سرکاری سوچ سے باہر نکلیں ۔
کام کرنے کی عادت ڈالیں۔
ایک نجی بینک نے اتوار والے دن چند مخصوص برانچوں کو کھلا رکھنا ہے کا اعلان کیا اور
میں نے چند شہزادوں کو اس پر شدید تنقید کرتے اور بینکرز کی زندگی کو اجیرن بنانے کی وجہ قرار دیا ہے۔
I saw this practice 20 years back (2006) in china
In Dubai its common in all Big Malls
Some branches operate late till 9-10pm
میں اپ کو ایک زاویہ دے رہا ہوں جو سوچ ہمارے معاشرے میں سرائیت کرچکی
میں اپ کو ایک سچی کہانی سناتا ہوں
سن 2000 میں راولپنڈی کے راجہ بازار میں ایک بینک کی برانچ تھی جہاں پانچ لوگ کام کرتے تھے اس بینک کی ٹوٹل سالانہ ریونیو انتہائی کم تھا برانچ اپنے
سالانہ لاکھوں کے خسارے میں تھی
وجہ سرکاری سوچ اور کسٹمر سروس کا دور تو تک نشان نہ تھا
جب بینکوں کی پرائیویٹائزیشن ہوئی تو اس برانچ کے لوگوں کو گولڈن شیک ہینڈ افر کیا گیا پانچ میں سے چار لوگوں نے گولڈن شیک ہینڈ لیا۔اور اپنے تئیں کروڑوں کا فائدہ اٹھایا۔
برانچ میں نئی ہائرنگ ہوئی دس نئے لوگ ائے کسٹمر سروس بہتر کی گئی ایک سال کے اندر برانچ کی امدن چھ گنا بڑھ گئی اور خسارے کی جگہ کروڑوں کا منافع ریکارڈ ہوا۔
جگہ وہی دکان وہی صرف سوچ کی تبدیلی۔
اگر اپ بینکنگ انڈسٹری سے ہیں یا اس طرح کی کسی اور جگہ پر ہیں تو زیادہ کام کرنے سے کوئی گھس نہیں جاتا۔ بندہ پالش ہو جاتا ہے
جس کو اتنا کام کرنے کی عادت ڈل جائے گی۔
وہ کاروبار کرے گا اور زندگی میں کامیاب ہوگا۔
میں نے اپنی زندگی میں اچھے بینکرز کو بہترین کاروبار کرتے ہوئے اور اپنے بہترین ایسٹس بناتے ہوئے دیکھا ہے کیونکہ وہ کام کرنے والے لوگ تھے۔
اور سرکاری سوچ والوں نے دھڑا دھڑ 20 سال پہلے گولڈن شیک ہینڈ لیا اور پانچ سال بعد کلرک کی نوکری ڈھونڈ رہے تھے۔
اگلی نسل کو کام کرنے کی عادت ڈالیں۔
جو اپ کو تنخواہ دے گا وہ ہڈیوں میں سے کام نکلوائے گا۔
یہ اصول ہر کام پر طبقے پر لاگو ہوتا ہے۔۔
ہزاروں محنت کرنے والے لوگوں کو سائیکل سے کروڑپتی بنتے دیکھا ہے۔ اور چھٹی کرنے والے اور چھٹی کا انتظار کرنے والے اکثریت کو اپنی ساری
زندگی کی جمع پونجی لٹاتے دیکھا ہے ۔
سکوپ کسی کیریئر کا نہیں ہوتا اسکوپ اس بندے کا
ہے جو اپنا کیریئر خود بنانے کی کوشش کرتا ہے
اپنے کیریئر اور زندگی کے پہلے دس سال دبا کر رگڑا کھائیں
اور پھر ساری زندگی اس سے رگڑے کا پھل کھائیں۔
Note:
ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا بینک ایزی پیسہ ہے جہاں سب سے زیادہ ٹرانزیکشنز ہوتی ہیں۔
Via Khawaja Mazhar Iqbal
