ریحان اللہ والا ایک جادوگر ۔۔۔۔

ریحان اللہ والا سے میرا ڈیجیٹل تعارف غالبا 2015 کے اواخر یا 16 کے اوائل میں ہوا تھا جب میں نے اپنے گلشن معمار میں قائم ادارے مریم ایجوکیشن سسٹم اسکول کا نظام اہتمام سنبھالا تھا۔۔۔۔۔

یہ وہ دور تھا جب میں آئی ٹی کے نام کی صرف abbreviation جانتا تھا اور باوجود کئی کمپیوٹر کورسز کرنے کے کسی ایک کورس سے بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھارہا تھا ۔۔۔۔۔

ریحان اللہ والا کو شروع شروع میں جب سننا شروع یا تو ان کی باتیں کسی پاگل کی بڑ محسوس ہوئیں، لگا کہ کہ یہ بندہ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق ہے غلطی سے ہمارے سیارے پر آگیا ہے اور جو باتیں وہ کررہا ہے وہ عملی باتیں نہیں ہیں جادوئی دنیا میں تو یہ سب ہوسکتا ہے لیکن حقیقی دنیا کے اصول کچھ الگ ہیں۔۔۔۔

مگرچند سال سنتے رہنے کے بعد احساس ہوا کہ ۔۔۔۔ نہیں یار کیا ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ چلو ایک دفعہ آئی ٹی کی دنیا میں اتر کر دیکھ لینا چاہئیے کیا منجن ہے یہ ۔۔۔جہاں زندگی کے 24,25 سال ضائع کردیے ہیں وہاں ایک آدھ سال اور سہی ۔۔۔۔

2016 میں گرافک ڈیزائننگ کا کام سیکھا اور شروع کیا الحمدللہ پہلے ہی سال ہزاروں روپوں کے پراجیکٹس بنالئے، پھر کمپیوٹر ٹائپنگ کے میدان میں اترے وہاں سے بھی ہزاروں روپے بنالئے۔۔۔ پھر کانٹینٹ رائٹنگ شروع کی ۔۔۔ جو کہ تاحال جاری ہے۔۔ جس کے بقیہ پراجیکٹس اب میرے طلباء سنبھالتے ہیں ۔۔

2017 میں ڈیجیٹل اور نیٹ ورک مارکیٹنگ کے میدان میں آیا اور الحمدللہ اس سے بھی ہزاروں روپے بنائے اور اسی کام کے ذریعے سوشل میڈیا پر میری مختصر سی پہچان بنی۔۔۔۔ لیکن چونکہ صرف ایک سال کیلئے ہی سوچا تھا تو اللہ تعالی نے ایک سال کے عرصے میں ہی مجھے اتنا کچھ عطا فرمایا جو گزشتہ 24 سالوں میں حاصل نہیں کرسکا تھا۔۔۔ 2017 میری زندگی کا اہم موڑ واقع ہوا۔۔۔ اور پھر میں نے زندگی بھر کیلئے اسی فیلڈ کا انتخاب کرلیا

2017 سے 2018 میں الحمدللہ میں نے اپنے شعبے یعنی تعلیم کے میدان میں وہ مقام بنایا جو سالوں لگا کر لوگ نہیں بنا پاتے ۔۔۔ اللہ تعالی نے وہ عزت اور مقام عطا فرمایا کہ شاید چند کے علاوہ الحمدللہ کراچی کے ہر بڑے اسلامک اسکول کے مالک، پرنسپل یا ایڈمن مجھے نام سے جانتے ہیں ۔۔ اللہ تعالی نے مختلف تعلیمی بورڈز کا ممبر بننے کا شرف بھی عطا فرمایا اور اسی نیٹ ورکنگ کی بدولت پاکستان بھر میں 1500 سے زائید تعلیمی اداروں کا ورچوئل اور فزیکل وزٹ بھی کروایا۔۔۔۔

اگر میں غلط نہیں ہوں تو کراچی کا پہلا ایجوکیشنل ایونٹس گروپ بھی میں نے قائم کیا جس میں 100 سے زائد تعلیمی اداروں کے سربراہان بنفس نفیس تاحال گزشتہ پانچ سالوں سے شامل ہیں ۔۔۔

2018 میں ریحان اللہ والا سے میری پہلی ملاقات کراچی میں منعقدہ ایک بہت بڑے عالمی ایونٹ میں اس وقت ہوئی جب میں وہاں ایک پراجیکٹ کو ہیڈ کررہا تھا اس وقت میں نے اپنا مذکورہ بالا تعارف کروایا تو خوش ہوکر انہوں نے اپنے آئی فون سے ایک سیلفی کلک کی اور مجھے میسنجر بھی بھیج دی اس کے بعد ملاقاتوں کا یہ سلسلہ چلتا رہا

