یہ کہانی ایک کمزور نوجوان کی ہے جس کا نام وسیم ہے۔
وسیم جسمانی طور پر کمزور تھا لیکن اس کے ارادے بہت مضبوط تھے وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کے بارے میں سوچتا رہتا تھا اور اسی کوشش میں لگا رہتا تھا۔
وسیم، جو پہلے سے ہی مدرسوں میں تعلیم کے فروغ کے لئے کام کر رہا تھا، اب ایک نئے مشن پر تھا۔ وہ مدرسوں میں علما ٕ کرام و طلبا ٕ کرام کو ٹیکنالوجی کی اہمیت اور استعمال سے آگاہ کرنا چاہتا تھا۔
وسیم کو احساس تھا کہ جدید دنیا میں ٹیکنالوجی کی مہارت حاصل کرنا نہ صرف ضروری ہے بلکہ یہ دینی ادارے کے لوگوں کو نئے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔
وسیم نے اپنے مشن کی شروعات کی اور پہلے قدم کے طور پر ایک چھوٹی ورکشاپ کا انعقاد کیا جہاں اس نے بنیادی کمپیوٹر کی تعلیم اور انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں بتایا۔
اس کا مقصد مدرسہ والوں کو یہ دکھانا تھا کہ کیسے ٹیکنالوجی ان کی زندگی کو آسان بنا سکتی ہے اور انہیں نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔
ورکشاپ کے دوران، وسیم نے مختلف ٹیکنالوجیکل ٹولز اور ایپلیکیشنز کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس نے طلبا ٕ کرام و علما ٕ کرام کو دکھایا کہ کیسے انٹرنیٹ کی مدد سے وہ نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں، آن لائن کورسز کر سکتے ہیں اور دنیا بھر کے لوگوں سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں اور اپنے معاشی حالات کو بہتر کرسکتے ہیں۔
وسیم کی یہ کوششیں رنگ لائیں اور بہت جلد، دینی اداروں نے ٹیکنالوجی کو اپنانا شروع کر دیا۔ وہ نہ صرف اپنی روزمرہ کی زندگی میں ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے تھے بلکہ اس کی مدد سے نئے مواقع تلاش کر رہے تھے۔
وسیم کی یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے جسمانی کمزوری کا اثر ہمارے ارادوں و عزاٸم پر نہیں پڑنا چاہیے ہمارے ارادے مضبوط ہوں اور ہم دوسروں کی مدد کرنے کا سوچیں تو ہم بھی بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں اور علم اور معلومات کا اشتراک کتنا ضروری ہے اور کیسے ایک فرد کی کوششیں پورے سماج کو بدل سکتی ہیں۔
Via Mufti Mohammad Waseem
وسیم جسمانی طور پر کمزور تھا لیکن اس کے ارادے بہت مضبوط تھے وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کے بارے میں سوچتا رہتا تھا اور اسی کوشش میں لگا رہتا تھا۔
وسیم، جو پہلے سے ہی مدرسوں میں تعلیم کے فروغ کے لئے کام کر رہا تھا، اب ایک نئے مشن پر تھا۔ وہ مدرسوں میں علما ٕ کرام و طلبا ٕ کرام کو ٹیکنالوجی کی اہمیت اور استعمال سے آگاہ کرنا چاہتا تھا۔
وسیم کو احساس تھا کہ جدید دنیا میں ٹیکنالوجی کی مہارت حاصل کرنا نہ صرف ضروری ہے بلکہ یہ دینی ادارے کے لوگوں کو نئے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔
وسیم نے اپنے مشن کی شروعات کی اور پہلے قدم کے طور پر ایک چھوٹی ورکشاپ کا انعقاد کیا جہاں اس نے بنیادی کمپیوٹر کی تعلیم اور انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں بتایا۔
اس کا مقصد مدرسہ والوں کو یہ دکھانا تھا کہ کیسے ٹیکنالوجی ان کی زندگی کو آسان بنا سکتی ہے اور انہیں نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔
ورکشاپ کے دوران، وسیم نے مختلف ٹیکنالوجیکل ٹولز اور ایپلیکیشنز کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس نے طلبا ٕ کرام و علما ٕ کرام کو دکھایا کہ کیسے انٹرنیٹ کی مدد سے وہ نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں، آن لائن کورسز کر سکتے ہیں اور دنیا بھر کے لوگوں سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں اور اپنے معاشی حالات کو بہتر کرسکتے ہیں۔
وسیم کی یہ کوششیں رنگ لائیں اور بہت جلد، دینی اداروں نے ٹیکنالوجی کو اپنانا شروع کر دیا۔ وہ نہ صرف اپنی روزمرہ کی زندگی میں ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے تھے بلکہ اس کی مدد سے نئے مواقع تلاش کر رہے تھے۔
وسیم کی یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے جسمانی کمزوری کا اثر ہمارے ارادوں و عزاٸم پر نہیں پڑنا چاہیے ہمارے ارادے مضبوط ہوں اور ہم دوسروں کی مدد کرنے کا سوچیں تو ہم بھی بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں اور علم اور معلومات کا اشتراک کتنا ضروری ہے اور کیسے ایک فرد کی کوششیں پورے سماج کو بدل سکتی ہیں۔
Via Mufti Mohammad Waseem
یہ کہانی ایک کمزور نوجوان کی ہے جس کا نام وسیم ہے۔
وسیم جسمانی طور پر کمزور تھا لیکن اس کے ارادے بہت مضبوط تھے وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کے بارے میں سوچتا رہتا تھا اور اسی کوشش میں لگا رہتا تھا۔
وسیم، جو پہلے سے ہی مدرسوں میں تعلیم کے فروغ کے لئے کام کر رہا تھا، اب ایک نئے مشن پر تھا۔ وہ مدرسوں میں علما ٕ کرام و طلبا ٕ کرام کو ٹیکنالوجی کی اہمیت اور استعمال سے آگاہ کرنا چاہتا تھا۔
وسیم کو احساس تھا کہ جدید دنیا میں ٹیکنالوجی کی مہارت حاصل کرنا نہ صرف ضروری ہے بلکہ یہ دینی ادارے کے لوگوں کو نئے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔
وسیم نے اپنے مشن کی شروعات کی اور پہلے قدم کے طور پر ایک چھوٹی ورکشاپ کا انعقاد کیا جہاں اس نے بنیادی کمپیوٹر کی تعلیم اور انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں بتایا۔
اس کا مقصد مدرسہ والوں کو یہ دکھانا تھا کہ کیسے ٹیکنالوجی ان کی زندگی کو آسان بنا سکتی ہے اور انہیں نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔
ورکشاپ کے دوران، وسیم نے مختلف ٹیکنالوجیکل ٹولز اور ایپلیکیشنز کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس نے طلبا ٕ کرام و علما ٕ کرام کو دکھایا کہ کیسے انٹرنیٹ کی مدد سے وہ نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں، آن لائن کورسز کر سکتے ہیں اور دنیا بھر کے لوگوں سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں اور اپنے معاشی حالات کو بہتر کرسکتے ہیں۔
وسیم کی یہ کوششیں رنگ لائیں اور بہت جلد، دینی اداروں نے ٹیکنالوجی کو اپنانا شروع کر دیا۔ وہ نہ صرف اپنی روزمرہ کی زندگی میں ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے تھے بلکہ اس کی مدد سے نئے مواقع تلاش کر رہے تھے۔
وسیم کی یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے جسمانی کمزوری کا اثر ہمارے ارادوں و عزاٸم پر نہیں پڑنا چاہیے ہمارے ارادے مضبوط ہوں اور ہم دوسروں کی مدد کرنے کا سوچیں تو ہم بھی بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں اور علم اور معلومات کا اشتراک کتنا ضروری ہے اور کیسے ایک فرد کی کوششیں پورے سماج کو بدل سکتی ہیں۔
Via Mufti Mohammad Waseem
0 تبصرے
0 شیئرز
29 ویوز