اس انسان سے بچ کر رہیں ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر برف پڑ رہی تھی اور اندر ریحان اللہ والا میری فیس بک سے لاگن ہو کر بچوں کو فیس بک کے فوائد بتا رہا تھا یہ بات 2012 جنوری کی ہے. مری پنجاب ہاوٴس میں ایک Youth Development Center بنایا گیا تھا جہاں مختلف بورڈ کے Toppers بچوں کو تین دن کے تربیتی پروگرام کے لیئے مدعو کیا جاتا تھا اور ان کو پنچاب گورنمنٹ کے سرکاری مہمان کا پروٹوکول دیا جاتا تھا۔ بندہ وہاں ایک assistant کے طور پر بھرتی ہوا تھا پورے ملک سے قابل لوگ آیا کرتے تھے جو بچوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے، ان میں سائنسدان ، سول ملٹری بیوروکریسی ، یونیورسٹی کے مایہ ناز پروفیسرز، سیاستدان اور کامیاب بزنس مین شامل تھے۔
اسی طرح ایک دن Muhammad Saleem Ahmad Ranjhaسلیم رانجھا صاحب جو سول سروس کے بہت ملن ساز افسر تھے ان کے ساتھ ریحان اللہ والا صاحب کی آمد ہوئی میرے باس کو ان سے بات کر کے اندازہ ہوا کہ ان کو بھی بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع دیا جائےلہذا کانفرنس ہال میں چالیس بچے ان کے حوالے کر دیئے گئے۔
ان دنوں مری میں انٹرنیٹ کی حالت بہت پتلی ہوتی تھی پوری بلڈنگ میں انٹرنیٹ کسی ایک PC پر چل جاتا تو چل جاتا باقی جگہ لوگ انٹرنیٹ کو ترستے تھے میں اکثر رات کو اپنا فیس بک کانفرنس ہال کے PC پر login کر لیتا تھا اس روز شاید لاگ آوٹ کرنا بھول گیا، ریحان صاحب کا سیششن میں نے شروع کروایا اور پہلے دو منٹ میں مجھے احساس ہوا یہ میری سوچ سے بڑی فلم ہے اس لیئے میں باہر برف انجوائے کرنے نکل گیا ، کوئی ایک گھنٹے بعد میں واپس ہال میں آیا تو صاحب میری فیس بک لاگن سے بچوں کو فیس بک کے فضائل سکھا رہے تھے ۔۔۔۔بس۔۔۔ یہ وہ گھڑی تھی جب میں اس انسان کو ایک فضول اور mannerless انسان declare کر کے اس سے نفرت پال لی حالانکہ اس کو کیا پتہ کون شاہد کس کا اکاونٹ اس کو لاگن ہوا facebook ملا اور بھائی صاحب شروع ہو گئے۔
وقت گزرتا چلا گیا، میں سرکار چھوڑ کر startup , ecomm وغیرہ کے چکر میں پڑ گیا کئی دفعہ ریحان اللہ والا بزنس کانفرنس، ٹریننگ میں ملاقات ہوئی لیکن میں نے اس انسان کو ایک فلم سے زیادہ اہمیت نہیں دی اور بنا پوچھے میری فیس بک استعمال کی معافی بھی نہیں دی۔
پھر 2018 میں قاسم علی صاحب کی TOT ٹریننگ میں یہ بھائی صاحب مہمان خصوصی مدعو تھے اس دن جو بھی اس نے کہانی سنائی میں سننے کو تیار نہیں تھا چھ سال پرانا حساب باقی تھا۔ یہ matual friend اور لیپ ٹاپ کے لالی پاپ بیچا کرتا تھا، اور ساتھ میں اس نے اپنی تین چار کتابیں سب میں بانٹ دی میں نے بھی لے کر بیگ میں رکھ لیں اور اس کو پکا والا رنگ باز declare کر کے اس کو فیس بک اور یو ٹیوب سے بلاک مار دیا 2018 سے 2022 میں کسی ذاتی وجہ سے شوشل میڈیا سے کنارا کر گیا
