• ویڈیو بنانے والے توجہ فرمائیں: یہ ویڈیوز بنائیں اور فیس بک اور یوٹیوب پر اشتہارات کی آمدنی سے کمائیں۔
    یہ فرض کرتے ہوئے کہ 48 ویڈیوز میں سے ہر ایک کو 1 ملین ویوز موصول ہوتے ہیں
    اور پہلے فراہم کیے گئے تخمینے ($2,000 فی 1 ملین یوٹیوب اور فیس بک دونوں کے لیے) استعمال کرتے ہوئے

    : یوٹیوب: 48 ویڈیوز x $2,000 فی ویڈیو = $96,000

    فیس بک: 48 ویڈیوز x $2,000 فی ویڈیو = $96,000

    دونوں پلیٹ فارمز سے مشترکہ آمدنی: $96,000


    (YouTube) + $96,000 (Facebook) = $192,000

    براہ کرم نوٹ کریں کہ یہ اوسط CPM اقدار پر مبنی تخمینے ہیں اور مختلف عوامل جیسے سامعین کی آبادی، مواد کے معیار، اشتہار کی جگہوں اور پلیٹ فارم کی پالیسیوں کی بنیاد پر نمایاں طور پر مختلف ہو سکتے ہیں۔ اصل آمدنی تخمینی رقم سے زیادہ یا کم ہو سکتی ہے۔

    ریحان: میں 48 ویڈیوز بنانا چاہتا ہوں جن میں سے ہر ایک کو مجھے 5 ملین ویوز ملیں گے، ہر ویڈیو 60 سیکنڈ لمبی ہوگی، زبان انگریزی ہوگی، سامعین سیارے کے ارد گرد کے لوگ ہوں گے، سورج پاکستان میں آن لائن نیا دوست بنانے کی خواہش پیدا کرے گا۔ Chatgpt: پاکستان کی پوشیدہ خوبصورتی کو صرف 60 سیکنڈ میں دریافت کریں۔ پاکستان کے دوستانہ چہروں سے آن لائن ملیں۔ پاکستان کے امیر ثقافتی ورثے کے رازوں کو کھولیں۔ ایک منٹ میں پاکستان کے شاندار پہاڑوں کو دیکھیں پاکستان کے ذائقوں کا مزہ چکھو: ایک پاکیزہ مہم جوئی کا انتظار ہے۔ پاکستانی مہمان نوازی کے حقیقی جوہر کا تجربہ کریں۔ پاکستان کے متحرک اسٹریٹ فوڈ منظر کی ایک جھلک پاکستان کی قدیم وادیوں کی پرسکونیت کا مشاہدہ کریں۔ شاہراہ قراقرم کا سفر کریں: دنیا کا آٹھواں عجوبہ پاکستان میں ٹریکنگ: فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے بہترین مہم جوئی پاکستان کے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہوں کا جادو لاہور کا بے وقت دلکشی: پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت پاکستانی چائے کی ثقافت کی خوشبو کا مزہ لیں۔ 60 سیکنڈ میں پاکستان کی ناقابل یقین جنگلی حیات سے ملیں۔ وادی سندھ کی تہذیب کی تاریخ میں غوطہ لگائیں۔ موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے قدیم شہروں کو دیکھیں پاکستان کے فن تعمیر کی مغلیہ عظمت کو بے نقاب کریں۔ ایک منٹ کی مہم جوئی: پاکستان میں پیرا گلائیڈنگ پاکستان میں صوفی موسیقی کی مسحور کن دنیا پاکستان کے دلکش ساحلوں کا فوری دورہ ایک منٹ میں پاکستان کے غیر معمولی صحرائی مناظر شاندار برفانی چیتے: پاکستان کا پرجوش خزانہ پاکستان کے تہوار منائیں: ایک رنگین لمحہ پاکستان کے ناقابل یقین کاریگروں کے ساتھ ایک منٹ پاکستان کی لوک موسیقی کا تجربہ کریں: ایک ہم آہنگ سفر پاکستان کے غیر دریافت شدہ جواہرات: 60 سیکنڈ میں پوشیدہ عجائبات بلوچستان: پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی پراسرار خوبصورتی۔ ایک منٹ میں پاکستانی سینما کی پرفتن دنیا Fairy Meadows: پاکستان کی آسمانی جنت میں ایک منٹ سندھ آباد کا سفر: پاکستان کے ساحل کے ساتھ بحری سفر پاکستان کے عظیم آؤٹ ڈور: ستاروں کے نیچے کیمپنگ پاکستان کی متاثر کن خواتین کے ساتھ ایک منٹ افسانوی K2: دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو فتح کریں۔ نانگا پربت: قاتل پہاڑ کے ساتھ ایک منٹ پاکستان کے پریتوادت مقامات کے اسرار سے پردہ اٹھائیں۔ پاکستان کی سنہری ریت: صحرائے تھر کو دریافت کریں۔ جادو کا ایک منٹ: پاکستان میں ٹرک پینٹنگ کا فن پاکستان کا روحانی اعتکاف: صوفی مزارات اور تہوار کالاش کے ساتھ ایک منٹ: پاکستان کا منفرد مقامی قبیلہ کراچی کا ذائقہ: پاکستان کا فوڈ کیپیٹل دی سٹوریڈ سلک روڈ: پاکستان کے قدیم تجارتی راستے میں ایک منٹ خیبر پاس: تاریخ میں ایک منٹ کا سفر پاکستانی کسان کی زندگی میں ایک منٹ 60 سیکنڈ میں وادی سکردو کی پر سکون خوبصورتی کا تجربہ کریں۔ پاکستان کے ابھرتے ہوئے فیشن کے منظر کی ایک جھلک معجزاتی وادی ہنزہ: شنگری لا کا ایک منٹ کا سفر وادی سوات: مشرق کے سوئٹزرلینڈ میں ایک منٹ پاکستان کی شاندار الپائن جھیلوں کو 60 سیکنڈ میں دریافت کریں۔

    ان ون لائنر ٹائٹلز کا مقصد عالمی سامعین کی دلچسپی کو بڑھانا ہے، جو پاکستان کی ثقافت، فطرت، تاریخ اور لوگوں کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہوئے ناظرین کو ملک کے مقامی لوگوں کے ساتھ آن لائن دوستی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ریحان: اب مجھے سب سے اوپر 4 بتائیں جو آپ کے خیال میں سب سے زیادہ فیس بک اور یوٹیوب ویوز حاصل کریں گے۔
    Chatgpt:
    صرف 60 سیکنڈز میں پاکستان کی پوشیدہ خوبصورتی دریافت کریں: یہ عنوان ناظرین کے غیر معروف دلکش مناظر اور سیاحتی مقامات کو دریافت کرنے کے تجسس پر چلتا ہے، جو ممکنہ طور پر ایک بڑی تعداد میں سامعین کو راغب کرے گا جو سفری تحریک اور قدرتی عجائبات کی تلاش میں ہیں۔ آن لائن پاکستان کے دوستانہ چہروں سے ملو: پاکستانی لوگوں کی گرمجوشی اور مہمان نوازی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، یہ عنوان ناظرین کو مقامی لوگوں کے ساتھ جڑنے اور آن لائن دوست بنانے کی ترغیب دیتا ہے، بین الثقافتی روابط اور افہام و تفہیم کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان کے ذائقوں کا مزہ چکھو: ایک پاکیزہ مہم جوئی کا انتظار ہے: کھانا ایک عالمی سطح پر پرکشش موضوع ہے جو ثقافتی رکاوٹوں کو عبور کرتا ہے، اور متنوع اور منہ کو پانی دینے والے پاکستانی کھانوں کی نمائش کرنے والی ایک ویڈیو ممکنہ طور پر دنیا بھر کے کھانے سے محبت کرنے والوں کی خاصی دلچسپی حاصل کرے گی۔ پاکستان کے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہوں کا جادو: عالمی شہرت یافتہ تاریخی اور ثقافتی نشانات کی رغبت بہت سے ناظرین کے لیے ناقابل تلافی ہے، اور یہ عنوان ملک کے سب سے مشہور اور خوفناک مقامات کی فوری جھلک کا وعدہ کرتا ہے، جو ممکنہ طور پر تاریخ کے وسیع سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اور سفر کے شوقین افراد۔
    ویڈیو بنانے والے توجہ فرمائیں: یہ ویڈیوز بنائیں اور فیس بک اور یوٹیوب پر اشتہارات کی آمدنی سے کمائیں۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ 48 ویڈیوز میں سے ہر ایک کو 1 ملین ویوز موصول ہوتے ہیں اور پہلے فراہم کیے گئے تخمینے ($2,000 فی 1 ملین یوٹیوب اور فیس بک دونوں کے لیے) استعمال کرتے ہوئے : یوٹیوب: 48 ویڈیوز x $2,000 فی ویڈیو = $96,000 فیس بک: 48 ویڈیوز x $2,000 فی ویڈیو = $96,000 دونوں پلیٹ فارمز سے مشترکہ آمدنی: $96,000 (YouTube) + $96,000 (Facebook) = $192,000 براہ کرم نوٹ کریں کہ یہ اوسط CPM اقدار پر مبنی تخمینے ہیں اور مختلف عوامل جیسے سامعین کی آبادی، مواد کے معیار، اشتہار کی جگہوں اور پلیٹ فارم کی پالیسیوں کی بنیاد پر نمایاں طور پر مختلف ہو سکتے ہیں۔ اصل آمدنی تخمینی رقم سے زیادہ یا کم ہو سکتی ہے۔ ریحان: میں 48 ویڈیوز بنانا چاہتا ہوں جن میں سے ہر ایک کو مجھے 5 ملین ویوز ملیں گے، ہر ویڈیو 60 سیکنڈ لمبی ہوگی، زبان انگریزی ہوگی، سامعین سیارے کے ارد گرد کے لوگ ہوں گے، سورج پاکستان میں آن لائن نیا دوست بنانے کی خواہش پیدا کرے گا۔ Chatgpt: پاکستان کی پوشیدہ خوبصورتی کو صرف 60 سیکنڈ میں دریافت کریں۔ پاکستان کے دوستانہ چہروں سے آن لائن ملیں۔ پاکستان کے امیر ثقافتی ورثے کے رازوں کو کھولیں۔ ایک منٹ میں پاکستان کے شاندار پہاڑوں کو دیکھیں پاکستان کے ذائقوں کا مزہ چکھو: ایک پاکیزہ مہم جوئی کا انتظار ہے۔ پاکستانی مہمان نوازی کے حقیقی جوہر کا تجربہ کریں۔ پاکستان کے متحرک اسٹریٹ فوڈ منظر کی ایک جھلک پاکستان کی قدیم وادیوں کی پرسکونیت کا مشاہدہ کریں۔ شاہراہ قراقرم کا سفر کریں: دنیا کا آٹھواں عجوبہ پاکستان میں ٹریکنگ: فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے بہترین مہم جوئی پاکستان کے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہوں کا جادو لاہور کا بے وقت دلکشی: پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت پاکستانی چائے کی ثقافت کی خوشبو کا مزہ لیں۔ 60 سیکنڈ میں پاکستان کی ناقابل یقین جنگلی حیات سے ملیں۔ وادی سندھ کی تہذیب کی تاریخ میں غوطہ لگائیں۔ موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے قدیم شہروں کو دیکھیں پاکستان کے فن تعمیر کی مغلیہ عظمت کو بے نقاب کریں۔ ایک منٹ کی مہم جوئی: پاکستان میں پیرا گلائیڈنگ پاکستان میں صوفی موسیقی کی مسحور کن دنیا پاکستان کے دلکش ساحلوں کا فوری دورہ ایک منٹ میں پاکستان کے غیر معمولی صحرائی مناظر شاندار برفانی چیتے: پاکستان کا پرجوش خزانہ پاکستان کے تہوار منائیں: ایک رنگین لمحہ پاکستان کے ناقابل یقین کاریگروں کے ساتھ ایک منٹ پاکستان کی لوک موسیقی کا تجربہ کریں: ایک ہم آہنگ سفر پاکستان کے غیر دریافت شدہ جواہرات: 60 سیکنڈ میں پوشیدہ عجائبات بلوچستان: پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی پراسرار خوبصورتی۔ ایک منٹ میں پاکستانی سینما کی پرفتن دنیا Fairy Meadows: پاکستان کی آسمانی جنت میں ایک منٹ سندھ آباد کا سفر: پاکستان کے ساحل کے ساتھ بحری سفر پاکستان کے عظیم آؤٹ ڈور: ستاروں کے نیچے کیمپنگ پاکستان کی متاثر کن خواتین کے ساتھ ایک منٹ افسانوی K2: دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو فتح کریں۔ نانگا پربت: قاتل پہاڑ کے ساتھ ایک منٹ پاکستان کے پریتوادت مقامات کے اسرار سے پردہ اٹھائیں۔ پاکستان کی سنہری ریت: صحرائے تھر کو دریافت کریں۔ جادو کا ایک منٹ: پاکستان میں ٹرک پینٹنگ کا فن پاکستان کا روحانی اعتکاف: صوفی مزارات اور تہوار کالاش کے ساتھ ایک منٹ: پاکستان کا منفرد مقامی قبیلہ کراچی کا ذائقہ: پاکستان کا فوڈ کیپیٹل دی سٹوریڈ سلک روڈ: پاکستان کے قدیم تجارتی راستے میں ایک منٹ خیبر پاس: تاریخ میں ایک منٹ کا سفر پاکستانی کسان کی زندگی میں ایک منٹ 60 سیکنڈ میں وادی سکردو کی پر سکون خوبصورتی کا تجربہ کریں۔ پاکستان کے ابھرتے ہوئے فیشن کے منظر کی ایک جھلک معجزاتی وادی ہنزہ: شنگری لا کا ایک منٹ کا سفر وادی سوات: مشرق کے سوئٹزرلینڈ میں ایک منٹ پاکستان کی شاندار الپائن جھیلوں کو 60 سیکنڈ میں دریافت کریں۔ ان ون لائنر ٹائٹلز کا مقصد عالمی سامعین کی دلچسپی کو بڑھانا ہے، جو پاکستان کی ثقافت، فطرت، تاریخ اور لوگوں کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہوئے ناظرین کو ملک کے مقامی لوگوں کے ساتھ آن لائن دوستی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ریحان: اب مجھے سب سے اوپر 4 بتائیں جو آپ کے خیال میں سب سے زیادہ فیس بک اور یوٹیوب ویوز حاصل کریں گے۔ Chatgpt: صرف 60 سیکنڈز میں پاکستان کی پوشیدہ خوبصورتی دریافت کریں: یہ عنوان ناظرین کے غیر معروف دلکش مناظر اور سیاحتی مقامات کو دریافت کرنے کے تجسس پر چلتا ہے، جو ممکنہ طور پر ایک بڑی تعداد میں سامعین کو راغب کرے گا جو سفری تحریک اور قدرتی عجائبات کی تلاش میں ہیں۔ آن لائن پاکستان کے دوستانہ چہروں سے ملو: پاکستانی لوگوں کی گرمجوشی اور مہمان نوازی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، یہ عنوان ناظرین کو مقامی لوگوں کے ساتھ جڑنے اور آن لائن دوست بنانے کی ترغیب دیتا ہے، بین الثقافتی روابط اور افہام و تفہیم کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان کے ذائقوں کا مزہ چکھو: ایک پاکیزہ مہم جوئی کا انتظار ہے: کھانا ایک عالمی سطح پر پرکشش موضوع ہے جو ثقافتی رکاوٹوں کو عبور کرتا ہے، اور متنوع اور منہ کو پانی دینے والے پاکستانی کھانوں کی نمائش کرنے والی ایک ویڈیو ممکنہ طور پر دنیا بھر کے کھانے سے محبت کرنے والوں کی خاصی دلچسپی حاصل کرے گی۔ پاکستان کے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہوں کا جادو: عالمی شہرت یافتہ تاریخی اور ثقافتی نشانات کی رغبت بہت سے ناظرین کے لیے ناقابل تلافی ہے، اور یہ عنوان ملک کے سب سے مشہور اور خوفناک مقامات کی فوری جھلک کا وعدہ کرتا ہے، جو ممکنہ طور پر تاریخ کے وسیع سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اور سفر کے شوقین افراد۔
    0 Commenti 0 condivisioni 1924 Views
  • ”ریحان سکول: اپنی نوعیت کا منفرد سکول“ (ایازمورس)
    آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور فری لانسنگ کی بدولت اسٹوڈنٹس کو مستقبل کی قیادت کے لئے تیار کیا جارہے ہے۔
    گزشتہ دنوں اپنے اسلام آباد کے دورے کے دوران میری ملاقات مختلف اداروں کے سربراہان سے ہوئی۔ ان میں ایک منفرد ملاقات ایک ایسے استاد اور ٹیکنالوجی کی دُنیا کے منفرد نام جناب ریحان اللہ والا سے ریحان فاؤنڈیشن کے سکول بارہ کہو، اسلام آباد میں ہوئی۔ اس ملاقات کا مقصد ریحان سکول کی اپروچ کے بارے میں جاننا، اور اس کے روح رواں جناب ریحان اللہ والا کے ویژن کو سمجھنا مقصد تھا۔ اس ضمن میں نے ریحان اللہ والا کا انٹرویو کیا جس کا خلاصہ اس مضمون میں پیش کر رہا ہوں۔ریحان اسکول ایک منفرد ویژن اور سوچ کے ساتھ کام کر رہاہے۔ جس کی اب تک کراچی اور اسلام آبادمیں چند برانچ شروع ہو چکی ہیں۔
    جناب ریحان اللہ والا نے بتایا کہ اُن کے سکول کا گول یہ ہے کہ اگر آپ اس ملک کو دیکھے تو ہم کو نظرنہیں آتا کہ ہما را پانی کا مسئلہ کراچی میں کو ن حل کر ے گا روڈکون ٹھیک کرے گا۔ لوگ آتے ہیں لا رے دیتے ہیں غائب ہو جاتے ہیں عیدی صاحب آئے انہوں نے ایک پرابلمز کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینک دیا۔ امجد ثاقب آئے انہوں نے ایک اور پرابلم حل کرنے کی کوشش کی ہم کرکٹر بنا رہے ہیں ڈینٹس بنا رہے ہیں لیڈر نہیں بنا رہے،اور آج بھی اگر ہم کسی کو کہیں کہ کرے گا کون، تو وہ بھی نظر نہیں آ رہا تو ہم مستقبل کے لیڈر کے لیے بنانے کا ایک فارمولا ڈھونڈ رہے ہیں جیسے کہ ایلو ن ماسک ہے، ایڈیسن ہے، سٹیف جابر ہیں اس طرح کے لوگ بائی ایکسیڈنٹ نظر ا ٓجاتے ہیں لیکن بائے ٹریننگ نظرنہیں آتے ہیں وہ ماسٹرز کی ڈگری کے اوپر اپ بالکل آتے ہیں
    جب تک وہ بندہ ویسے ہی چلاہوا کارتوس بن چکا ہو تا ہے پانچ سال کی عمر سے پہچانا شروع کیا اگر اپ نے کوئی اچھا کرکٹر لینا ہے تو وہ بچپن سے کھیل رہا ہوتاہے ورلڈ ڈزنی لے لیں سات سال کے عمر سے وہ کام کر رہا ہے تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ایسا سسٹم ایجاد کیا جائے بچہ ان لیڈر آؤٹ بچہ ان لیڈر اوٹ میرا گول یہ ہے کہ میں ایک ہزار لیڈر تیار کروں۔جو کہ کم ازکم ایک بچہ10 بلین لوگوں پر ایمپیکٹ لاسکے جو کہ ٹوٹل آٹھ بلین کی آبادی ہے جو سب پہ ڈائریکٹ ایمپیکٹ وہ تمام ہزار بچے لے کر آ سکتے ہیں۔
    پاکستان کے معاشی حالات ایسے ہیں جہاں بہت رونا دھونا ہے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کس طرح سے یہ جو آئی ٹی ہے یہ ہمارے بہت سارے جو معاشی مسائل ہیں لوگوں کے بھی معاشرے کی خاندانوں کے اور ملک کے سول کر سکتی ہے؟
    دیکھیں رونا دوناتو ہمارا ہر وقت نکلتا ہے اس لئے کہ ہماری پریکٹس بہت زیادہ ہے کیونکہ ہمارا ٹی وی،ہمارا اخبار کانسٹلیی رونا دونا کرتا ہے گٹر کا ڈھکنا جو میسنگ ہے وہ بتاتے ہیں، گڑ کا ڈھکنا جو لگا رہا ہے اُس کا نہیں بتاتے۔22 ہزار بچہ ایک گھنٹے میں پیدا ہوتا ہے اس کی خبر نہیں آتی،جو مرجاتا ہے اُسکی خبر بتاتے ہیں۔
    سو ایکچولی ہمارے ملک میں زیادہ چیزیں اچھی ہیں کچھ چیزیں خراب ہیں۔لیکن جب (Analaysis) کر نے بیٹھتے ہیں توانسان کا دماغ سمجھتے ہیں تواس کے اندر ایک کذا اتلا کہتے ہیں جو کہ چھوٹی سی خراب چیز کو بہت ایمپلیفائی کر کے دکھاتا ہے تو ہم ڈر جاتے ہیں اگر ہلکا سا بھی سائرن بجے گا تو ہم سارے اُٹھ کہ پیجھے بھاگے جائے گئے کہ کیا ہو ا ہے اگر نہیں بجے گا تو کو ئی بھی پریشان نہیں ہو گئے سب کچھ صحیح چلا رہا ہے۔ تو یہ ڈیزائن با ڈیزائن بائیولوجی کا حصہ ہے کہ انسان چھوٹی سی خراب خبر پر ڈر جاتا ہے۔ صحیح تو آئی ٹی اس ملک کے اندر بہترین ٹول ہے جس کی مدد سے ہم اپنے جتنے مسائل ہیں ان کا حل نکال سکتے ہیں چاہیے ہم نے ایجوکیشن نہیں حاصل کی۔ 40 پرسن لوگ اپنا نام نہیں لکھ سکتے تو 40 پرسنٹ پاپولیشن اگر لگا لیں تقریبا 80 ملین بچے بن جاتے ہیں بالکل صحیح وہ اپنا نام نہیں انسان بن جاتا ہے تو لیکن چایٹ جی پی ٹی اردو میں بات کرتی ہے سندھی بولتی ہے پشتو بولتی ہے پنجابی بولتی ہے اس سے بات کر لیں علم اپ کی جیب میں سیکھا نہیں۔
    اُن کا مزید کہنا تھا کہ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے،اور ہم ابھی تک اپنے ویلج کو سمجھ نہیں پا ئے۔انٹرنیٹ پاکستان میں بہت سستا ہے،موبائل یہاں پر سستا ہے،لیب ٹاپ یہاں بہت سستا ہے دیگر ممالک کی نسبت تو ہمیں کم از کم ہر گھر میں ایک لیب ٹا پ ہما رے گھر میں ہو نا چا ہے۔جب لیب ٹاپ گھر پر ہوگا تو آپ سیکھے گئے۔استعمال کرتے کرتے انسان سیکھ جا تا ہے میں اگر آج یہاں بیٹھا ہوں تو میرے والد نے مجھے بارہ سال کی عمر میں لیب ٹاپ لے کر دیا تھا، جسے میں چلا چلا کر سیکھ گیا ہوں آج اگر ہم نے اپنی غربت کا خاتمہ کرنا ہے اور ترقی کرنی ہے تو پھر آٹی ہمارے لئے سب سے بہترین آپشن ہے۔

