Inbox from Mohammad Zahoor Mughal
Sharing with his permission ! Breaks my heart and keeps me wanting to do what I do !

اسلام علیکم بھائی صاحب
میرا نام محمد ظہور ہے میں ایبٹ آباد پاکستان کا رہنے والا ہوں
میری پرائمری تعلیم ھے 31 پلس میری ایج ھے میں اپنے والدین کی پہلی الاد ہوں ہم ساتھ بہین بھائی ہیں میرے علاوہ میرا ایک سب سے چھوٹا بھائی ہے جو ابھی چھٹی کلاس کا سٹوڈنٹ ہے اور میری 5 بہینیں ہیں چھوٹے بھائی کے علاوہ ہم سب کی شادی ہو چکی ھے مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن میرے والد ایک مزدور ہیں اور وہ میری تعلیم کے دوران بیمار رہتے تھے جب میں چوتھی کلاس میں تھا تو ان کی صحت بہت خراب تھی وہ کام پر نہیں جا پاتے تھے اور ہمارے پاس ایک وقت کے لئے کھانا ہوتا تو دوسرے وقت کے لئے نہیں ہوتا کبھی کبار تو ہمیں دو دو دن کے فاکے کرنے پڑتے اس وقت مجھ سے اپنی چھوٹی بہینوں حالت دیکھی نہ گئی اور والدہ کے مشورے سے مجھے ناچاہتے ہوئے بھی سکول چھوڑنا پڑا اور میں مزدوری کرنے لگا خیر اسی طرح سال گزر گیا جب پانچوی کلاس کے امتیان کا وقت ہوا تو میرے سکول کے استاد نے کہا تمارہ سکول سے نام خارج نہیں کیا اگر تم چاؤ تو امتیان دے سکتے ہو میں نے کہا میرے پاس سکول کے کپڑے تک نہیں ہیں اور نہ ہی میں نے کچھ پڑھا میں کیسے امتیان دے سکتا ہوں خیر استاد نے کہا مجھے یقین ھے تم پاس ہو جاؤ گے رہی بات کپڑوں کی کوئی بھی کالے کپڑے پہین کے آ جانا میں نے کہا ٹھیک میں کل آ جاؤں گا میں نے یہ ساری باتے گھر آ کر بتائی میری والدہ نے کہا ٹھیک اگر تم جانا چاہتے ہو جاؤ امتیان دے دو لیکن مسلہ تب بنا جب داخلہ فیس کے لئے ہمارے پاس 30 روپے نہیں تھے جو استاد جی نے مانگے تھے ہم سب پرشان ہو گے اب کیا ہو گا تب میری والدہ اور میں میرے تائے کے گھر گے اور وہاں ان سے 30 روپے ادھار لئے اور امتیان دے دیا خیر مختصر یہ کے میں پاس ھو گیا اور پھر سے گاؤں میں مزدوری کرنے لگا کچھ وقت گزرنے کے بعد ہمارے گاؤں کا ایک دھوبھی ٹھیکدار ہے جس کا آرمی میں کپڑے دھونے اور استری کرنے کا ٹھیکہ تھا میں اس کے ساتھ چلا گیا اور لگ بگ 10 سے 12 سال میں نے دھوبھی کا کام کیا مختلف جگو پر جس میں سے 4 سال میں نے پی سی ہوٹل میں بھی ایزے لانڈری مین کام کیا ھے اس کے بعد مجھے موقعہ ملا میں سعودی عرب چلا گیا ایک کیٹرنگ کمپنی میں ایزے لانڈری مین لیکن بدقسمتی سے میں 18 ماہ بعد گھر آیا چھٹی ایا تو کرونا کا شور شروع ھو گیا اور میں واپس نہیں جا سکا وہاں سے میں نے جو پیسے کمائے تھے ان سے میں نے یہاں گاؤں میں گھر بنا لیا اور اب میں پھر سے گاؤں میں مزدوری کرتا ہوں ایک چھوٹی کرش مشین کے ساتھ
میں شادی شدہ ہوں میرے دو بیٹے ہیں ایک 3سری کلاس میں ہے اور دوسرا ابھی 5سال کا ہوا ہے اسے بھی اب داخل کروانا ہے اور ایک چھوٹا بھائی ہے جو چھٹی جماعت میں پڑھتا ھے میں چاہتا ہوں کے میرا تو جیسے تیسے وقت گزر گیا لیکن میں اتنے پیسے کما لوں کے میں اپنے بچوں چھوٹے بھائی کو اچھی تعلیم دلوا سکوں اس لئے میری کوشش ہے کہ میں کسی بائر ملک میں جا کے یا کسی اور طریقے سے اچھے پیسے کما لوں معذرت کے میں نے آپ کا بہت ٹائم لیا اینڈ بہت شکریہ آپ نے مجھے وقت دیا
بھائی اگر ہو سکے تو مجھے بائر کسی ملک میں اچھی سیلری پر جاب دلوا دو بہت شکریہ
