فری لانسرز کے لئے خوش خبری
کیا آپ نے ڈیجیٹل خانہ بدوشوں کا سنا ہے؟ نہیں سنا؟ تو آج سن لیں گے ۔ دراصل کچھ لوگ بے چارے ہماری طرح مصائب کے ستائے ہوئے ہوتے ہیں ۔ نہ بجلی نہ پانی اوپر سے انٹرنیٹ اتنا گھٹیا ۔ لیکن کام ان کا سارا آن لائن ۔ تو وہ ایسی جگہ چاہتے ہیں جہاں انہیں یہ ساری سہولتیں بلا رکاوٹ دستیاب ہوں ۔ اپنے ملک نہ سہی تو کہیں اور سہی ۔ وہ پھر بوریا بستر باندھ کر کسی ایسے ملک کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں انہیں کم سے کم خرچے پر آرام سکون سے یہ سب سہولتیں میسر آ جائیں انہیں کہتے ہیں ڈیجیٹل خانہ بدوش ۔ جی ہاں ہمارے پہاڑی خانہ بدوشوں کے برعکس ان کے پاس کوئی بکریاں ، بھیڑیں نہیں بس ایک لیپ ٹاپ ہوتا ہے جو اٹھایا اور نکل گئے ۔۔۔
دوسری طرف کچھ ملک بھی بڑے سیانے ہیں ۔ انہی پتہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل سکلز والے لوگ کام کے ہیں کافی ڈالر شالر کماتے ہیں تو باالخصوص کرونا کے بعد کچھ ملکوں نے ایسے ڈیجیٹل خانہ بدوشوں کو سہولتیں فراہم کرنا شروع کر دی ہیں اور اب یورپ ، امریکہ اور ایشیا کہ 40 کے قریب ملک اس کوشش میں ہیں کہ بس زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل خانہ بدوش ان کے ملک آ جائیں ۔
مثال کے طور پر اگر آپ آن لائن ورکر ہیں تو دبئی میں لمبی مدت کا ویزہ لے سکتے ہیں ایک عارضی شناختی کارڈ اور بینک اکائونٹ سمیت ساری شہری سہولیات سے مستفید ہو سکتے ہیں اور اور اوپر سے آپ کو ٹیکس بھی کوئی نہیں دینا ۔۔۔
مزے کی بات ہے کہ وہاں بجلی بھی نہیں جاتی۔ بینکوں میں سروس کا معیار بھی بہترین ہے۔ اور انٹرنیٹ کی سپیڈ تو کیا کہنے ۔ مزہ آ جائے گا ۔۔
ہمارے ملک کی بدقسمتی لیکن فری لانس ورک کرنے والوں کے لئے خوشی کی خبر ہے ۔ اس موقع سے بھرپور فائد ہ اٹھائیں ۔ مزید تفصیلات کچھ وقت بعد ایک ویڈیو میں

Via Kamran Amin
فری لانسرز کے لئے خوش خبری کیا آپ نے ڈیجیٹل خانہ بدوشوں کا سنا ہے؟ نہیں سنا؟ تو آج سن لیں گے ۔ دراصل کچھ لوگ بے چارے ہماری طرح مصائب کے ستائے ہوئے ہوتے ہیں ۔ نہ بجلی نہ پانی اوپر سے انٹرنیٹ اتنا گھٹیا ۔ لیکن کام ان کا سارا آن لائن ۔ تو وہ ایسی جگہ چاہتے ہیں جہاں انہیں یہ ساری سہولتیں بلا رکاوٹ دستیاب ہوں ۔ اپنے ملک نہ سہی تو کہیں اور سہی ۔ وہ پھر بوریا بستر باندھ کر کسی ایسے ملک کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں انہیں کم سے کم خرچے پر آرام سکون سے یہ سب سہولتیں میسر آ جائیں انہیں کہتے ہیں ڈیجیٹل خانہ بدوش ۔ جی ہاں ہمارے پہاڑی خانہ بدوشوں کے برعکس ان کے پاس کوئی بکریاں ، بھیڑیں نہیں بس ایک لیپ ٹاپ ہوتا ہے جو اٹھایا اور نکل گئے ۔۔۔ دوسری طرف کچھ ملک بھی بڑے سیانے ہیں ۔ انہی پتہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل سکلز والے لوگ کام کے ہیں کافی ڈالر شالر کماتے ہیں تو باالخصوص کرونا کے بعد کچھ ملکوں نے ایسے ڈیجیٹل خانہ بدوشوں کو سہولتیں فراہم کرنا شروع کر دی ہیں اور اب یورپ ، امریکہ اور ایشیا کہ 40 کے قریب ملک اس کوشش میں ہیں کہ بس زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل خانہ بدوش ان کے ملک آ جائیں ۔ مثال کے طور پر اگر آپ آن لائن ورکر ہیں تو دبئی میں لمبی مدت کا ویزہ لے سکتے ہیں ایک عارضی شناختی کارڈ اور بینک اکائونٹ سمیت ساری شہری سہولیات سے مستفید ہو سکتے ہیں اور اور اوپر سے آپ کو ٹیکس بھی کوئی نہیں دینا ۔۔۔ مزے کی بات ہے کہ وہاں بجلی بھی نہیں جاتی۔ بینکوں میں سروس کا معیار بھی بہترین ہے۔ اور انٹرنیٹ کی سپیڈ تو کیا کہنے ۔ مزہ آ جائے گا ۔۔ ہمارے ملک کی بدقسمتی لیکن فری لانس ورک کرنے والوں کے لئے خوشی کی خبر ہے ۔ اس موقع سے بھرپور فائد ہ اٹھائیں ۔ مزید تفصیلات کچھ وقت بعد ایک ویڈیو میں Via Kamran Amin
0 Comentários 0 Compartilhamentos 22 Visualizações