    Via Ayaz Morris
    ”ریحان سکول: اپنی نوعیت کا منفرد سکول“ (ایازمورس) آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور فری لانسنگ کی بدولت اسٹوڈنٹس کو مستقبل کی قیادت کے لئے تیار کیا جارہے ہے۔ گزشتہ دنوں اپنے اسلام آباد کے دورے کے دوران میری ملاقات مختلف اداروں کے سربراہان سے ہوئی۔ ان میں ایک منفرد ملاقات ایک ایسے استاد اور ٹیکنالوجی کی دُنیا کے منفرد نام جناب ریحان اللہ والا سے ریحان فاؤنڈیشن کے سکول بارہ کہو، اسلام آباد میں ہوئی۔ اس ملاقات کا مقصد ریحان سکول کی اپروچ کے بارے میں جاننا، اور اس کے روح رواں جناب ریحان اللہ والا کے ویژن کو سمجھنا مقصد تھا۔ اس ضمن میں نے ریحان اللہ والا کا انٹرویو کیا جس کا خلاصہ اس مضمون میں پیش کر رہا ہوں۔ریحان اسکول ایک منفرد ویژن اور سوچ کے ساتھ کام کر رہاہے۔ جس کی اب تک کراچی اور اسلام آبادمیں چند برانچ شروع ہو چکی ہیں۔ جناب ریحان اللہ والا نے بتایا کہ اُن کے سکول کا گول یہ ہے کہ اگر آپ اس ملک کو دیکھے تو ہم کو نظرنہیں آتا کہ ہما را پانی کا مسئلہ کراچی میں کو ن حل کر ے گا روڈکون ٹھیک کرے گا۔ لوگ آتے ہیں لا رے دیتے ہیں غائب ہو جاتے ہیں عیدی صاحب آئے انہوں نے ایک پرابلمز کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینک دیا۔ امجد ثاقب آئے انہوں نے ایک اور پرابلم حل کرنے کی کوشش کی ہم کرکٹر بنا رہے ہیں ڈینٹس بنا رہے ہیں لیڈر نہیں بنا رہے،اور آج بھی اگر ہم کسی کو کہیں کہ کرے گا کون، تو وہ بھی نظر نہیں آ رہا تو ہم مستقبل کے لیڈر کے لیے بنانے کا ایک فارمولا ڈھونڈ رہے ہیں جیسے کہ ایلو ن ماسک ہے، ایڈیسن ہے، سٹیف جابر ہیں اس طرح کے لوگ بائی ایکسیڈنٹ نظر ا ٓجاتے ہیں لیکن بائے ٹریننگ نظرنہیں آتے ہیں وہ ماسٹرز کی ڈگری کے اوپر اپ بالکل آتے ہیں جب تک وہ بندہ ویسے ہی چلاہوا کارتوس بن چکا ہو تا ہے پانچ سال کی عمر سے پہچانا شروع کیا اگر اپ نے کوئی اچھا کرکٹر لینا ہے تو وہ بچپن سے کھیل رہا ہوتاہے ورلڈ ڈزنی لے لیں سات سال کے عمر سے وہ کام کر رہا ہے تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ایسا سسٹم ایجاد کیا جائے بچہ ان لیڈر آؤٹ بچہ ان لیڈر اوٹ میرا گول یہ ہے کہ میں ایک ہزار لیڈر تیار کروں۔جو کہ کم ازکم ایک بچہ10 بلین لوگوں پر ایمپیکٹ لاسکے جو کہ ٹوٹل آٹھ بلین کی آبادی ہے جو سب پہ ڈائریکٹ ایمپیکٹ وہ تمام ہزار بچے لے کر آ سکتے ہیں۔ پاکستان کے معاشی حالات ایسے ہیں جہاں بہت رونا دھونا ہے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کس طرح سے یہ جو آئی ٹی ہے یہ ہمارے بہت سارے جو معاشی مسائل ہیں لوگوں کے بھی معاشرے کی خاندانوں کے اور ملک کے سول کر سکتی ہے؟ دیکھیں رونا دوناتو ہمارا ہر وقت نکلتا ہے اس لئے کہ ہماری پریکٹس بہت زیادہ ہے کیونکہ ہمارا ٹی وی،ہمارا اخبار کانسٹلیی رونا دونا کرتا ہے گٹر کا ڈھکنا جو میسنگ ہے وہ بتاتے ہیں، گڑ کا ڈھکنا جو لگا رہا ہے اُس کا نہیں بتاتے۔22 ہزار بچہ ایک گھنٹے میں پیدا ہوتا ہے اس کی خبر نہیں آتی،جو مرجاتا ہے اُسکی خبر بتاتے ہیں۔ سو ایکچولی ہمارے ملک میں زیادہ چیزیں اچھی ہیں کچھ چیزیں خراب ہیں۔لیکن جب (Analaysis) کر نے بیٹھتے ہیں توانسان کا دماغ سمجھتے ہیں تواس کے اندر ایک کذا اتلا کہتے ہیں جو کہ چھوٹی سی خراب چیز کو بہت ایمپلیفائی کر کے دکھاتا ہے تو ہم ڈر جاتے ہیں اگر ہلکا سا بھی سائرن بجے گا تو ہم سارے اُٹھ کہ پیجھے بھاگے جائے گئے کہ کیا ہو ا ہے اگر نہیں بجے گا تو کو ئی بھی پریشان نہیں ہو گئے سب کچھ صحیح چلا رہا ہے۔ تو یہ ڈیزائن با ڈیزائن بائیولوجی کا حصہ ہے کہ انسان چھوٹی سی خراب خبر پر ڈر جاتا ہے۔ صحیح تو آئی ٹی اس ملک کے اندر بہترین ٹول ہے جس کی مدد سے ہم اپنے جتنے مسائل ہیں ان کا حل نکال سکتے ہیں چاہیے ہم نے ایجوکیشن نہیں حاصل کی۔ 40 پرسن لوگ اپنا نام نہیں لکھ سکتے تو 40 پرسنٹ پاپولیشن اگر لگا لیں تقریبا 80 ملین بچے بن جاتے ہیں بالکل صحیح وہ اپنا نام نہیں انسان بن جاتا ہے تو لیکن چایٹ جی پی ٹی اردو میں بات کرتی ہے سندھی بولتی ہے پشتو بولتی ہے پنجابی بولتی ہے اس سے بات کر لیں علم اپ کی جیب میں سیکھا نہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے،اور ہم ابھی تک اپنے ویلج کو سمجھ نہیں پا ئے۔انٹرنیٹ پاکستان میں بہت سستا ہے،موبائل یہاں پر سستا ہے،لیب ٹاپ یہاں بہت سستا ہے دیگر ممالک کی نسبت تو ہمیں کم از کم ہر گھر میں ایک لیب ٹا پ ہما رے گھر میں ہو نا چا ہے۔جب لیب ٹاپ گھر پر ہوگا تو آپ سیکھے گئے۔استعمال کرتے کرتے انسان سیکھ جا تا ہے میں اگر آج یہاں بیٹھا ہوں تو میرے والد نے مجھے بارہ سال کی عمر میں لیب ٹاپ لے کر دیا تھا، جسے میں چلا چلا کر سیکھ گیا ہوں آج اگر ہم نے اپنی غربت کا خاتمہ کرنا ہے اور ترقی کرنی ہے تو پھر آٹی ہمارے لئے سب سے بہترین آپشن ہے۔ Via Ayaz Morris
    0 Commenti 0 condivisioni 1242 Views
  • مسائل سے مواقع — صرف $20 ماہانہ میں حل!

