوسرے کیمپسز کو کوچ کر رہے ہیں۔
میری آپ سب سے درخواست:
اگر آپ گلگت میں ہیں تو اُن سے ضرور ملیں۔ اُن کے ساتھ چائے پئیں۔ اُن کی باتیں سنیں، اُن کے تجربے سے سیکھیں۔ انہیں فیس بُک پر فالو کریں۔ انہیں ویسا ہی سپورٹ کریں جیسا انہوں نے سینکڑوں بچوں کو کورنگی میں سپورٹ کیا ہے۔
الطاف بھائی، آپ اس بات کی جیتی جاگتی مثال ہیں کہ انسان کا ماضی اس کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتا۔ آپ کا شکریہ – میرے لیے، ہمارے طلبہ کے لیے، اور ہمارے اُس خواب کے لیے جو ہم نے ساتھ دیکھا۔
یہ تو بس شروعات ہے… آگے کا سفر اس سے بھی بڑا، شاندار اور خوبصورت ہو۔
— ریحان اللہ والا
Altaf EducationWala
Phone +92 315 2719993
تین سال پہلے میں نے کورنگی کے دل میں ایک چھوٹا سا اسکول خریدا۔ یہ اسکول تنگ گلیوں، ٹوٹی سڑکوں اور ایک ایسے کچی آبادی کے بیچ میں تھا، جہاں جانے کا زیادہ تر لوگ سوچتے بھی نہیں۔
اس اسکول کے پرنسپل ایک عاجز، خاموش اور نیک دل انسان تھے – الطاف حسین، الطاف ایجوکیشن والا۔
جب میں نے پہلی بار اُن سے ملاقات کی تو دل ہی دل میں سوچا:
“یا اللہ… یہ آدمی شاید دو مہینے بھی نہ ٹکے۔ نہ سوشل میڈیا جانتے ہیں، نہ انٹرنیٹ۔ یہ اس تیز رفتار وژن میں کیسے چل پائیں گے؟”
لیکن زندگی کو ہمیں غلط ثابت کرنا بہت پسند ہے۔
شروع میں وہ بس دیکھتے اور سنتے رہے۔ چھ مہینے گزر گئے… پھر ایک سال۔ آہستہ آہستہ کچھ بدلنے لگا۔
وہ اسکول آنے والے مہمانوں سے بات کرنے لگے۔ انہوں نے دین محمد (جو مِٹھی تھرپارکر میں ہمارا ڈیجیٹل لٹریسی اسکول چلا رہے ہیں) اور زاہد ترکھیوالا جیسے لوگوں کے ساتھ کام شروع کیا۔
پھر ایک دن اصل تبدیلی آئی۔
الطاف نے سوشل میڈیا سیکھنا شروع کیا۔
انہوں نے انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کیا۔
فیس بُک کھولا، کہانیاں اور اپنے کام کا سفر دنیا سے بانٹنا شروع کیا۔
میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک شخص کو بدلتے، نکھرتے اور آگے بڑھتے دیکھا۔
میں انہیں کئی ٹُورز پر اپنے ساتھ لے گیا۔ ہم نے کئی دن ساتھ گزارے – باتیں کیں، منصوبے بنائے، خواب دیکھے۔ اور میں نے دیکھا کہ ایک چنگاری شعلہ بن گئی۔
آج الطاف روزانہ 12 سے 16 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک شاندار اسٹوڈنٹ نیٹ ورک بنایا ہے۔ ان کے فیس بُک پر 10 ہزار سے زائد فالورز ہیں۔ وہ تقاریر کرتے ہیں، لیکچر دیتے ہیں، ہمارے اسکول کی طرف سے ایوارڈ وصول کرتے ہیں، اور فخر سے ڈیجیٹل اسکول تحریک کے لیڈر کے طور پر کھڑے ہیں۔
انہوں نے اس مشن کے لیے اپنا خون، پسینہ اور دل سب کچھ دے دیا – اور ان کی بیوی نے ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا۔
اس وقت الطاف گلگت میں ہیں، کچھ خاندانی اور موسمی مسائل کی وجہ سے۔ لیکن ان کا دل اب بھی اسکول کے ساتھ دھڑکتا ہے، اور وہ وہاں بیٹھ کر بھی دوسرے کیمپسز کو کوچ کر رہے ہیں۔
میری آپ سب سے درخواست:
اگر آپ گلگت میں ہیں تو اُن سے ضرور ملیں۔ اُن کے ساتھ چائے پئیں۔ اُن کی باتیں سنیں، اُن کے تجربے سے سیکھیں۔ انہیں فیس بُک پر فالو کریں۔ انہیں ویسا ہی سپورٹ کریں جیسا انہوں نے سینکڑوں بچوں کو کورنگی میں سپورٹ کیا ہے۔
