“یہ صرف پانچویں جماعت کا بچہ ہے… اور خود اپنی فیس ادا کر رہا ہے!”
— ایک سچی کہانی ریحان اسکول سے
میں نے ریحان اسکول صرف ABC سکھانے کے لیے نہیں بنایا۔
میں نے یہ اسکول ان 3 کروڑ بچوں کے لیے بنایا ہے جو پاکستان میں اسکول ہی نہیں جاتے۔
نہ کہ وہ نالائق ہیں،
نہ کہ وہ سیکھنا نہیں چاہتے…
بلکہ اس لیے کہ ان کے والدین کے پاس ہزار روپے ماہانہ فیس دینے کے بھی پیسے نہیں۔
اور جو اسکول ہزار روپے لیتے ہیں؟
وہ خود بمشکل چل رہے ہیں۔
نہ اچھے استاد،
نہ تعلیم،
نہ مستقبل۔
اور پھر بچے سے کہا جاتا ہے:
“بیٹا، تمہاری قسمت میں اسکول نہیں ہے…”
میں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا۔
تین سال تک میں نے ایک حل تلاش کیا۔
ایسا حل جو بخشش نہ مانگے، عزت دے۔
پھر ایک دن ایک پاگل سا خیال آیا:
“اگر پانچویں جماعت کا بچہ خود کمانا شروع کر دے تو؟”
نہ دس سال بعد۔
نہ کالج کے بعد۔
ابھی۔ اسی وقت۔
تب ہم نے ایک کتاب بنائی — صرف چھ ماہ پہلے۔
بچوں کے لیے۔
پانچویں جماعت کے بچوں کے لیے۔
سادہ۔ دلچسپ۔ انقلابی۔
یہ کتاب بچوں کو سکھاتی ہے کہ وہ پانچ ہزار روپے ماہانہ کما سکتے ہیں۔
پھر دس ہزار۔
تاکہ وہ اپنی اسکول فیس خود ادا کریں…
اور آدھا پیسہ گھر بھی لے جائیں۔
ایک بچے نے مجھے وائس میسج بھیجا:
“سر، آج میں نے اپنی ماں کو پیسے دیے۔ وہ رو رہی تھیں… خوشی سے!”
میں بھی رو دیا۔
کیونکہ یہ کتاب نہیں…
یہ تو انقلاب ہے جو ایک بستے میں آ گیا ہے۔
⸻
آج دنیا میں 4 ارب لوگوں کے پاس موبائل فون ہے۔
مگر وہ صرف ویڈیوز دیکھنے، چیٹنگ کرنے یا گیمز کھیلنے کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔
ہم اسکولوں میں انگریزی، سائنس اور ریاضی سکھاتے ہیں،
مگر کوئی نہیں سکھاتا کہ فون، انٹرنیٹ اور AI کو استعمال کر کے دنیا کیسے بدلی جاتی ہے۔
اور یہی ہم کر رہے ہیں۔
ہم ان بچوں کو بااختیار بنا رہے ہیں کہ وہ خود سیکھیں،
پھر اپنے گھر والوں کو سکھائیں،
پھر اپنے محلے کو،
اور پھر دنیا کو آن لائن۔
یہ بچے صرف طالب علم نہیں…
یہ وہ چمکتے ہوئے جگنو ہیں جو رات کے اندھیروں کو روشن کریں گے۔
“یہ بچے چراغ ہیں، ان کو جلنے دو
یہ خواب ہیں، ان کو حقیقت بننے دو”
یہ بچے مستقبل کے استاد بن رہے ہیں۔
یہ قائد بن رہے ہیں۔
یہ وہ نسل ہے جو صدیوں کا اندھیرا ختم کرے گی۔
⸻
اگر آپ کو شک ہے…
تو ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں:
آئیے۔ خود دیکھئے۔
آئیے ریحان اسکول میں ان بچوں سے ملیے۔
دیکھیے کیسے ایک دس سالہ بچہ
AI، یوٹیوب اور انٹرنیٹ سے
نہ صرف خود سیکھ رہا ہے،
بلکہ دوسروں کو سکھا رہا ہے۔
یہ کوئی خواب نہیں…
یہ پاکستان کا نیا چہرہ ہے۔
⸻
کتاب، اسکول اور ہمارا مشن — سب دیکھنے کے لیے، صرف ایک وزٹ کیجیے:
www.rehan.school
قریبی ریحان اسکول آ کر بچوں سے ملیے، اور امید کا چمکتا ہوا مستقبل اپنی آنکھوں سے دیکھیے۔
