### The Lost Kingdom

Deep in the heart of the jungle, there was a legend about a lost kingdom buried under the earth. Many adventurers searched for it, but none ever returned. One day, a young explorer named Hamza set out on a quest to uncover the truth.

With a map in hand, he followed the clues carved into ancient stones. After days of searching, he stumbled upon a hidden cave covered in golden vines. As he stepped inside, he saw a magnificent underground city, its buildings shining under the glow of crystals.

Suddenly, a voice echoed through the halls, "Who dares enter the Kingdom of Zayran?" Hamza hesitated but then bravely answered, "I seek the truth of your lost kingdom."

A spirit appeared before him, dressed in royal robes. "Our people once ruled with wisdom, but greed led to our downfall. Now, we wait for someone pure of heart to restore our name."

Hamza promised to share the kingdom’s history with the world. When he returned, he wrote about the lost civilization, ensuring that the memory of Zayran would never fade again.

### کھویا ہوا بادشاہت

جنگل کے بیچوں بیچ ایک قدیم کہانی مشہور تھی کہ زمین کے نیچے ایک کھویا ہوا بادشاہت دفن ہے۔ کئی مہم جو اسے تلاش کرنے نکلے، مگر کوئی واپس نہ آیا۔ ایک دن، حمزہ نامی ایک نوجوان مہم جو نے اس راز کو جاننے کا فیصلہ کیا۔

نقشہ ہاتھ میں لیے، وہ ان نشانات کے پیچھے چلا جو پرانے پتھروں پر کندہ تھے۔ کئی دنوں کی تلاش کے بعد، اسے ایک چھپی ہوئی غار ملی جو سنہری بیلوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا، اس نے ایک شاندار زیر زمین شہر دیکھا، جس کی عمارتیں چمکتے ہوئے کرسٹلز کی روشنی میں جگمگا رہی تھیں۔

اچانک، ہال میں ایک گونجدار آواز سنائی دی، "کون زائران کی سلطنت میں داخل ہونے کی جرات کرتا ہے؟" حمزہ پہلے تو رکا، مگر پھر ہمت کر کے جواب دیا، "میں تمہاری کھوئی ہوئی بادشاہت کی حقیقت جاننا چاہتا ہوں۔"

ایک روح شاہی لباس پہنے اس کے سامنے نمودار ہوئی۔ "ہمارے لوگ کبھی دانشمندی سے حکومت کرتے تھے، مگر لالچ نے ہمیں برباد کر دیا۔ اب ہم کسی نیک دل انسان کا انتظار کر رہے ہیں جو ہمارے نام کو دوبارہ زندہ کرے۔"

حمزہ نے وعدہ کیا کہ وہ اس بادشاہت کی تاریخ دنیا کو بتائے گا۔ جب وہ واپس آیا، تو اس نے زائران کی گمشدہ تہذیب پر ایک کتاب لکھی، تاکہ اس کا نام کبھی مٹ نہ سکے۔

Student: Rehan School
School: Level One.Five
Story Post Number: 225
Roll Number: 157
### The Lost Kingdom Deep in the heart of the jungle, there was a legend about a lost kingdom buried under the earth. Many adventurers searched for it, but none ever returned. One day, a young explorer named Hamza set out on a quest to uncover the truth. With a map in hand, he followed the clues carved into ancient stones. After days of searching, he stumbled upon a hidden cave covered in golden vines. As he stepped inside, he saw a magnificent underground city, its buildings shining under the glow of crystals. Suddenly, a voice echoed through the halls, "Who dares enter the Kingdom of Zayran?" Hamza hesitated but then bravely answered, "I seek the truth of your lost kingdom." A spirit appeared before him, dressed in royal robes. "Our people once ruled with wisdom, but greed led to our downfall. Now, we wait for someone pure of heart to restore our name." Hamza promised to share the kingdom’s history with the world. When he returned, he wrote about the lost civilization, ensuring that the memory of Zayran would never fade again. ### کھویا ہوا بادشاہت جنگل کے بیچوں بیچ ایک قدیم کہانی مشہور تھی کہ زمین کے نیچے ایک کھویا ہوا بادشاہت دفن ہے۔ کئی مہم جو اسے تلاش کرنے نکلے، مگر کوئی واپس نہ آیا۔ ایک دن، حمزہ نامی ایک نوجوان مہم جو نے اس راز کو جاننے کا فیصلہ کیا۔ نقشہ ہاتھ میں لیے، وہ ان نشانات کے پیچھے چلا جو پرانے پتھروں پر کندہ تھے۔ کئی دنوں کی تلاش کے بعد، اسے ایک چھپی ہوئی غار ملی جو سنہری بیلوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا، اس نے ایک شاندار زیر زمین شہر دیکھا، جس کی عمارتیں چمکتے ہوئے کرسٹلز کی روشنی میں جگمگا رہی تھیں۔ اچانک، ہال میں ایک گونجدار آواز سنائی دی، "کون زائران کی سلطنت میں داخل ہونے کی جرات کرتا ہے؟" حمزہ پہلے تو رکا، مگر پھر ہمت کر کے جواب دیا، "میں تمہاری کھوئی ہوئی بادشاہت کی حقیقت جاننا چاہتا ہوں۔" ایک روح شاہی لباس پہنے اس کے سامنے نمودار ہوئی۔ "ہمارے لوگ کبھی دانشمندی سے حکومت کرتے تھے، مگر لالچ نے ہمیں برباد کر دیا۔ اب ہم کسی نیک دل انسان کا انتظار کر رہے ہیں جو ہمارے نام کو دوبارہ زندہ کرے۔" حمزہ نے وعدہ کیا کہ وہ اس بادشاہت کی تاریخ دنیا کو بتائے گا۔ جب وہ واپس آیا، تو اس نے زائران کی گمشدہ تہذیب پر ایک کتاب لکھی، تاکہ اس کا نام کبھی مٹ نہ سکے۔ Student: Rehan School School: Level One.Five Story Post Number: 225 Roll Number: 157
0 Commentarios 0 Acciones 50 Views