عنوان:
کیا آپ جانتے ہیں “دقیانوسی” کا مطلب کیا ہے؟
ہم اکثر سنتے ہیں کہ
“یار، یہ تو بڑی دقیانوسی سوچ ہے!”
مگر کبھی سوچا کہ “دقیانوسی” کا مطلب اصل میں کیا ہے؟
اور یہ لفظ آیا کہاں سے؟
چلیے ایک دلچسپ کہانی سنتے ہیں…
بہت زمانے پہلے ایک ظالم بادشاہ ہوا کرتا تھا جس کا نام تھا دقیانوس۔
اس کے دور میں لوگوں کو اپنے دین پر چلنے کی اجازت نہیں تھی۔
چند نوجوان اپنے ایمان کو بچانے کے لیے اس ظالم بادشاہ سے بھاگ کر ایک غار میں چھپ گئے۔
اللہ نے ان پر نیند طاری کر دی…
اور وہ سو گئے…
کتنے دن؟ نہیں… پورے کئی سو سال!
جب وہ جاگے تو دنیا بدل چکی تھی — نہ دقیانوس تھا، نہ ظلم کا دور۔
یہ واقعہ قرآن مجید (سورۃ الکہف) میں بھی بیان ہوا ہے،
اور عیسائی و یہودی روایات میں بھی اسے “Seven Sleepers” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ “دقیانوس” کا نام انتہائی پرانے اور دقیانوسی دور کی علامت بن گیا،
اور “دقیانوسی سوچ” کا مطلب ہو گیا:
ایسی سوچ جو پرانی، فرسودہ اور جدید دور سے کٹی ہوئی ہو۔
آج جب کوئی کہتا ہے:
“عورتوں کو پڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟”
تو آپ کہہ سکتے ہیں:
“بس کرو بھائی، یہ تو بالکل دقیانوسی بات ہے!”
نئی سوچ اپنائیں، پرانی زنجیروں کو توڑیں،
اور چلیں فکرِ نو کی طرف!
کیا آپ جانتے ہیں “دقیانوسی” کا مطلب کیا ہے؟
ہم اکثر سنتے ہیں کہ
“یار، یہ تو بڑی دقیانوسی سوچ ہے!”
مگر کبھی سوچا کہ “دقیانوسی” کا مطلب اصل میں کیا ہے؟
اور یہ لفظ آیا کہاں سے؟
چلیے ایک دلچسپ کہانی سنتے ہیں…
بہت زمانے پہلے ایک ظالم بادشاہ ہوا کرتا تھا جس کا نام تھا دقیانوس۔
اس کے دور میں لوگوں کو اپنے دین پر چلنے کی اجازت نہیں تھی۔
چند نوجوان اپنے ایمان کو بچانے کے لیے اس ظالم بادشاہ سے بھاگ کر ایک غار میں چھپ گئے۔
اللہ نے ان پر نیند طاری کر دی…
اور وہ سو گئے…
کتنے دن؟ نہیں… پورے کئی سو سال!
جب وہ جاگے تو دنیا بدل چکی تھی — نہ دقیانوس تھا، نہ ظلم کا دور۔
یہ واقعہ قرآن مجید (سورۃ الکہف) میں بھی بیان ہوا ہے،
اور عیسائی و یہودی روایات میں بھی اسے “Seven Sleepers” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ “دقیانوس” کا نام انتہائی پرانے اور دقیانوسی دور کی علامت بن گیا،
اور “دقیانوسی سوچ” کا مطلب ہو گیا:
ایسی سوچ جو پرانی، فرسودہ اور جدید دور سے کٹی ہوئی ہو۔
آج جب کوئی کہتا ہے:
“عورتوں کو پڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟”
تو آپ کہہ سکتے ہیں:
“بس کرو بھائی، یہ تو بالکل دقیانوسی بات ہے!”
نئی سوچ اپنائیں، پرانی زنجیروں کو توڑیں،
اور چلیں فکرِ نو کی طرف!
عنوان:
کیا آپ جانتے ہیں “دقیانوسی” کا مطلب کیا ہے؟
ہم اکثر سنتے ہیں کہ
“یار، یہ تو بڑی دقیانوسی سوچ ہے!”
مگر کبھی سوچا کہ “دقیانوسی” کا مطلب اصل میں کیا ہے؟
اور یہ لفظ آیا کہاں سے؟
چلیے ایک دلچسپ کہانی سنتے ہیں…
بہت زمانے پہلے ایک ظالم بادشاہ ہوا کرتا تھا جس کا نام تھا دقیانوس۔
اس کے دور میں لوگوں کو اپنے دین پر چلنے کی اجازت نہیں تھی۔
چند نوجوان اپنے ایمان کو بچانے کے لیے اس ظالم بادشاہ سے بھاگ کر ایک غار میں چھپ گئے۔
اللہ نے ان پر نیند طاری کر دی…
اور وہ سو گئے…
کتنے دن؟ نہیں… پورے کئی سو سال!
جب وہ جاگے تو دنیا بدل چکی تھی — نہ دقیانوس تھا، نہ ظلم کا دور۔
یہ واقعہ قرآن مجید (سورۃ الکہف) میں بھی بیان ہوا ہے،
اور عیسائی و یہودی روایات میں بھی اسے “Seven Sleepers” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ “دقیانوس” کا نام انتہائی پرانے اور دقیانوسی دور کی علامت بن گیا،
اور “دقیانوسی سوچ” کا مطلب ہو گیا:
ایسی سوچ جو پرانی، فرسودہ اور جدید دور سے کٹی ہوئی ہو۔
آج جب کوئی کہتا ہے:
“عورتوں کو پڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟”
تو آپ کہہ سکتے ہیں:
“بس کرو بھائی، یہ تو بالکل دقیانوسی بات ہے!”
نئی سوچ اپنائیں، پرانی زنجیروں کو توڑیں،
اور چلیں فکرِ نو کی طرف!
0 Comments
0 Shares
162 Views