Inbox from Mohammad Zahoor Mughal Sharing with his permission ! Breaks my heart ♥️ and keeps me wanting to do what I do ! اسلام علیکم بھائی صاحب میرا نام محمد ظہور ہے میں ایبٹ آباد پاکستان کا رہنے والا ہوں میری پرائمری تعلیم ھے 31 پلس میری ایج ھے میں اپنے والدین کی پہلی الاد ہوں ہم ساتھ بہین بھائی ہیں میرے علاوہ میرا ایک سب سے چھوٹا بھائی ہے جو ابھی چھٹی کلاس کا سٹوڈنٹ ہے اور میری 5 بہینیں ہیں چھوٹے بھائی کے علاوہ ہم سب کی شادی ہو چکی ھے مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن میرے والد ایک مزدور ہیں اور وہ میری تعلیم کے دوران بیمار رہتے تھے جب میں چوتھی کلاس میں تھا تو ان کی صحت بہت خراب تھی وہ کام پر نہیں جا پاتے تھے اور ہمارے پاس ایک وقت کے لئے کھانا ہوتا تو دوسرے وقت کے لئے نہیں ہوتا کبھی کبار تو ہمیں دو دو دن کے فاکے کرنے پڑتے اس وقت مجھ سے اپنی چھوٹی بہینوں حالت دیکھی نہ گئی اور والدہ کے مشورے سے مجھے ناچاہتے ہوئے بھی سکول چھوڑنا پڑا اور میں مزدوری کرنے لگا خیر اسی طرح سال گزر گیا جب پانچوی کلاس کے امتیان کا وقت ہوا تو میرے سکول کے استاد نے کہا تمارہ سکول سے نام خارج نہیں کیا اگر تم چاؤ تو امتیان دے سکتے ہو میں نے کہا میرے پاس سکول کے کپڑے تک نہیں ہیں اور نہ ہی میں نے کچھ پڑھا میں کیسے امتیان دے سکتا ہوں خیر استاد نے کہا مجھے یقین ھے تم پاس ہو جاؤ گے رہی بات کپڑوں کی کوئی بھی کالے کپڑے پہین کے آ جانا میں نے کہا ٹھیک میں کل آ جاؤں گا میں نے یہ ساری باتے گھر آ کر بتائی میری والدہ نے کہا ٹھیک اگر تم جانا چاہتے ہو جاؤ امتیان دے دو لیکن مسلہ تب بنا جب داخلہ فیس کے لئے ہمارے پاس 30 روپے نہیں تھے جو استاد جی نے مانگے تھے ہم سب پرشان ہو گے اب کیا ہو گا تب میری والدہ اور میں میرے تائے کے گھر گے اور وہاں ان سے 30 روپے ادھار لئے اور امتیان دے دیا خیر مختصر یہ کے میں پاس ھو گیا اور پھر سے گاؤں میں مزدوری کرنے لگا کچھ وقت گزرنے کے بعد ہمارے گاؤں کا ایک دھوبھی ٹھیکدار ہے جس کا آرمی میں کپڑے دھونے اور استری کرنے کا ٹھیکہ تھا میں اس کے ساتھ چلا گیا اور لگ بگ 10 سے 12 سال میں نے دھوبھی کا کام کیا مختلف جگو پر جس میں سے 4 سال میں نے پی سی ہوٹل میں بھی ایزے لانڈری مین کام کیا ھے اس کے بعد مجھے موقعہ ملا میں سعودی عرب چلا گیا ایک کیٹرنگ کمپنی میں ایزے لانڈری مین لیکن بدقسمتی سے میں 18 ماہ بعد گھر آیا چھٹی ایا تو کرونا کا شور شروع ھو گیا اور میں واپس نہیں جا سکا وہاں سے میں نے جو پیسے کمائے تھے ان سے میں نے یہاں گاؤں میں گھر بنا لیا اور اب میں پھر سے گاؤں میں مزدوری کرتا ہوں ایک چھوٹی کرش مشین کے ساتھ میں شادی شدہ ہوں میرے دو بیٹے ہیں ایک 3سری کلاس میں ہے اور دوسرا ابھی 5سال کا ہوا ہے اسے بھی اب داخل کروانا ہے اور ایک چھوٹا بھائی ہے جو چھٹی جماعت میں پڑھتا ھے میں چاہتا ہوں کے میرا تو جیسے تیسے وقت گزر گیا لیکن میں اتنے پیسے کما لوں کے میں اپنے بچوں چھوٹے بھائی کو اچھی تعلیم دلوا سکوں اس لئے میری کوشش ہے کہ میں کسی بائر ملک میں جا کے یا کسی اور طریقے سے اچھے پیسے کما لوں معذرت کے میں نے آپ کا بہت ٹائم لیا اینڈ بہت شکریہ آپ نے مجھے وقت دیا بھائی اگر ہو سکے تو مجھے بائر کسی ملک میں اچھی سیلری پر جاب دلوا دو بہت شکریہ
0 Yorumlar 0 hisse senetleri 23 Views