ریحان اللہ اور اس کا وژن

اکنا کے ۵۰ ویں کنونشن میں شرکت ہمارے لئے جہاں ہمیشہ ہماری دین کے ساتھ وابستگی میں پختگی اور تجدید عہد میں استقامت کا باعث بنتی ہے وہیں کچھ نیا سیکھنے اور دنیا بھر سے آئے اسکالرز سے ملنے، ان کی باتوں سے اپنی روحانی بیٹری کو چارج کرنے اور بعض ایسے خاص لوگوں سے ملنے کے مواقع بھی ملتے ہیں جو اپنے کسی خاص اور امت مسلمہ کےلئے بے لوث کسی مفید اور ضروری پروجیکٹ پر کام کرتے ہیں۔اس بار ہمیں بھی ایک ایسے شخص سے ملنے کا موقع ملا، جس کا تعارف جماعت اسلامی کراچی کے مدبر میڈیا ایڈوائزر مرحوم شمیم احمد نے نئی ٹیکنالوجی کے ایک چیتے کے طور پر کرایا تھا۔اس کا نام ریحان اللہ والا ہے۔

ریحان اللہ والا دہلی برادری کے ایک خوشحال کاروباری اور دینی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں جن کے علم اور ذہانت کی روشنی سے آج کا نوجوان فیض پارہا ہے۔ان سے ہمارا فون پر رابطہ تو اسی زمانے میں ہو گیا تھا اور وقفے وقفے سے ہوتا رہا اور ہم ان کے کارناموں سے آگاہ بھی ہوتے رہے لیکن ان سے کوشش کے باوجود دو بہ دو ملاقات نہ ہوسکی تھی جو ۳۵ برس کے بعد اس کنونشن میں ہوئی۔ اس کا سہرا ہمارے بیٹے ڈاکٹر جواد عارف کو جاتا ہے جس نے انہیں کنونشن سنٹر میں کسی جگہ پیلی ہوڈی پہنے گھومتے ہوئے دیکھا، پہچان بھی لیا اور ان سے کہا “ آئیے میں آپ کو اپنے ابا سے ملواتا ہوں جو آپ کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔” آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان سے اتنے طویل عرصے بعد بالمشافہ پہلی بار مل کر کتنی خوشی ہوئی ہوگی۔ہم اس وقت اکنا کنونشن کے کنٹرول سنٹر میں اپنے کچھ دوستوں کے جھرمٹ میں تھے اور میر محفل تھے لیکن ریحان نے آتے ہی اپنی دلپذیر شخصیت اور دھیمے لہجے میں اپنے موضوع نئی ٹیکنالوجی پر خوبصورت گفتگو شروع کردی اور ہمارے احباب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی اب وہ وہاں آنے والوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ اسی کو کہتے ہیں۔ وہ آیا، اس نے گفتگو کی اور چھا گیا۔

ریحان سے اسی دن رات کے کھانے پر ۵ گھنٹے ایک ساتھ گزارنے اور مسلمانوں کی حالت زار کے اسباب پر تفصیلی بات چیت کا موقع ملا۔اس موقع پر سوشل میڈیا کے ایک اور بڑے آدمی ذیشان عثمانی بھی موجود تھے جن کا تعارف ریحان نے پاکستان کے آئین اسٹائین کہتے ہوئے کرایا۔ ان دونوں کی بات چیت سے اندازہ ہوا کہ ان دونوں کو امت مسلمہ کے زوال کے بڑے اسباب کا کامل ادراک اور شرح صدر حاصل ہے۔ ریحان سمجھتے ہیں کہ امت مسلمہ کے زوال اور بے توقیری کے اسباب میں اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل نہ کرنے اور مستقبل پر نظر رکھنے والی بے لوث، مدبر اور دنیا کے موجودہ فرعونوں اور ہٹلر وں سے ٹکر لینے والی قیادت کی عدم موجودگی کے علاوہ دو بڑی وجوہ ہر لمحہ ترقی پذیر جدید ٹیکنالوجی سے عدم واقفیت اور وافر مقدار میں پیسے کا نہ ہونا بھی شامل ہیں۔انہوں نے اپنے لئے آخرالذکر دو اسباب کے ازالے کو منتخب کیا اور جدید ٹیکنالوجی اور انٹر نیٹ کی دنیا کی اہمیت کو سمجھا اور گزشتہ ۳۵ سال سے اس میں مہارت اور آگاہی حاصل کرنے میں مسلسل مصروف عمل ہیں اور اس کے ذریعے ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کو سنوارنے اور ان کو لمحہ بہ لمحہ ترقی کرتی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانے کا بڑا کام کررہے ہیں۔ پاکستان میں تین عشروں سے زیادہ جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کےلئے بے لوث کام کرنے والے اس چیف گرو اور فرزند وطن ریحان اللہ والا پر پوری قوم کو اسی طرح فخر کرنا چاہیئے جس طرح انڈیا کے خلاف حالیہ شاندار فتح میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہمارے جیٹ لڑاکا طیاروں کے جانباز پائلٹوں اور ان کی رہنمائی کرنے والے فضائیہ کے سربراہ کو جاتا ہے۔

