ریحان بھائی بطور قوم یہ ہمارے خاص و عام ، عوام اور اشرفیہ دونوں کا مشغلہ ہے ۔ جو چیز درست نہ ہو سکے اسے بند کر دیا جائے ۔ اللہ کے نیک بندو پھل سستا کرنے کے لئے پھل کی خریداری ترک کرنا کوئی حل نہیں ۔ مجرم کو پکڑنے کے لئے مجرم کی ماں کو پکڑو ۔ برائی کی جڑ تک پہنچنے کے لئے سوچ بچار کریں ، تدبر کریں اور پھر کچھ مستقل مزاجی سے اقدامات کریں ۔ پر اتنا وقت اور بردبار مزاج کہاں ہے اپنے لوگوں کے پاس ۔ پھلوں کے کیس میں منافع خور مافیہ کو پکڑیں ، منڈیوں میں پھلوں کی قیمت manipulate کرنے والے آڑھتی اور کولڈ سٹوریج والے یا انویسٹر حضرات کو مارک کریں ۔ غریب دوکاندار یا ریڑھی والا اس نظام میں سب سے کمزور مجرم ہے ، بائیکاٹ اسی بیچارے کا ہوگا ۔
بسنت پر پتنگ سے انسانی جان کو خطرہ ہے ، اس کا علاج یہ ہے کہ اسے اور اس سے جڑی ساری انڈسٹری کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔ فرانس میں کسی فرد نے کوئی نامناسب حرکت کی ہے ۔۔۔ ساری فرنچ پراڈکٹ کا استعمال بین کردیا جائے ۔ صیہونی سازشوں سے بچنے کے لئے ان کے بنے کولڈ ڈرنک ، شیمپو اور دیگر مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا جائے ۔ امن امان کی صورتحال کو خطرہ ہے ، موٹرسائیکل کی ڈبل سواری کو بند کردیا جائے ۔ فلاں پارٹی کا جلسہ ہے ، کنٹینر لگا کر تمام رستوں کو بند کردیا جائے ۔
بھائی اپنے یہاں سوچ کی فلاسفی کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ قوم کے ہر فرد کی سوچ تخریب پر مبنی ہے ، روکنا ، بند کرنا ، ختم کرنا، بین کرنا ، مٹا دینا ، سر تن سے جدا کے نعرے ، سب اسی کا شاخسانہ ہے ۔ بھائی کبھی غصہ کھا کہ ہماری قوم کچھ تعمیری سرگرمی کیوں نہیں کر جاتی ۔ یہودی کولا کے مقابلے میں اپنی کولا کیوں لانچ نہیں کرسکتے ۔۔۔ کیوں کہ اس کے لئے محنت لگتی ہے ، بائیکاٹ کرنے پر کیا محنت ، کیا ٹیکنیک لگی ۔ بھائی تعمیری حل کب سوچیں گے ہم لوگ۔۔۔
ہمارا ہر جملہ اثبات ، امید اور تعمیر کا مظہر بھی تو ہو سکتا ہے ۔ خیر کے پیامبر سامنے لانے ہوں گے ۔ ہر مسئلے کا مثبت حل سوچنے کو ترویج دینا ہوگی ۔ عارضی حل کی بجائے دیرپا اور مستقل بہتری کی سوچ اپنانی ہوگی ۔ ایڈہاک ازم سے نکلنا ہوگا ۔ بھائی خود سے اچھی چیز بنائیں اور پھر دشمن کی چیز خود ہی مارکیٹ سے آوٹ ہو جائے گی ۔ منڈیوں کے میکانزم کو جدید اور آزادانہ بنائیں، کسان کو ڈائریکٹ کنزیومر تک رسائی کے راستے بنائیں، پھل اور سبزی خود بخود سستے ہو جائیں گے ۔ اندھیرے کو کوسنے سے ، اس کا بائیکاٹ کرنے سے ، اس پر پابندیاں لگانے سے وہ کبھی ختم نہیں ہوا ، حل صرف یہ ہے کہ اجالا کردیں ، شمع جلائیں اپنے حصے کی ، دوسروں کو آمادہ کردیں روشنی کرنے پہ ، اندھیرا اپنی موت خود مر جائے گا ۔