    میں نے آپ سب سے سوال کیا تھا:
    “آپ کس چیز کے لیے خوشی خوشی $20 ماہانہ دیں گے؟”

    آپ نے اپنے مسائل شیئر کیے۔
    میں نے ChatGPT سے کہا کہ ان مسائل کو بزنس کے مواقع میں بدل دے — اور یہ سامنے آئے!

    اگر آپ میں سے کوئی بھی ان میں سے کسی مسئلے کو حل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو بس ایک آئیڈیا منتخب کریں اور ChatGPT سے کہیں:
    “اس کا تفصیلی بزنس پلان بنا دو۔”

    یہ رہے $20 ماہانہ مواقع کے آئیڈیاز:
    صاف نلکے کا پانی سپلائی
    گھر اور گلی کی سکیورٹی
    گھر کی باقاعدہ صفائی
    انٹرنیٹ + یوٹیوب + نیٹ فلکس بنڈل
    لان/باغبانی کی دیکھ بھال
    جنرل ہوم مینٹیننس (الیکٹرک، پلمبنگ، کارپینٹری)
    ماہانہ اے سی سروس
    لانڈری اور استری سروس
    مقامی کلب/سرگرمی کی ممبرشپ
    نیا ہنر یا زبان سیکھنا

    یہ آئیڈیاز آسان، بڑھنے والے اور زیادہ تر گھروں کے لیے قابلِ برداشت ہیں۔ صحیح آدمی ان کو ایک مستقل ماہانہ آمدنی میں بدل سکتا ہے!



    ہر بزنس آئیڈیا کی تفصیل اور فروخت کا طریقہ



    1. آبِ سیف: ماہانہ نلکے کا صاف پانی سپلائی

    بزنس آئیڈیا:
    گھر کے اندر براہِ راست نلکے سے فلٹر شدہ پینے کا پانی فراہم کریں۔
    پیوریفکیشن سسٹم لگائیں اور ماہانہ فلٹر مینٹیننس کریں۔
    24/7 پانی دستیاب رکھنے کیلئے بیک اَپ ٹینک فراہم کریں۔
    گاہک $20 ماہانہ میں لامحدود صاف پانی لیں۔

    فروخت کا طریقہ:
    “بوتل اٹھانے کی ضرورت نہیں — خالص پانی اب آپ کے نل سے!”
    صحت اور آسانی کے فائدے بتائیں۔
    اعتماد کیلئے 3 دن کا فری ٹرائل دیں۔



    2. سکیور نیسٹ: ماہانہ سکیورٹی سروس

    بزنس آئیڈیا:
    24/7 سکیورٹی گارڈ یا ریموٹ سی سی ٹی وی مانیٹرنگ فراہم کریں۔
    ایپ کے ذریعے الرٹس اور ایمرجنسی ریسپانس ٹیمز۔
    گھر کا سکیورٹی آڈٹ اور اپ گریڈ سروس۔
    $20 ماہانہ میں تحفظ اور سکون۔

    فروخت کا طریقہ:
    “آرام سے سوئیں — ہم آپ کے گھر کی نگرانی کر رہے ہیں۔”
    روک تھام کی مثالیں دکھائیں۔
    ریفرل پر پہلا مہینہ فری دیں۔



    3. اسپارکل کرو: ماہانہ صفائی پلان

    بزنس آئیڈیا:
    ہفتہ وار ڈیپ کلیننگ سروس برائے گھر/فلیٹ۔
    کچن، باتھ روم، فلور اور ڈسٹنگ شامل۔
    ایکو فرینڈلی پراڈکٹس کا استعمال۔
    $20 ماہانہ میں صاف ستھرا گھر۔

    فروخت کا طریقہ:
    “چھٹی کا دن فیملی کے ساتھ گزاریں، جھاڑو کے ساتھ نہیں۔”
    پہلے اور بعد کی تصاویر دکھا کر اثر پیدا کریں۔
    لانڈری/استری کے ساتھ بَنڈل آفر دیں۔



    4. اسٹریم پاک: انٹرنیٹ + یوٹیوب / نیٹ فلکس

    بزنس آئیڈیا:
    ہائی اسپیڈ وائی فائی کے ساتھ یوٹیوب اور نیٹ فلکس تک رسائی۔
    پلیگ اینڈ پلے ڈیوائس، کوئی جھنجھٹ والا انسٹالیشن نہیں۔
    $20 ماہانہ، کوئی ڈیٹا لمٹ نہیں۔
    طلبہ اور فیملی دونوں کیلئے بہترین۔

    فروخت کا طریقہ:
    “وائی فائی اور نیٹ فلکس — ایک ہی بل میں، بغیر اضافی خرچ۔”
    سائن اپ پر لائیو اسٹریمنگ کا ڈیمو دیں۔
    پہلا ہفتہ آدھی قیمت میں آفر کریں۔



    5. گرین کیئر: ماہانہ لان مینٹیننس

    بزنس آئیڈیا:
    ہفتہ وار گھاس کٹائی، تراش خراش اور باغ کی صفائی۔
    کھاد ڈالنا اور موسمی پودے لگانا شامل۔
    شیڈول کے مطابق مالی کی وزٹ۔
    $20 ماہانہ میں سال بھر شاندار لان۔

    فروخت کا طریقہ:
    “آپ کا لان دیکھ کر پڑوسی حسد کریں گے۔”
    پہلے سے مینٹینڈ گارڈنز دکھائیں۔
    پہلی ٹرمنگ فری دیں۔



    6. فکس اِٹ پلس: جنرل ہوم مینٹیننس پلان

    بزنس آئیڈیا:
    چھوٹے الیکٹرک، پلمبنگ، کارپینٹری کام کا ماہانہ پیکج۔
    چھوٹے کاموں کیلئے لامحدود کال آؤٹ۔
    ماہانہ ایک مینٹیننس چیک۔
    $20 ماہانہ میں گھر ہمیشہ درست حالت میں۔

    فروخت کا طریقہ:
    “ایک کال، سب مسئلے حل — بغیر الگ چارجز۔”
    ایمرجنسی مرمت کے مقابلے میں بچت بتائیں۔
    فیملی اینڈ فرینڈز ڈسکاؤنٹ دیں۔



    7. کول بریز: ماہانہ اے سی سروس

    بزنس آئیڈیا:
    ماہانہ اے سی صفائی، گیس چیک اور چھوٹی مرمت۔
    کولنگ ایفیشنسی بہتر اور بجلی کا خرچ کم۔
    ایمرجنسی بریک ڈاؤن وزٹ شامل۔
    $20 ماہانہ میں ٹھنڈی گرمیوں کا مزہ۔

    فروخت کا طریقہ:
    “ماہانہ کیئر سے اے سی کا بل 30% کم کریں۔”
    غفلت زدہ اے سی کی دھول دکھا کر قائل کریں۔
    اینرجی سیونگ ٹپس مفت دیں۔



    8. فریش فولڈ: لانڈری اور استری سبسکرپشن

    بزنس آئیڈیا:
    ہفتے میں دو بار کپڑے پک اپ اور ڈلیور۔
    استری اور داغ صاف کرنے کی سروس شامل۔
    ایکو فرینڈلی ڈیٹرجنٹ کا استعمال۔
    $20 ماہانہ میں ہمیشہ تیار کپڑے۔

    فروخت کا طریقہ:
    “آپ کے کپڑے، تازہ اور فولڈڈ — بغیر کسی محنت۔”
    کام کرنے والے گھرانوں کیلئے وقت بچانے پر زور دیں۔
    پہلے 10 کلو فری آفر کریں۔



    9. کلب کنیکٹ: مقامی سرگرمی رکنیت

    بزنس آئیڈیا:
    قریبی کلب میں کھیل، گیمز اور سوشل ایونٹس کی رسائی۔
    ہفتہ وار کمیونٹی میٹنگز اور نیٹ ورکنگ۔
    ممبرز کیلئے اسپیشل ڈسکاؤنٹ۔
    $20 ماہانہ میں صحت اور سماجی زندگی بہتر۔

    فروخت کا طریقہ:
    “تفریح، فٹنس اور دوست — ایک ہی پاس میں۔”
    اوپن ڈے ایونٹس سے پروموشن کریں۔
    کپل/فیملی ڈسکاؤنٹ پیکیجز دیں۔



    10. اسکل اپ: نیا ہنر یا زبان سیکھیں

    بزنس آئیڈیا:
    انگلش، کوڈنگ، کُکنگ یا دیگر مہارتوں کی ہفتہ وار کلاسز۔
    سرٹیفائیڈ ٹرینرز اور پریکٹیکل لرننگ۔
    مصروف لوگوں کیلئے فلیکسبل ٹائمنگ۔
    $20 ماہانہ میں کیریئر اور شوق دونوں میں ترقی۔

    فروخت کا طریقہ:
    “خود پر سرمایہ کاری کریں — یہ سب سے بڑا منافع دیتا ہے۔”
    پہلے طلبہ کی کامیابی کی کہانیاں شیئر کریں۔
    مفت ٹرائل کلاس آفر کریں۔

    🌟 مسائل سے مواقع — صرف $20 ماہانہ میں حل! 🌟 میں نے آپ سب سے سوال کیا تھا: “آپ کس چیز کے لیے خوشی خوشی $20 ماہانہ دیں گے؟” آپ نے اپنے مسائل شیئر کیے۔ میں نے ChatGPT سے کہا کہ ان مسائل کو بزنس کے مواقع میں بدل دے — اور یہ سامنے آئے! 🚀 اگر آپ میں سے کوئی بھی ان میں سے کسی مسئلے کو حل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو بس ایک آئیڈیا منتخب کریں اور ChatGPT سے کہیں: “اس کا تفصیلی بزنس پلان بنا دو۔” یہ رہے $20 ماہانہ مواقع کے آئیڈیاز: 1️⃣ صاف نلکے کا پانی سپلائی 2️⃣ گھر اور گلی کی سکیورٹی 3️⃣ گھر کی باقاعدہ صفائی 4️⃣ انٹرنیٹ + یوٹیوب + نیٹ فلکس بنڈل 5️⃣ لان/باغبانی کی دیکھ بھال 6️⃣ جنرل ہوم مینٹیننس (الیکٹرک، پلمبنگ، کارپینٹری) 7️⃣ ماہانہ اے سی سروس 8️⃣ لانڈری اور استری سروس 9️⃣ مقامی کلب/سرگرمی کی ممبرشپ 🔟 نیا ہنر یا زبان سیکھنا 💬 یہ آئیڈیاز آسان، بڑھنے والے اور زیادہ تر گھروں کے لیے قابلِ برداشت ہیں۔ صحیح آدمی ان کو ایک مستقل ماہانہ آمدنی میں بدل سکتا ہے! ⸻ 📋 ہر بزنس آئیڈیا کی تفصیل اور فروخت کا طریقہ ⸻ 1. آبِ سیف: ماہانہ نلکے کا صاف پانی سپلائی بزنس آئیڈیا: گھر کے اندر براہِ راست نلکے سے فلٹر شدہ پینے کا پانی فراہم کریں۔ پیوریفکیشن سسٹم لگائیں اور ماہانہ فلٹر مینٹیننس کریں۔ 24/7 پانی دستیاب رکھنے کیلئے بیک اَپ ٹینک فراہم کریں۔ گاہک $20 ماہانہ میں لامحدود صاف پانی لیں۔ فروخت کا طریقہ: “بوتل اٹھانے کی ضرورت نہیں — خالص پانی اب آپ کے نل سے!” صحت اور آسانی کے فائدے بتائیں۔ اعتماد کیلئے 3 دن کا فری ٹرائل دیں۔ ⸻ 2. سکیور نیسٹ: ماہانہ سکیورٹی سروس بزنس آئیڈیا: 24/7 سکیورٹی گارڈ یا ریموٹ سی سی ٹی وی مانیٹرنگ فراہم کریں۔ ایپ کے ذریعے الرٹس اور ایمرجنسی ریسپانس ٹیمز۔ گھر کا سکیورٹی آڈٹ اور اپ گریڈ سروس۔ $20 ماہانہ میں تحفظ اور سکون۔ فروخت کا طریقہ: “آرام سے سوئیں — ہم آپ کے گھر کی نگرانی کر رہے ہیں۔” روک تھام کی مثالیں دکھائیں۔ ریفرل پر پہلا مہینہ فری دیں۔ ⸻ 3. اسپارکل کرو: ماہانہ صفائی پلان بزنس آئیڈیا: ہفتہ وار ڈیپ کلیننگ سروس برائے گھر/فلیٹ۔ کچن، باتھ روم، فلور اور ڈسٹنگ شامل۔ ایکو فرینڈلی پراڈکٹس کا استعمال۔ $20 ماہانہ میں صاف ستھرا گھر۔ فروخت کا طریقہ: “چھٹی کا دن فیملی کے ساتھ گزاریں، جھاڑو کے ساتھ نہیں۔” پہلے اور بعد کی تصاویر دکھا کر اثر پیدا کریں۔ لانڈری/استری کے ساتھ بَنڈل آفر دیں۔ ⸻ 4. اسٹریم پاک: انٹرنیٹ + یوٹیوب / نیٹ فلکس بزنس آئیڈیا: ہائی اسپیڈ وائی فائی کے ساتھ یوٹیوب اور نیٹ فلکس تک رسائی۔ پلیگ اینڈ پلے ڈیوائس، کوئی جھنجھٹ والا انسٹالیشن نہیں۔ $20 ماہانہ، کوئی ڈیٹا لمٹ نہیں۔ طلبہ اور فیملی دونوں کیلئے بہترین۔ فروخت کا طریقہ: “وائی فائی اور نیٹ فلکس — ایک ہی بل میں، بغیر اضافی خرچ۔” سائن اپ پر لائیو اسٹریمنگ کا ڈیمو دیں۔ پہلا ہفتہ آدھی قیمت میں آفر کریں۔ ⸻ 5. گرین کیئر: ماہانہ لان مینٹیننس بزنس آئیڈیا: ہفتہ وار گھاس کٹائی، تراش خراش اور باغ کی صفائی۔ کھاد ڈالنا اور موسمی پودے لگانا شامل۔ شیڈول کے مطابق مالی کی وزٹ۔ $20 ماہانہ میں سال بھر شاندار لان۔ فروخت کا طریقہ: “آپ کا لان دیکھ کر پڑوسی حسد کریں گے۔” پہلے سے مینٹینڈ گارڈنز دکھائیں۔ پہلی ٹرمنگ فری دیں۔ ⸻ 6. فکس اِٹ پلس: جنرل ہوم مینٹیننس پلان بزنس آئیڈیا: چھوٹے الیکٹرک، پلمبنگ، کارپینٹری کام کا ماہانہ پیکج۔ چھوٹے کاموں کیلئے لامحدود کال آؤٹ۔ ماہانہ ایک مینٹیننس چیک۔ $20 ماہانہ میں گھر ہمیشہ درست حالت میں۔ فروخت کا طریقہ: “ایک کال، سب مسئلے حل — بغیر الگ چارجز۔” ایمرجنسی مرمت کے مقابلے میں بچت بتائیں۔ فیملی اینڈ فرینڈز ڈسکاؤنٹ دیں۔ ⸻ 7. کول بریز: ماہانہ اے سی سروس بزنس آئیڈیا: ماہانہ اے سی صفائی، گیس چیک اور چھوٹی مرمت۔ کولنگ ایفیشنسی بہتر اور بجلی کا خرچ کم۔ ایمرجنسی بریک ڈاؤن وزٹ شامل۔ $20 ماہانہ میں ٹھنڈی گرمیوں کا مزہ۔ فروخت کا طریقہ: “ماہانہ کیئر سے اے سی کا بل 30% کم کریں۔” غفلت زدہ اے سی کی دھول دکھا کر قائل کریں۔ اینرجی سیونگ ٹپس مفت دیں۔ ⸻ 8. فریش فولڈ: لانڈری اور استری سبسکرپشن بزنس آئیڈیا: ہفتے میں دو بار کپڑے پک اپ اور ڈلیور۔ استری اور داغ صاف کرنے کی سروس شامل۔ ایکو فرینڈلی ڈیٹرجنٹ کا استعمال۔ $20 ماہانہ میں ہمیشہ تیار کپڑے۔ فروخت کا طریقہ: “آپ کے کپڑے، تازہ اور فولڈڈ — بغیر کسی محنت۔” کام کرنے والے گھرانوں کیلئے وقت بچانے پر زور دیں۔ پہلے 10 کلو فری آفر کریں۔ ⸻ 9. کلب کنیکٹ: مقامی سرگرمی رکنیت بزنس آئیڈیا: قریبی کلب میں کھیل، گیمز اور سوشل ایونٹس کی رسائی۔ ہفتہ وار کمیونٹی میٹنگز اور نیٹ ورکنگ۔ ممبرز کیلئے اسپیشل ڈسکاؤنٹ۔ $20 ماہانہ میں صحت اور سماجی زندگی بہتر۔ فروخت کا طریقہ: “تفریح، فٹنس اور دوست — ایک ہی پاس میں۔” اوپن ڈے ایونٹس سے پروموشن کریں۔ کپل/فیملی ڈسکاؤنٹ پیکیجز دیں۔ ⸻ 10. اسکل اپ: نیا ہنر یا زبان سیکھیں بزنس آئیڈیا: انگلش، کوڈنگ، کُکنگ یا دیگر مہارتوں کی ہفتہ وار کلاسز۔ سرٹیفائیڈ ٹرینرز اور پریکٹیکل لرننگ۔ مصروف لوگوں کیلئے فلیکسبل ٹائمنگ۔ $20 ماہانہ میں کیریئر اور شوق دونوں میں ترقی۔ فروخت کا طریقہ: “خود پر سرمایہ کاری کریں — یہ سب سے بڑا منافع دیتا ہے۔” پہلے طلبہ کی کامیابی کی کہانیاں شیئر کریں۔ مفت ٹرائل کلاس آفر کریں۔ ⸻
    0 Commenti 0 condivisioni 588 Views
  • گوگل نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب اس کا جدید اے آئی اسسٹنٹ Gemini، Google TV Streamer پر باقاعدہ لانچ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پرانا Google Assistant آہستہ آہستہ ختم ہو کر مکمل طور پر Gemini سے تبدیل ہو جائے گا۔ یوں اب ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرنے کا انداز پہلے سے کہیں زیادہ قدرتی، لچکدار اور طاقتور ہو جاتا ہے، کیونکہ Gemini وہی سہولتیں فراہم کرتا ہے جو فون یا ٹیبلیٹ پر ملتی ہیں۔