کام کرنے کی عادت ڈالیں۔
ایک نجی بینک نے اتوار والے دن چند مخصوص برانچوں کو کھلا رکھنا ہے کا اعلان کیا اور
میں نے چند شہزادوں کو اس پر شدید تنقید کرتے اور بینکرز کی زندگی کو اجیرن بنانے کی وجہ قرار دیا ہے۔
I saw this practice 20 years back (2006) in china
In Dubai its common in all Big Malls
Some branches operate late till 9-10pm
میں اپ کو ایک زاویہ دے رہا ہوں جو سوچ ہمارے معاشرے میں سرائیت کرچکی
میں اپ کو ایک سچی کہانی سناتا ہوں
سن 2000 میں راولپنڈی کے راجہ بازار میں ایک بینک کی برانچ تھی جہاں پانچ لوگ کام کرتے تھے اس بینک کی ٹوٹل سالانہ ریونیو انتہائی کم تھا برانچ اپنے
سالانہ لاکھوں کے خسارے میں تھی
وجہ سرکاری سوچ اور کسٹمر سروس کا دور تو تک نشان نہ تھا
جب بینکوں کی پرائیویٹائزیشن ہوئی تو اس برانچ کے لوگوں کو گولڈن شیک ہینڈ افر کیا گیا پانچ میں سے چار لوگوں نے گولڈن شیک ہینڈ لیا۔اور اپنے تئیں کروڑوں کا فائدہ اٹھایا۔
برانچ میں نئی ہائرنگ ہوئی دس نئے لوگ ائے کسٹمر سروس بہتر کی گئی ایک سال کے اندر برانچ کی امدن چھ گنا بڑھ گئی اور خسارے کی جگہ کروڑوں کا منافع ریکارڈ ہوا۔
جگہ وہی دکان وہی صرف سوچ کی تبدیلی۔
اگر اپ بینکنگ انڈسٹری سے ہیں یا اس طرح کی کسی اور جگہ پر ہیں تو زیادہ کام کرنے سے کوئی گھس نہیں جاتا۔ بندہ پالش ہو جاتا ہے
جس کو اتنا کام کرنے کی عادت ڈل جائے گی۔
وہ کاروبار کرے گا اور زندگی میں کامیاب ہوگا۔
میں نے اپنی زندگی میں اچھے بینکرز کو بہترین کاروبار کرتے ہوئے اور اپنے بہترین ایسٹس بناتے ہوئے دیکھا ہے کیونکہ وہ کام کرنے والے لوگ تھے۔
اور سرکاری سوچ والوں نے دھڑا دھڑ 20 سال پہلے گولڈن شیک ہینڈ لیا اور پانچ سال بعد کلرک کی نوکری ڈھونڈ رہے تھے۔
اگلی نسل کو کام کرنے کی عادت ڈالیں۔
جو اپ کو تنخواہ دے گا وہ ہڈیوں میں سے کام نکلوائے گا۔
یہ اصول ہر کام پر طبقے پر لاگو ہوتا ہے۔۔
ہزاروں محنت کرنے والے لوگوں کو سائیکل سے کروڑپتی بنتے دیکھا ہے۔ اور چھٹی کرنے والے اور چھٹی کا انتظار کرنے والے اکثریت کو اپنی ساری
زندگی کی جمع پونجی لٹاتے دیکھا ہے ۔
سکوپ کسی کیریئر کا نہیں ہوتا اسکوپ اس بندے کا
ہے جو اپنا کیریئر خود بنانے کی کوشش کرتا ہے
اپنے کیریئر اور زندگی کے پہلے دس سال دبا کر رگڑا کھائیں
اور پھر ساری زندگی اس سے رگڑے کا پھل کھائیں۔
Note:
ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا بینک ایزی پیسہ ہے جہاں سب سے زیادہ ٹرانزیکشنز ہوتی ہیں۔
Via Khawaja Mazhar Iqbal
سرکاری سوچ سے باہر نکلیں ۔
