• Story Post: 77
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 11:05:26




    ملا نصرالدین اور آلسی نوکر

    ایک دن ملا نصرالدین نے محسوس کیا کہ ان کا نوکر بہت سست ہو گیا ہے۔ وہ ہر کام سے بچنے کی کوشش کرتا، کام کے وقت بہانے بناتا اور زیادہ تر وقت آرام کرنے میں گزارتا تھا۔

    ملا صاحب نے اسے ڈانٹنے کے بجائے اپنی ذہانت اور حاضر جوابی سے ایک دلچسپ سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ پھر انہوں نے ایسا طریقہ اختیار کیا کہ آلسی نوکر کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا!

    اس کہانی سے سبق:
    محنت کامیابی کی کنجی ہے۔
    وقت کی قدر کرنا سیکھیں۔
    بہانے بنانے کے بجائے حل تلاش کریں۔
    اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے پوری کریں۔
    سستی چھوڑ کر محنت کو اپنائیں۔

    یاد رکھیں: کامیابی اُن لوگوں کا ساتھ دیتی ہے جو محنت کرتے ہیں، وقت کی قدر کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بھاگتے!

    #MullaNasruddin #UrduStories #UrduKahani #LazyServant #FunnyStories #MoralStories #LifeLessons #HardWork #StopLaziness #Wisdom #Cleverness #Hikmat #UrduLiterature #Storytelling #NasruddinTales #MotivationalStories #TimeManagement #Responsibility #LearningThroughStories #UrduContent
    Story Post: 77 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 11:05:26 😂🏡 ملا نصرالدین اور آلسی نوکر 😴🧹 ایک دن ملا نصرالدین نے محسوس کیا کہ ان کا نوکر بہت سست ہو گیا ہے۔ وہ ہر کام سے بچنے کی کوشش کرتا، کام کے وقت بہانے بناتا اور زیادہ تر وقت آرام کرنے میں گزارتا تھا۔ 😴 ملا صاحب نے اسے ڈانٹنے کے بجائے اپنی ذہانت اور حاضر جوابی سے ایک دلچسپ سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ پھر انہوں نے ایسا طریقہ اختیار کیا کہ آلسی نوکر کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا! 😂👏 🌟 اس کہانی سے سبق: 💪 محنت کامیابی کی کنجی ہے۔ ⏰ وقت کی قدر کرنا سیکھیں۔ 🧠 بہانے بنانے کے بجائے حل تلاش کریں۔ 🤝 اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے پوری کریں۔ 🌱 سستی چھوڑ کر محنت کو اپنائیں۔ ✨ یاد رکھیں: کامیابی اُن لوگوں کا ساتھ دیتی ہے جو محنت کرتے ہیں، وقت کی قدر کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بھاگتے! 🚀 #MullaNasruddin #UrduStories #UrduKahani #LazyServant #FunnyStories #MoralStories #LifeLessons #HardWork #StopLaziness #Wisdom #Cleverness #Hikmat #UrduLiterature #Storytelling #NasruddinTales #MotivationalStories #TimeManagement #Responsibility #LearningThroughStories #UrduContent 😂📚✨
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 197 Views
  • Story post: 76
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 11:02:26


    ملا نصرالدین اور آلسی نوکر

    ایک دن ملا نصرالدین نے محسوس کیا کہ ان کا نوکر بہت سست ہو گیا ہے۔ وہ ہر کام سے بچنے کی کوشش کرتا، کام کے وقت بہانے بناتا اور زیادہ تر وقت آرام کرنے میں گزارتا تھا۔

    ملا صاحب نے اسے ڈانٹنے کے بجائے اپنی ذہانت اور حاضر جوابی سے ایک دلچسپ سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ پھر انہوں نے ایسا طریقہ اختیار کیا کہ آلسی نوکر کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا!