آپ ہماری تصویر میں پیلے شوخ رنگ کی جس ہوڈی( جیکٹ) کو پہنے دیکھ رہے ہیں وہ ریحان اللہ والے ہی کا دیا ہوا ہدیہ ہے جس پر ان کے اسکول کے بچے کا یہ نعرہ اور دعویٰ لکھا ہے کہ “ My school is making me into next Bill Gates,Steve Jobs & Edison
‏Ask me
“ میرا اسکول ( ریحان ) مجھے مستقبل کا ( مائیکروسافٹ کا)بل گیٹ، (آئی فون کا ) اسٹیو جاب اور ( روشن بلب، فونوگراف اور کیمرہ ایجاد کرنے والا ) ایڈیسن بنائے گا”
اس اسکول نام ریحان اسکول ہے جو قائم تو کراچی میں ہے اور کراچی ہی سے پوری دنیا کے ۹ سال سے اوپر کے ان بچوں کو نئی ٹیکنالوجی کے ماہر بناتا ہے جو اس میں دلچسپی رکھتے اور اس اسکول سے وابستہ ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ یہ اسکول کیا ہے کس طرح کام کرتا اور اپنے طلبہ کو بل گیٹ، اسٹیو جاب اور ایڈیسن بنانے کا عزم رکھتا ہے ؟ وہ آپ اس ۱۲ منٹ کی تعارفی ویڈیو میں دیکھ اور سن سکتے ہیں۔

عارف الحق عارف
۳ جون ۲۰۲۵
جانسن سٹی ( ٹینیس)