— ایک سچی کہانی ریحان اسکول سے
میں نے ریحان اسکول صرف ABC سکھانے کے لیے نہیں بنایا۔
میں نے یہ اسکول ان 3 کروڑ بچوں کے لیے بنایا ہے جو پاکستان میں اسکول ہی نہیں جاتے۔
نہ کہ وہ نالائق ہیں،
نہ کہ وہ سیکھنا نہیں چاہتے…
بلکہ اس لیے کہ ان کے والدین کے پاس ہزار روپے ماہانہ فیس دینے کے بھی پیسے نہیں۔
اور جو اسکول ہزار روپے لیتے ہیں؟
وہ خود بمشکل چل رہے ہیں۔
نہ اچھے استاد،
نہ تعلیم،
نہ مستقبل۔
اور پھر بچے سے کہا جاتا ہے:
“بیٹا، تمہاری قسمت میں اسکول نہیں ہے…”
میں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا۔
تین سال تک میں نے ایک حل تلاش کیا۔
ایسا حل جو بخشش نہ مانگے، عزت دے۔
پھر ایک دن ایک پاگل سا خیال آیا:
“اگر پانچویں جماعت کا بچہ خود کمانا شروع کر دے تو؟”
نہ دس سال بعد۔
نہ کالج کے بعد۔
ابھی۔ اسی وقت۔
تب ہم نے ایک کتاب بنائی — صرف چھ ماہ پہلے۔
بچوں کے لیے۔
پانچویں جماعت کے بچوں کے لیے۔
سادہ۔ دلچسپ۔ انقلابی۔
یہ کتاب بچوں کو سکھاتی ہے کہ وہ پانچ ہزار روپے ماہانہ کما سکتے ہیں۔
پھر دس ہزار۔
تاکہ وہ اپنی اسکول فیس خود ادا کریں…
اور آدھا پیسہ گھر بھی لے جائیں۔
ایک بچے نے مجھے وائس میسج بھیجا:
“سر، آج میں نے اپنی ماں کو پیسے دیے۔ وہ رو رہی تھیں… خوشی سے!”
میں بھی رو دیا۔
کیونکہ یہ کتاب نہیں…
یہ تو انقلاب ہے جو ایک بستے میں آ گیا ہے۔
⸻
آج دنیا میں 4 ارب لوگوں کے پاس موبائل فون ہے۔
مگر وہ صرف ویڈیوز دیکھنے، چیٹنگ کرنے یا گیمز کھیلنے کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔
ہم اسکولوں میں انگریزی، سائنس اور ریاضی سکھاتے ہیں،
مگر کوئی نہیں سکھاتا کہ فون، انٹرنیٹ اور AI کو استعمال کر کے دنیا کیسے بدلی جاتی ہے۔
اور یہی ہم کر رہے ہیں۔
ہم ان بچوں کو بااختیار بنا رہے ہیں کہ وہ خود سیکھیں،
پھر اپنے گھر والوں کو سکھائیں،
پھر اپنے محلے کو،
اور پھر دنیا کو آن لائن۔
یہ بچے صرف طالب علم نہیں…
یہ وہ چمکتے ہوئے جگنو ہیں جو رات کے اندھیروں کو روشن کریں گے۔
“یہ بچے چراغ ہیں، ان کو جلنے دو
یہ خواب ہیں، ان کو حقیقت بننے دو”
یہ بچے مستقبل کے استاد بن رہے ہیں۔
یہ قائد بن رہے ہیں۔
یہ وہ نسل ہے جو صدیوں کا اندھیرا ختم کرے گی۔
⸻
اگر آپ کو شک ہے…
تو ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں:
آئیے۔ خود دیکھئے۔
آئیے ریحان اسکول میں ان بچوں سے ملیے۔
دیکھیے کیسے ایک دس سالہ بچہ
AI، یوٹیوب اور انٹرنیٹ سے
نہ صرف خود سیکھ رہا ہے،
بلکہ دوسروں کو سکھا رہا ہے۔
یہ کوئی خواب نہیں…
یہ پاکستان کا نیا چہرہ ہے۔
⸻
کتاب، اسکول اور ہمارا مشن — سب دیکھنے کے لیے، صرف ایک وزٹ کیجیے:
www.rehan.school
قریبی ریحان اسکول آ کر بچوں سے ملیے، اور امید کا چمکتا ہوا مستقبل اپنی آنکھوں سے دیکھیے۔
🌧️ “یہ صرف پانچویں جماعت کا بچہ ہے… اور خود اپنی فیس ادا کر رہا ہے!”