    اس کہانی سے سبق:
    محنت کامیابی کی کنجی ہے۔
    وقت کی قدر کرنا سیکھیں۔
    بہانے بنانے کے بجائے حل تلاش کریں۔
    اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے پوری کریں۔
    سستی چھوڑ کر محنت کو اپنائیں۔

    یاد رکھیں: کامیابی اُن لوگوں کا ساتھ دیتی ہے جو محنت کرتے ہیں، وقت کی قدر کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بھاگتے!

    #MullaNasruddin #UrduStories #UrduKahani #LazyServant #FunnyStories #MoralStories #LifeLessons #HardWork #StopLaziness #Wisdom #Cleverness #Hikmat #UrduLiterature #Storytelling #NasruddinTales #MotivationalStories #TimeManagement #Responsibility #LearningThroughStories #UrduContent
    Story post: 76 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 11:02:26 😂🏡 ملا نصرالدین اور آلسی نوکر 😴🧹 ایک دن ملا نصرالدین نے محسوس کیا کہ ان کا نوکر بہت سست ہو گیا ہے۔ وہ ہر کام سے بچنے کی کوشش کرتا، کام کے وقت بہانے بناتا اور زیادہ تر وقت آرام کرنے میں گزارتا تھا۔ 😴 ملا صاحب نے اسے ڈانٹنے کے بجائے اپنی ذہانت اور حاضر جوابی سے ایک دلچسپ سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ پھر انہوں نے ایسا طریقہ اختیار کیا کہ آلسی نوکر کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا! 😂👏 🌟 اس کہانی سے سبق: 💪 محنت کامیابی کی کنجی ہے۔ ⏰ وقت کی قدر کرنا سیکھیں۔ 🧠 بہانے بنانے کے بجائے حل تلاش کریں۔ 🤝 اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے پوری کریں۔ 🌱 سستی چھوڑ کر محنت کو اپنائیں۔ ✨ یاد رکھیں: کامیابی اُن لوگوں کا ساتھ دیتی ہے جو محنت کرتے ہیں، وقت کی قدر کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بھاگتے! 🚀 #MullaNasruddin #UrduStories #UrduKahani #LazyServant #FunnyStories #MoralStories #LifeLessons #HardWork #StopLaziness #Wisdom #Cleverness #Hikmat #UrduLiterature #Storytelling #NasruddinTales #MotivationalStories #TimeManagement #Responsibility #LearningThroughStories #UrduContent 😂📚✨
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 1228 Views
  • RSIF8
    Roll no: 86
    TEDx Talk no: 31
    TEDx Talk Topic: **"How to Be Productive Without Burnout" – Cal Newport**

    اس ٹاسک میں، میں نے **Cal Newport** کی TED Talk **"How to Be Productive Without Burnout"** دیکھی اور اس پر اپنی ریویو ویڈیو **انگریزی اور اردو** دونوں زبانوں میں ریکارڈ کی۔ بعد ازاں میں نے دونوں ویڈیوز **Facebook، Instagram، TikTok، YouTube، اور LinkedIn** پر شیئر کیں۔

    اس TED Talk میں بتایا گیا کہ حقیقی کامیابی صرف زیادہ دیر تک کام کرنے میں نہیں بلکہ **سمجھداری، توجہ، اور متوازن زندگی** کے ساتھ کام کرنے میں ہے۔ کیل نیوپورٹ نے وضاحت کی کہ اگر ہم ہر وقت مصروف رہیں لیکن توجہ کے بغیر کام کریں تو ہم جلد ہی تھکن اور ذہنی دباؤ (Burnout) کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    میں نے اس گفتگو سے سیکھا کہ وقت کی درست منصوبہ بندی، غیر ضروری مصروفیات سے بچنا، اور ایک وقت میں ایک اہم کام پر توجہ دینا ہماری کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مناسب آرام، نیند، اور وقفے لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ ہم جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند رہ سکیں۔