    یہ تبدیلی صرف سادہ وائس کمانڈز تک محدود نہیں۔ اب صارف اپنی پسند کے مطابق پیچیدہ جملے بھی بول سکتا ہے جنہیں Gemini پوری طرح سمجھ کر جواب دے گا۔ مثال کے طور پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ “میری پسند ڈرامے ہیں اور باقی گھر والوں کو کامیڈی پسند ہے، کوئی ایسی فلم بتاؤ جو ہم سب ایک ساتھ دیکھ سکیں۔” اس سے الگ الگ سرچ کرنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کوئی صارف یہ پوچھ سکتا ہے کہ “آؤٹ لینڈر کے پچھلے سیزن میں آخر میں کیا ہوا تھا؟” اور Gemini فوراً ایک مختصر recap دے دے گا تاکہ دوبارہ دیکھنے سے پہلے کہانی ذہن میں تازہ ہو جائے۔

    تفریح کے علاوہ اس اے آئی کی طاقت عام معلومات میں بھی مدد دیتی ہے۔ اگر کوئی بچہ کچھ پڑھ رہا ہو تو والدین ٹی وی سے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ “میرے تیسرے گریڈر کو آتش فشاں کیوں پھٹتے ہیں سمجھاؤ۔” Gemini نہ صرف وضاحت کرے گا بلکہ اسی موضوع پر دستیاب یوٹیوب ویڈیوز بھی سامنے رکھ دے گا۔ یہی سہولت DIY پروجیکٹس، گھر کے چھوٹے موٹے کاموں اور کچن میں نئی ریسیپی بنانے تک پھیل جاتی ہے۔ یوں ٹی وی صرف اسکرین نہیں رہتا، بلکہ ایک مکمل اسمارٹ سیکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

    استعمال کا طریقہ بھی بہت سادہ ہے۔ ریموٹ پر مائیکروفون بٹن دبائیں اور Gemini فوراً سننا شروع کر دے گا۔ گوگل کے مطابق یہ فیچر آئندہ چند ہفتوں میں بتدریج تمام صارفین تک پہنچے گا، البتہ شرط یہ ہے کہ صارف کی عمر اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ ہو۔

    گوگل اپنے تمام ایکوسسٹم سے Google Assistant کو ہٹا کر ایک یونائٹیڈ Gemini تجربہ فراہم کرنا چاہتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں کمپنی نے TCL اور Hisense کے متعدد 2025 ماڈلز کے لیے بھی یہی اعلان کیا تھا، اور Walmart کے Onn 4K Pro اسٹریمر پر بھی Gemini پہلے ہی دستیاب ہے۔

    مستقبل کا اسمارٹ ٹی وی صرف آن ڈیمانڈ کنٹینٹ کے لیے نہیں رہے گا بلکہ گھریلو معلومات، لرننگ، سرچ، تفریح، ہوم ورک، کچن گائیڈز، DIY ٹیوٹوریلز اور روزمرہ سوالات سب کا مرکز بننے والا ہے۔
    اے آئی کی دنیا سے۔
    #AI via #aikiduniya
    گوگل نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب اس کا جدید اے آئی اسسٹنٹ Gemini، Google TV Streamer پر باقاعدہ لانچ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پرانا Google Assistant آہستہ آہستہ ختم ہو کر مکمل طور پر Gemini سے تبدیل ہو جائے گا۔ یوں اب ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرنے کا انداز پہلے سے کہیں زیادہ قدرتی، لچکدار اور طاقتور ہو جاتا ہے، کیونکہ Gemini وہی سہولتیں فراہم کرتا ہے جو فون یا ٹیبلیٹ پر ملتی ہیں۔ یہ تبدیلی صرف سادہ وائس کمانڈز تک محدود نہیں۔ اب صارف اپنی پسند کے مطابق پیچیدہ جملے بھی بول سکتا ہے جنہیں Gemini پوری طرح سمجھ کر جواب دے گا۔ مثال کے طور پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ “میری پسند ڈرامے ہیں اور باقی گھر والوں کو کامیڈی پسند ہے، کوئی ایسی فلم بتاؤ جو ہم سب ایک ساتھ دیکھ سکیں۔” اس سے الگ الگ سرچ کرنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کوئی صارف یہ پوچھ سکتا ہے کہ “آؤٹ لینڈر کے پچھلے سیزن میں آخر میں کیا ہوا تھا؟” اور Gemini فوراً ایک مختصر recap دے دے گا تاکہ دوبارہ دیکھنے سے پہلے کہانی ذہن میں تازہ ہو جائے۔ تفریح کے علاوہ اس اے آئی کی طاقت عام معلومات میں بھی مدد دیتی ہے۔ اگر کوئی بچہ کچھ پڑھ رہا ہو تو والدین ٹی وی سے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ “میرے تیسرے گریڈر کو آتش فشاں کیوں پھٹتے ہیں سمجھاؤ۔” Gemini نہ صرف وضاحت کرے گا بلکہ اسی موضوع پر دستیاب یوٹیوب ویڈیوز بھی سامنے رکھ دے گا۔ یہی سہولت DIY پروجیکٹس، گھر کے چھوٹے موٹے کاموں اور کچن میں نئی ریسیپی بنانے تک پھیل جاتی ہے۔ یوں ٹی وی صرف اسکرین نہیں رہتا، بلکہ ایک مکمل اسمارٹ سیکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ استعمال کا طریقہ بھی بہت سادہ ہے۔ ریموٹ پر مائیکروفون بٹن دبائیں اور Gemini فوراً سننا شروع کر دے گا۔ گوگل کے مطابق یہ فیچر آئندہ چند ہفتوں میں بتدریج تمام صارفین تک پہنچے گا، البتہ شرط یہ ہے کہ صارف کی عمر اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ ہو۔ گوگل اپنے تمام ایکوسسٹم سے Google Assistant کو ہٹا کر ایک یونائٹیڈ Gemini تجربہ فراہم کرنا چاہتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں کمپنی نے TCL اور Hisense کے متعدد 2025 ماڈلز کے لیے بھی یہی اعلان کیا تھا، اور Walmart کے Onn 4K Pro اسٹریمر پر بھی Gemini پہلے ہی دستیاب ہے۔ مستقبل کا اسمارٹ ٹی وی صرف آن ڈیمانڈ کنٹینٹ کے لیے نہیں رہے گا بلکہ گھریلو معلومات، لرننگ، سرچ، تفریح، ہوم ورک، کچن گائیڈز، DIY ٹیوٹوریلز اور روزمرہ سوالات سب کا مرکز بننے والا ہے۔ اے آئی کی دنیا سے۔ #AI via #aikiduniya
    0 Commenti 0 condivisioni 1139 Views
  • جمہوریت کا مستقبل (2025–2125):
    اگلے 100 سال میں کیا ہونے والا ہے — اور کیوں
    ChatGPT کی ایک کہانی نما پیش گوئی

    2025 میں پوری دنیا سیاست کے جنون میں گرفتار ہے۔

    لوگ پارٹیوں پر لڑتے ہیں۔
    الیکشن کے دنوں میں سوشل میڈیا پھٹ پڑتا ہے۔
    قومیں بائیں اور دائیں کی لڑائی میں بند پڑی ہیں، جبکہ AI، موسمیاتی تبدیلی اور گرتی ہوئی معیشتوں کے اس دور میں یہ الفاظ اپنی معنی کھو چکے ہیں۔

    لیکن اگر آپ 2025 سے 2125 — اگلے 100 سال — کو ذوم آؤٹ کر کے دیکھیں…
    تو پوری سیاسی دنیا بدل جاتی ہے۔

    یہ ہے اصل مستقبل۔



    1. 2025–2040: روایتی سیاست کا سست زوال (کیوں؟)

    کیا ہوتا ہے
    • عوام کا سیاست دانوں پر اعتماد ختم ہوتا جاتا ہے۔
    • حکومتیں تیز رفتار مسائل حل کرنے میں ناکام ہونے لگتی ہیں۔
    • عالمی بحران (موسم، معیشت، ہجرت) انسانی رفتار سے زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں۔
    • لوگ “کم بات، زیادہ درستگی” چاہتے ہیں۔

    کیوں ہوتا ہے

    کیونکہ سیاست سست ہے…
    اور دنیا اب تیز ہے۔

    جمہوریت 1700 کی دہائی میں بنی تھی:
    کاغذی ووٹ، سست رابطے، جذباتی تقریریں، محدود معلومات۔

    لیکن آج کے مسائل — وبائیں، AI سیفٹی، سائبر حملے، گرمی، معیشت — منٹوں میں فیصلے مانگتے ہیں، سالوں میں نہیں۔

    انسانی حکومتیں اس رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
    AI کر سکتی ہے۔

    یہ پہلا موڑ ہے:

    انسان ووٹ دیتے رہیں گے، مگر حکومتیں AI سے مشورہ لینا شروع کردیں گی۔

    سنگاپور، ایسٹونیا، UAE، چین اور جنوبی کوریا جیسے ملک AI کو استعمال کریں گے:
    • معاشی پیشگوئی
    • بجٹنگ
    • ٹریفک کنٹرول
    • سیکیورٹی پیٹرنز
    • موسمیاتی تجزیہ
    • صحت کا منصوبہ

    لوگ آہستہ آہستہ سمجھ جائیں گے:

    AI وہ دیکھتی ہے جو انسان نہیں دیکھ سکتے۔



    2. 2040–2060: AI کی مدد سے چلنے والی جمہوریتیں (کیوں؟)

    کیا ہوتا ہے

    حکومتیں “AI-ہائیبریڈ” بن جاتی ہیں۔
    سیاست دان اندازے لگانا چھوڑ دیتے ہیں۔
    ہر پالیسی AI سے چیک کرائی جاتی ہے۔

    کوئی پل بنے، ٹیکس بڑھے، پابندی لگے یا جنگ کا فیصلہ ہو —
    AI پہلے لاکھوں منظرنامے چلا کر نتائج دکھاتی ہے۔

    کیوں ہوتا ہے

    کیونکہ AI انسانوں سے بہتر ہو جاتی ہے:
    • ڈیٹا پڑھنے میں
    • جھوٹ پکڑنے میں
    • نتائج کی پیشگوئی میں
    • بجٹ بہتر بنانے میں
    • کرپشن روکنے میں

    ووٹروں کی نئی مانگ:

    “فیصلہ دکھانے سے پہلے AI رپورٹس دکھاؤ”