بقول شاعر؛
حاصل_زندگی خرد بھی ہے
حاصل_زندگی جنوں ہی نہیں
آو اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
خیر اندیش
شرجیل اکبر
Sharjeel Akbar
بسنت پر پتنگ سے انسانی جان کو خطرہ ہے ، اس کا علاج یہ ہے کہ اسے اور اس سے جڑی ساری انڈسٹری کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔ فرانس میں کسی فرد نے کوئی نامناسب حرکت کی ہے ۔۔۔ ساری فرنچ پراڈکٹ کا استعمال بین کردیا جائے ۔ صیہونی سازشوں سے بچنے کے لئے ان کے بنے کولڈ ڈرنک ، شیمپو اور دیگر مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا جائے ۔ امن امان کی صورتحال کو خطرہ ہے ، موٹرسائیکل کی ڈبل سواری کو بند کردیا جائے ۔ فلاں پارٹی کا جلسہ ہے ، کنٹینر لگا کر تمام رستوں کو بند کردیا جائے ۔
بھائی اپنے یہاں سوچ کی فلاسفی کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ قوم کے ہر فرد کی سوچ تخریب پر مبنی ہے ، روکنا ، بند کرنا ، ختم کرنا، بین کرنا ، مٹا دینا ، سر تن سے جدا کے نعرے ، سب اسی کا شاخسانہ ہے ۔ بھائی کبھی غصہ کھا کہ ہماری قوم کچھ تعمیری سرگرمی کیوں نہیں کر جاتی ۔ یہودی کولا کے مقابلے میں اپنی کولا کیوں لانچ نہیں کرسکتے ۔۔۔ کیوں کہ اس کے لئے محنت لگتی ہے ، بائیکاٹ کرنے پر کیا محنت ، کیا ٹیکنیک لگی ۔ بھائی تعمیری حل کب سوچیں گے ہم لوگ۔۔۔
ہمارا ہر جملہ اثبات ، امید اور تعمیر کا مظہر بھی تو ہو سکتا ہے ۔ خیر کے پیامبر سامنے لانے ہوں گے ۔ ہر مسئلے کا مثبت حل سوچنے کو ترویج دینا ہوگی ۔ عارضی حل کی بجائے دیرپا اور مستقل بہتری کی سوچ اپنانی ہوگی ۔ ایڈہاک ازم سے نکلنا ہوگا ۔ بھائی خود سے اچھی چیز بنائیں اور پھر دشمن کی چیز خود ہی مارکیٹ سے آوٹ ہو جائے گی ۔ منڈیوں کے میکانزم کو جدید اور آزادانہ بنائیں، کسان کو ڈائریکٹ کنزیومر تک رسائی کے راستے بنائیں، پھل اور سبزی خود بخود سستے ہو جائیں گے ۔ اندھیرے کو کوسنے سے ، اس کا بائیکاٹ کرنے سے ، اس پر پابندیاں لگانے سے وہ کبھی ختم نہیں ہوا ، حل صرف یہ ہے کہ اجالا کردیں ، شمع جلائیں اپنے حصے کی ، دوسروں کو آمادہ کردیں روشنی کرنے پہ ، اندھیرا اپنی موت خود مر جائے گا ۔
بقول شاعر؛
حاصل_زندگی خرد بھی ہے
حاصل_زندگی جنوں ہی نہیں
آو اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
خیر اندیش
شرجیل اکبر
Sharjeel Akbar