    یہ TED Talk مجھے یہ بھی سکھاتی ہے کہ کامیابی ایک لمبا سفر ہے۔ ہمیں اپنی صحت کو نظر انداز کیے بغیر مستقل مزاجی سے محنت کرنی چاہیے۔ اگر ہم متوازن انداز میں کام کریں تو ہم بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی زندگی میں خوش رہ سکتے ہیں۔

    یہ ریویو ویڈیو بنانے سے میری **کمیونیکیشن، پریزنٹیشن، اور پبلک اسپیکنگ** کی صلاحیتوں میں بھی بہتری آئی۔ اس نے مجھے اپنے وقت کی بہتر منصوبہ بندی کرنے، توجہ کے ساتھ کام کرنے، اور اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنے کی ترغیب دی۔

    مجموعی طور پر، یہ TED Talk نہایت معلوماتی، عملی، اور متاثر کن تھی۔ اس نے مجھے سکھایا کہ اصل کامیابی صرف زیادہ کام کرنے میں نہیں بلکہ **صحیح طریقے سے، توجہ کے ساتھ، اور اپنی صحت کو برقرار رکھتے ہوئے کام کرنے میں ہے۔**

    #CalNewport #Productivity #DeepWork #TimeManagement #MentalHealth #Education #Learning #StudentLearning #PersonalGrowth #RSIF8
    12w
    RSIF8 Roll no: 86 TEDx Talk no: 31 TEDx Talk Topic: **"How to Be Productive Without Burnout" – Cal Newport** 🎥📚✨ اس ٹاسک میں، میں نے **Cal Newport** کی TED Talk **"How to Be Productive Without Burnout"** دیکھی اور اس پر اپنی ریویو ویڈیو **انگریزی اور اردو** دونوں زبانوں میں ریکارڈ کی۔ بعد ازاں میں نے دونوں ویڈیوز **Facebook، Instagram، TikTok، YouTube، اور LinkedIn** پر شیئر کیں۔ 📱🌍✨ اس TED Talk میں بتایا گیا کہ حقیقی کامیابی صرف زیادہ دیر تک کام کرنے میں نہیں بلکہ **سمجھداری، توجہ، اور متوازن زندگی** کے ساتھ کام کرنے میں ہے۔ کیل نیوپورٹ نے وضاحت کی کہ اگر ہم ہر وقت مصروف رہیں لیکن توجہ کے بغیر کام کریں تو ہم جلد ہی تھکن اور ذہنی دباؤ (Burnout) کا شکار ہو سکتے ہیں۔ 💡⏰ میں نے اس گفتگو سے سیکھا کہ وقت کی درست منصوبہ بندی، غیر ضروری مصروفیات سے بچنا، اور ایک وقت میں ایک اہم کام پر توجہ دینا ہماری کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مناسب آرام، نیند، اور وقفے لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ ہم جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند رہ سکیں۔ 🌱🛌 یہ TED Talk مجھے یہ بھی سکھاتی ہے کہ کامیابی ایک لمبا سفر ہے۔ ہمیں اپنی صحت کو نظر انداز کیے بغیر مستقل مزاجی سے محنت کرنی چاہیے۔ اگر ہم متوازن انداز میں کام کریں تو ہم بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی زندگی میں خوش رہ سکتے ہیں۔ 🚀📖 یہ ریویو ویڈیو بنانے سے میری **کمیونیکیشن، پریزنٹیشن، اور پبلک اسپیکنگ** کی صلاحیتوں میں بھی بہتری آئی۔ اس نے مجھے اپنے وقت کی بہتر منصوبہ بندی کرنے، توجہ کے ساتھ کام کرنے، اور اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنے کی ترغیب دی۔ 🎤✨ مجموعی طور پر، یہ TED Talk نہایت معلوماتی، عملی، اور متاثر کن تھی۔ اس نے مجھے سکھایا کہ اصل کامیابی صرف زیادہ کام کرنے میں نہیں بلکہ **صحیح طریقے سے، توجہ کے ساتھ، اور اپنی صحت کو برقرار رکھتے ہوئے کام کرنے میں ہے۔** 🌟💙 #CalNewport #Productivity #DeepWork #TimeManagement #MentalHealth #Education #Learning #StudentLearning #PersonalGrowth #RSIF8 📚🚀✨ 12w
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 974 Views 8
  • ایک رات ملا نصرالدین اپنے گھر میں آرام سے سو رہے تھے کہ اچانک انہیں کسی چیز کے گرنے کی آواز سنائی دی۔