    سیاسی جھگڑے کم ہونے لگتے ہیں۔
    ثبوت اور ڈیٹا زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔

    200 سال بعد پہلی بار جمہوریت اپ گریڈ ہوتی ہے۔



    3. 2060–2080: میگا شہروں کا ملک بن جانا (کیوں؟)

    کیا ہوتا ہے

    شہر ملکوں سے زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں۔

    کراچی، دہلی، لاگوس، جکارتہ، قاہرہ، ڈھاکہ، ٹوکیو…
    ہر ایک میں 50 سے 100 ملین لوگ ہوں گے — کئی ملکوں سے زیادہ۔

    یہ شہر چاہیں گے:
    • اپنا بجٹ
    • اپنی AI گورننس
    • اپنی پبلک سروسز
    • اپنے مقامی قوانین

    ملک “برانڈ” بن جائیں گے،
    شہر اصل طاقت۔

    کیوں ہوتا ہے

    کیونکہ شہر کنٹرول کرتے ہیں:
    • 80% GDP
    • 90% اختراع
    • 95% نوکریاں
    • زیادہ آبادی

    آپ کی “شہری حکومت” آپ کی قومی حکومت سے زیادہ اہم ہو جائے گی۔



    4. 2080–2100: ٹیکنوکریٹس کا دور (کیوں؟)

    کیا ہوتا ہے

    سیاست دان علامتی رہ جاتے ہیں۔
    حقیقی فیصلے ان کے ہاتھ میں آتے ہیں:
    • انجینئر
    • ڈیٹا سائنسدان
    • ڈاکٹر
    • سائنسدان
    • ماہرِ معیشت
    • AI سسٹمز

    ایک دنیا کا تصور کریں جہاں:
    • صحت پر ڈاکٹر فیصلے کریں
    • ٹرانسپورٹ پر انجینئر
    • ڈیجیٹل قوانین پر سائبر ماہرین
    • کرپشن پر AI نظر رکھے
    • ماحولیات پر سائنسدان حکومت کریں

    کیوں ہوتا ہے

    کیونکہ انسان آخر سمجھ جاتے ہیں:

    مہارت > مقبولیت
    اہلیت > تقریریں
    درستگی > جذبات



    5. 2100–2125: پہلا عالمی ہم آہنگی سسٹم (کیوں؟)

    کیا ہوتا ہے

    تاریخ میں پہلی بار ملک ایک عالمی AI گورننس سسٹم سے جڑتے ہیں۔

    یہ سسٹم ہم آہنگ کرے گا:
    • موسم
    • خوراک
    • وبائیں
    • سمندر
    • خلا
    • ہجرت
    • ڈیجیٹل شناختیں

    ملک آزاد رہیں گے۔
    جھنڈے رہیں گے۔
    ثقافتیں رہیں گی۔

    مگر نظام ایک جیسے ہو جائیں گے — جیسے انٹرنیٹ:

    جائزے مختلف، نیٹ ورک ایک۔

    کیوں ہوتا ہے

    کیونکہ عالمی مسائل کو عالمی حل چاہیے۔

    کوئی ملک تنہا حل نہیں کر سکتا:
    • موسم
    • وائرس
    • سمندر کی تباہی
    • خلائی خطرات
    • ہجرت

    انسان آخر سمجھ جاتے ہیں:

    مشترکہ ذہانت، مشترکہ سرحدوں سے زیادہ طاقتور ہے۔



    انسانوں کو کس چیز کی تیاری کرنی چاہیے

    1. سیاسی شناختیں بے فائدہ ہو جائیں گی

    بائیں، دائیں، جمہوریت، لبرل… یہ سب مٹ جائیں گے۔

    2. AI سمجھنا، سیاست سمجھنے سے زیادہ ضروری ہوگا

    جو لوگ AI سمجھیں گے وہ مستقبل بنائیں گے۔

    3. مہارت جیتے گی، بحث نہیں

    مستقبل کے لیڈر ہوں گے:
    نِت نئی چیزیں بنانے والے، حل نکالنے والے، ٹیک ماہرین، تخلیق کار۔

    4. جذبات پر کنٹرول ضروری

    سیاست آج غصے پر چلتی ہے۔
    مستقبل وضاحت پر چلے گا۔

    5. مقامی حکومت قومی سیاست سے اہم

    آپ کا شہر آپ کی زندگی بدل دے گا۔

    6. نوجوانوں کو “الیکشن کے بعد کی دنیا” کے لیے تیار رہنا ہو گا

    جمہوریت ووٹ سے آگے بڑھ کر ذہانت پر مبنی سسٹم بنے گی۔



    اگلے 100 سال کی اصل حقیقت

    جنگیں ختم ہوئیں → سفارت آئی۔
    سفارت ختم ہوئی → معیشت آئی۔
    معیشت ختم ہوگی → ذہانت آئے گی۔

    ہم روایتی سیاست کی آخری نسل ہیں۔

    جلد سیاست کی لڑائیاں، تقریریں، ٹی وی شو، نعرے…
    اسی طرح پرانی لگیں گی جیسے:
    • بادشاہ
    • جاگیردار
    • پرانی فوجیں

    وقت میں اہم…
    مگر آج کے دور میں بے کار۔

    اگلے 100 سال کا زمانہ ہوگا:

    AI جمہوریتوں، شہر ریاستوں، عالمی ہم آہنگی، ماہرین اور ذہین سسٹمز کا — نہ کہ سیاسی پارٹیوں کا۔

    یہ سائنس فکشن نہیں۔
    یہ آغاز ہو چکا ہے۔

    اور جو لوگ اسے ابھی سمجھ جاتے ہیں —
    وہی مستقبل کے لیڈر بنیں گے۔
    ⭐ جمہوریت کا مستقبل (2025–2125): اگلے 100 سال میں کیا ہونے والا ہے — اور کیوں ChatGPT کی ایک کہانی نما پیش گوئی 2025 میں پوری دنیا سیاست کے جنون میں گرفتار ہے۔ لوگ پارٹیوں پر لڑتے ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں سوشل میڈیا پھٹ پڑتا ہے۔ قومیں بائیں اور دائیں کی لڑائی میں بند پڑی ہیں، جبکہ AI، موسمیاتی تبدیلی اور گرتی ہوئی معیشتوں کے اس دور میں یہ الفاظ اپنی معنی کھو چکے ہیں۔ لیکن اگر آپ 2025 سے 2125 — اگلے 100 سال — کو ذوم آؤٹ کر کے دیکھیں… تو پوری سیاسی دنیا بدل جاتی ہے۔ یہ ہے اصل مستقبل۔ ⸻ ⭐ 1. 2025–2040: روایتی سیاست کا سست زوال (کیوں؟) کیا ہوتا ہے • عوام کا سیاست دانوں پر اعتماد ختم ہوتا جاتا ہے۔ • حکومتیں تیز رفتار مسائل حل کرنے میں ناکام ہونے لگتی ہیں۔ • عالمی بحران (موسم، معیشت، ہجرت) انسانی رفتار سے زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں۔ • لوگ “کم بات، زیادہ درستگی” چاہتے ہیں۔ کیوں ہوتا ہے کیونکہ سیاست سست ہے… اور دنیا اب تیز ہے۔ جمہوریت 1700 کی دہائی میں بنی تھی: کاغذی ووٹ، سست رابطے، جذباتی تقریریں، محدود معلومات۔ لیکن آج کے مسائل — وبائیں، AI سیفٹی، سائبر حملے، گرمی، معیشت — منٹوں میں فیصلے مانگتے ہیں، سالوں میں نہیں۔ انسانی حکومتیں اس رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ AI کر سکتی ہے۔ یہ پہلا موڑ ہے: ⭐ انسان ووٹ دیتے رہیں گے، مگر حکومتیں AI سے مشورہ لینا شروع کردیں گی۔ سنگاپور، ایسٹونیا، UAE، چین اور جنوبی کوریا جیسے ملک AI کو استعمال کریں گے: • معاشی پیشگوئی • بجٹنگ • ٹریفک کنٹرول • سیکیورٹی پیٹرنز • موسمیاتی تجزیہ • صحت کا منصوبہ لوگ آہستہ آہستہ سمجھ جائیں گے: AI وہ دیکھتی ہے جو انسان نہیں دیکھ سکتے۔ ⸻ ⭐ 2. 2040–2060: AI کی مدد سے چلنے والی جمہوریتیں (کیوں؟) کیا ہوتا ہے حکومتیں “AI-ہائیبریڈ” بن جاتی ہیں۔ سیاست دان اندازے لگانا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہر پالیسی AI سے چیک کرائی جاتی ہے۔ کوئی پل بنے، ٹیکس بڑھے، پابندی لگے یا جنگ کا فیصلہ ہو — AI پہلے لاکھوں منظرنامے چلا کر نتائج دکھاتی ہے۔ کیوں ہوتا ہے کیونکہ AI انسانوں سے بہتر ہو جاتی ہے: • ڈیٹا پڑھنے میں • جھوٹ پکڑنے میں • نتائج کی پیشگوئی میں • بجٹ بہتر بنانے میں • کرپشن روکنے میں ووٹروں کی نئی مانگ: “فیصلہ دکھانے سے پہلے AI رپورٹس دکھاؤ” سیاسی جھگڑے کم ہونے لگتے ہیں۔ ثبوت اور ڈیٹا زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔ 200 سال بعد پہلی بار جمہوریت اپ گریڈ ہوتی ہے۔ ⸻ ⭐ 3. 2060–2080: میگا شہروں کا ملک بن جانا (کیوں؟) کیا ہوتا ہے شہر ملکوں سے زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں۔ کراچی، دہلی، لاگوس، جکارتہ، قاہرہ، ڈھاکہ، ٹوکیو… ہر ایک میں 50 سے 100 ملین لوگ ہوں گے — کئی ملکوں سے زیادہ۔ یہ شہر چاہیں گے: • اپنا بجٹ • اپنی AI گورننس • اپنی پبلک سروسز • اپنے مقامی قوانین ملک “برانڈ” بن جائیں گے، شہر اصل طاقت۔ کیوں ہوتا ہے کیونکہ شہر کنٹرول کرتے ہیں: • 80% GDP • 90% اختراع • 95% نوکریاں • زیادہ آبادی آپ کی “شہری حکومت” آپ کی قومی حکومت سے زیادہ اہم ہو جائے گی۔ ⸻ ⭐ 4. 2080–2100: ٹیکنوکریٹس کا دور (کیوں؟) کیا ہوتا ہے سیاست دان علامتی رہ جاتے ہیں۔ حقیقی فیصلے ان کے ہاتھ میں آتے ہیں: • انجینئر • ڈیٹا سائنسدان • ڈاکٹر • سائنسدان • ماہرِ معیشت • AI سسٹمز ایک دنیا کا تصور کریں جہاں: • صحت پر ڈاکٹر فیصلے کریں • ٹرانسپورٹ پر انجینئر • ڈیجیٹل قوانین پر سائبر ماہرین • کرپشن پر AI نظر رکھے • ماحولیات پر سائنسدان حکومت کریں کیوں ہوتا ہے کیونکہ انسان آخر سمجھ جاتے ہیں: مہارت > مقبولیت اہلیت > تقریریں درستگی > جذبات ⸻ ⭐ 5. 2100–2125: پہلا عالمی ہم آہنگی سسٹم (کیوں؟) کیا ہوتا ہے تاریخ میں پہلی بار ملک ایک عالمی AI گورننس سسٹم سے جڑتے ہیں۔ یہ سسٹم ہم آہنگ کرے گا: • موسم • خوراک • وبائیں • سمندر • خلا • ہجرت • ڈیجیٹل شناختیں ملک آزاد رہیں گے۔ جھنڈے رہیں گے۔ ثقافتیں رہیں گی۔ مگر نظام ایک جیسے ہو جائیں گے — جیسے انٹرنیٹ: جائزے مختلف، نیٹ ورک ایک۔ کیوں ہوتا ہے کیونکہ عالمی مسائل کو عالمی حل چاہیے۔ کوئی ملک تنہا حل نہیں کر سکتا: • موسم • وائرس • سمندر کی تباہی • خلائی خطرات • ہجرت انسان آخر سمجھ جاتے ہیں: مشترکہ ذہانت، مشترکہ سرحدوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ ⸻ ⭐ انسانوں کو کس چیز کی تیاری کرنی چاہیے 1. سیاسی شناختیں بے فائدہ ہو جائیں گی بائیں، دائیں، جمہوریت، لبرل… یہ سب مٹ جائیں گے۔ 2. AI سمجھنا، سیاست سمجھنے سے زیادہ ضروری ہوگا جو لوگ AI سمجھیں گے وہ مستقبل بنائیں گے۔ 3. مہارت جیتے گی، بحث نہیں مستقبل کے لیڈر ہوں گے: نِت نئی چیزیں بنانے والے، حل نکالنے والے، ٹیک ماہرین، تخلیق کار۔ 4. جذبات پر کنٹرول ضروری سیاست آج غصے پر چلتی ہے۔ مستقبل وضاحت پر چلے گا۔ 5. مقامی حکومت قومی سیاست سے اہم آپ کا شہر آپ کی زندگی بدل دے گا۔ 6. نوجوانوں کو “الیکشن کے بعد کی دنیا” کے لیے تیار رہنا ہو گا جمہوریت ووٹ سے آگے بڑھ کر ذہانت پر مبنی سسٹم بنے گی۔ ⸻ ⭐ اگلے 100 سال کی اصل حقیقت جنگیں ختم ہوئیں → سفارت آئی۔ سفارت ختم ہوئی → معیشت آئی۔ معیشت ختم ہوگی → ذہانت آئے گی۔ ہم روایتی سیاست کی آخری نسل ہیں۔ جلد سیاست کی لڑائیاں، تقریریں، ٹی وی شو، نعرے… اسی طرح پرانی لگیں گی جیسے: • بادشاہ • جاگیردار • پرانی فوجیں وقت میں اہم… مگر آج کے دور میں بے کار۔ اگلے 100 سال کا زمانہ ہوگا: AI جمہوریتوں، شہر ریاستوں، عالمی ہم آہنگی، ماہرین اور ذہین سسٹمز کا — نہ کہ سیاسی پارٹیوں کا۔ یہ سائنس فکشن نہیں۔ یہ آغاز ہو چکا ہے۔ اور جو لوگ اسے ابھی سمجھ جاتے ہیں — وہی مستقبل کے لیڈر بنیں گے۔
    0 Commenti 0 condivisioni 183 Views
  • “جب ٹائم اچھا آتا ہے تو آپ بلا جدھر گھمائیں، بال ادھر آ جاتی ہے”

    اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کے حالات اچھے ہوتے ہیں، قسمت ساتھ دے رہی ہوتی ہے، اور محنت کا وقت پھل دینے لگتا ہے—تو چھوٹی سی کوشش بھی بڑی کامیابی میں بدل جاتی ہے۔

    جیسے کرکٹ میں:
    • کبھی کھلاڑی پوری طاقت سے شاٹ مارتا ہے، لیکن کیچ آؤٹ ہو جاتا ہے
    • اور کبھی ہلکی سی ہٹ بھی باؤنڈری بن جاتی ہے

