پوری دنیا میں کسی بھی نرسری فارم یا گارڈن سنٹر کے اندر مہمانوں کے لیے کافی شاپ/ ٹک شاپ/ٹی سٹال / گارڈن کیفے / ریسٹورنٹ اور نائٹ سٹے ریزارٹ عمومی طور پر موجود ہوتے ہیں۔ اور پودے کے کسٹمز وہاں آتے ہیں وہ ساتھ میں چائے کافی یا لائٹ ریفریشمنٹ سینڈوچ سنیک وغیرہ اپنی فیملی کے ساتھ وہاں انجوائے کر سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی بزنس میٹنگ ارینج کی جا سکتی ہیں۔
کیونکہ نرسری فارم کے اندر کچھ ایسے یونیک اور خوبصورت کارنرز موجود ہوتے ہیں جو گارڈن تھراپی اور سٹریس مینجمنٹ کے لیے بہت آئیڈیل ثابت ہو سکتے ہیں ۔
اس طرح درختوں کے اندر ایک کپ چائے کافی کے ساتھ بیٹھنا بہت ہی یونیک تجربہ ہو سکتا ہے اور اگر ساتھ بک ریڈنگ کی سہولت ہو تو اس سے بڑی عیاشی کیا ہو سکتی ہے ۔
پاکستان میں ہر شہر میں بے شمار خوبصورت نرسری فارمز موجود ہیں اور ہر گارڈن سنٹر میں بے شمار ایسی جگہیں پڑی ہوتی ہے جو کارامد نہیں ہو پاتی ۔ بعض نرسری فارم تو بہت ہی بہترین لوکیشن پر واقع ہوتے ہیں ۔ اس جگہ کو اگر مناسب طریقے سے کیفے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے بہترین انکم کمائی جا سکتی ہے۔ کیونکہ بہت سے نرسری سے پودے خریدنے کے لیے آنے والے کسٹمرز اس کیفے میں اچھے ماحول میں کچھ وقت گزارنا چاہے گا۔ ایسی طرح کیفے پر آنے والے گاہک جاتے ہوئے کچھ پودے بھی خریدنا چاہے گا۔ لہٰذا گارڈن سنٹرز اور کیفے کا مشترکہ کاروبار ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں ۔
ویسے تو نرسری فارم کے مالک کو خود اس طرح کے کیفے یا ریسٹورنٹ کا آئیڈیا اپنے فارم پر شروع کر دینا چاہیے دوسری صورت میں بے شمار نوجوان جو نیا سٹارٹ اپ لینا چاہ رہے ہیں نرسری مالک خود ایسے نوجوانوں کو ڈھونڈ کر انہیں کیفے بزنس کی پارٹنرشپ کے لیے اگر کر سکتا ہے ۔
نیا سٹارٹ اپ لینے والے نوجوان خود بھی مختلف نرسری فارم یا گارڈن سنٹرز پر جا کر ان کے مالکان کو اس بات پر راضی کر سکتے ہیں ۔ اس میں دونوں میوچل فوائد حاصل کر سکتے ہیں ۔ ایک اور بات خاص طور پر ویمن انٹرپنیورشپ کے لیے گارڈن سنٹرز کے اندر بنائے گئے کیفے بزنس آئیڈیا بہت ہی آئیڈیل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گارڈن سنٹرز یا نرسری فارم کے اندر کا ایریا کافی محفوظ ہوتا ہے ۔
میں اس طرح کے آئیڈیاز پر کافی دوستو کو کنونس کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ لیکن پاکستان میں میرے پچھلے آٹھ دس سال سے کی گئی تبلیغ کے باوجود شائد اکا دکا ہی کسی نرسری کے اندر ایسا کوئی سیٹ اپ بنایا گیا ہو۔
اس گارڈن کیفے بزنس کو متعارف کروانے کے لئے 31 اگست 2018 کو ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان کی طرف سے قادر بخش فارم پر واقع کیفے گرین ہاؤس پر ایک تعارفی ٹریننگ بھی کروائی گئی کہ نرسری فارم یا گارڈن سنٹرز کے اندر کس طرح اس طرح کا آئیڈیا متعارف کروا کر نرسری اونرز بہتر طریقے سے اضافی انکم کما سکتے ھیں ۔
ویسے مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آ سکی کہ ایک طرف ہماری نوجوان نسل بیس پچیس ہزار کی نوکری کے لیے دھکے کھا رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف بڑے آرام سے اپنا اس طرح کے بزنس برینڈز بنا کر ماہانہ چالیس پچاس ہزار روپے کما سکتے ھیں
ویسے یقین جانیے یہ میرا زندگی کا خواب ہے کہ پاکستان میں ہر گارڈن سنٹرز/نرسری فارم کے اندر اس طرح کے کیفے ضرور ہونے چاہیے۔ جس طرح ہر کالج یونیورسٹی کے اندر ایک ٹک شاپ ضرور ہوتی ہیں بالکل اسی طرح یہ تصور بھی نہ ہو کہ کیفے ریسٹورنٹ کے بغیر بھی کوئی گارڈن سنٹر/نرسری فارم بھی ہو سکتا ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے اس سلسلے میں ۔ پلیز اس میں اگر کوئی حرج ہے تو وہ آپ مجھے بتا سکتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔

Via Tariq Tanveer