زندگی اپنے اتار چڑھاو کے ساتھ جاری رہی اور سال 2022 آیا، ان بھائی صاحب کی فلمیں جاری تھی کوئی پرانا گروپ تھا mentors کا وہاں یہ میری فیس بک پر پھر جلوہ گر ہو گئے، میں نے بلاک کرنے کا ارادہ کیا لیکن پچھلے چار سالوں میں صرف ایک سبق سیکھا تھا کہ جو پسند نہیں اس کو ضرور سنو۔۔۔ لہذا میں نے اس کو بلاک کے بجائے فالو مار دیا۔۔۔ اور پھر شروع ہوتی ہیں اس کی وہ ہی 12 سال پرانی فلمیں ؛ ویڈیو بنا لو، فرینڈ بنا لو میں نے اس کو پھر 30 days snooze مار دیا لیکن جون 2022 میں یہ انسان پھر اپنی نئی فلم Canva لے کر مارکیٹ میں آگیا اس شخص نے پاکستان میں بچے بچے کی نیند حرام کر دی canva سیکھ لو، canva سیکھ لو، canva سیکھ لو، اور یہاں سے میرے دل میں acceptance کی پہلی کرن پھوٹتی ہے کیونکہ میں canva چار سال سے استعمال کر ریا تھا۔۔ میں نے کہا چل رنگ باز تو نے کیا سکھانا ہے canva ...میں سکھاتا ہوں canva استعمال کیسے کرتے ہیں۔ میں نے کینوا ایپ کا مکمل موبائل کورس بنا کر فری لا نچ کر دیا اور صرف تین دفعہ اس بندے کی canva پوسٹ کے comments میں ایک اشتہار لگایا اور پھر۔۔۔۔۔ آٹھ سو لوگ enroll ہو گئے ان تین کمنٹس کی وجہ سے، ان سے روپیہ تو ایک نہیں لیا لیکن ورک فورس بہت بڑی مل گئی
ایک روپیہ خرچے بنا آٹھ سو enrollments مذاق نہیں تھا۔ اسی چکر میں ریحان اللہ والا کی وال پر آنا جانا لگا رہا، میں پچھلے بیس سالوں میں تقریباً آئی ٹی کے ہر شعبے میں ڈبکیاں لگا چکا تھا پتہ سب کچھ تھا لیکن کسی بھی کام لاص سنجیدگی سے نہیں کیا تھا، اب یہ روز کسی شخص کو اپنی وال پر introduce کروا دیتا کبھی اس سے فائیور سیکھ لو، اس سے بلاگنگ، اس سے upwork اس سے اچار بنانا سیکھ لو، اس سے مرغا بنانا۔۔۔ سر میں درد کر دیا اس شخص نے اور اس انسان کی وجی سے میری وال چاہتے نا چاہتے انڈسٹری کے کچھ ایکسپرٹ سے بھرنا شروع ہو گئی، جب فیس بک پر آو کوئی بلاگر ، کوئی یو ٹیوبر، کوئی فری لانسر کوئی ecomm گرو اپنی کہانیاں سنا رہا ہوتا۔۔۔
آج صبح میں نے غور کیا تو اس بندے نے میری زندگی عذاب بنا دی ہے، میں دو اپنے بلاگ شروع کر چکا ہو، Fiver کے آرڈر آنا شروع ہو گئے، کوئی دس یو ٹیوب چینل ( non Pakistani) چل رہے، میری ٹیم دو لوگوں سے 13 لوگوں کی ہو گئی میں physical business بس بند کرنے کے قریب ہوں تاکہ مکمل فوکس آن لائن کام۔کو دیا جائے۔
اس انسان نے میری زندگی میں سے فراغت بلکل ختم کر دی ہے ، یہ شیطان کا دوست ہے اس سے بچ کر رہیں یہ آپ کو آج نہیں تو کل لازمی کسی نا کسی کام دھندے میں پھنسا دے گا۔
Via Shahid Rana. https://www.facebook.com/shahidrsr