    یہی فرق “ٹائم” یا “قسمت کے ساتھ ہونے” کا ہے۔



    مضمون: وقت کا ساتھ — کامیابی کا راز

    زندگی ایک میدان ہے، اور ہر انسان اس میدان میں اپنی پوری کوشش کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ کوئی دن رات محنت کرتا ہے، کوئی خواب دیکھتا ہے، اور کوئی اپنی قسمت کو کوستا رہتا ہے۔ لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جو ہر انسان کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے—اور وہ ہے “وقت”۔

    اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ دو لوگ ایک جیسی محنت کرتے ہیں، ایک کامیاب ہو جاتا ہے اور دوسرا نہیں۔ یہ فرق صرف محنت کا نہیں ہوتا، بلکہ وقت کا بھی ہوتا ہے۔ جب وقت اچھا ہوتا ہے، تو چھوٹی سی کوشش بھی بڑے نتیجے میں بدل جاتی ہے۔ جیسے ایک کرکٹر جب فارم میں ہوتا ہے تو اس کی معمولی شاٹ بھی چوکا بن جاتی ہے، لیکن جب وقت خراب ہو تو بہترین شاٹ بھی فیل ہو جاتا ہے۔

    یہ جملہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی میں صرف محنت ہی کافی نہیں، بلکہ صبر اور مستقل مزاجی بھی ضروری ہے۔ کیونکہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ برا وقت بھی آتا ہے، اور اچھا وقت بھی۔ اصل کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جو برے وقت میں ہمت نہیں ہارتے اور اچھے وقت میں غرور نہیں کرتے۔

    جب انسان مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے، سیکھتا رہتا ہے، اور ہمت نہیں ہارتا، تو ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب حالات اس کے حق میں ہونے لگتے ہیں۔ اس وقت اس کی ہر کوشش کامیاب ہونے لگتی ہے، ہر دروازہ کھلنے لگتا ہے، اور ہر راستہ آسان لگنے لگتا ہے۔

    لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے وقت کے آنے کا انتظار نہ کریں بلکہ اپنی محنت، سیکھنے، اور کردار کو اتنا مضبوط بنائیں کہ جب وقت آئے تو ہم اس موقع کو پوری طرح استعمال کر سکیں۔

    آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ:
    وقت بدلتا ہے، لیکن جو لوگ خود کو نہیں بدلتے، وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔
    اور جو لوگ خود کو بہتر بناتے رہتے ہیں، وقت خود ان کے حق میں ہو جاتا ہے۔
    “جب ٹائم اچھا آتا ہے تو آپ بلا جدھر گھمائیں، بال ادھر آ جاتی ہے” اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کے حالات اچھے ہوتے ہیں، قسمت ساتھ دے رہی ہوتی ہے، اور محنت کا وقت پھل دینے لگتا ہے—تو چھوٹی سی کوشش بھی بڑی کامیابی میں بدل جاتی ہے۔ 👉 جیسے کرکٹ میں: • کبھی کھلاڑی پوری طاقت سے شاٹ مارتا ہے، لیکن کیچ آؤٹ ہو جاتا ہے • اور کبھی ہلکی سی ہٹ بھی باؤنڈری بن جاتی ہے یہی فرق “ٹائم” یا “قسمت کے ساتھ ہونے” کا ہے۔ ⸻ ✍️ مضمون: وقت کا ساتھ — کامیابی کا راز زندگی ایک میدان ہے، اور ہر انسان اس میدان میں اپنی پوری کوشش کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ کوئی دن رات محنت کرتا ہے، کوئی خواب دیکھتا ہے، اور کوئی اپنی قسمت کو کوستا رہتا ہے۔ لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جو ہر انسان کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے—اور وہ ہے “وقت”۔ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ دو لوگ ایک جیسی محنت کرتے ہیں، ایک کامیاب ہو جاتا ہے اور دوسرا نہیں۔ یہ فرق صرف محنت کا نہیں ہوتا، بلکہ وقت کا بھی ہوتا ہے۔ جب وقت اچھا ہوتا ہے، تو چھوٹی سی کوشش بھی بڑے نتیجے میں بدل جاتی ہے۔ جیسے ایک کرکٹر جب فارم میں ہوتا ہے تو اس کی معمولی شاٹ بھی چوکا بن جاتی ہے، لیکن جب وقت خراب ہو تو بہترین شاٹ بھی فیل ہو جاتا ہے۔ یہ جملہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی میں صرف محنت ہی کافی نہیں، بلکہ صبر اور مستقل مزاجی بھی ضروری ہے۔ کیونکہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ برا وقت بھی آتا ہے، اور اچھا وقت بھی۔ اصل کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جو برے وقت میں ہمت نہیں ہارتے اور اچھے وقت میں غرور نہیں کرتے۔ جب انسان مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے، سیکھتا رہتا ہے، اور ہمت نہیں ہارتا، تو ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب حالات اس کے حق میں ہونے لگتے ہیں۔ اس وقت اس کی ہر کوشش کامیاب ہونے لگتی ہے، ہر دروازہ کھلنے لگتا ہے، اور ہر راستہ آسان لگنے لگتا ہے۔ لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے وقت کے آنے کا انتظار نہ کریں بلکہ اپنی محنت، سیکھنے، اور کردار کو اتنا مضبوط بنائیں کہ جب وقت آئے تو ہم اس موقع کو پوری طرح استعمال کر سکیں۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ: وقت بدلتا ہے، لیکن جو لوگ خود کو نہیں بدلتے، وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اور جو لوگ خود کو بہتر بناتے رہتے ہیں، وقت خود ان کے حق میں ہو جاتا ہے۔
    0 Commenti 0 condivisioni 159 Views
  • تاریخ: 3 مئی 2026

    موضوع: شدید گرمی کی لہر کے دوران طلبہ کے لیے فوری حفاظتی اقدامات

    محترم،

    اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے جس کے باعث خاص طور پر چھوٹے بچوں (مونٹیسوری تا جماعت پنجم) کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر تمام اسکولوں کے لیے فوری اور واضح حفاظتی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

    درخواست ہے کہ درج ذیل ہدایات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے:

    1. اسمبلی، بریک اور چھٹی کا وقت:
    بچوں کو کھلی دھوپ میں کھڑا کرنے کے بجائے کلاس رومز یا سایہ دار جگہوں پر رکھا جائے۔
    2. صاف اور ٹھنڈا پانی:
    ہر طالب علم کے لیے ہر وقت صاف اور ٹھنڈے پانی کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
    3. بیرونی سرگرمیاں معطل:
    کھیل اور دیگر آؤٹ ڈور سرگرمیوں کو وقتی طور پر بند کر کے اندرونی سرگرمیوں میں تبدیل کیا جائے۔
    4. کلاس روم کا ماحول:
    ہر کلاس میں مناسب پنکھوں، وینٹیلیشن اور بجلی کا مؤثر انتظام کیا جائے تاکہ گرمی کا اثر کم ہو۔
    5. ہیلتھ ایمرجنسی تیاری:
    ہر اسکول میں بنیادی طبی سہولت اور ہیٹ اسٹروک سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی تیاری موجود ہو۔

    مزید یہ کہ تمام تعلیمی اداروں کو ان ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کا پابند بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    بچوں کی صحت اور حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس معاملے میں فوری اور سنجیدہ اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

    والسلام
    تاریخ: 3 مئی 2026 موضوع: شدید گرمی کی لہر کے دوران طلبہ کے لیے فوری حفاظتی اقدامات محترم، اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے جس کے باعث خاص طور پر چھوٹے بچوں (مونٹیسوری تا جماعت پنجم) کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر تمام اسکولوں کے لیے فوری اور واضح حفاظتی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ درخواست ہے کہ درج ذیل ہدایات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے: 1. اسمبلی، بریک اور چھٹی کا وقت: بچوں کو کھلی دھوپ میں کھڑا کرنے کے بجائے کلاس رومز یا سایہ دار جگہوں پر رکھا جائے۔ 2. صاف اور ٹھنڈا پانی: ہر طالب علم کے لیے ہر وقت صاف اور ٹھنڈے پانی کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ 3. بیرونی سرگرمیاں معطل: کھیل اور دیگر آؤٹ ڈور سرگرمیوں کو وقتی طور پر بند کر کے اندرونی سرگرمیوں میں تبدیل کیا جائے۔ 4. کلاس روم کا ماحول: ہر کلاس میں مناسب پنکھوں، وینٹیلیشن اور بجلی کا مؤثر انتظام کیا جائے تاکہ گرمی کا اثر کم ہو۔ 5. ہیلتھ ایمرجنسی تیاری: ہر اسکول میں بنیادی طبی سہولت اور ہیٹ اسٹروک سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی تیاری موجود ہو۔ مزید یہ کہ تمام تعلیمی اداروں کو ان ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کا پابند بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ بچوں کی صحت اور حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس معاملے میں فوری اور سنجیدہ اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ والسلام
    0 Commenti 0 condivisioni 122 Views
  • Aldi کی کہانی دنیا کی سب سے دلچسپ بزنس کہانیوں میں سے ایک ہے۔

    یہ کسی امیر خاندان سے شروع نہیں ہوئی تھی…
    بلکہ جرمنی کی ایک چھوٹی سی کریانہ دکان سے شروع ہوئی۔

    آغاز — ایک ماں کی چھوٹی دکان

    1913 میں جرمنی کے شہر ایسن میں ایک خاتون انا البرخت نے ایک چھوٹی سی گروسری شاپ کھولی۔

    یہ دکان بہت سادہ تھی:

    * چھوٹی شیلفیں
    * بنیادی کھانے پینے کی چیزیں
    * عام مزدور طبقے کے گاہک
    * کوئی لگژری نہیں

    پھر جرمنی پر آئے:

    * پہلی جنگِ عظیم
    * معاشی تباہی
    * مہنگائی کا طوفان
    * دوسری جنگِ عظیم

    جرمنی تقریباً تباہ ہو چکا تھا۔

    لوگوں کے پاس پیسے نہیں تھے…
    انہیں صرف سستا کھانا چاہیے تھا۔

    دو بھائی جنگ سے واپس آئے

    جنگ کے بعد انا البرخت کے دو بیٹے:

    * Karl Albrecht
    * Theo Albrecht

    گھر واپس آئے۔

    انہوں نے دیکھا:

    * ملک تباہ ہے
    * لوگ غریب ہیں
    * ہر شخص پیسے بچانا چاہتا ہے

    تب انہوں نے ایک زبردست بات سمجھی:

    لوگ خوبصورت دکان نہیں چاہتے…
    لوگ سستی چیز چاہتے ہیں۔

    یہی سوچ بعد میں دنیا بدلنے والی ثابت ہوئی۔

    انقلابی آئیڈیا

    اس زمانے میں سپر مارکیٹس:

    * بہت زیادہ چیزیں رکھتی تھیں
    * دکانوں کو خوبصورت بناتی تھیں
    * زیادہ اسٹاف رکھتی تھیں

    لیکن البرخت بھائیوں نے الٹا راستہ اختیار کیا۔

    انہوں نے سوال کیا:

    “سب سے سستا طریقہ کیا ہے جس سے ہم لوگوں کو سامان بیچ سکیں؟”

    Aldi کا فارمولا

    1. کم چیزیں رکھو

    اگر دوسری دکانوں میں:

    * 40 قسم کے سیریل
    * 25 قسم کے کیچپ
    * 100 بسکٹ

    ہوتے تھے…

    تو Aldi صرف چند چیزیں رکھتا تھا۔

    اس سے:

    * خرچہ کم ہوا
    * اسٹوریج آسان ہوئی
    * کام تیز ہوا

    2. سادہ دکانیں

    کوئی فینسی ڈیزائن نہیں۔
    کوئی مہنگی سجاوٹ نہیں۔
    کوئی فضول خرچی نہیں۔

    3. سامان ڈبوں میں ہی رکھو

    ملازمین کو ہر چیز خوبصورتی سے سجانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔

    4. کم ملازمین

    ایک پوری دکان چند لوگ چلاتے تھے۔

    5. ہر چیز میں Efficiency

    حتیٰ کہ:

    * لائٹس
    * پیکنگ
    * ٹرک
    * چیک آؤٹ

    سب کچھ تیز اور سستا بنایا گیا۔

    Aldi نام کہاں سے آیا؟

    نام بنا:

    AL = Albrecht
    DI = Discount

    یعنی:

    ALDI

    سادہ…
    مختصر…
    یاد رہنے والا۔

    سگریٹ پر جھگڑا — اور کمپنی دو حصوں میں تقسیم

    1960 میں دونوں بھائیوں کے درمیان ایک عجیب بحث ہوئی۔

    تھیو چاہتے تھے کہ دکان میں سگریٹ فروخت ہوں۔

    کارل کہتے تھے:

    “سگریٹ چوروں کو کھینچیں گے۔”

    یہ اختلاف اتنا بڑھ گیا کہ کمپنی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی:

    * Aldi Nord (شمالی جرمنی)
    * Aldi Süd (جنوبی جرمنی)

    اور آج تک دونوں الگ الگ کمپنیاں ہیں۔

    دلچسپ بات:

    * Aldi Süd نے امریکہ، آسٹریا، برطانیہ وغیرہ میں توسیع کی
    * Aldi Nord نے امریکہ میں Trader Joe’s خرید لیا

    Aldi کی اصل طاقت

    البرخت بھائی ایک چیز کے دیوانے تھے:

    “ہر غیر ضروری خرچہ ختم کرو۔”

    یہاں تک کہ:

    * اشتہار کم
    * دکانیں چھوٹی
    * کارڈ بورڈ دوبارہ استعمال
    * سپلائرز سے سخت مذاکرات

    خود ارب پتی بننے کے بعد بھی انتہائی سادہ زندگی گزارتے رہے۔

    کارل البرخت دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل تھے…
    لیکن جرمنی میں بہت کم لوگ ان کا چہرہ جانتے تھے۔

    Aldi نے دنیا کیسے بدلی؟

    Aldi سے پہلے:
    خریداری ایک “تجربہ” تھی۔

    Aldi کے بعد:
    خریداری بن گئی:

    * تیز
    * سستی
    * practical

    آج:

    * Lidl
    * Walmart
    * Costco
    * Amazon

    سب کسی نہ کسی شکل میں Aldi کی philosophy استعمال کرتے ہیں۔

    اصل نفسیاتی راز

    Aldi نے انسانوں کے بارے میں ایک بڑی حقیقت سمجھ لی تھی:

    لوگ کہتے ہیں:

    * ہمیں luxury چاہیے
    * زیادہ choices چاہیے

    لیکن حقیقت میں لوگ بار بار چنتے ہیں:

