**عنوان: چھوٹا سا گوشت کیوں بچایا؟**
ایک دن کی بات ہے، ایک خوشگوار گھر تھا جہاں احمد اور اس کی بیگم عائشہ رہتے تھے۔ عائشہ جب بھی چکن پکاتی تھی، تھوڑا سا گوشت کا ٹکڑا الگ سے سائڈ میں رکھ دیتی تھی۔ احمد کو یہ بات عجیب لگی اور ایک دن اُس نے عائشہ سے پوچھا، "عائشہ! تم ہر بار تھوڑا سا گوشت کیوں سائڈ پر رکھ دیتی ہو؟"
عائشہ نے مسکرا کر کہا، "مجھے پتا نہیں، احمد! یہ تو میں نے اپنی امی سے سیکھا ہے۔ وہ بھی ایسا ہی کرتی تھیں، اس لیے میں بھی ایسا کرتی ہوں۔"
احمد کو تجسس ہوا، اور وہ عائشہ کی امی کے پاس پہنچا۔ وہاں جا کر اُس نے پوچھا، "امی جان، آپ ہر بار چکن پکاتے وقت تھوڑا سا گوشت کیوں سائڈ میں رکھ دیتی ہیں؟"
امی جان نے تھوڑا سوچا اور بولیں، "مجھے بھی صحیح سے یاد نہیں، احمد بیٹا! یہ تو میں نے اپنی امی سے سیکھا تھا۔ وہ بھی ایسا ہی کرتی تھیں۔"
احمد نے مزید سوچا اور پھر عائشہ کی نانی جان کے پاس پہنچا۔ نانی جان بوڑھی اور بہت دانا تھیں۔ احمد نے ادب سے پوچھا، "نانی جان، آپ جب چکن پکاتی تھیں تو تھوڑا سا گوشت سائڈ پر کیوں رکھتی تھیں؟"
نانی جان نے ہنس کر کہا، "بیٹا، وہ زمانہ پرانا تھا اور ہمارے پاس چھوٹی سی ہانڈی تھی۔ اُس میں سارا چکن ایک ساتھ نہیں آتا تھا، اس لیے تھوڑا سا گوشت سائڈ پر رکھنا پڑتا تھا۔ لیکن اب تو ہانڈیا بڑی ہو چکی ہے، اس لیے اس کی ضرورت نہیں۔"
احمد نے نانی جان کی بات سن کر ہنس دیا اور واپس گھر آیا۔ اُس نے عائشہ کو بتایا کہ اب ہمیں گوشت سائڈ پر رکھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہماری ہانڈیا بڑی ہے۔
یہ سن کر عائشہ بھی مسکرا دی اور بولی، "واقعی، ہمیں ہر چیز کے پیچھے وجہ جاننی چاہیے، تاکہ ہم صحیح فیصلے کر سکیں!"
اور یوں احمد اور عائشہ نے سیکھا کہ ہر پرانی روایت کو اپنانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اُس کا مقصد کیا ہے۔
**سبق: ہمیشہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ہم کوئی کام کیوں کر رہے ہیں۔ بعض اوقات پرانی عادتیں بدلنے کا وقت ہوتا ہے!**
ایک دن کی بات ہے، ایک خوشگوار گھر تھا جہاں احمد اور اس کی بیگم عائشہ رہتے تھے۔ عائشہ جب بھی چکن پکاتی تھی، تھوڑا سا گوشت کا ٹکڑا الگ سے سائڈ میں رکھ دیتی تھی۔ احمد کو یہ بات عجیب لگی اور ایک دن اُس نے عائشہ سے پوچھا، "عائشہ! تم ہر بار تھوڑا سا گوشت کیوں سائڈ پر رکھ دیتی ہو؟"
عائشہ نے مسکرا کر کہا، "مجھے پتا نہیں، احمد! یہ تو میں نے اپنی امی سے سیکھا ہے۔ وہ بھی ایسا ہی کرتی تھیں، اس لیے میں بھی ایسا کرتی ہوں۔"
احمد کو تجسس ہوا، اور وہ عائشہ کی امی کے پاس پہنچا۔ وہاں جا کر اُس نے پوچھا، "امی جان، آپ ہر بار چکن پکاتے وقت تھوڑا سا گوشت کیوں سائڈ میں رکھ دیتی ہیں؟"
امی جان نے تھوڑا سوچا اور بولیں، "مجھے بھی صحیح سے یاد نہیں، احمد بیٹا! یہ تو میں نے اپنی امی سے سیکھا تھا۔ وہ بھی ایسا ہی کرتی تھیں۔"
احمد نے مزید سوچا اور پھر عائشہ کی نانی جان کے پاس پہنچا۔ نانی جان بوڑھی اور بہت دانا تھیں۔ احمد نے ادب سے پوچھا، "نانی جان، آپ جب چکن پکاتی تھیں تو تھوڑا سا گوشت سائڈ پر کیوں رکھتی تھیں؟"
نانی جان نے ہنس کر کہا، "بیٹا، وہ زمانہ پرانا تھا اور ہمارے پاس چھوٹی سی ہانڈی تھی۔ اُس میں سارا چکن ایک ساتھ نہیں آتا تھا، اس لیے تھوڑا سا گوشت سائڈ پر رکھنا پڑتا تھا۔ لیکن اب تو ہانڈیا بڑی ہو چکی ہے، اس لیے اس کی ضرورت نہیں۔"
احمد نے نانی جان کی بات سن کر ہنس دیا اور واپس گھر آیا۔ اُس نے عائشہ کو بتایا کہ اب ہمیں گوشت سائڈ پر رکھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہماری ہانڈیا بڑی ہے۔
یہ سن کر عائشہ بھی مسکرا دی اور بولی، "واقعی، ہمیں ہر چیز کے پیچھے وجہ جاننی چاہیے، تاکہ ہم صحیح فیصلے کر سکیں!"