ریحان بھائی بطور قوم یہ ہمارے خاص و عام ، عوام اور اشرفیہ دونوں کا مشغلہ ہے ۔ جو چیز درست نہ ہو سکے اسے بند کر دیا جائے ۔ اللہ کے نیک بندو پھل سستا کرنے کے لئے پھل کی خریداری ترک کرنا کوئی حل نہیں ۔ مجرم کو پکڑنے کے لئے مجرم کی ماں کو پکڑو ۔ برائی کی جڑ تک پہنچنے کے لئے سوچ بچار کریں ، تدبر کریں اور پھر کچھ مستقل مزاجی سے اقدامات کریں ۔ پر اتنا وقت اور بردبار مزاج کہاں ہے اپنے لوگوں کے پاس ۔ پھلوں کے کیس میں منافع خور مافیہ کو پکڑیں ، منڈیوں میں پھلوں کی قیمت manipulate کرنے والے آڑھتی اور کولڈ سٹوریج والے یا انویسٹر حضرات کو مارک کریں ۔ غریب دوکاندار یا ریڑھی والا اس نظام میں سب سے کمزور مجرم ہے ، بائیکاٹ اسی بیچارے کا ہوگا ۔
بسنت پر پتنگ سے انسانی جان کو خطرہ ہے ، اس کا علاج یہ ہے کہ اسے اور اس سے جڑی ساری انڈسٹری کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔ فرانس میں کسی فرد نے کوئی نامناسب حرکت کی ہے ۔۔۔ ساری فرنچ پراڈکٹ کا استعمال بین کردیا جائے ۔ صیہونی سازشوں سے بچنے کے لئے ان کے بنے کولڈ ڈرنک ، شیمپو اور دیگر مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا جائے ۔ امن امان کی صورتحال کو خطرہ ہے ، موٹرسائیکل کی ڈبل سواری کو بند کردیا جائے ۔ فلاں پارٹی کا جلسہ ہے ، کنٹینر لگا کر تمام رستوں کو بند کردیا جائے ۔
بھائی اپنے یہاں سوچ کی فلاسفی کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ قوم کے ہر فرد کی سوچ تخریب پر مبنی ہے ، روکنا ، بند کرنا ، ختم کرنا، بین کرنا ، مٹا دینا ، سر تن سے جدا کے نعرے ، سب اسی کا شاخسانہ ہے ۔ بھائی کبھی غصہ کھا کہ ہماری قوم کچھ تعمیری سرگرمی کیوں نہیں کر جاتی ۔ یہودی کولا کے مقابلے میں اپنی کولا کیوں لانچ نہیں کرسکتے ۔۔۔ کیوں کہ اس کے لئے محنت لگتی ہے ، بائیکاٹ کرنے پر کیا محنت ، کیا ٹیکنیک لگی ۔ بھائی تعمیری حل کب سوچیں گے ہم لوگ۔۔۔
ہمارا ہر جملہ اثبات ، امید اور تعمیر کا مظہر بھی تو ہو سکتا ہے ۔ خیر کے پیامبر سامنے لانے ہوں گے ۔ ہر مسئلے کا مثبت حل سوچنے کو ترویج دینا ہوگی ۔ عارضی حل کی بجائے دیرپا اور مستقل بہتری کی سوچ اپنانی ہوگی ۔ ایڈہاک ازم سے نکلنا ہوگا ۔ بھائی خود سے اچھی چیز بنائیں اور پھر دشمن کی چیز خود ہی مارکیٹ سے آوٹ ہو جائے گی ۔ منڈیوں کے میکانزم کو جدید اور آزادانہ بنائیں، کسان کو ڈائریکٹ کنزیومر تک رسائی کے راستے بنائیں، پھل اور سبزی خود بخود سستے ہو جائیں گے ۔ اندھیرے کو کوسنے سے ، اس کا بائیکاٹ کرنے سے ، اس پر پابندیاں لگانے سے وہ کبھی ختم نہیں ہوا ، حل صرف یہ ہے کہ اجالا کردیں ، شمع جلائیں اپنے حصے کی ، دوسروں کو آمادہ کردیں روشنی کرنے پہ ، اندھیرا اپنی موت خود مر جائے گا ۔
بقول شاعر؛
حاصل_زندگی خرد بھی ہے
حاصل_زندگی جنوں ہی نہیں
آو اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
خیر اندیش
شرجیل اکبر
Sharjeel Akbar
0 Комментарии
0 Поделились
20 Просмотры