پوری دنیا میں کسی بھی نرسری فارم یا گارڈن سنٹر کے اندر مہمانوں کے لیے کافی شاپ/ ٹک شاپ/ٹی سٹال / گارڈن کیفے / ریسٹورنٹ اور نائٹ سٹے ریزارٹ عمومی طور پر موجود ہوتے ہیں۔ اور پودے کے کسٹمز وہاں آتے ہیں وہ ساتھ میں چائے کافی یا لائٹ ریفریشمنٹ سینڈوچ سنیک وغیرہ اپنی فیملی کے ساتھ وہاں انجوائے کر سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی بزنس میٹنگ ارینج کی جا سکتی ہیں۔ کیونکہ نرسری فارم کے اندر کچھ ایسے یونیک اور خوبصورت کارنرز موجود ہوتے ہیں جو گارڈن تھراپی اور سٹریس مینجمنٹ کے لیے بہت آئیڈیل ثابت ہو سکتے ہیں ۔ اس طرح درختوں کے اندر ایک کپ چائے کافی کے ساتھ بیٹھنا بہت ہی یونیک تجربہ ہو سکتا ہے اور اگر ساتھ بک ریڈنگ کی سہولت ہو تو اس سے بڑی عیاشی کیا ہو سکتی ہے ۔ پاکستان میں ہر شہر میں بے شمار خوبصورت نرسری فارمز موجود ہیں اور ہر گارڈن سنٹر میں بے شمار ایسی جگہیں پڑی ہوتی ہے جو کارامد نہیں ہو پاتی ۔ بعض نرسری فارم تو بہت ہی بہترین لوکیشن پر واقع ہوتے ہیں ۔ اس جگہ کو اگر مناسب طریقے سے کیفے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے بہترین انکم کمائی جا سکتی ہے۔ کیونکہ بہت سے نرسری سے پودے خریدنے کے لیے آنے والے کسٹمرز اس کیفے میں اچھے ماحول میں کچھ وقت گزارنا چاہے گا۔ ایسی طرح کیفے پر آنے والے گاہک جاتے ہوئے کچھ پودے بھی خریدنا چاہے گا۔ لہٰذا گارڈن سنٹرز اور کیفے کا مشترکہ کاروبار ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں ۔ ویسے تو نرسری فارم کے مالک کو خود اس طرح کے کیفے یا ریسٹورنٹ کا آئیڈیا اپنے فارم پر شروع کر دینا چاہیے دوسری صورت میں بے شمار نوجوان جو نیا سٹارٹ اپ لینا چاہ رہے ہیں نرسری مالک خود ایسے نوجوانوں کو ڈھونڈ کر انہیں کیفے بزنس کی پارٹنرشپ کے لیے اگر کر سکتا ہے ۔ نیا سٹارٹ اپ لینے والے نوجوان خود بھی مختلف نرسری فارم یا گارڈن سنٹرز پر جا کر ان کے مالکان کو اس بات پر راضی کر سکتے ہیں ۔ اس میں دونوں میوچل فوائد حاصل کر سکتے ہیں ۔ ایک اور بات خاص طور پر ویمن انٹرپنیورشپ کے لیے گارڈن سنٹرز کے اندر بنائے گئے کیفے بزنس آئیڈیا بہت ہی آئیڈیل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گارڈن سنٹرز یا نرسری فارم کے اندر کا ایریا کافی محفوظ ہوتا ہے ۔ میں اس طرح کے آئیڈیاز پر کافی دوستو کو کنونس کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ لیکن پاکستان میں میرے پچھلے آٹھ دس سال سے کی گئی تبلیغ کے باوجود شائد اکا دکا ہی کسی نرسری کے اندر ایسا کوئی سیٹ اپ بنایا گیا ہو۔ اس گارڈن کیفے بزنس کو متعارف کروانے کے لئے 31 اگست 2018 کو ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان کی طرف سے قادر بخش فارم پر واقع کیفے گرین ہاؤس پر ایک تعارفی ٹریننگ بھی کروائی گئی کہ نرسری فارم یا گارڈن سنٹرز کے اندر کس طرح اس طرح کا آئیڈیا متعارف کروا کر نرسری اونرز بہتر طریقے سے اضافی انکم کما سکتے ھیں ۔ ویسے مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آ سکی کہ ایک طرف ہماری نوجوان نسل بیس پچیس ہزار کی نوکری کے لیے دھکے کھا رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف بڑے آرام سے اپنا اس طرح کے بزنس برینڈز بنا کر ماہانہ چالیس پچاس ہزار روپے کما سکتے ھیں ویسے یقین جانیے یہ میرا زندگی کا خواب ہے کہ پاکستان میں ہر گارڈن سنٹرز/نرسری فارم کے اندر اس طرح کے کیفے ضرور ہونے چاہیے۔ جس طرح ہر کالج یونیورسٹی کے اندر ایک ٹک شاپ ضرور ہوتی ہیں بالکل اسی طرح یہ تصور بھی نہ ہو کہ کیفے ریسٹورنٹ کے بغیر بھی کوئی گارڈن سنٹر/نرسری فارم بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کی کیا رائے ہے اس سلسلے میں ۔ پلیز اس میں اگر کوئی حرج ہے تو وہ آپ مجھے بتا سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ Via Tariq Tanveer
0 Commentaires 0 Parts 25 Vue