یہ عدنان اسدر ہیں- سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ان کے خاندان نے ہجرت کی اور کراچی کو مستقر بنایا- دیگر بہت سے لوگوں کی طرح اجڑ کر آئے تھے- فیملی میں دیگر بہاری خاندانوں کی طرح تعلیم کا شوق جنون کی طرح تھا- انٹر انہوں نے ڈی جے کالج سے کیا- ڈاکٹر عبدالباری ان کے لڑکپن کے دوست ہیں-
عدنان نے ایک سال تک UET لاہور میں پڑھا اور پھر انجینئرنگ کی بقیہ تعلیم امریکہ سے حاصل کی- بعد ازاں کراچی لوٹ آئے- ان کی اہلیہ کا تعلق حیدرآباد دکن سے ہے اور وہ پاکستان کی ایک معروف آرکیٹیکٹ ہیں جہوں نے پرل کانٹی نینٹل بھوربن جیسی عمارات ڈیزائن کی ہیں-
عدنان نے اپنے شعبے میں کنسلٹنسی فرم بنائ ( AAA) جو بہت بڑی اور کامیاب کمپنی ہے- یہ ملٹی نیٹ کمپنی کے مالک بھی ہیں اور سرل کمپنی کے چیئرمین بھی- Mywater نامی کمپنی بھی انہیں کی ہے اور آج کل الیکٹریک بائیک بنانے کے منصوبے پر کام کررہے ہیں-
لیکن مجھے ان کے کمرشل کاروبار سے خاص دلچسپی نہیں ہے-
یہ انڈس ہسپتال کے بانی ٹرسٹی ہیں اور فخر سے بتاتے ہیں کہ لوگ ہمیں سالانہ بیس ارب روپے دیتے ہیں جبکہ سندھ حکومت صرف دو ارب روپے دے رہی ہے وہ بھی گزشتہ چند سالوں سے-
نئ عمارت کی تعمیر میں مراد علی شاہ نے معاونت کا وعدہ کیا ہے- اس عمارت کی آرکیٹیکٹ بھی ان کی اہلیہ ہیں جو اس منصوبے پر محض اللہ کی رضا کے لئے کام کررہی ہیں-
عدنان TCF نامی ادارے کے ٹرسٹی بھی ہیں اور نوجوانوں کو ہنر سکھانے کا سب سے بڑا فلاحی ادارہ " ہنر فاونڈیشن" بھی ان کے زرخیز ذہن کا نتیجہ ہے- عدنان اسدر سے مل کر بالکل بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ " پیسے " نے اس شخص کا کچھ بگاڑا ہے- وہ عام سے کپڑے پہنتے ہیں- کوشش کرتے ہیں کہ مادری زبان میں بات کریں اور ایک بات ضرور کہتے ہیں کہ ہم مشرقی پاکستان سے آئے تھے تو مالی طور پر کمزور ہوگئے تھے لیکن تعلیم کی دولت نہ وہاں کوئ چھین سکا نہ یہاں کسی نے رکاوٹ ڈالی- اور ہم جیسے لوگوں کی ترقی تعلیم اور ٹیکنالوجی کے بغیر ممکن نہیں ہے-
وہ خدمت خلق کے میدان میں اعلی معیار اور بڑے وژن کے آدمی ہیں- پاکستان کو ایسے لوگوں کی بہت ضرورت ہے-اچھی خبر یہ ہے کہ ہنر فاونڈیشن کا ایک بہت بڑا کیمپس اورنگی ٹاون میں بن رہا ہے جسے دیکھنے کی دعوت عدنان اور ان کے ٹرسٹیز نے راقم کو بھی دی ہے اور مل کر کام کرنے کی پیشکش کی ہے-
ان شاء اللہ یہ ادارہ اورنگی ٹاون کے نوجوانوں کو ہنرمند بنانے اور باعزت روزگار کے حصول میں بہت اہم کردار ادا کرے گا، ان شاء اللہ
ڈاکٹر فیاض عالم
عدنان نے ایک سال تک UET لاہور میں پڑھا اور پھر انجینئرنگ کی بقیہ تعلیم امریکہ سے حاصل کی- بعد ازاں کراچی لوٹ آئے- ان کی اہلیہ کا تعلق حیدرآباد دکن سے ہے اور وہ پاکستان کی ایک معروف آرکیٹیکٹ ہیں جہوں نے پرل کانٹی نینٹل بھوربن جیسی عمارات ڈیزائن کی ہیں-
عدنان نے اپنے شعبے میں کنسلٹنسی فرم بنائ ( AAA) جو بہت بڑی اور کامیاب کمپنی ہے- یہ ملٹی نیٹ کمپنی کے مالک بھی ہیں اور سرل کمپنی کے چیئرمین بھی- Mywater نامی کمپنی بھی انہیں کی ہے اور آج کل الیکٹریک بائیک بنانے کے منصوبے پر کام کررہے ہیں-
لیکن مجھے ان کے کمرشل کاروبار سے خاص دلچسپی نہیں ہے-
یہ انڈس ہسپتال کے بانی ٹرسٹی ہیں اور فخر سے بتاتے ہیں کہ لوگ ہمیں سالانہ بیس ارب روپے دیتے ہیں جبکہ سندھ حکومت صرف دو ارب روپے دے رہی ہے وہ بھی گزشتہ چند سالوں سے-
نئ عمارت کی تعمیر میں مراد علی شاہ نے معاونت کا وعدہ کیا ہے- اس عمارت کی آرکیٹیکٹ بھی ان کی اہلیہ ہیں جو اس منصوبے پر محض اللہ کی رضا کے لئے کام کررہی ہیں-