    وہ فوراً اٹھے اور آہستہ سے کمرے سے باہر آئے۔ دیکھا تو ایک چور ان کے گھر میں داخل ہو چکا تھا اور سامان تلاش کر رہا تھا۔

    ملا نے چور کو دیکھ کر شور مچانے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔ پھر بڑے اطمینان سے بولے:

    "بھائی! تم اتنی رات گئے میرے گھر میں کیا تلاش کر رہے ہو؟"

    چور گھبرا گیا، مگر فوراً بولا:
    "میں تو بس راستہ بھول کر یہاں آ گیا ہوں!"

    ملا مسکرائے اور بولے:
    "اچھا! تو پھر تمہیں راستہ دکھانے کے لیے چراغ چاہیے ہوگا۔"

    چور نے حیرت سے پوچھا:
    "چراغ؟"

    ملا نے جواب دیا:
    "ہاں، کیونکہ جو شخص اندھیرے میں دوسروں کے گھر کا راستہ تلاش کرتا ہے، اسے پہلے اپنے ضمیر کا راستہ تلاش کرنا چاہیے!"

    چور شرمندہ ہو گیا۔ ملا نے نرمی سے کہا:
    "دیکھو بھائی، محنت سے حاصل کی ہوئی روٹی میں سکون ہوتا ہے، لیکن چوری کے مال میں ہمیشہ خوف چھپا ہوتا ہے۔ اگر تمہیں ضرورت ہے تو محنت کرنے کا راستہ اختیار کرو۔"

    چور نے سر جھکا لیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی چوری نہیں کرے گا۔ ملا نے اسے ایک ایماندار روزگار تلاش کرنے کا مشورہ بھی دیا۔

    چور خاموشی سے وہاں سے چلا گیا، مگر اس رات ملا کی باتیں اس کے دل میں گھر کر گئیں۔

    **سبق:** دوسروں کا حق چھیننے کے بجائے محنت اور ایمانداری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ نرم لہجے میں دی گئی نصیحت بھی انسان کی سوچ بدل سکتی ہے۔

    Level One — Day 5 Story Post

    ‍ Student: Mujeeb FreelancingWala
    Roll No.: 51

    اگر آپ کو ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی پسند آئی تو اسے دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں!