الطاف بھائی، آپ اس بات کی جیتی جاگتی مثال ہیں کہ انسان کا ماضی اس کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتا۔ آپ کا شکریہ – میرے لیے، ہمارے طلبہ کے لیے، اور ہمارے اُس خواب کے لیے جو ہم نے ساتھ دیکھا۔
یہ تو بس شروعات ہے… آگے کا سفر اس سے بھی بڑا، شاندار اور خوبصورت ہو۔
— ریحان اللہ والا
Altaf EducationWala
Phone +92 315 2719993
🌟 شک سے یقین تک – الطاف ایجوکیشن والا کا سفر 🌟
تین سال پہلے میں نے کورنگی کے دل میں ایک چھوٹا سا اسکول خریدا۔ یہ اسکول تنگ گلیوں، ٹوٹی سڑکوں اور ایک ایسے کچی آبادی کے بیچ میں تھا، جہاں جانے کا زیادہ تر لوگ سوچتے بھی نہیں۔
اس اسکول کے پرنسپل ایک عاجز، خاموش اور نیک دل انسان تھے – الطاف حسین، الطاف ایجوکیشن والا۔
جب میں نے پہلی بار اُن سے ملاقات کی تو دل ہی دل میں سوچا:
“یا اللہ… یہ آدمی شاید دو مہینے بھی نہ ٹکے۔ نہ سوشل میڈیا جانتے ہیں، نہ انٹرنیٹ۔ یہ اس تیز رفتار وژن میں کیسے چل پائیں گے؟”
لیکن زندگی کو ہمیں غلط ثابت کرنا بہت پسند ہے۔
شروع میں وہ بس دیکھتے اور سنتے رہے۔ چھ مہینے گزر گئے… پھر ایک سال۔ آہستہ آہستہ کچھ بدلنے لگا۔
وہ اسکول آنے والے مہمانوں سے بات کرنے لگے۔ انہوں نے دین محمد (جو مِٹھی تھرپارکر میں ہمارا ڈیجیٹل لٹریسی اسکول چلا رہے ہیں) اور زاہد ترکھیوالا جیسے لوگوں کے ساتھ کام شروع کیا۔
پھر ایک دن اصل تبدیلی آئی۔
الطاف نے سوشل میڈیا سیکھنا شروع کیا۔
انہوں نے انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کیا۔
فیس بُک کھولا، کہانیاں اور اپنے کام کا سفر دنیا سے بانٹنا شروع کیا۔
میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک شخص کو بدلتے، نکھرتے اور آگے بڑھتے دیکھا۔
میں انہیں کئی ٹُورز پر اپنے ساتھ لے گیا۔ ہم نے کئی دن ساتھ گزارے – باتیں کیں، منصوبے بنائے، خواب دیکھے۔ اور میں نے دیکھا کہ ایک چنگاری شعلہ بن گئی۔
آج الطاف روزانہ 12 سے 16 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک شاندار اسٹوڈنٹ نیٹ ورک بنایا ہے۔ ان کے فیس بُک پر 10 ہزار سے زائد فالورز ہیں۔ وہ تقاریر کرتے ہیں، لیکچر دیتے ہیں، ہمارے اسکول کی طرف سے ایوارڈ وصول کرتے ہیں، اور فخر سے ڈیجیٹل اسکول تحریک کے لیڈر کے طور پر کھڑے ہیں۔
انہوں نے اس مشن کے لیے اپنا خون، پسینہ اور دل سب کچھ دے دیا – اور ان کی بیوی نے ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا۔
اس وقت الطاف گلگت میں ہیں، کچھ خاندانی اور موسمی مسائل کی وجہ سے۔ لیکن ان کا دل اب بھی اسکول کے ساتھ دھڑکتا ہے، اور وہ وہاں بیٹھ کر بھی دوسرے کیمپسز کو کوچ کر رہے ہیں۔
💬 میری آپ سب سے درخواست:
اگر آپ گلگت میں ہیں تو اُن سے ضرور ملیں۔ اُن کے ساتھ چائے پئیں۔ اُن کی باتیں سنیں، اُن کے تجربے سے سیکھیں۔ انہیں فیس بُک پر فالو کریں۔ انہیں ویسا ہی سپورٹ کریں جیسا انہوں نے سینکڑوں بچوں کو کورنگی میں سپورٹ کیا ہے۔
الطاف بھائی، آپ اس بات کی جیتی جاگتی مثال ہیں کہ انسان کا ماضی اس کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتا۔ آپ کا شکریہ – میرے لیے، ہمارے طلبہ کے لیے، اور ہمارے اُس خواب کے لیے جو ہم نے ساتھ دیکھا۔
یہ تو بس شروعات ہے… آگے کا سفر اس سے بھی بڑا، شاندار اور خوبصورت ہو۔ 🌍❤️
— ریحان اللہ والا
Altaf EducationWala
Phone +92 315 2719993
0 التعليقات
0 المشاركات
61 مشاهدة