اور یوں احمد اور عائشہ نے سیکھا کہ ہر پرانی روایت کو اپنانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اُس کا مقصد کیا ہے۔
**سبق: ہمیشہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ہم کوئی کام کیوں کر رہے ہیں۔ بعض اوقات پرانی عادتیں بدلنے کا وقت ہوتا ہے!**
**عنوان: چھوٹا سا گوشت کیوں بچایا؟**
ایک دن کی بات ہے، ایک خوشگوار گھر تھا جہاں احمد اور اس کی بیگم عائشہ رہتے تھے۔ عائشہ جب بھی چکن پکاتی تھی، تھوڑا سا گوشت کا ٹکڑا الگ سے سائڈ میں رکھ دیتی تھی۔ احمد کو یہ بات عجیب لگی اور ایک دن اُس نے عائشہ سے پوچھا، "عائشہ! تم ہر بار تھوڑا سا گوشت کیوں سائڈ پر رکھ دیتی ہو؟"
عائشہ نے مسکرا کر کہا، "مجھے پتا نہیں، احمد! یہ تو میں نے اپنی امی سے سیکھا ہے۔ وہ بھی ایسا ہی کرتی تھیں، اس لیے میں بھی ایسا کرتی ہوں۔"
احمد کو تجسس ہوا، اور وہ عائشہ کی امی کے پاس پہنچا۔ وہاں جا کر اُس نے پوچھا، "امی جان، آپ ہر بار چکن پکاتے وقت تھوڑا سا گوشت کیوں سائڈ میں رکھ دیتی ہیں؟"
امی جان نے تھوڑا سوچا اور بولیں، "مجھے بھی صحیح سے یاد نہیں، احمد بیٹا! یہ تو میں نے اپنی امی سے سیکھا تھا۔ وہ بھی ایسا ہی کرتی تھیں۔"
احمد نے مزید سوچا اور پھر عائشہ کی نانی جان کے پاس پہنچا۔ نانی جان بوڑھی اور بہت دانا تھیں۔ احمد نے ادب سے پوچھا، "نانی جان، آپ جب چکن پکاتی تھیں تو تھوڑا سا گوشت سائڈ پر کیوں رکھتی تھیں؟"
نانی جان نے ہنس کر کہا، "بیٹا، وہ زمانہ پرانا تھا اور ہمارے پاس چھوٹی سی ہانڈی تھی۔ اُس میں سارا چکن ایک ساتھ نہیں آتا تھا، اس لیے تھوڑا سا گوشت سائڈ پر رکھنا پڑتا تھا۔ لیکن اب تو ہانڈیا بڑی ہو چکی ہے، اس لیے اس کی ضرورت نہیں۔"
احمد نے نانی جان کی بات سن کر ہنس دیا اور واپس گھر آیا۔ اُس نے عائشہ کو بتایا کہ اب ہمیں گوشت سائڈ پر رکھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہماری ہانڈیا بڑی ہے۔
یہ سن کر عائشہ بھی مسکرا دی اور بولی، "واقعی، ہمیں ہر چیز کے پیچھے وجہ جاننی چاہیے، تاکہ ہم صحیح فیصلے کر سکیں!"
اور یوں احمد اور عائشہ نے سیکھا کہ ہر پرانی روایت کو اپنانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اُس کا مقصد کیا ہے۔
**سبق: ہمیشہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ہم کوئی کام کیوں کر رہے ہیں۔ بعض اوقات پرانی عادتیں بدلنے کا وقت ہوتا ہے!**
0 Commentarii
0 Distribuiri
13 Views