کراچی کے مقیم سفید پوش لوگ بہت کرب کی حالت میں ہیں۔
نہ صرف کھانا یا راشن بلکہ روزگا ر کے مواقع فراہم کئے جاسکتے ہیں۔
کراچی کے مالدار افراد کے پاس دولت اور سخاوت دونوں ہیں۔
جن لوگوں کو کھانا اوپر دئے گئے انداز میں کھلایا جارہا ہے ممکن ہے ان کی اپنے اپنے علاقوں میں زمینیں اور جائدادیں ہوں اور وہ وہاں جا بھی سکتے ہیں۔
کراچی کے مقامی لوگ کہاں جائیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی خیرات ۲۰۱۵ کے اعداد مطابق ڈھائی سو ارب تھی جو کہ اب دگنی ہوگئی ہوگی۔
کراچی کے مخیر حضرات اور خاص کر عقیل کریم ڈھیڈی صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اس معاملہ میں کوئی قدم اٹھائیں اور مندرجہ بالا تنظیموں کا اجلاس بلاکر اس اقدام کی کوشش کریں۔
اگر اس کھانے کے نظام سے کچھ لوگوں کا مفاد وابستہ ہے یا آمدنی کا ذریعہ بنا ہوا ہے تو پھر عمل درآمد مشکل ہے۔
عزت نفس کی حفاظت میں لوگ خودکشی کرلیتے ہیں۔ ان کے ہاتھ پھیلانا قتل کے برابر ہے۔
Via Muhammad Basheer Juma
Ex Md EY
نہ صرف کھانا یا راشن بلکہ روزگا ر کے مواقع فراہم کئے جاسکتے ہیں۔
کراچی کے مالدار افراد کے پاس دولت اور سخاوت دونوں ہیں۔
جن لوگوں کو کھانا اوپر دئے گئے انداز میں کھلایا جارہا ہے ممکن ہے ان کی اپنے اپنے علاقوں میں زمینیں اور جائدادیں ہوں اور وہ وہاں جا بھی سکتے ہیں۔
کراچی کے مقامی لوگ کہاں جائیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی خیرات ۲۰۱۵ کے اعداد مطابق ڈھائی سو ارب تھی جو کہ اب دگنی ہوگئی ہوگی۔
کراچی کے مخیر حضرات اور خاص کر عقیل کریم ڈھیڈی صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اس معاملہ میں کوئی قدم اٹھائیں اور مندرجہ بالا تنظیموں کا اجلاس بلاکر اس اقدام کی کوشش کریں۔
اگر اس کھانے کے نظام سے کچھ لوگوں کا مفاد وابستہ ہے یا آمدنی کا ذریعہ بنا ہوا ہے تو پھر عمل درآمد مشکل ہے۔
عزت نفس کی حفاظت میں لوگ خودکشی کرلیتے ہیں۔ ان کے ہاتھ پھیلانا قتل کے برابر ہے۔
Via Muhammad Basheer Juma
Ex Md EY
کراچی کے مقیم سفید پوش لوگ بہت کرب کی حالت میں ہیں۔
نہ صرف کھانا یا راشن بلکہ روزگا ر کے مواقع فراہم کئے جاسکتے ہیں۔
کراچی کے مالدار افراد کے پاس دولت اور سخاوت دونوں ہیں۔
جن لوگوں کو کھانا اوپر دئے گئے انداز میں کھلایا جارہا ہے ممکن ہے ان کی اپنے اپنے علاقوں میں زمینیں اور جائدادیں ہوں اور وہ وہاں جا بھی سکتے ہیں۔
کراچی کے مقامی لوگ کہاں جائیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی خیرات ۲۰۱۵ کے اعداد مطابق ڈھائی سو ارب تھی جو کہ اب دگنی ہوگئی ہوگی۔
کراچی کے مخیر حضرات اور خاص کر عقیل کریم ڈھیڈی صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اس معاملہ میں کوئی قدم اٹھائیں اور مندرجہ بالا تنظیموں کا اجلاس بلاکر اس اقدام کی کوشش کریں۔
اگر اس کھانے کے نظام سے کچھ لوگوں کا مفاد وابستہ ہے یا آمدنی کا ذریعہ بنا ہوا ہے تو پھر عمل درآمد مشکل ہے۔
عزت نفس کی حفاظت میں لوگ خودکشی کرلیتے ہیں۔ ان کے ہاتھ پھیلانا قتل کے برابر ہے۔
Via Muhammad Basheer Juma
Ex Md EY
0 Commenti
0 condivisioni
18 Views