    * سستا
    * آسان
    * تیز

    Aldi نے اسی حقیقت پر اربوں ڈالر کی سلطنت بنائی۔

    آج

    Aldi Süd اور Aldi Nord دنیا بھر میں ہزاروں اسٹورز چلاتے ہیں۔

    اور ایک چھوٹی سی جنگ زدہ جرمن دکان…
    دنیا کی سب سے طاقتور retail empires میں تبدیل ہو گئی۔
    Aldi کی کہانی دنیا کی سب سے دلچسپ بزنس کہانیوں میں سے ایک ہے۔ یہ کسی امیر خاندان سے شروع نہیں ہوئی تھی… بلکہ جرمنی کی ایک چھوٹی سی کریانہ دکان سے شروع ہوئی۔ آغاز — ایک ماں کی چھوٹی دکان 1913 میں جرمنی کے شہر ایسن میں ایک خاتون انا البرخت نے ایک چھوٹی سی گروسری شاپ کھولی۔ یہ دکان بہت سادہ تھی: * چھوٹی شیلفیں * بنیادی کھانے پینے کی چیزیں * عام مزدور طبقے کے گاہک * کوئی لگژری نہیں پھر جرمنی پر آئے: * پہلی جنگِ عظیم * معاشی تباہی * مہنگائی کا طوفان * دوسری جنگِ عظیم جرمنی تقریباً تباہ ہو چکا تھا۔ لوگوں کے پاس پیسے نہیں تھے… انہیں صرف سستا کھانا چاہیے تھا۔ دو بھائی جنگ سے واپس آئے جنگ کے بعد انا البرخت کے دو بیٹے: * Karl Albrecht * Theo Albrecht گھر واپس آئے۔ انہوں نے دیکھا: * ملک تباہ ہے * لوگ غریب ہیں * ہر شخص پیسے بچانا چاہتا ہے تب انہوں نے ایک زبردست بات سمجھی: لوگ خوبصورت دکان نہیں چاہتے… لوگ سستی چیز چاہتے ہیں۔ یہی سوچ بعد میں دنیا بدلنے والی ثابت ہوئی۔ انقلابی آئیڈیا اس زمانے میں سپر مارکیٹس: * بہت زیادہ چیزیں رکھتی تھیں * دکانوں کو خوبصورت بناتی تھیں * زیادہ اسٹاف رکھتی تھیں لیکن البرخت بھائیوں نے الٹا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے سوال کیا: “سب سے سستا طریقہ کیا ہے جس سے ہم لوگوں کو سامان بیچ سکیں؟” Aldi کا فارمولا 1. کم چیزیں رکھو اگر دوسری دکانوں میں: * 40 قسم کے سیریل * 25 قسم کے کیچپ * 100 بسکٹ ہوتے تھے… تو Aldi صرف چند چیزیں رکھتا تھا۔ اس سے: * خرچہ کم ہوا * اسٹوریج آسان ہوئی * کام تیز ہوا 2. سادہ دکانیں کوئی فینسی ڈیزائن نہیں۔ کوئی مہنگی سجاوٹ نہیں۔ کوئی فضول خرچی نہیں۔ 3. سامان ڈبوں میں ہی رکھو ملازمین کو ہر چیز خوبصورتی سے سجانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ 4. کم ملازمین ایک پوری دکان چند لوگ چلاتے تھے۔ 5. ہر چیز میں Efficiency حتیٰ کہ: * لائٹس * پیکنگ * ٹرک * چیک آؤٹ سب کچھ تیز اور سستا بنایا گیا۔ Aldi نام کہاں سے آیا؟ نام بنا: AL = Albrecht DI = Discount یعنی: ALDI سادہ… مختصر… یاد رہنے والا۔ سگریٹ پر جھگڑا — اور کمپنی دو حصوں میں تقسیم 1960 میں دونوں بھائیوں کے درمیان ایک عجیب بحث ہوئی۔ تھیو چاہتے تھے کہ دکان میں سگریٹ فروخت ہوں۔ کارل کہتے تھے: “سگریٹ چوروں کو کھینچیں گے۔” یہ اختلاف اتنا بڑھ گیا کہ کمپنی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی: * Aldi Nord (شمالی جرمنی) * Aldi Süd (جنوبی جرمنی) اور آج تک دونوں الگ الگ کمپنیاں ہیں۔ دلچسپ بات: * Aldi Süd نے امریکہ، آسٹریا، برطانیہ وغیرہ میں توسیع کی * Aldi Nord نے امریکہ میں Trader Joe’s خرید لیا Aldi کی اصل طاقت البرخت بھائی ایک چیز کے دیوانے تھے: “ہر غیر ضروری خرچہ ختم کرو۔” یہاں تک کہ: * اشتہار کم * دکانیں چھوٹی * کارڈ بورڈ دوبارہ استعمال * سپلائرز سے سخت مذاکرات خود ارب پتی بننے کے بعد بھی انتہائی سادہ زندگی گزارتے رہے۔ کارل البرخت دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل تھے… لیکن جرمنی میں بہت کم لوگ ان کا چہرہ جانتے تھے۔ Aldi نے دنیا کیسے بدلی؟ Aldi سے پہلے: خریداری ایک “تجربہ” تھی۔ Aldi کے بعد: خریداری بن گئی: * تیز * سستی * practical آج: * Lidl * Walmart * Costco * Amazon سب کسی نہ کسی شکل میں Aldi کی philosophy استعمال کرتے ہیں۔ اصل نفسیاتی راز Aldi نے انسانوں کے بارے میں ایک بڑی حقیقت سمجھ لی تھی: لوگ کہتے ہیں: * ہمیں luxury چاہیے * زیادہ choices چاہیے لیکن حقیقت میں لوگ بار بار چنتے ہیں: * سستا * آسان * تیز Aldi نے اسی حقیقت پر اربوں ڈالر کی سلطنت بنائی۔ آج Aldi Süd اور Aldi Nord دنیا بھر میں ہزاروں اسٹورز چلاتے ہیں۔ اور ایک چھوٹی سی جنگ زدہ جرمن دکان… دنیا کی سب سے طاقتور retail empires میں تبدیل ہو گئی۔
    0 Commenti 0 condivisioni 142 Views
  • سائیکل ملکی معیشت کیلئے تباہی کا باعث ہے - اس لئے کہ سائیکل چلانے والا کار نہیں خریدتا، وہ کار خریدنے کے لئے قرض بھی نہیں لیتا۔ کار کی انشورنس نہیں کرواتا - پیٹرول بھی نہیں خریدتا۔ اپنی گاڑی سروس اور مرمت کے لئے نہیں بھیجتا۔ کار پارکنگ کی فیس ادا نہیں کرتا۔ وہ ٹال پلازوں پر ٹیکس بھی ادا نہیں کرتا۔ سائیکل چلانے کی وجہ سے صحت مند رہتا ہے موٹا نہیں ہوتا !! صحت مند رہنے کے باعث وہ دوائیں نہیں خریدتا۔‏ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پاس نہیں جاتا۔ حتیٰ کہ ملک کے جی ڈی پی میں کچھ بھی شامل نہیں کرتا۔ اس کے برعکس ہر نیا فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ اپنے ملازمین کے علاوہ کم از کم 30 طرح کے لوگوں کے لئے روزگار کا سبب بنتا ہے۔‏ جن میں ڈاکٹر ، امراض قلب کے ماہر، ماہرِ معدہ و جگر، ماہر ناک کان گلہ، دندان ساز، کینسر سپیشلسٹ، حکیم اور میڈیکل سٹور مالکان وغیرہ شامل ہیں۔ چنانچہ یہ بات ثابت ہوئی کہ سائیکل معیشت کی دشمن ہے اور مضبوط معیشت کے لئے صحت مند افراد سخت نقصان دہ ہیں۔‏

    نوٹ:- پیدل چلنے والے معیشت کےلئے اور بھی خطرناک ھیں۔ کیونکہ وہ سائیکل بھی نہیں خریدتے
    سائیکل ملکی معیشت کیلئے تباہی کا باعث ہے - اس لئے کہ سائیکل چلانے والا کار نہیں خریدتا، وہ کار خریدنے کے لئے قرض بھی نہیں لیتا۔ کار کی انشورنس نہیں کرواتا - پیٹرول بھی نہیں خریدتا۔ اپنی گاڑی سروس اور مرمت کے لئے نہیں بھیجتا۔ کار پارکنگ کی فیس ادا نہیں کرتا۔ وہ ٹال پلازوں پر ٹیکس بھی ادا نہیں کرتا۔ سائیکل چلانے کی وجہ سے صحت مند رہتا ہے موٹا نہیں ہوتا !! صحت مند رہنے کے باعث وہ دوائیں نہیں خریدتا۔‏ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پاس نہیں جاتا۔ حتیٰ کہ ملک کے جی ڈی پی میں کچھ بھی شامل نہیں کرتا۔ اس کے برعکس ہر نیا فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ اپنے ملازمین کے علاوہ کم از کم 30 طرح کے لوگوں کے لئے روزگار کا سبب بنتا ہے۔‏ جن میں ڈاکٹر ، امراض قلب کے ماہر، ماہرِ معدہ و جگر، ماہر ناک کان گلہ، دندان ساز، کینسر سپیشلسٹ، حکیم اور میڈیکل سٹور مالکان وغیرہ شامل ہیں۔ چنانچہ یہ بات ثابت ہوئی کہ سائیکل معیشت کی دشمن ہے اور مضبوط معیشت کے لئے صحت مند افراد سخت نقصان دہ ہیں۔‏ نوٹ:- پیدل چلنے والے معیشت کےلئے اور بھی خطرناک ھیں۔ کیونکہ وہ سائیکل بھی نہیں خریدتے
    0 Commenti 0 condivisioni 208 Views
  • ہم زندہ قوم ہیں !!

    مجھے سفر پر نکلے تقریباً ایک ماہ ہونے والا ہے ،میں انیس اگست علی الصبح کراچی سے روانہ ہوا اور بزریعہ استنبول سربیا کے دارالحکومت بلغراد پہنچا ، آن لائن ایپ سے ایک اسٹوڈیو اپارٹمنٹ بک کیا ،پیکج میں صرف پانچ دن کی رہائش تھی مگر اپارٹمنٹ کے مالک نے حلال فوڈ ریسٹورنٹ دور ہونے کی وجہ سے ہونے والی میری پریشانی جان کر خیر سگالی کے طور پر میرے روم میں موجود منی فریج میں فروٹس اور مختلف جوسز لاکر رکھ دیے اور بعد میں ان کے پیسے بھی چارج نہیں کیے۔

    وہاں سے میں نارتھ میساڈونیا گیا ، لینڈ بارڈر کراس کرتے وقت سبز پاسپورٹ اور مزہبی حلیے کی وجہ سے پریشانی ہوئی تو سوشل میڈیا سے رابطے میں آنے والی ایک بااثر مقامی خاتون کو کال کی انہوں نے بارڈر حکام کو باقاعدہ ڈانٹ پلائی اور کہا یہ میرے مہمان ہیں ، اور اس طرح ان کی بروقت مداخلت سے مجھے میساڈونیا میں انٹری ملی ، انہوں نے شہر کے کاروباری علاقے میں موجود ایک مہنگے ہوٹل سے مجھے اولڈ ٹاؤن میں موجود ایک مسلمان کے ہوٹل منتقل ہونے کا کہا جس سے میرے اخراجات بھی کم ہوئے اور کھانے پینے کی پریشانی بھی ختم ہوگئی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے دوسرے شہر جانے ، وہاں رہائش کے انتخاب سے لے کر حلال فوڈ کے حصول اور پھر وہاں سے البانیہ تک کے سفر میں میری بھرپور رہنمائی کی ، ایک مقام پر مجھے کچھ مشکل پیش آئی تو اپنے بیٹے کو میرئ مدد کے لئے بھیج دیا ۔

    میں البانیہ کے دارالحکومت ترانا پہنچا تو ہوٹل کے مینجر نے یہ جان کر کہ میں پاکستان سے آیا ہوں اور سولو ٹریولر ہوں آن لائن بک کیے گئے روم سے بہتر کمرہ رہائش کے لیے پیش کیا اور وہ بھی آدھے پیسوں میں اور میرے لیے روزانہ ناشتے کا خصوصی انتظام الگ سے کیا ، وہاں سے میں قریبی ملک مونٹی نیگرو جانے کے لیے بس میں سوار ہوا تو پوری بس خالی تھی صرف ڈرائیور اور ایک ٹریول کمپنی کے مالک تھے جو دوسرے ملک سے سیاحوں کے ایک گروپ کو لینے جارہے تھے ، راستے میں میرے سفر کی کہانیاں سن کر بہت خوش ہوئے اور اپنی طرف سے مجھے شاندار کھانا کھلایا اور دوبارہ البانیہ آنے پر اپنے ہاں مفت قیام کی پیشکش بھی کی ۔

    مونٹینگرو کے دو شہروں بدوا اور کوٹور میں قیام کے لیے اپارٹمنٹ بک کیے دونوں کے مالکان نے ملے بغیر ، جانے بغیر دروازے کے لاک کا کوڈ بھیج دیا، جاتے ہوئے پوچھا پیسے کس کو دوں؟ تو کہا فلاں جگہ رکھ دیں ہم بعد میں اٹھا لیں گے ، میں بغیر ادائیگی کیے نکل جاتا تو وہ کیا کرلیتے ، مگر انہوں نے ایک اجنبی پر بھروسہ کیا ۔

    وہاں سے طویل سفر کرکے بوسنیا کے کیپٹل سرائیوو پہنچا ، رہائش کے لیے اولڈ ٹاؤن میں واقع ایک فور اسٹار ہوٹل کاانتخاب کیا ،وہاں کی خوش اخلاق مینجر نے کچھ دیر کی بات چیت کے بعد تیس فیصد ڈسکاؤنٹ کے ساتھ ہوٹل کا سب سے اچھا روم دے دیا ، میں نے ناشتے کے بغیر کمرہ بک کیا تھا مگر انہوں نے اپنی طرف سے مجھے ناشتے کی سہولت بھی مفت فراہم کردی ، میں نے تین دن کی پیشگی ادائیگی کی مگر مجھے چوتھے دن بھی رکنا پڑا ، سوشل میڈیا پر ان کی تعریف کی اچھا ریوو لکّھا تو اس بات پر خوش ہوکر چیک آؤٹ کے وقت آخری دن کے چارجز لینے سے انکار کردیا ، میں نے ائرپورٹ کے لیے ٹیکسی بک کی وہاں پہنچ کر چیک کیا تو میرے والٹ میں طے شدہ رقم سے پانچ مارک کم تھے جوکہ چھ سو روپے پاکستانی بنتے تھے ،میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا رکو میں اے ٹی ایم سے نکال کر لاتا ہوں کہا آپ مہمان ہیں رہنے دیجیے ۔

    طویل سفر کے بعد بوسنیا سے براستہ ترکی جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی پہنچا تو رات کا ایک بج چکا تھا ، ہوٹل میں چیک ان کیا تو ہوٹل رولز کے حساب سے اس رات کی بھی ادائیگی کرنی چاہئیے تھی مگر وہاں کی مینجر نے میرا قیام اگلے دن سے شمار کیا ،اور یوں میرے ایک دن کے چارجزکی بچت ہوگئی ، رات کے دو بجے ریسٹورنٹ بند ہوچکے تھے مجھے شدید بھوک لگی تھی تو مینجر اپنے ساتھ کچن میں لے گئ اور دودھ بریڈ اور فروٹس سامنے رکھ دیے ، صبح میں ناشتے میں نہیں پہنچا ٹائم نکل گیا تو کال کرکے مجھے اٹھایا اور ہنس کر کہا۔ Someone is missing his breakfast