باہر برف پڑ رہی تھی اور اندر ریحان اللہ والا میری فیس بک سے لاگن ہو کر بچوں کو فیس بک کے فوائد بتا رہا تھا یہ بات 2012 جنوری کی ہے. مری پنجاب ہاوٴس میں ایک Youth Development Center بنایا گیا تھا جہاں مختلف بورڈ کے Toppers بچوں کو تین دن کے تربیتی پروگرام کے لیئے مدعو کیا جاتا تھا اور ان کو پنچاب گورنمنٹ کے سرکاری مہمان کا پروٹوکول دیا جاتا تھا۔ بندہ وہاں ایک assistant کے طور پر بھرتی ہوا تھا پورے ملک سے قابل لوگ آیا کرتے تھے جو بچوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے، ان میں سائنسدان ، سول ملٹری بیوروکریسی ، یونیورسٹی کے مایہ ناز پروفیسرز، سیاستدان اور کامیاب بزنس مین شامل تھے۔
اسی طرح ایک دن Muhammad Saleem Ahmad Ranjhaسلیم رانجھا صاحب جو سول سروس کے بہت ملن ساز افسر تھے ان کے ساتھ ریحان اللہ والا صاحب کی آمد ہوئی میرے باس کو ان سے بات کر کے اندازہ ہوا کہ ان کو بھی بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع دیا جائےلہذا کانفرنس ہال میں چالیس بچے ان کے حوالے کر دیئے گئے۔
ان دنوں مری میں انٹرنیٹ کی حالت بہت پتلی ہوتی تھی پوری بلڈنگ میں انٹرنیٹ کسی ایک PC پر چل جاتا تو چل جاتا باقی جگہ لوگ انٹرنیٹ کو ترستے تھے میں اکثر رات کو اپنا فیس بک کانفرنس ہال کے PC پر login کر لیتا تھا اس روز شاید لاگ آوٹ کرنا بھول گیا، ریحان صاحب کا سیششن میں نے شروع کروایا اور پہلے دو منٹ میں مجھے احساس ہوا یہ میری سوچ سے بڑی فلم ہے اس لیئے میں باہر برف انجوائے کرنے نکل گیا ، کوئی ایک گھنٹے بعد میں واپس ہال میں آیا تو صاحب میری فیس بک لاگن سے بچوں کو فیس بک کے فضائل سکھا رہے تھے ۔۔۔۔بس۔۔۔ یہ وہ گھڑی تھی جب میں اس انسان کو ایک فضول اور mannerless انسان declare کر کے اس سے نفرت پال لی حالانکہ اس کو کیا پتہ کون شاہد کس کا اکاونٹ اس کو لاگن ہوا facebook ملا اور بھائی صاحب شروع ہو گئے۔
وقت گزرتا چلا گیا، میں سرکار چھوڑ کر startup , ecomm وغیرہ کے چکر میں پڑ گیا کئی دفعہ ریحان اللہ والا بزنس کانفرنس، ٹریننگ میں ملاقات ہوئی لیکن میں نے اس انسان کو ایک فلم سے زیادہ اہمیت نہیں دی اور بنا پوچھے میری فیس بک استعمال کی معافی بھی نہیں دی۔
پھر 2018 میں قاسم علی صاحب کی TOT ٹریننگ میں یہ بھائی صاحب مہمان خصوصی مدعو تھے اس دن جو بھی اس نے کہانی سنائی میں سننے کو تیار نہیں تھا چھ سال پرانا حساب باقی تھا۔ یہ matual friend اور لیپ ٹاپ کے لالی پاپ بیچا کرتا تھا، اور ساتھ میں اس نے اپنی تین چار کتابیں سب میں بانٹ دی میں نے بھی لے کر بیگ میں رکھ لیں اور اس کو پکا والا رنگ باز declare کر کے اس کو فیس بک اور یو ٹیوب سے بلاک مار دیا 2018 سے 2022 میں کسی ذاتی وجہ سے شوشل میڈیا سے کنارا کر گیا