2021 میں ایک شہر کو ڈیجیٹل لٹریٹ کرنے کے منصوبے میں بھی ریحان اللہ والا کے ساتھ جانے کا موقع ملا پھر 2022 میں وہ خود ہمارے ادارے کے وزٹ پر تشریف لائے جس کے بعد مریم ایجوکیشن سسٹم اسکول کو پاکستان بھر میں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی ۔۔۔

ریحان اللہ والا کے وژن کو سمجھنے میں مجھے 2 سال لگے اور پھر اس کے وژن پر کام کرتے ہوئے وہ سب حاصل کرنے میں جس کا میں صرف خواب ہی دیکھ سکتا تھا اس میں مجھے 4 سال لگے۔۔۔

ایک شخص جس نے مسلسل بغیر ہمت ہارے مجھے موٹیویشن دی اور یہ یقین دلایا کہ میں کرسکتا ہوں ۔۔۔۔ میری ہر کال اور میسج کا سب سے پہلے رپلائی کیا ۔۔۔۔ میری ایک دعوت پر میرے ادارے کے وزٹ پر آئے اور ہماری پوری ٹیم کو ہمت حوصلہ اور موٹیویشن دے کر چلے گئے۔۔۔۔

ایک آدمی کی ہمت لگن، مستقل مزاجی، اپنے کام سے واقفیت، جذبہ، خلوص اور پاگل پن نے میرے جیسے کئی لوگوں کی دنیا آئی ٹی فیلڈ میں بدلی ہیں۔۔۔۔۔

اور الحمدللہ اب میں کئی سو لوگوں کی زندگیاں اسی پیشن اور ڈیڈیکیشن کے ساتھ بدلنے کی کوشش کررہا ہوں ۔۔۔۔۔

مجھے امید ہے ریحان اللہ والا اب ایک شخص نہیں رہا اس نے اپنے جیسے کئی والے اور والیاں بنادیے ہیں جو ہزاروں لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیاں بدل رہے ہیں ۔۔۔۔ وہ ایک جادوگر ہے جس کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے لیکن اس کے پاس مستقل مزاجی ہے، ہمت ہے، جہد مسلسل کی طاقت ہے، گالی سن کر برداشت کرنے کا حوصلہ ہے، طنز سہہ کر پی جانے کا گر جانتا ہے، پتھر کھاکر پھول پیش کرتا ہے، منع کرنے باوجود لگا رہتا ہے، لوگ اس کے راستے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں وہ سب کیلئے راستے بناتا رہتا ہے ۔۔۔۔