— ایک سچی کہانی ریحان اسکول سے
میں نے ریحان اسکول صرف ABC سکھانے کے لیے نہیں بنایا۔
میں نے یہ اسکول ان 3 کروڑ بچوں کے لیے بنایا ہے جو پاکستان میں اسکول ہی نہیں جاتے۔
نہ کہ وہ نالائق ہیں،
نہ کہ وہ سیکھنا نہیں چاہتے…
بلکہ اس لیے کہ ان کے والدین کے پاس ہزار روپے ماہانہ فیس دینے کے بھی پیسے نہیں۔
اور جو اسکول ہزار روپے لیتے ہیں؟
وہ خود بمشکل چل رہے ہیں۔
نہ اچھے استاد،
نہ تعلیم،
نہ مستقبل۔
💔 اور پھر بچے سے کہا جاتا ہے:
“بیٹا، تمہاری قسمت میں اسکول نہیں ہے…”
میں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا۔
تین سال تک میں نے ایک حل تلاش کیا۔
ایسا حل جو بخشش نہ مانگے، عزت دے۔
پھر ایک دن ایک پاگل سا خیال آیا:
“اگر پانچویں جماعت کا بچہ خود کمانا شروع کر دے تو؟”
نہ دس سال بعد۔
نہ کالج کے بعد۔
ابھی۔ اسی وقت۔
📘 تب ہم نے ایک کتاب بنائی — صرف چھ ماہ پہلے۔
بچوں کے لیے۔
پانچویں جماعت کے بچوں کے لیے۔
سادہ۔ دلچسپ۔ انقلابی۔
یہ کتاب بچوں کو سکھاتی ہے کہ وہ پانچ ہزار روپے ماہانہ کما سکتے ہیں۔
پھر دس ہزار۔
تاکہ وہ اپنی اسکول فیس خود ادا کریں…
اور آدھا پیسہ گھر بھی لے جائیں۔
😭 ایک بچے نے مجھے وائس میسج بھیجا:
“سر، آج میں نے اپنی ماں کو پیسے دیے۔ وہ رو رہی تھیں… خوشی سے!”
میں بھی رو دیا۔
کیونکہ یہ کتاب نہیں…
یہ تو انقلاب ہے جو ایک بستے میں آ گیا ہے۔
⸻
📱 آج دنیا میں 4 ارب لوگوں کے پاس موبائل فون ہے۔
مگر وہ صرف ویڈیوز دیکھنے، چیٹنگ کرنے یا گیمز کھیلنے کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔
ہم اسکولوں میں انگریزی، سائنس اور ریاضی سکھاتے ہیں،
مگر کوئی نہیں سکھاتا کہ فون، انٹرنیٹ اور AI کو استعمال کر کے دنیا کیسے بدلی جاتی ہے۔
اور یہی ہم کر رہے ہیں۔
ہم ان بچوں کو بااختیار بنا رہے ہیں کہ وہ خود سیکھیں،
پھر اپنے گھر والوں کو سکھائیں،
پھر اپنے محلے کو،
اور پھر دنیا کو آن لائن۔
یہ بچے صرف طالب علم نہیں…
یہ وہ چمکتے ہوئے جگنو ہیں جو رات کے اندھیروں کو روشن کریں گے۔
🌟
“یہ بچے چراغ ہیں، ان کو جلنے دو
یہ خواب ہیں، ان کو حقیقت بننے دو”
🌟
یہ بچے مستقبل کے استاد بن رہے ہیں۔
یہ قائد بن رہے ہیں۔
یہ وہ نسل ہے جو صدیوں کا اندھیرا ختم کرے گی۔
⸻
🕊️ اگر آپ کو شک ہے…
تو ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں:
آئیے۔ خود دیکھئے۔
آئیے ریحان اسکول میں ان بچوں سے ملیے۔
دیکھیے کیسے ایک دس سالہ بچہ
AI، یوٹیوب اور انٹرنیٹ سے
نہ صرف خود سیکھ رہا ہے،
بلکہ دوسروں کو سکھا رہا ہے۔
یہ کوئی خواب نہیں…
یہ پاکستان کا نیا چہرہ ہے۔
⸻
📘 کتاب، اسکول اور ہمارا مشن — سب دیکھنے کے لیے، صرف ایک وزٹ کیجیے:
🌍 www.rehan.school
📍 قریبی ریحان اسکول آ کر بچوں سے ملیے، اور امید کا چمکتا ہوا مستقبل اپنی آنکھوں سے دیکھیے۔
0 Comments
0 Shares
1 Views