عدنان TCF نامی ادارے کے ٹرسٹی بھی ہیں اور نوجوانوں کو ہنر سکھانے کا سب سے بڑا فلاحی ادارہ " ہنر فاونڈیشن" بھی ان کے زرخیز ذہن کا نتیجہ ہے- عدنان اسدر سے مل کر بالکل بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ " پیسے " نے اس شخص کا کچھ بگاڑا ہے- وہ عام سے کپڑے پہنتے ہیں- کوشش کرتے ہیں کہ مادری زبان میں بات کریں اور ایک بات ضرور کہتے ہیں کہ ہم مشرقی پاکستان سے آئے تھے تو مالی طور پر کمزور ہوگئے تھے لیکن تعلیم کی دولت نہ وہاں کوئ چھین سکا نہ یہاں کسی نے رکاوٹ ڈالی- اور ہم جیسے لوگوں کی ترقی تعلیم اور ٹیکنالوجی کے بغیر ممکن نہیں ہے-
وہ خدمت خلق کے میدان میں اعلی معیار اور بڑے وژن کے آدمی ہیں- پاکستان کو ایسے لوگوں کی بہت ضرورت ہے-اچھی خبر یہ ہے کہ ہنر فاونڈیشن کا ایک بہت بڑا کیمپس اورنگی ٹاون میں بن رہا ہے جسے دیکھنے کی دعوت عدنان اور ان کے ٹرسٹیز نے راقم کو بھی دی ہے اور مل کر کام کرنے کی پیشکش کی ہے-
ان شاء اللہ یہ ادارہ اورنگی ٹاون کے نوجوانوں کو ہنرمند بنانے اور باعزت روزگار کے حصول میں بہت اہم کردار ادا کرے گا، ان شاء اللہ
ڈاکٹر فیاض عالم
یہ عدنان اسدر ہیں- سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ان کے خاندان نے ہجرت کی اور کراچی کو مستقر بنایا- دیگر بہت سے لوگوں کی طرح اجڑ کر آئے تھے- فیملی میں دیگر بہاری خاندانوں کی طرح تعلیم کا شوق جنون کی طرح تھا- انٹر انہوں نے ڈی جے کالج سے کیا- ڈاکٹر عبدالباری ان کے لڑکپن کے دوست ہیں-
عدنان نے ایک سال تک UET لاہور میں پڑھا اور پھر انجینئرنگ کی بقیہ تعلیم امریکہ سے حاصل کی- بعد ازاں کراچی لوٹ آئے- ان کی اہلیہ کا تعلق حیدرآباد دکن سے ہے اور وہ پاکستان کی ایک معروف آرکیٹیکٹ ہیں جہوں نے پرل کانٹی نینٹل بھوربن جیسی عمارات ڈیزائن کی ہیں-
عدنان نے اپنے شعبے میں کنسلٹنسی فرم بنائ ( AAA) جو بہت بڑی اور کامیاب کمپنی ہے- یہ ملٹی نیٹ کمپنی کے مالک بھی ہیں اور سرل کمپنی کے چیئرمین بھی- Mywater نامی کمپنی بھی انہیں کی ہے اور آج کل الیکٹریک بائیک بنانے کے منصوبے پر کام کررہے ہیں-
لیکن مجھے ان کے کمرشل کاروبار سے خاص دلچسپی نہیں ہے-
یہ انڈس ہسپتال کے بانی ٹرسٹی ہیں اور فخر سے بتاتے ہیں کہ لوگ ہمیں سالانہ بیس ارب روپے دیتے ہیں جبکہ سندھ حکومت صرف دو ارب روپے دے رہی ہے وہ بھی گزشتہ چند سالوں سے-
نئ عمارت کی تعمیر میں مراد علی شاہ نے معاونت کا وعدہ کیا ہے- اس عمارت کی آرکیٹیکٹ بھی ان کی اہلیہ ہیں جو اس منصوبے پر محض اللہ کی رضا کے لئے کام کررہی ہیں-
عدنان TCF نامی ادارے کے ٹرسٹی بھی ہیں اور نوجوانوں کو ہنر سکھانے کا سب سے بڑا فلاحی ادارہ " ہنر فاونڈیشن" بھی ان کے زرخیز ذہن کا نتیجہ ہے- عدنان اسدر سے مل کر بالکل بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ " پیسے " نے اس شخص کا کچھ بگاڑا ہے- وہ عام سے کپڑے پہنتے ہیں- کوشش کرتے ہیں کہ مادری زبان میں بات کریں اور ایک بات ضرور کہتے ہیں کہ ہم مشرقی پاکستان سے آئے تھے تو مالی طور پر کمزور ہوگئے تھے لیکن تعلیم کی دولت نہ وہاں کوئ چھین سکا نہ یہاں کسی نے رکاوٹ ڈالی- اور ہم جیسے لوگوں کی ترقی تعلیم اور ٹیکنالوجی کے بغیر ممکن نہیں ہے-
وہ خدمت خلق کے میدان میں اعلی معیار اور بڑے وژن کے آدمی ہیں- پاکستان کو ایسے لوگوں کی بہت ضرورت ہے-اچھی خبر یہ ہے کہ ہنر فاونڈیشن کا ایک بہت بڑا کیمپس اورنگی ٹاون میں بن رہا ہے جسے دیکھنے کی دعوت عدنان اور ان کے ٹرسٹیز نے راقم کو بھی دی ہے اور مل کر کام کرنے کی پیشکش کی ہے-
ان شاء اللہ یہ ادارہ اورنگی ٹاون کے نوجوانوں کو ہنرمند بنانے اور باعزت روزگار کے حصول میں بہت اہم کردار ادا کرے گا، ان شاء اللہ
ڈاکٹر فیاض عالم
0 Comentários
0 Compartilhamentos
22 Visualizações