    #MullaNasruddin #UrduStory #MoralStory #UrduKahani #سبق_آموز_کہانی #ایمانداری #محنت #LevelOne #Day5 #MujeebFreelancingW
    ایک رات ملا نصرالدین اپنے گھر میں آرام سے سو رہے تھے کہ اچانک انہیں کسی چیز کے گرنے کی آواز سنائی دی۔ وہ فوراً اٹھے اور آہستہ سے کمرے سے باہر آئے۔ دیکھا تو ایک چور ان کے گھر میں داخل ہو چکا تھا اور سامان تلاش کر رہا تھا۔ ملا نے چور کو دیکھ کر شور مچانے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔ پھر بڑے اطمینان سے بولے: "بھائی! تم اتنی رات گئے میرے گھر میں کیا تلاش کر رہے ہو؟" چور گھبرا گیا، مگر فوراً بولا: "میں تو بس راستہ بھول کر یہاں آ گیا ہوں!" ملا مسکرائے اور بولے: "اچھا! تو پھر تمہیں راستہ دکھانے کے لیے چراغ چاہیے ہوگا۔" چور نے حیرت سے پوچھا: "چراغ؟" ملا نے جواب دیا: "ہاں، کیونکہ جو شخص اندھیرے میں دوسروں کے گھر کا راستہ تلاش کرتا ہے، اسے پہلے اپنے ضمیر کا راستہ تلاش کرنا چاہیے!" چور شرمندہ ہو گیا۔ ملا نے نرمی سے کہا: "دیکھو بھائی، محنت سے حاصل کی ہوئی روٹی میں سکون ہوتا ہے، لیکن چوری کے مال میں ہمیشہ خوف چھپا ہوتا ہے۔ اگر تمہیں ضرورت ہے تو محنت کرنے کا راستہ اختیار کرو۔" چور نے سر جھکا لیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی چوری نہیں کرے گا۔ ملا نے اسے ایک ایماندار روزگار تلاش کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ چور خاموشی سے وہاں سے چلا گیا، مگر اس رات ملا کی باتیں اس کے دل میں گھر کر گئیں۔ **سبق:** دوسروں کا حق چھیننے کے بجائے محنت اور ایمانداری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ نرم لہجے میں دی گئی نصیحت بھی انسان کی سوچ بدل سکتی ہے۔ 🎓 Level One — Day 5 Story Post 👨‍🎓 Student: Mujeeb FreelancingWala 🔢 Roll No.: 51 اگر آپ کو ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی پسند آئی تو اسے دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں! #MullaNasruddin #UrduStory #MoralStory #UrduKahani #سبق_آموز_کہانی #ایمانداری #محنت #LevelOne #Day5 #MujeebFreelancingW
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 856 Views
  • # ملا نصرالدین اور رات کا چور

    ایک رات ملا نصرالدین اپنے گھر میں آرام سے سو رہے تھے کہ اچانک انہیں صحن میں کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی۔

    ملا صاحب فوراً جاگ گئے۔ انہوں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو ایک چور ان کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

    ملا صاحب نے شور مچانے کے بجائے ایک دلچسپ ترکیب سوچی۔ وہ خاموشی سے اٹھے، ایک پرانا صندوق نکالا اور اسے کمرے کے درمیان رکھ دیا۔ پھر خود ایک کونے میں چھپ کر انتظار کرنے لگے۔

    چور دبے پاؤں گھر میں داخل ہوا۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا اور جب اسے صندوق نظر آیا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

    وہ خوشی سے بڑبڑایا، ’’واہ! آج تو قسمت کھل گئی۔ لگتا ہے اس صندوق میں بہت سا خزانہ ہے!‘‘

    چور نے صندوق کھولا، مگر اندر صرف پرانے کپڑے، چند کتابیں اور ایک ٹوٹی ہوئی لالٹین تھی۔

    چور غصے سے بولا، ’’افسوس! یہاں تو کچھ بھی نہیں!‘‘

    اتنے میں ملا صاحب اندھیرے سے باہر آئے اور بولے، ’’بھائی، تمہیں صندوق میں کیا چاہیے تھا؟‘‘

    چور گھبرا کر پیچھے ہٹا اور بولا، ’’میں... میں تو راستہ بھول کر یہاں آ گیا ہوں!‘‘

    ملا صاحب نے حیرت سے کہا، ’’اچھا! تو کیا تم رات کے اس وقت لوگوں کے گھروں میں راستہ تلاش کرتے ہو؟‘‘

    چور نے کوئی جواب نہ دیا اور دروازے کی طرف بھاگنے لگا۔ لیکن ملا صاحب نے فوراً آواز دی، ’’ذرا ٹھہرو!‘‘

    چور ڈر کے مارے رک گیا۔

    ملا صاحب مسکرائے اور بولے، ’’تم خالی ہاتھ جا رہے ہو۔ کم از کم یہ ٹوٹی ہوئی لالٹین تو لے جاؤ، شاید تمہیں اپنے گھر کا راستہ دکھا دے!‘‘

    چور شرمندہ ہو گیا۔ اسے احساس ہوا کہ ملا صاحب اس کی چوری کی نیت سمجھ چکے ہیں۔ اس نے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ آئندہ محنت سے روزی کمائے گا۔