    میں دو دن اس ملک میں اکیلے گھومتا رہا اور مجھےکوئی مشکل پیش نہیں آئی ،تیسرے دن میرے ایک استاد صاحب نے مجھے میسج کیا کہ یہاں میرے جاننے والے ایک پاکستانی ہیں ان سے رابطہ کریں وہ آپ کو ہیلپ کریں گے میں گزشتہ پچیس دن میں کسی پاکستانی سے نہیں ملا تھا ، سو رابطہ کیا وہ ملنے آئے انہوں نے دوسرے پاکستانئ بھائی سے ملایا ،میں کئی گھنٹے ان کے ساتھ رہا مجھے بھوک لگنے لگی انہوں نے نہیں پوچھا مگر میں نے اپنی طرف سے کھانے کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کرلئ اور اگلے دن مجھے شہر گھمانے کے پرزور دعوت دی میں نے تکلف سے کام لیتے ہوئے کہا میں کسی ٹور آپریٹر سے گاڑی بک کرلوں گا ، اس پر وہ ناراض ہوگئے کہا ایسے کیسے ہوسکتا ہے آپ ہمارے ہم وطن ہم زبان ہیں ، اب آپ ہماری ذمہ داری ہیں ہم آپ کو گھمائیں گے بھی اور راستے میں کسی مقام پرآپ کی شاندار دعوت بھی کریں گے ،آپ ہمارے مہمان ہیں اتنا تو ہمارا فرض بنتا ہے ، اگلے دن انہوں نے اپنے مزید پاکستانی دوستوں کو بھی ساتھ لیا اور سفر پر نکل پڑے ، راستے میں پیٹرول کا ٹینک فل کروایااور ادائیگی کے وقت سائیڈ پر چلے گئے ،پیڑول پمپ والا میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا تو میں نے رقم ادا کردی ، منزل پر پہنچے تو میرے وہ پاکستانئ دوست ایک اور پاکستانی کے ہوٹل لے گئے وہاں پہنچ کر ضرورت سے زائد کھانا منگوایا چار لوگوں کے لیے آٹھ چائےمنگوا لی،جب بل دینے کی باری آئی تو سب آگے پیچھے ہوگئے، میں نے آگے بڑھ کر اس پاکستانی ریسٹورنٹ کا بل بھی ادا کیا جو جارجیا کے کسی بھی مہنگے ریسٹورنٹ کے بل سے دوگنا تھا،واپس آئے تو شہر پہنچ کر مجھ سے کہا گاڑی رینٹ کی تھی اس کا کرایہ بھی عنائیت فرما دیں اور ساتھ میں مجھے جو آپ خوشی سے دینا چاہیں ۔
    اس کے بعد جو ہوا اسکی تفصیل پھر کبھی سہی ،میں نے اپنے پاکستانی بھائیوں سے رخصت لی وہ روکتے رہے کہ جب تک یہاں ہیں ہمارے پاس قیام کریں ہم کل آپ کو دوسرا شہر بھی گھمائیں گے۔

    رات گئے سٹی سینٹر کے ایک ہوٹل میں چیک ان کیا، بھوک لگی تھی ریسپشن پر کھانے کا پوچھا تو وہاں رات کی شفٹ میں کام کرنے والا بنگالی لڑکا اپنا کھانا اٹھا کرلےآیا ،کہا رات کافی ہوگئی ہے اب کہاں جاکر کھانا ڈھونڈیں گے آپ یہ کھالیں، میں نے کہا تم کیا کھاؤ گےتو کہا میری فکر نا کریں۔
    رات کے پچھلے پہر میں وہ کھانا کھاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے سفر کے دوران اجنبی زمینوں ، انجان لوگوں اور مجھ سے مختلف عقائد و نظریات رکھنے والوں کے درمیان تو میں خود کومحفوظ سمجھتا رہا مگر دیار غیر میں میرے اپنے ہم وطن پاکستانیوں کا ملنا مجھے عدم تحفظ کا احساس دلا رہا ہے ؟

    اس وقت حکیم سعید علیہ الرحمہ کی شہادت پر لکھے گئے جاوید چودھری کے کالم کا آخری جملہ میرے ذہن میں گونج رہا تھا کہ

    سعید میں کربلا میں زندہ رہا اور تم مدینے میں مارے گئے !!

    محمد سجاد مدنی

    Via Mufti Sajjad Madani
    ہم زندہ قوم ہیں !! مجھے سفر پر نکلے تقریباً ایک ماہ ہونے والا ہے ،میں انیس اگست علی الصبح کراچی سے روانہ ہوا اور بزریعہ استنبول سربیا کے دارالحکومت بلغراد پہنچا ، آن لائن ایپ سے ایک اسٹوڈیو اپارٹمنٹ بک کیا ،پیکج میں صرف پانچ دن کی رہائش تھی مگر اپارٹمنٹ کے مالک نے حلال فوڈ ریسٹورنٹ دور ہونے کی وجہ سے ہونے والی میری پریشانی جان کر خیر سگالی کے طور پر میرے روم میں موجود منی فریج میں فروٹس اور مختلف جوسز لاکر رکھ دیے اور بعد میں ان کے پیسے بھی چارج نہیں کیے۔ وہاں سے میں نارتھ میساڈونیا گیا ، لینڈ بارڈر کراس کرتے وقت سبز پاسپورٹ اور مزہبی حلیے کی وجہ سے پریشانی ہوئی تو سوشل میڈیا سے رابطے میں آنے والی ایک بااثر مقامی خاتون کو کال کی انہوں نے بارڈر حکام کو باقاعدہ ڈانٹ پلائی اور کہا یہ میرے مہمان ہیں ، اور اس طرح ان کی بروقت مداخلت سے مجھے میساڈونیا میں انٹری ملی ، انہوں نے شہر کے کاروباری علاقے میں موجود ایک مہنگے ہوٹل سے مجھے اولڈ ٹاؤن میں موجود ایک مسلمان کے ہوٹل منتقل ہونے کا کہا جس سے میرے اخراجات بھی کم ہوئے اور کھانے پینے کی پریشانی بھی ختم ہوگئی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے دوسرے شہر جانے ، وہاں رہائش کے انتخاب سے لے کر حلال فوڈ کے حصول اور پھر وہاں سے البانیہ تک کے سفر میں میری بھرپور رہنمائی کی ، ایک مقام پر مجھے کچھ مشکل پیش آئی تو اپنے بیٹے کو میرئ مدد کے لئے بھیج دیا ۔ میں البانیہ کے دارالحکومت ترانا پہنچا تو ہوٹل کے مینجر نے یہ جان کر کہ میں پاکستان سے آیا ہوں اور سولو ٹریولر ہوں آن لائن بک کیے گئے روم سے بہتر کمرہ رہائش کے لیے پیش کیا اور وہ بھی آدھے پیسوں میں اور میرے لیے روزانہ ناشتے کا خصوصی انتظام الگ سے کیا ، وہاں سے میں قریبی ملک مونٹی نیگرو جانے کے لیے بس میں سوار ہوا تو پوری بس خالی تھی صرف ڈرائیور اور ایک ٹریول کمپنی کے مالک تھے جو دوسرے ملک سے سیاحوں کے ایک گروپ کو لینے جارہے تھے ، راستے میں میرے سفر کی کہانیاں سن کر بہت خوش ہوئے اور اپنی طرف سے مجھے شاندار کھانا کھلایا اور دوبارہ البانیہ آنے پر اپنے ہاں مفت قیام کی پیشکش بھی کی ۔ مونٹینگرو کے دو شہروں بدوا اور کوٹور میں قیام کے لیے اپارٹمنٹ بک کیے دونوں کے مالکان نے ملے بغیر ، جانے بغیر دروازے کے لاک کا کوڈ بھیج دیا، جاتے ہوئے پوچھا پیسے کس کو دوں؟ تو کہا فلاں جگہ رکھ دیں ہم بعد میں اٹھا لیں گے ، میں بغیر ادائیگی کیے نکل جاتا تو وہ کیا کرلیتے ، مگر انہوں نے ایک اجنبی پر بھروسہ کیا ۔ وہاں سے طویل سفر کرکے بوسنیا کے کیپٹل سرائیوو پہنچا ، رہائش کے لیے اولڈ ٹاؤن میں واقع ایک فور اسٹار ہوٹل کاانتخاب کیا ،وہاں کی خوش اخلاق مینجر نے کچھ دیر کی بات چیت کے بعد تیس فیصد ڈسکاؤنٹ کے ساتھ ہوٹل کا سب سے اچھا روم دے دیا ، میں نے ناشتے کے بغیر کمرہ بک کیا تھا مگر انہوں نے اپنی طرف سے مجھے ناشتے کی سہولت بھی مفت فراہم کردی ، میں نے تین دن کی پیشگی ادائیگی کی مگر مجھے چوتھے دن بھی رکنا پڑا ، سوشل میڈیا پر ان کی تعریف کی اچھا ریوو لکّھا تو اس بات پر خوش ہوکر چیک آؤٹ کے وقت آخری دن کے چارجز لینے سے انکار کردیا ، میں نے ائرپورٹ کے لیے ٹیکسی بک کی وہاں پہنچ کر چیک کیا تو میرے والٹ میں طے شدہ رقم سے پانچ مارک کم تھے جوکہ چھ سو روپے پاکستانی بنتے تھے ،میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا رکو میں اے ٹی ایم سے نکال کر لاتا ہوں کہا آپ مہمان ہیں رہنے دیجیے ۔ طویل سفر کے بعد بوسنیا سے براستہ ترکی جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی پہنچا تو رات کا ایک بج چکا تھا ، ہوٹل میں چیک ان کیا تو ہوٹل رولز کے حساب سے اس رات کی بھی ادائیگی کرنی چاہئیے تھی مگر وہاں کی مینجر نے میرا قیام اگلے دن سے شمار کیا ،اور یوں میرے ایک دن کے چارجزکی بچت ہوگئی ، رات کے دو بجے ریسٹورنٹ بند ہوچکے تھے مجھے شدید بھوک لگی تھی تو مینجر اپنے ساتھ کچن میں لے گئ اور دودھ بریڈ اور فروٹس سامنے رکھ دیے ، صبح میں ناشتے میں نہیں پہنچا ٹائم نکل گیا تو کال کرکے مجھے اٹھایا اور ہنس کر کہا۔ Someone is missing his breakfast میں دو دن اس ملک میں اکیلے گھومتا رہا اور مجھےکوئی مشکل پیش نہیں آئی ،تیسرے دن میرے ایک استاد صاحب نے مجھے میسج کیا کہ یہاں میرے جاننے والے ایک پاکستانی ہیں ان سے رابطہ کریں وہ آپ کو ہیلپ کریں گے میں گزشتہ پچیس دن میں کسی پاکستانی سے نہیں ملا تھا ، سو رابطہ کیا وہ ملنے آئے انہوں نے دوسرے پاکستانئ بھائی سے ملایا ،میں کئی گھنٹے ان کے ساتھ رہا مجھے بھوک لگنے لگی انہوں نے نہیں پوچھا مگر میں نے اپنی طرف سے کھانے کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کرلئ اور اگلے دن مجھے شہر گھمانے کے پرزور دعوت دی میں نے تکلف سے کام لیتے ہوئے کہا میں کسی ٹور آپریٹر سے گاڑی بک کرلوں گا ، اس پر وہ ناراض ہوگئے کہا ایسے کیسے ہوسکتا ہے آپ ہمارے ہم وطن ہم زبان ہیں ، اب آپ ہماری ذمہ داری ہیں ہم آپ کو گھمائیں گے بھی اور راستے میں کسی مقام پرآپ کی شاندار دعوت بھی کریں گے ،آپ ہمارے مہمان ہیں اتنا تو ہمارا فرض بنتا ہے ، اگلے دن انہوں نے اپنے مزید پاکستانی دوستوں کو بھی ساتھ لیا اور سفر پر نکل پڑے ، راستے میں پیٹرول کا ٹینک فل کروایااور ادائیگی کے وقت سائیڈ پر چلے گئے ،پیڑول پمپ والا میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا تو میں نے رقم ادا کردی ، منزل پر پہنچے تو میرے وہ پاکستانئ دوست ایک اور پاکستانی کے ہوٹل لے گئے وہاں پہنچ کر ضرورت سے زائد کھانا منگوایا چار لوگوں کے لیے آٹھ چائےمنگوا لی،جب بل دینے کی باری آئی تو سب آگے پیچھے ہوگئے، میں نے آگے بڑھ کر اس پاکستانی ریسٹورنٹ کا بل بھی ادا کیا جو جارجیا کے کسی بھی مہنگے ریسٹورنٹ کے بل سے دوگنا تھا،واپس آئے تو شہر پہنچ کر مجھ سے کہا گاڑی رینٹ کی تھی اس کا کرایہ بھی عنائیت فرما دیں اور ساتھ میں مجھے جو آپ خوشی سے دینا چاہیں ۔ اس کے بعد جو ہوا اسکی تفصیل پھر کبھی سہی ،میں نے اپنے پاکستانی بھائیوں سے رخصت لی وہ روکتے رہے کہ جب تک یہاں ہیں ہمارے پاس قیام کریں ہم کل آپ کو دوسرا شہر بھی گھمائیں گے۔ رات گئے سٹی سینٹر کے ایک ہوٹل میں چیک ان کیا، بھوک لگی تھی ریسپشن پر کھانے کا پوچھا تو وہاں رات کی شفٹ میں کام کرنے والا بنگالی لڑکا اپنا کھانا اٹھا کرلےآیا ،کہا رات کافی ہوگئی ہے اب کہاں جاکر کھانا ڈھونڈیں گے آپ یہ کھالیں، میں نے کہا تم کیا کھاؤ گےتو کہا میری فکر نا کریں۔ رات کے پچھلے پہر میں وہ کھانا کھاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے سفر کے دوران اجنبی زمینوں ، انجان لوگوں اور مجھ سے مختلف عقائد و نظریات رکھنے والوں کے درمیان تو میں خود کومحفوظ سمجھتا رہا مگر دیار غیر میں میرے اپنے ہم وطن پاکستانیوں کا ملنا مجھے عدم تحفظ کا احساس دلا رہا ہے ؟ اس وقت حکیم سعید علیہ الرحمہ کی شہادت پر لکھے گئے جاوید چودھری کے کالم کا آخری جملہ میرے ذہن میں گونج رہا تھا کہ سعید میں کربلا میں زندہ رہا اور تم مدینے میں مارے گئے !! محمد سجاد مدنی Via Mufti Sajjad Madani
    0 Commenti 0 condivisioni 109 Views
Pagine in Evidenza