زندگی اپنے اتار چڑھاو کے ساتھ جاری رہی اور سال 2022 آیا، ان بھائی صاحب کی فلمیں جاری تھی کوئی پرانا گروپ تھا mentors کا وہاں یہ میری فیس بک پر پھر جلوہ گر ہو گئے، میں نے بلاک کرنے کا ارادہ کیا لیکن پچھلے چار سالوں میں صرف ایک سبق سیکھا تھا کہ جو پسند نہیں اس کو ضرور سنو۔۔۔ لہذا میں نے اس کو بلاک کے بجائے فالو مار دیا۔۔۔ اور پھر شروع ہوتی ہیں اس کی وہ ہی 12 سال پرانی فلمیں ؛ ویڈیو بنا لو، فرینڈ بنا لو میں نے اس کو پھر 30 days snooze مار دیا لیکن جون 2022 میں یہ انسان پھر اپنی نئی فلم Canva لے کر مارکیٹ میں آگیا اس شخص نے پاکستان میں بچے بچے کی نیند حرام کر دی canva سیکھ لو، canva سیکھ لو، canva سیکھ لو، اور یہاں سے میرے دل میں acceptance کی پہلی کرن پھوٹتی ہے کیونکہ میں canva چار سال سے استعمال کر ریا تھا۔۔ میں نے کہا چل رنگ باز تو نے کیا سکھانا ہے canva ...میں سکھاتا ہوں canva استعمال کیسے کرتے ہیں۔ میں نے کینوا ایپ کا مکمل موبائل کورس بنا کر فری لا نچ کر دیا اور صرف تین دفعہ اس بندے کی canva پوسٹ کے comments میں ایک اشتہار لگایا اور پھر۔۔۔۔۔ آٹھ سو لوگ enroll ہو گئے ان تین کمنٹس کی وجہ سے، ان سے روپیہ تو ایک نہیں لیا لیکن ورک فورس بہت بڑی مل گئی
ایک روپیہ خرچے بنا آٹھ سو enrollments مذاق نہیں تھا۔ اسی چکر میں ریحان اللہ والا کی وال پر آنا جانا لگا رہا، میں پچھلے بیس سالوں میں تقریباً آئی ٹی کے ہر شعبے میں ڈبکیاں لگا چکا تھا پتہ سب کچھ تھا لیکن کسی بھی کام لاص سنجیدگی سے نہیں کیا تھا، اب یہ روز کسی شخص کو اپنی وال پر introduce کروا دیتا کبھی اس سے فائیور سیکھ لو، اس سے بلاگنگ، اس سے upwork اس سے اچار بنانا سیکھ لو، اس سے مرغا بنانا۔۔۔ سر میں درد کر دیا اس شخص نے اور اس انسان کی وجی سے میری وال چاہتے نا چاہتے انڈسٹری کے کچھ ایکسپرٹ سے بھرنا شروع ہو گئی، جب فیس بک پر آو کوئی بلاگر ، کوئی یو ٹیوبر، کوئی فری لانسر کوئی ecomm گرو اپنی کہانیاں سنا رہا ہوتا۔۔۔
آج صبح میں نے غور کیا تو اس بندے نے میری زندگی عذاب بنا دی ہے، میں دو اپنے بلاگ شروع کر چکا ہو، Fiver کے آرڈر آنا شروع ہو گئے، کوئی دس یو ٹیوب چینل ( non Pakistani) چل رہے، میری ٹیم دو لوگوں سے 13 لوگوں کی ہو گئی میں physical business بس بند کرنے کے قریب ہوں تاکہ مکمل فوکس آن لائن کام۔کو دیا جائے۔
اس انسان نے میری زندگی میں سے فراغت بلکل ختم کر دی ہے ، یہ شیطان کا دوست ہے اس سے بچ کر رہیں یہ آپ کو آج نہیں تو کل لازمی کسی نا کسی کام دھندے میں پھنسا دے گا۔
Via Shahid Rana. https://www.facebook.com/shahidrsr
