کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک رات مولانا نصرالدین اپنے گھر کے باہر گلی میں کھمبے کے نیچے بیٹھے ہوئے کچھ تلاش کر رہے تھے۔ ایک شخص وہاں سے گزرتا ہے اور مولانا کو دیکھ کر پوچھتا ہے، "مولانا، آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟"
مولانا نے جواب دیا، "میری چابیاں گم ہو گئی ہیں، میں وہی تلاش کر رہا ہوں۔"
یہ سن کر وہ شخص بھی مدد کرنے کے لیے مولانا کے ساتھ چابیاں تلاش کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد اور لوگ بھی وہاں سے گزرتے ہیں اور انہیں بھی مولانا کی مدد کے لیے چابیاں تلاش کرنے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اب وہاں کافی لوگ جمع ہو چکے ہوتے ہیں اور سب کھمبے کے نیچے چابیاں تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔
کافی دیر گزر جاتی ہے، تقریباً ایک یا دو گھنٹے ہو جاتے ہیں، لیکن چابیاں نہیں ملتیں۔ آخر کار، ان میں سے ایک شخص جو تنگ آ چکا ہوتا ہے، مولانا سے پوچھتا ہے، "مولانا، کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کی چابیاں یہاں گری تھیں؟"
مولانا نصرالدین مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہیں، "نہیں، میری چابیاں تو گھر کے اندر گری تھیں۔"
یہ سن کر وہ شخص حیران ہو کر کہتا ہے، "پھر آپ یہاں باہر کیوں تلاش کر رہے ہیں؟"
مولانا بڑے اطمینان سے جواب دیتے ہیں، "کیونکہ یہاں روشنی ہے اور اندر اندھیرا ہے۔"
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم اکثر اپنے مسائل کو وہاں تلاش کرتے ہیں جہاں ہمیں آسانی ہوتی ہے، نہ کہ وہاں جہاں مسئلہ واقعاً موجود ہوتا ہے۔ مولانا نصرالدین کی یہ کہانی ہماری سوچ کو چیلنج کرتی ہے اور ہمیں اصل مسئلہ تلاش کرنے کی ترغیب دیتی ہے، چاہے وہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔
مولانا نے جواب دیا، "میری چابیاں گم ہو گئی ہیں، میں وہی تلاش کر رہا ہوں۔"
یہ سن کر وہ شخص بھی مدد کرنے کے لیے مولانا کے ساتھ چابیاں تلاش کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد اور لوگ بھی وہاں سے گزرتے ہیں اور انہیں بھی مولانا کی مدد کے لیے چابیاں تلاش کرنے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اب وہاں کافی لوگ جمع ہو چکے ہوتے ہیں اور سب کھمبے کے نیچے چابیاں تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔
کافی دیر گزر جاتی ہے، تقریباً ایک یا دو گھنٹے ہو جاتے ہیں، لیکن چابیاں نہیں ملتیں۔ آخر کار، ان میں سے ایک شخص جو تنگ آ چکا ہوتا ہے، مولانا سے پوچھتا ہے، "مولانا، کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کی چابیاں یہاں گری تھیں؟"
مولانا نصرالدین مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہیں، "نہیں، میری چابیاں تو گھر کے اندر گری تھیں۔"
یہ سن کر وہ شخص حیران ہو کر کہتا ہے، "پھر آپ یہاں باہر کیوں تلاش کر رہے ہیں؟"
مولانا بڑے اطمینان سے جواب دیتے ہیں، "کیونکہ یہاں روشنی ہے اور اندر اندھیرا ہے۔"
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم اکثر اپنے مسائل کو وہاں تلاش کرتے ہیں جہاں ہمیں آسانی ہوتی ہے، نہ کہ وہاں جہاں مسئلہ واقعاً موجود ہوتا ہے۔ مولانا نصرالدین کی یہ کہانی ہماری سوچ کو چیلنج کرتی ہے اور ہمیں اصل مسئلہ تلاش کرنے کی ترغیب دیتی ہے، چاہے وہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک رات مولانا نصرالدین اپنے گھر کے باہر گلی میں کھمبے کے نیچے بیٹھے ہوئے کچھ تلاش کر رہے تھے۔ ایک شخص وہاں سے گزرتا ہے اور مولانا کو دیکھ کر پوچھتا ہے، "مولانا، آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟"
مولانا نے جواب دیا، "میری چابیاں گم ہو گئی ہیں، میں وہی تلاش کر رہا ہوں۔"
یہ سن کر وہ شخص بھی مدد کرنے کے لیے مولانا کے ساتھ چابیاں تلاش کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد اور لوگ بھی وہاں سے گزرتے ہیں اور انہیں بھی مولانا کی مدد کے لیے چابیاں تلاش کرنے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اب وہاں کافی لوگ جمع ہو چکے ہوتے ہیں اور سب کھمبے کے نیچے چابیاں تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔
کافی دیر گزر جاتی ہے، تقریباً ایک یا دو گھنٹے ہو جاتے ہیں، لیکن چابیاں نہیں ملتیں۔ آخر کار، ان میں سے ایک شخص جو تنگ آ چکا ہوتا ہے، مولانا سے پوچھتا ہے، "مولانا، کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کی چابیاں یہاں گری تھیں؟"
مولانا نصرالدین مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہیں، "نہیں، میری چابیاں تو گھر کے اندر گری تھیں۔"
یہ سن کر وہ شخص حیران ہو کر کہتا ہے، "پھر آپ یہاں باہر کیوں تلاش کر رہے ہیں؟"
مولانا بڑے اطمینان سے جواب دیتے ہیں، "کیونکہ یہاں روشنی ہے اور اندر اندھیرا ہے۔"
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم اکثر اپنے مسائل کو وہاں تلاش کرتے ہیں جہاں ہمیں آسانی ہوتی ہے، نہ کہ وہاں جہاں مسئلہ واقعاً موجود ہوتا ہے۔ مولانا نصرالدین کی یہ کہانی ہماری سوچ کو چیلنج کرتی ہے اور ہمیں اصل مسئلہ تلاش کرنے کی ترغیب دیتی ہے، چاہے وہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔
0 Commentaires
0 Parts
25 Vue