کام کرنے کی عادت ڈالیں۔
ایک نجی بینک نے اتوار والے دن چند مخصوص برانچوں کو کھلا رکھنا ہے کا اعلان کیا اور
میں نے چند شہزادوں کو اس پر شدید تنقید کرتے اور بینکرز کی زندگی کو اجیرن بنانے کی وجہ قرار دیا ہے۔
I saw this practice 20 year's back (2006) in china
In Dubai it's common in all Big Mall's
Some branches operate late till 9-10pm
میں اپ کو ایک زاویہ دے رہا ہوں جو سوچ ہمارے معاشرے میں سرائیت کرچکی
میں اپ کو ایک سچی کہانی سناتا ہوں
سن 2000 میں راولپنڈی کے راجہ بازار میں ایک بینک کی برانچ تھی جہاں پانچ لوگ کام کرتے تھے اس بینک کی ٹوٹل سالانہ ریونیو انتہائی کم تھا برانچ اپنے
سالانہ لاکھوں کے خسارے میں تھی
وجہ سرکاری سوچ اور کسٹمر سروس کا دور تو تک نشان نہ تھا
جب بینکوں کی پرائیویٹائزیشن ہوئی تو اس برانچ کے لوگوں کو گولڈن شیک ہینڈ افر کیا گیا پانچ میں سے چار لوگوں نے گولڈن شیک ہینڈ لیا۔اور اپنے تئیں کروڑوں کا فائدہ اٹھایا۔
برانچ میں نئی ہائرنگ ہوئی دس نئے لوگ ائے کسٹمر سروس بہتر کی گئی ایک سال کے اندر برانچ کی امدن چھ گنا بڑھ گئی اور خسارے کی جگہ کروڑوں کا منافع ریکارڈ ہوا۔
جگہ وہی دکان وہی صرف سوچ کی تبدیلی۔
اگر اپ بینکنگ انڈسٹری سے ہیں یا اس طرح کی کسی اور جگہ پر ہیں تو زیادہ کام کرنے سے کوئی گھس نہیں جاتا۔ بندہ پالش ہو جاتا ہے
جس کو اتنا کام کرنے کی عادت ڈل جائے گی۔
وہ کاروبار کرے گا اور زندگی میں کامیاب ہوگا۔
میں نے اپنی زندگی میں اچھے بینکرز کو بہترین کاروبار کرتے ہوئے اور اپنے بہترین ایسٹس بناتے ہوئے دیکھا ہے کیونکہ وہ کام کرنے والے لوگ تھے۔
اور سرکاری سوچ والوں نے دھڑا دھڑ 20 سال پہلے گولڈن شیک ہینڈ لیا اور پانچ سال بعد کلرک کی نوکری ڈھونڈ رہے تھے۔
اگلی نسل کو کام کرنے کی عادت ڈالیں۔
جو اپ کو تنخواہ دے گا وہ ہڈیوں میں سے کام نکلوائے گا۔
یہ اصول ہر کام پر طبقے پر لاگو ہوتا ہے۔۔
ہزاروں محنت کرنے والے لوگوں کو سائیکل سے کروڑپتی بنتے دیکھا ہے۔ اور چھٹی کرنے والے اور چھٹی کا انتظار کرنے والے اکثریت کو اپنی ساری
زندگی کی جمع پونجی لٹاتے دیکھا ہے ۔
سکوپ کسی کیریئر کا نہیں ہوتا اسکوپ اس بندے کا
ہے جو اپنا کیریئر خود بنانے کی کوشش کرتا ہے
اپنے کیریئر اور زندگی کے پہلے دس سال دبا کر رگڑا کھائیں
اور پھر ساری زندگی اس سے رگڑے کا پھل کھائیں۔
Note:
ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا بینک ایزی پیسہ ہے جہاں سب سے زیادہ ٹرانزیکشنز ہوتی ہیں۔
Via Khawaja Mazhar Iqbal
0 Σχόλια
0 Μοιράστηκε
100 Views