اس انسان سے بچ کر رہیں ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر برف پڑ رہی تھی اور اندر ریحان اللہ والا میری فیس بک سے لاگن ہو کر بچوں کو فیس بک کے فوائد بتا رہا تھا یہ بات 2012 جنوری کی ہے. مری پنجاب ہاوٴس میں ایک Youth Development Center بنایا گیا تھا جہاں مختلف بورڈ کے Toppers بچوں کو تین دن کے تربیتی پروگرام کے لیئے مدعو کیا جاتا تھا اور ان کو پنچاب گورنمنٹ کے سرکاری مہمان کا پروٹوکول دیا جاتا تھا۔ بندہ وہاں ایک assistant کے طور پر بھرتی ہوا تھا پورے ملک سے قابل لوگ آیا کرتے تھے جو بچوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے، ان میں سائنسدان ، سول ملٹری بیوروکریسی ، یونیورسٹی کے مایہ ناز پروفیسرز، سیاستدان اور کامیاب بزنس مین شامل تھے۔
اسی طرح ایک دن Muhammad Saleem Ahmad Ranjhaسلیم رانجھا صاحب جو سول سروس کے بہت ملن ساز افسر تھے ان کے ساتھ ریحان اللہ والا صاحب کی آمد ہوئی میرے باس کو ان سے بات کر کے اندازہ ہوا کہ ان کو بھی بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع دیا جائےلہذا کانفرنس ہال میں چالیس بچے ان کے حوالے کر دیئے گئے۔
ان دنوں مری میں انٹرنیٹ کی حالت بہت پتلی ہوتی تھی پوری بلڈنگ میں انٹرنیٹ کسی ایک PC پر چل جاتا تو چل جاتا باقی جگہ لوگ انٹرنیٹ کو ترستے تھے میں اکثر رات کو اپنا فیس بک کانفرنس ہال کے PC پر login کر لیتا تھا اس روز شاید لاگ آوٹ کرنا بھول گیا، ریحان صاحب کا سیششن میں نے شروع کروایا اور پہلے دو منٹ میں مجھے احساس ہوا یہ میری سوچ سے بڑی فلم ہے اس لیئے میں باہر برف انجوائے کرنے نکل گیا ، کوئی ایک گھنٹے بعد میں واپس ہال میں آیا تو صاحب میری فیس بک لاگن سے بچوں کو فیس بک کے فضائل سکھا رہے تھے ۔۔۔۔بس۔۔۔ یہ وہ گھڑی تھی جب میں اس انسان کو ایک فضول اور mannerless انسان declare کر کے اس سے نفرت پال لی حالانکہ اس کو کیا پتہ کون شاہد کس کا اکاونٹ اس کو لاگن ہوا facebook ملا اور بھائی صاحب شروع ہو گئے۔
وقت گزرتا چلا گیا، میں سرکار چھوڑ کر startup , ecomm وغیرہ کے چکر میں پڑ گیا کئی دفعہ ریحان اللہ والا بزنس کانفرنس، ٹریننگ میں ملاقات ہوئی لیکن میں نے اس انسان کو ایک فلم سے زیادہ اہمیت نہیں دی اور بنا پوچھے میری فیس بک استعمال کی معافی بھی نہیں دی۔
پھر 2018 میں قاسم علی صاحب کی TOT ٹریننگ میں یہ بھائی صاحب مہمان خصوصی مدعو تھے اس دن جو بھی اس نے کہانی سنائی میں سننے کو تیار نہیں تھا چھ سال پرانا حساب باقی تھا۔ یہ matual friend اور لیپ ٹاپ کے لالی پاپ بیچا کرتا تھا، اور ساتھ میں اس نے اپنی تین چار کتابیں سب میں بانٹ دی میں نے بھی لے کر بیگ میں رکھ لیں اور اس کو پکا والا رنگ باز declare کر کے اس کو فیس بک اور یو ٹیوب سے بلاک مار دیا 2018 سے 2022 میں کسی ذاتی وجہ سے شوشل میڈیا سے کنارا کر گیا