Post Credit: Abdur Rahman Khan
ریحان اللہ والا ایک جادوگر ۔۔۔۔ ریحان اللہ والا سے میرا ڈیجیٹل تعارف غالبا 2015 کے اواخر یا 16 کے اوائل میں ہوا تھا جب میں نے اپنے گلشن معمار میں قائم ادارے مریم ایجوکیشن سسٹم اسکول کا نظام اہتمام سنبھالا تھا۔۔۔۔۔ یہ وہ دور تھا جب میں آئی ٹی کے نام کی صرف abbreviation جانتا تھا اور باوجود کئی کمپیوٹر کورسز کرنے کے کسی ایک کورس سے بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھارہا تھا ۔۔۔۔۔ ریحان اللہ والا کو شروع شروع میں جب سننا شروع یا تو ان کی باتیں کسی پاگل کی بڑ محسوس ہوئیں، لگا کہ کہ یہ بندہ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق ہے غلطی سے ہمارے سیارے پر آگیا ہے اور جو باتیں وہ کررہا ہے وہ عملی باتیں نہیں ہیں جادوئی دنیا میں تو یہ سب ہوسکتا ہے لیکن حقیقی دنیا کے اصول کچھ الگ ہیں۔۔۔۔ مگرچند سال سنتے رہنے کے بعد احساس ہوا کہ ۔۔۔۔ نہیں یار کیا ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ چلو ایک دفعہ آئی ٹی کی دنیا میں اتر کر دیکھ لینا چاہئیے کیا منجن ہے یہ ۔۔۔جہاں زندگی کے 24,25 سال ضائع کردیے ہیں وہاں ایک آدھ سال اور سہی ۔۔۔۔ 2016 میں گرافک ڈیزائننگ کا کام سیکھا اور شروع کیا الحمدللہ پہلے ہی سال ہزاروں روپوں کے پراجیکٹس بنالئے، پھر کمپیوٹر ٹائپنگ کے میدان میں اترے وہاں سے بھی ہزاروں روپے بنالئے۔۔۔ پھر کانٹینٹ رائٹنگ شروع کی ۔۔۔ جو کہ تاحال جاری ہے۔۔ جس کے بقیہ پراجیکٹس اب میرے طلباء سنبھالتے ہیں ۔۔ 2017 میں ڈیجیٹل اور نیٹ ورک مارکیٹنگ کے میدان میں آیا اور الحمدللہ اس سے بھی ہزاروں روپے بنائے اور اسی کام کے ذریعے سوشل میڈیا پر میری مختصر سی پہچان بنی۔۔۔۔ لیکن چونکہ صرف ایک سال کیلئے ہی سوچا تھا تو اللہ تعالی نے ایک سال کے عرصے میں ہی مجھے اتنا کچھ عطا فرمایا جو گزشتہ 24 سالوں میں حاصل نہیں کرسکا تھا۔۔۔ 2017 میری زندگی کا اہم موڑ واقع ہوا۔۔۔ اور پھر میں نے زندگی بھر کیلئے اسی فیلڈ کا انتخاب کرلیا 2017 سے 2018 میں الحمدللہ میں نے اپنے شعبے یعنی تعلیم کے میدان میں وہ مقام بنایا جو سالوں لگا کر لوگ نہیں بنا پاتے ۔۔۔ اللہ تعالی نے وہ عزت اور مقام عطا فرمایا کہ شاید چند کے علاوہ الحمدللہ کراچی کے ہر بڑے اسلامک اسکول کے مالک، پرنسپل یا ایڈمن مجھے نام سے جانتے ہیں ۔۔ اللہ تعالی نے مختلف تعلیمی بورڈز کا ممبر بننے کا شرف بھی عطا فرمایا اور اسی نیٹ ورکنگ کی بدولت پاکستان بھر میں 1500 سے زائید تعلیمی اداروں کا ورچوئل اور فزیکل وزٹ بھی کروایا۔۔۔۔ اگر میں غلط نہیں ہوں تو کراچی کا پہلا ایجوکیشنل ایونٹس گروپ بھی میں نے قائم کیا جس میں 100 سے زائد تعلیمی اداروں کے سربراہان بنفس نفیس تاحال گزشتہ پانچ سالوں سے شامل ہیں ۔۔۔ 2018 میں ریحان اللہ والا سے میری پہلی ملاقات کراچی میں منعقدہ ایک بہت بڑے عالمی ایونٹ میں اس وقت ہوئی جب میں وہاں ایک پراجیکٹ کو ہیڈ کررہا تھا اس وقت میں نے اپنا مذکورہ بالا تعارف کروایا تو خوش ہوکر انہوں نے اپنے آئی فون سے ایک سیلفی کلک کی اور مجھے میسنجر بھی بھیج دی اس کے بعد ملاقاتوں کا یہ سلسلہ چلتا رہا 2021 میں ایک شہر کو ڈیجیٹل لٹریٹ کرنے کے منصوبے میں بھی ریحان اللہ والا کے ساتھ جانے کا موقع ملا پھر 2022 میں وہ خود ہمارے ادارے کے وزٹ پر تشریف لائے جس کے بعد مریم ایجوکیشن سسٹم اسکول کو پاکستان بھر میں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی ۔۔۔ ریحان اللہ والا کے وژن کو سمجھنے میں مجھے 2 سال لگے اور پھر اس کے وژن پر کام کرتے ہوئے وہ سب حاصل کرنے میں جس کا میں صرف خواب ہی دیکھ سکتا تھا اس میں مجھے 4 سال لگے۔۔۔ ایک شخص جس نے مسلسل بغیر ہمت ہارے مجھے موٹیویشن دی اور یہ یقین دلایا کہ میں کرسکتا ہوں ۔۔۔۔ میری ہر کال اور میسج کا سب سے پہلے رپلائی کیا ۔۔۔۔ میری ایک دعوت پر میرے ادارے کے وزٹ پر آئے اور ہماری پوری ٹیم کو ہمت حوصلہ اور موٹیویشن دے کر چلے گئے۔۔۔۔ ایک آدمی کی ہمت لگن، مستقل مزاجی، اپنے کام سے واقفیت، جذبہ، خلوص اور پاگل پن نے میرے جیسے کئی لوگوں کی دنیا آئی ٹی فیلڈ میں بدلی ہیں۔۔۔۔۔ اور الحمدللہ اب میں کئی سو لوگوں کی زندگیاں اسی پیشن اور ڈیڈیکیشن کے ساتھ بدلنے کی کوشش کررہا ہوں ۔۔۔۔۔ مجھے امید ہے ریحان اللہ والا اب ایک شخص نہیں رہا اس نے اپنے جیسے کئی والے اور والیاں بنادیے ہیں جو ہزاروں لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیاں بدل رہے ہیں ۔۔۔۔ وہ ایک جادوگر ہے جس کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے لیکن اس کے پاس مستقل مزاجی ہے، ہمت ہے، جہد مسلسل کی طاقت ہے، گالی سن کر برداشت کرنے کا حوصلہ ہے، طنز سہہ کر پی جانے کا گر جانتا ہے، پتھر کھاکر پھول پیش کرتا ہے، منع کرنے باوجود لگا رہتا ہے، لوگ اس کے راستے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں وہ سب کیلئے راستے بناتا رہتا ہے ۔۔۔۔ Post Credit: Abdur Rahman Khan
0 Comentários 0 Compartilhamentos 114 Visualizações