    ملا صاحب نے اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا، ’’یاد رکھو! دوسروں کا مال چرانے سے بہتر ہے کہ انسان اپنی محنت سے کمائے۔ محنت کی کمائی میں سکون بھی ہے اور عزت بھی۔‘‘

    چور وہاں سے چلا گیا، اور ملا صاحب دوبارہ اپنے بستر پر جا کر سو گئے۔

    صبح پڑوسیوں نے پوچھا، ’’ملا صاحب! رات کو کیا ہوا تھا؟‘‘

    ملا صاحب ہنس کر بولے، ’’ایک مہمان آیا تھا، مگر اسے میرا گھر پسند نہیں آیا۔ وہ تحفہ لیے بغیر ہی واپس چلا گیا!‘‘

    ## کہانی کا سبق

    **چوری کبھی کامیابی کا راستہ نہیں ہوتی۔ ایمانداری، محنت اور دوسروں کے حقوق کا احترام ہی عزت کی اصل بنیاد ہیں۔**

    **آپ بتائیں:** اگر آپ ملا نصرالدین کی جگہ ہوتے تو چور کو کیسے سمجھاتے؟

    #MullaNasruddin #UrduStory #UrduKahani #MoralStory #Level1 #Day4 #StoryPost #Honesty #Wisdom #FunnyStories #LifeLessons #Pakistan
    # 😂 ملا نصرالدین اور رات کا چور ایک رات ملا نصرالدین اپنے گھر میں آرام سے سو رہے تھے کہ اچانک انہیں صحن میں کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی۔ ملا صاحب فوراً جاگ گئے۔ انہوں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو ایک چور ان کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ ملا صاحب نے شور مچانے کے بجائے ایک دلچسپ ترکیب سوچی۔ وہ خاموشی سے اٹھے، ایک پرانا صندوق نکالا اور اسے کمرے کے درمیان رکھ دیا۔ پھر خود ایک کونے میں چھپ کر انتظار کرنے لگے۔ چور دبے پاؤں گھر میں داخل ہوا۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا اور جب اسے صندوق نظر آیا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ وہ خوشی سے بڑبڑایا، ’’واہ! آج تو قسمت کھل گئی۔ لگتا ہے اس صندوق میں بہت سا خزانہ ہے!‘‘ چور نے صندوق کھولا، مگر اندر صرف پرانے کپڑے، چند کتابیں اور ایک ٹوٹی ہوئی لالٹین تھی۔ چور غصے سے بولا، ’’افسوس! یہاں تو کچھ بھی نہیں!‘‘ اتنے میں ملا صاحب اندھیرے سے باہر آئے اور بولے، ’’بھائی، تمہیں صندوق میں کیا چاہیے تھا؟‘‘ چور گھبرا کر پیچھے ہٹا اور بولا، ’’میں... میں تو راستہ بھول کر یہاں آ گیا ہوں!‘‘ ملا صاحب نے حیرت سے کہا، ’’اچھا! تو کیا تم رات کے اس وقت لوگوں کے گھروں میں راستہ تلاش کرتے ہو؟‘‘ چور نے کوئی جواب نہ دیا اور دروازے کی طرف بھاگنے لگا۔ لیکن ملا صاحب نے فوراً آواز دی، ’’ذرا ٹھہرو!‘‘ چور ڈر کے مارے رک گیا۔ ملا صاحب مسکرائے اور بولے، ’’تم خالی ہاتھ جا رہے ہو۔ کم از کم یہ ٹوٹی ہوئی لالٹین تو لے جاؤ، شاید تمہیں اپنے گھر کا راستہ دکھا دے!‘‘ 😄 چور شرمندہ ہو گیا۔ اسے احساس ہوا کہ ملا صاحب اس کی چوری کی نیت سمجھ چکے ہیں۔ اس نے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ آئندہ محنت سے روزی کمائے گا۔ ملا صاحب نے اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا، ’’یاد رکھو! دوسروں کا مال چرانے سے بہتر ہے کہ انسان اپنی محنت سے کمائے۔ محنت کی کمائی میں سکون بھی ہے اور عزت بھی۔‘‘ چور وہاں سے چلا گیا، اور ملا صاحب دوبارہ اپنے بستر پر جا کر سو گئے۔ صبح پڑوسیوں نے پوچھا، ’’ملا صاحب! رات کو کیا ہوا تھا؟‘‘ ملا صاحب ہنس کر بولے، ’’ایک مہمان آیا تھا، مگر اسے میرا گھر پسند نہیں آیا۔ وہ تحفہ لیے بغیر ہی واپس چلا گیا!‘‘ 😂 ## 🌟 کہانی کا سبق **چوری کبھی کامیابی کا راستہ نہیں ہوتی۔ ایمانداری، محنت اور دوسروں کے حقوق کا احترام ہی عزت کی اصل بنیاد ہیں۔** 💬 **آپ بتائیں:** اگر آپ ملا نصرالدین کی جگہ ہوتے تو چور کو کیسے سمجھاتے؟ #MullaNasruddin #UrduStory #UrduKahani #MoralStory #Level1 #Day4 #StoryPost #Honesty #Wisdom #FunnyStories #LifeLessons #Pakistan
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 1149 Views
  • rahan school campus urdu bazar
    Roll No 16
    foundation level studant
    # Day 12 The Clever Plan of Mulla Nasrudin