Ariful Haque Arif
ریحان اللہ اور اس کا وژن اکنا کے ۵۰ ویں کنونشن میں شرکت ہمارے لئے جہاں ہمیشہ ہماری دین کے ساتھ وابستگی میں پختگی اور تجدید عہد میں استقامت کا باعث بنتی ہے وہیں کچھ نیا سیکھنے اور دنیا بھر سے آئے اسکالرز سے ملنے، ان کی باتوں سے اپنی روحانی بیٹری کو چارج کرنے اور بعض ایسے خاص لوگوں سے ملنے کے مواقع بھی ملتے ہیں جو اپنے کسی خاص اور امت مسلمہ کےلئے بے لوث کسی مفید اور ضروری پروجیکٹ پر کام کرتے ہیں۔اس بار ہمیں بھی ایک ایسے شخص سے ملنے کا موقع ملا، جس کا تعارف جماعت اسلامی کراچی کے مدبر میڈیا ایڈوائزر مرحوم شمیم احمد نے نئی ٹیکنالوجی کے ایک چیتے کے طور پر کرایا تھا۔اس کا نام ریحان اللہ والا ہے۔ ریحان اللہ والا دہلی برادری کے ایک خوشحال کاروباری اور دینی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں جن کے علم اور ذہانت کی روشنی سے آج کا نوجوان فیض پارہا ہے۔ان سے ہمارا فون پر رابطہ تو اسی زمانے میں ہو گیا تھا اور وقفے وقفے سے ہوتا رہا اور ہم ان کے کارناموں سے آگاہ بھی ہوتے رہے لیکن ان سے کوشش کے باوجود دو بہ دو ملاقات نہ ہوسکی تھی جو ۳۵ برس کے بعد اس کنونشن میں ہوئی۔ اس کا سہرا ہمارے بیٹے ڈاکٹر جواد عارف کو جاتا ہے جس نے انہیں کنونشن سنٹر میں کسی جگہ پیلی ہوڈی پہنے گھومتے ہوئے دیکھا، پہچان بھی لیا اور ان سے کہا “ آئیے میں آپ کو اپنے ابا سے ملواتا ہوں جو آپ کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔” آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان سے اتنے طویل عرصے بعد بالمشافہ پہلی بار مل کر کتنی خوشی ہوئی ہوگی۔ہم اس وقت اکنا کنونشن کے کنٹرول سنٹر میں اپنے کچھ دوستوں کے جھرمٹ میں تھے اور میر محفل تھے لیکن ریحان نے آتے ہی اپنی دلپذیر شخصیت اور دھیمے لہجے میں اپنے موضوع نئی ٹیکنالوجی پر خوبصورت گفتگو شروع کردی اور ہمارے احباب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی اب وہ وہاں آنے والوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ اسی کو کہتے ہیں۔ وہ آیا، اس نے گفتگو کی اور چھا گیا۔ ریحان سے اسی دن رات کے کھانے پر ۵ گھنٹے ایک ساتھ گزارنے اور مسلمانوں کی حالت زار کے اسباب پر تفصیلی بات چیت کا موقع ملا۔اس موقع پر سوشل میڈیا کے ایک اور بڑے آدمی ذیشان عثمانی بھی موجود تھے جن کا تعارف ریحان نے پاکستان کے آئین اسٹائین کہتے ہوئے کرایا۔ ان دونوں کی بات چیت سے اندازہ ہوا کہ ان دونوں کو امت مسلمہ کے زوال کے بڑے اسباب کا کامل ادراک اور شرح صدر حاصل ہے۔ ریحان سمجھتے ہیں کہ امت مسلمہ کے زوال اور بے توقیری کے اسباب میں اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل نہ کرنے اور مستقبل پر نظر رکھنے والی بے لوث، مدبر اور دنیا کے موجودہ فرعونوں اور ہٹلر وں سے ٹکر لینے والی قیادت کی عدم موجودگی کے علاوہ دو بڑی وجوہ ہر لمحہ ترقی پذیر جدید ٹیکنالوجی سے عدم واقفیت اور وافر مقدار میں پیسے کا نہ ہونا بھی شامل ہیں۔انہوں نے اپنے لئے آخرالذکر دو اسباب کے ازالے کو منتخب کیا اور جدید ٹیکنالوجی اور انٹر نیٹ کی دنیا کی اہمیت کو سمجھا اور گزشتہ ۳۵ سال سے اس میں مہارت اور آگاہی حاصل کرنے میں مسلسل مصروف عمل ہیں اور اس کے ذریعے ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کو سنوارنے اور ان کو لمحہ بہ لمحہ ترقی کرتی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانے کا بڑا کام کررہے ہیں۔ پاکستان میں تین عشروں سے زیادہ جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کےلئے بے لوث کام کرنے والے اس چیف گرو اور فرزند وطن ریحان اللہ والا پر پوری قوم کو اسی طرح فخر کرنا چاہیئے جس طرح انڈیا کے خلاف حالیہ شاندار فتح میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہمارے جیٹ لڑاکا طیاروں کے جانباز پائلٹوں اور ان کی رہنمائی کرنے والے فضائیہ کے سربراہ کو جاتا ہے۔ آپ ہماری تصویر میں پیلے شوخ رنگ کی جس ہوڈی( جیکٹ) کو پہنے دیکھ رہے ہیں وہ ریحان اللہ والے ہی کا دیا ہوا ہدیہ ہے جس پر ان کے اسکول کے بچے کا یہ نعرہ اور دعویٰ لکھا ہے کہ “ My school is making me into next Bill Gates,Steve Jobs & Edison ‏Ask me “ میرا اسکول ( ریحان ) مجھے مستقبل کا ( مائیکروسافٹ کا)بل گیٹ، (آئی فون کا ) اسٹیو جاب اور ( روشن بلب، فونوگراف اور کیمرہ ایجاد کرنے والا ) ایڈیسن بنائے گا” اس اسکول نام ریحان اسکول ہے جو قائم تو کراچی میں ہے اور کراچی ہی سے پوری دنیا کے ۹ سال سے اوپر کے ان بچوں کو نئی ٹیکنالوجی کے ماہر بناتا ہے جو اس میں دلچسپی رکھتے اور اس اسکول سے وابستہ ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ یہ اسکول کیا ہے کس طرح کام کرتا اور اپنے طلبہ کو بل گیٹ، اسٹیو جاب اور ایڈیسن بنانے کا عزم رکھتا ہے ؟ وہ آپ اس ۱۲ منٹ کی تعارفی ویڈیو میں دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ عارف الحق عارف ۳ جون ۲۰۲۵ جانسن سٹی ( ٹینیس) Ariful Haque Arif
0 التعليقات 0 المشاركات 94 مشاهدة