Rehan Allahwala ارے ریحان بھائی سولر کی ضرورت ہی نہیں ہے، گاؤں ہے تقریبا ہر گھر میں مویشی ہیں، انسان اور جانوروں کا فضلہ بھی دیہات میں مسئلہ ہے، دیگر حیاتیاتی کچرا ہے مثلا جانوروں کا بچا ۔چارا بھوسہ، گھر کا کچن کا کچرا ۔۔۔یہ سب نعمتیں ہیں۔
ادھے ایکڑ پر بائیو ڈائجیسٹر پلانٹ بمعہ اسٹوریج بن جائے گا۔باقی حصے پر کمپریسر اور جنریٹر لگا دیں، سلینڈر فلنگ کا انتظام کرلیں۔
گیس سے بجلی بھی پیدا کریں اور گیس تو ہے ہی۔ نہ موسم رکاوٹ نہ اندھیرا، نہ بیٹریوں کی محتاجگی۔
24 گھنٹے گیس اور بجلی موجود، مینٹینینس اور رننگ اخراجات سولر سے یقینا بہت کم۔
گیس نکلنے کے بعد بچ جانے فضلہ بھی سونا ہے بہترین کھاد یہ لیکیویڈ اور سولڈ دونوں شکلوں میں استعمال کی جاسکتی ہے محفوظ کرکے بیچی جاسکتی ہے۔
اس سارے پراسس کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی خارج ہوتی ہے اگر اس کو بھی علیحدہ کرکے محفوظ کریں اور بیچیں تو اس کی اپنی مارکیٹ ہے۔
یہ شیخ چلی کا خواب نہیں ہے الحمداللہ اپنے لاہور میں ایک عدد ورکنگ ماڈل 730kva کی بجلی پروڈکشن کے ساتھ ، 8 ہیوی ڈیوٹی فرنس جلتے دیکھے ہیں بھائی۔ گاؤں کی گندگی کا مسلہ بھی ختم اور بجلی گیس بھی وافر مقدار میں۔
Via Jamil Uddin Ahmed
ادھے ایکڑ پر بائیو ڈائجیسٹر پلانٹ بمعہ اسٹوریج بن جائے گا۔باقی حصے پر کمپریسر اور جنریٹر لگا دیں، سلینڈر فلنگ کا انتظام کرلیں۔
گیس سے بجلی بھی پیدا کریں اور گیس تو ہے ہی۔ نہ موسم رکاوٹ نہ اندھیرا، نہ بیٹریوں کی محتاجگی۔
24 گھنٹے گیس اور بجلی موجود، مینٹینینس اور رننگ اخراجات سولر سے یقینا بہت کم۔
گیس نکلنے کے بعد بچ جانے فضلہ بھی سونا ہے بہترین کھاد یہ لیکیویڈ اور سولڈ دونوں شکلوں میں استعمال کی جاسکتی ہے محفوظ کرکے بیچی جاسکتی ہے۔
اس سارے پراسس کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی خارج ہوتی ہے اگر اس کو بھی علیحدہ کرکے محفوظ کریں اور بیچیں تو اس کی اپنی مارکیٹ ہے۔
یہ شیخ چلی کا خواب نہیں ہے الحمداللہ اپنے لاہور میں ایک عدد ورکنگ ماڈل 730kva کی بجلی پروڈکشن کے ساتھ ، 8 ہیوی ڈیوٹی فرنس جلتے دیکھے ہیں بھائی۔ گاؤں کی گندگی کا مسلہ بھی ختم اور بجلی گیس بھی وافر مقدار میں۔
Via Jamil Uddin Ahmed
Rehan Allahwala ارے ریحان بھائی سولر کی ضرورت ہی نہیں ہے، گاؤں ہے تقریبا ہر گھر میں مویشی ہیں، انسان اور جانوروں کا فضلہ بھی دیہات میں مسئلہ ہے، دیگر حیاتیاتی کچرا ہے مثلا جانوروں کا بچا ۔چارا بھوسہ، گھر کا کچن کا کچرا ۔۔۔یہ سب نعمتیں ہیں۔
ادھے ایکڑ پر بائیو ڈائجیسٹر پلانٹ بمعہ اسٹوریج بن جائے گا۔باقی حصے پر کمپریسر اور جنریٹر لگا دیں، سلینڈر فلنگ کا انتظام کرلیں۔
گیس سے بجلی بھی پیدا کریں اور گیس تو ہے ہی۔ نہ موسم رکاوٹ نہ اندھیرا، نہ بیٹریوں کی محتاجگی۔
24 گھنٹے گیس اور بجلی موجود، مینٹینینس اور رننگ اخراجات سولر سے یقینا بہت کم۔
گیس نکلنے کے بعد بچ جانے فضلہ بھی سونا ہے بہترین کھاد یہ لیکیویڈ اور سولڈ دونوں شکلوں میں استعمال کی جاسکتی ہے محفوظ کرکے بیچی جاسکتی ہے۔
اس سارے پراسس کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی خارج ہوتی ہے اگر اس کو بھی علیحدہ کرکے محفوظ کریں اور بیچیں تو اس کی اپنی مارکیٹ ہے۔
یہ شیخ چلی کا خواب نہیں ہے الحمداللہ اپنے لاہور میں ایک عدد ورکنگ ماڈل 730kva کی بجلی پروڈکشن کے ساتھ ، 8 ہیوی ڈیوٹی فرنس جلتے دیکھے ہیں بھائی۔ گاؤں کی گندگی کا مسلہ بھی ختم اور بجلی گیس بھی وافر مقدار میں۔
Via Jamil Uddin Ahmed
0 Reacties
0 aandelen
27 Views