زندگی اپنے اتار چڑھاو کے ساتھ جاری رہی اور سال 2022 آیا، ان بھائی صاحب کی فلمیں جاری تھی کوئی پرانا گروپ تھا mentors کا وہاں یہ میری فیس بک پر پھر جلوہ گر ہو گئے، میں نے بلاک کرنے کا ارادہ کیا لیکن پچھلے چار سالوں میں صرف ایک سبق سیکھا تھا کہ جو پسند نہیں اس کو ضرور سنو۔۔۔ لہذا میں نے اس کو بلاک کے بجائے فالو مار دیا۔۔۔ اور پھر شروع ہوتی ہیں اس کی وہ ہی 12 سال پرانی فلمیں ؛ ویڈیو بنا لو، فرینڈ بنا لو میں نے اس کو پھر 30 days snooze مار دیا لیکن جون 2022 میں یہ انسان پھر اپنی نئی فلم Canva لے کر مارکیٹ میں آگیا اس شخص نے پاکستان میں بچے بچے کی نیند حرام کر دی canva سیکھ لو، canva سیکھ لو، canva سیکھ لو، اور یہاں سے میرے دل میں acceptance کی پہلی کرن پھوٹتی ہے کیونکہ میں canva چار سال سے استعمال کر ریا تھا۔۔ میں نے کہا چل رنگ باز تو نے کیا سکھانا ہے canva ...میں سکھاتا ہوں canva استعمال کیسے کرتے ہیں۔ میں نے کینوا ایپ کا مکمل موبائل کورس بنا کر فری لا نچ کر دیا اور صرف تین دفعہ اس بندے کی canva پوسٹ کے comments میں ایک اشتہار لگایا اور پھر۔۔۔۔۔ آٹھ سو لوگ enroll ہو گئے ان تین کمنٹس کی وجہ سے، ان سے روپیہ تو ایک نہیں لیا لیکن ورک فورس بہت بڑی مل گئی
ایک روپیہ خرچے بنا آٹھ سو enrollments مذاق نہیں تھا۔ اسی چکر میں ریحان اللہ والا کی وال پر آنا جانا لگا رہا، میں پچھلے بیس سالوں میں تقریباً آئی ٹی کے ہر شعبے میں ڈبکیاں لگا چکا تھا پتہ سب کچھ تھا لیکن کسی بھی کام لاص سنجیدگی سے نہیں کیا تھا، اب یہ روز کسی شخص کو اپنی وال پر introduce کروا دیتا کبھی اس سے فائیور سیکھ لو، اس سے بلاگنگ، اس سے upwork اس سے اچار بنانا سیکھ لو، اس سے مرغا بنانا۔۔۔ سر میں درد کر دیا اس شخص نے اور اس انسان کی وجی سے میری وال چاہتے نا چاہتے انڈسٹری کے کچھ ایکسپرٹ سے بھرنا شروع ہو گئی، جب فیس بک پر آو کوئی بلاگر ، کوئی یو ٹیوبر، کوئی فری لانسر کوئی ecomm گرو اپنی کہانیاں سنا رہا ہوتا۔۔۔
آج صبح میں نے غور کیا تو اس بندے نے میری زندگی عذاب بنا دی ہے، میں دو اپنے بلاگ شروع کر چکا ہو، Fiver کے آرڈر آنا شروع ہو گئے، کوئی دس یو ٹیوب چینل ( non Pakistani) چل رہے، میری ٹیم دو لوگوں سے 13 لوگوں کی ہو گئی میں physical business بس بند کرنے کے قریب ہوں تاکہ مکمل فوکس آن لائن کام۔کو دیا جائے۔
اس انسان نے میری زندگی میں سے فراغت بلکل ختم کر دی ہے ، یہ شیطان کا دوست ہے اس سے بچ کر رہیں یہ آپ کو آج نہیں تو کل لازمی کسی نا کسی کام دھندے میں پھنسا دے گا۔
Via Shahid Rana. https://www.facebook.com/shahidrsr
0 Comments
0 Shares
1 Views