ایک دن ملا نصر الدین کو ایک شاندار دعوت میں مدعو کیا گیا۔ وہ اپنے معمول کے سادہ لباس میں وہاں پہنچے، لیکن مہمانوں اور میزبان نے انہیں ان کے سادہ لباس کی وجہ سے نظرانداز کر دیا۔ ملا نصر الدین نے اس بات کو بہت غور سے دیکھا اور خاموشی سے وہاں سے نکل گئے۔
کچھ دیر بعد، وہ خوبصورت اور نفیس لباس پہن کر واپس آئے۔ اس بار، ان کا استقبال بڑے احترام سے کیا گیا اور انہیں دعوت میں اعزازی جگہ دی گئی۔ جب کھانے کا وقت آیا، تو ملا نصر الدین نے اپنے کپڑوں کو کھانا کھلانا شروع کر دیا، انہوں نے کہا "کھاؤ، کوٹ! کھاؤ، پگڑی!"
حیران مہمانوں نے جب ان سے پوچھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں، تو ملا نصر الدین نے جواب دیا کہ جب وہ سادہ لباس میں تھے تو ان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا اور جب انہوں نے خوبصورت لباس پہنا تو ان کا احترام کیا گیا، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ احترام ان کا نہیں بلکہ ان کے کپڑوں کا ہے۔ اس لئے وہ اپنے کپڑوں کو کھانا کھلا رہے ہیں۔
یہ سن کر سب مہمانوں کو اپنے رویے پر شرمندگی محسوس ہوئی اور انہوں نے ملا نصر الدین کی دانائی اور حکمت کی قدر کی۔ اس طرح ملا نصر الدین نے ایک بار پھر اپنی حاضر دماغی اور دانشمندی سے سب کو حیران کر دیا۔
کچھ دیر بعد، وہ خوبصورت اور نفیس لباس پہن کر واپس آئے۔ اس بار، ان کا استقبال بڑے احترام سے کیا گیا اور انہیں دعوت میں اعزازی جگہ دی گئی۔ جب کھانے کا وقت آیا، تو ملا نصر الدین نے اپنے کپڑوں کو کھانا کھلانا شروع کر دیا، انہوں نے کہا "کھاؤ، کوٹ! کھاؤ، پگڑی!"
حیران مہمانوں نے جب ان سے پوچھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں، تو ملا نصر الدین نے جواب دیا کہ جب وہ سادہ لباس میں تھے تو ان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا اور جب انہوں نے خوبصورت لباس پہنا تو ان کا احترام کیا گیا، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ احترام ان کا نہیں بلکہ ان کے کپڑوں کا ہے۔ اس لئے وہ اپنے کپڑوں کو کھانا کھلا رہے ہیں۔
یہ سن کر سب مہمانوں کو اپنے رویے پر شرمندگی محسوس ہوئی اور انہوں نے ملا نصر الدین کی دانائی اور حکمت کی قدر کی۔ اس طرح ملا نصر الدین نے ایک بار پھر اپنی حاضر دماغی اور دانشمندی سے سب کو حیران کر دیا۔
ایک دن ملا نصر الدین کو ایک شاندار دعوت میں مدعو کیا گیا۔ وہ اپنے معمول کے سادہ لباس میں وہاں پہنچے، لیکن مہمانوں اور میزبان نے انہیں ان کے سادہ لباس کی وجہ سے نظرانداز کر دیا۔ ملا نصر الدین نے اس بات کو بہت غور سے دیکھا اور خاموشی سے وہاں سے نکل گئے۔
کچھ دیر بعد، وہ خوبصورت اور نفیس لباس پہن کر واپس آئے۔ اس بار، ان کا استقبال بڑے احترام سے کیا گیا اور انہیں دعوت میں اعزازی جگہ دی گئی۔ جب کھانے کا وقت آیا، تو ملا نصر الدین نے اپنے کپڑوں کو کھانا کھلانا شروع کر دیا، انہوں نے کہا "کھاؤ، کوٹ! کھاؤ، پگڑی!"
حیران مہمانوں نے جب ان سے پوچھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں، تو ملا نصر الدین نے جواب دیا کہ جب وہ سادہ لباس میں تھے تو ان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا اور جب انہوں نے خوبصورت لباس پہنا تو ان کا احترام کیا گیا، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ احترام ان کا نہیں بلکہ ان کے کپڑوں کا ہے۔ اس لئے وہ اپنے کپڑوں کو کھانا کھلا رہے ہیں۔
یہ سن کر سب مہمانوں کو اپنے رویے پر شرمندگی محسوس ہوئی اور انہوں نے ملا نصر الدین کی دانائی اور حکمت کی قدر کی۔ اس طرح ملا نصر الدین نے ایک بار پھر اپنی حاضر دماغی اور دانشمندی سے سب کو حیران کر دیا۔
0 Σχόλια
0 Μοιράστηκε
20 Views