پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر نوید سید دنیا کے وہ پہلے سائنسدان ہیں، جو دماغ کے خلیات کو ایک سلیکون چپ کے ساتھ منسلک کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ڈاکٹر نوید سید کی اِس کامیابی پر اُنہیں دنیا بھر کے سائنسدانوں نے داد و تحسین سے نوازا ہے

یہ ایجاد انسانی دماغ کو کمپیوٹر کے ساتھ ضم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ دنیا بھر کے سائنسدان ایک عرصہ دراز سے ایسے افراد کو صحت مند زندگی کی جانب لانے کیلئے برین سلیکون چپ ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جو ذہنی طور پر معذور ہوتے ہیں یا اُنہیں دماغ کا کوئی عارضہ لاحق ہوتا ہے۔

برین سلیکون چپ جیسی ایجاد سے مستقبل میں اِس بات کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں کہ نہ صرف ذہنی طور پر مفلوج افراد عام لوگوں کی طرح زندگی بسر کر سکیں گے بلکہ عام لوگوں کی ذہنی صلاحیت کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔

امریکا میں بھی ایک ایسی ٹیکنالوجی پر کام کیا جا رہا ہے جس کا مقصد امریکی فوجیوں کو کم وقت میں بہتر فیصلہ لینے کی صلاحیت حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے۔

چین بھی بالکل ایسی ہی ایک ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی چپ کو انسانی دماغ میں نصب کیا جائے گا اور انسان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا، مذکورہ ممالک کی برین سلیکون چپ ٹیکنالوجی پر جاری تحقیقات سے ڈاکٹر نوید سید کی ایجاد کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر نوید سید کے مطابق مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی نظر کو بغیر سرجری کے بہتر بنانے اور کھوئی ہوئی یاداشت کو واپس لانے کے لیے بھی استعمال کی جا سکے گی۔

(دانش احمد)

The great Naweed Syed
پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر نوید سید دنیا کے وہ پہلے سائنسدان ہیں، جو دماغ کے خلیات کو ایک سلیکون چپ کے ساتھ منسلک کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر نوید سید کی اِس کامیابی پر اُنہیں دنیا بھر کے سائنسدانوں نے داد و تحسین سے نوازا ہے یہ ایجاد انسانی دماغ کو کمپیوٹر کے ساتھ ضم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ دنیا بھر کے سائنسدان ایک عرصہ دراز سے ایسے افراد کو صحت مند زندگی کی جانب لانے کیلئے برین سلیکون چپ ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جو ذہنی طور پر معذور ہوتے ہیں یا اُنہیں دماغ کا کوئی عارضہ لاحق ہوتا ہے۔ برین سلیکون چپ جیسی ایجاد سے مستقبل میں اِس بات کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں کہ نہ صرف ذہنی طور پر مفلوج افراد عام لوگوں کی طرح زندگی بسر کر سکیں گے بلکہ عام لوگوں کی ذہنی صلاحیت کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔ امریکا میں بھی ایک ایسی ٹیکنالوجی پر کام کیا جا رہا ہے جس کا مقصد امریکی فوجیوں کو کم وقت میں بہتر فیصلہ لینے کی صلاحیت حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے۔ چین بھی بالکل ایسی ہی ایک ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی چپ کو انسانی دماغ میں نصب کیا جائے گا اور انسان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا، مذکورہ ممالک کی برین سلیکون چپ ٹیکنالوجی پر جاری تحقیقات سے ڈاکٹر نوید سید کی ایجاد کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نوید سید کے مطابق مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی نظر کو بغیر سرجری کے بہتر بنانے اور کھوئی ہوئی یاداشت کو واپس لانے کے لیے بھی استعمال کی جا سکے گی۔ (دانش احمد) The great Naweed Syed
0 Yorumlar 0 hisse senetleri 84 Views