**The Golden Feather**
In a faraway kingdom, there was a wise king who had a beautiful golden feather. Legend had it that the feather could grant any wish to its possessor. The king, who had everything, kept it locked away in a chest, fearing that it would be misused.
One day, a young boy named Ali approached the king. He didn’t ask for wealth or power; instead, he asked for the chance to help his family and his village. The king, moved by the boy's sincerity, handed him the golden feather.
Ali used the wish to bring prosperity and happiness to his village. In return, he promised to never misuse the gift. The king realized that true wisdom was not in holding onto power, but in sharing it with those who would use it for the greater good.
**سنہری پرندہ**
ایک دور دراز بادشاہی میں ایک دانا بادشاہ تھا جس کے پاس ایک خوبصورت سنہری پرندہ تھا۔ افواہوں کے مطابق، وہ پرندہ اپنے مالک کی ہر خواہش پوری کر سکتا تھا۔ بادشاہ، جو سب کچھ رکھتا تھا، اس پرندے کو ایک صندوق میں بند کر کے رکھتا تھا، یہ خوف رکھتے ہوئے کہ کہیں اس کا غلط استعمال نہ ہو۔
ایک دن، ایک نوجوان لڑکا علی بادشاہ کے پاس آیا۔ اس نے دولت یا طاقت نہیں مانگی؛ بلکہ، اس نے اپنے خاندان اور گاؤں کی مدد کرنے کا موقع طلب کیا۔ بادشاہ، لڑکے کی سچائی سے متاثر ہو کر، اس کو سنہری پرندہ دے دیا۔
علی نے اس خواہش کو اپنے گاؤں کی خوشحالی اور فلاح کے لیے استعمال کیا۔ بدلے میں، اس نے وعدہ کیا کہ وہ کبھی بھی اس تحفے کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔ بادشاہ نے یہ سمجھا کہ اصل حکمت طاقت کو اپنے پاس رکھنے میں نہیں ہوتی، بلکہ اسے ان لوگوں کے ساتھ بانٹنے میں ہوتی ہے جو اسے بڑے فائدے کے لیے استعمال کریں۔
Student: Rehan School
School: Level One.Five
Story Post Number: 178
Roll Number: 157
In a faraway kingdom, there was a wise king who had a beautiful golden feather. Legend had it that the feather could grant any wish to its possessor. The king, who had everything, kept it locked away in a chest, fearing that it would be misused.
One day, a young boy named Ali approached the king. He didn’t ask for wealth or power; instead, he asked for the chance to help his family and his village. The king, moved by the boy's sincerity, handed him the golden feather.
Ali used the wish to bring prosperity and happiness to his village. In return, he promised to never misuse the gift. The king realized that true wisdom was not in holding onto power, but in sharing it with those who would use it for the greater good.
**سنہری پرندہ**
ایک دور دراز بادشاہی میں ایک دانا بادشاہ تھا جس کے پاس ایک خوبصورت سنہری پرندہ تھا۔ افواہوں کے مطابق، وہ پرندہ اپنے مالک کی ہر خواہش پوری کر سکتا تھا۔ بادشاہ، جو سب کچھ رکھتا تھا، اس پرندے کو ایک صندوق میں بند کر کے رکھتا تھا، یہ خوف رکھتے ہوئے کہ کہیں اس کا غلط استعمال نہ ہو۔
ایک دن، ایک نوجوان لڑکا علی بادشاہ کے پاس آیا۔ اس نے دولت یا طاقت نہیں مانگی؛ بلکہ، اس نے اپنے خاندان اور گاؤں کی مدد کرنے کا موقع طلب کیا۔ بادشاہ، لڑکے کی سچائی سے متاثر ہو کر، اس کو سنہری پرندہ دے دیا۔
علی نے اس خواہش کو اپنے گاؤں کی خوشحالی اور فلاح کے لیے استعمال کیا۔ بدلے میں، اس نے وعدہ کیا کہ وہ کبھی بھی اس تحفے کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔ بادشاہ نے یہ سمجھا کہ اصل حکمت طاقت کو اپنے پاس رکھنے میں نہیں ہوتی، بلکہ اسے ان لوگوں کے ساتھ بانٹنے میں ہوتی ہے جو اسے بڑے فائدے کے لیے استعمال کریں۔
Student: Rehan School
School: Level One.Five
Story Post Number: 178
Roll Number: 157
**The Golden Feather**
In a faraway kingdom, there was a wise king who had a beautiful golden feather. Legend had it that the feather could grant any wish to its possessor. The king, who had everything, kept it locked away in a chest, fearing that it would be misused.
One day, a young boy named Ali approached the king. He didn’t ask for wealth or power; instead, he asked for the chance to help his family and his village. The king, moved by the boy's sincerity, handed him the golden feather.
Ali used the wish to bring prosperity and happiness to his village. In return, he promised to never misuse the gift. The king realized that true wisdom was not in holding onto power, but in sharing it with those who would use it for the greater good.
**سنہری پرندہ**
ایک دور دراز بادشاہی میں ایک دانا بادشاہ تھا جس کے پاس ایک خوبصورت سنہری پرندہ تھا۔ افواہوں کے مطابق، وہ پرندہ اپنے مالک کی ہر خواہش پوری کر سکتا تھا۔ بادشاہ، جو سب کچھ رکھتا تھا، اس پرندے کو ایک صندوق میں بند کر کے رکھتا تھا، یہ خوف رکھتے ہوئے کہ کہیں اس کا غلط استعمال نہ ہو۔
ایک دن، ایک نوجوان لڑکا علی بادشاہ کے پاس آیا۔ اس نے دولت یا طاقت نہیں مانگی؛ بلکہ، اس نے اپنے خاندان اور گاؤں کی مدد کرنے کا موقع طلب کیا۔ بادشاہ، لڑکے کی سچائی سے متاثر ہو کر، اس کو سنہری پرندہ دے دیا۔
علی نے اس خواہش کو اپنے گاؤں کی خوشحالی اور فلاح کے لیے استعمال کیا۔ بدلے میں، اس نے وعدہ کیا کہ وہ کبھی بھی اس تحفے کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔ بادشاہ نے یہ سمجھا کہ اصل حکمت طاقت کو اپنے پاس رکھنے میں نہیں ہوتی، بلکہ اسے ان لوگوں کے ساتھ بانٹنے میں ہوتی ہے جو اسے بڑے فائدے کے لیے استعمال کریں۔
Student: Rehan School
School: Level One.Five
Story Post Number: 178
Roll Number: 157
0 Yorumlar
0 hisse senetleri
44 Views