    **Once Upon a Time...**

    One day, Mulla Nasrudin arrived in a beautiful town. He was tired and hungry after a long journey. While walking through the busy streets, he saw a large and beautiful hotel called “Hotel City.” The hotel looked comfortable, and the smell of delicious food made him even hungrier. He decided to go inside and ask for a room and something to … See more
    # دن 12 ملا نصرالدین کا ہوشیار منصوبہ

    **ایک دفعہ کا ذکر ہے...**

    ایک دن ملا نصرالدین ایک خوبصورت شہر میں پہنچے۔ وہ ایک طویل سفر کے بعد بہت تھکے ہوئے اور بھوکے تھے۔ شہر کی مصروف سڑکوں پر چلتے ہوئے انہوں نے ایک بڑا اور خوبصورت ہوٹل دیکھا جس کا نام ”ہوٹل سٹی“ تھا۔ ہوٹل بہت آرام دہ دکھائی دے رہا تھا اور مزیدار کھانوں کی خوشبو سے ان کی بھوک اور بڑھ گئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہوٹل کے اندر جا کر کھانا کھائیں گے اور آرام کریں گے۔

    ہوٹل کے مالک نے ملا نصرالدین کا استقبال کیا اور فخر سے کہا، ”ہمارے ہوٹل میں خوش آمدید! ہمارے پاس مزیدار کھانا، آرام دہ کمرے اور بہترین خدمات ہیں۔“ ملا مسکرائے اور بولے، ”آپ کا ہوٹل واقعی بہت اچھا ہے، لیکن میرے پاس ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ اس وقت میرے پاس کافی پیسے نہیں ہیں۔ کیا آپ مجھے کچھ دن یہاں رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں تاکہ میں بعد میں ادائیگی کر سکوں؟“

    ہوٹل کے مالک نے کچھ دیر سوچا۔ اسے ملا پر مکمل یقین نہیں تھا، لیکن آخرکار وہ راضی ہو گیا۔ اس نے کہا، ”ٹھیک ہے، آپ یہاں رہ سکتے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ ہوٹل چھوڑنے سے پہلے آپ کو اپنا بل ادا کرنا ہوگا۔“ ملا نصرالدین نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ہوٹل میں آرام سے رہنے لگے۔

    کچھ دن بعد ملا نصرالدین نے اپنا سامان باندھا اور جانے کی تیاری کی۔ وہ ہوٹل کے مالک کے پاس گئے اور بولے، ”آپ کی مہربانی کا بہت شکریہ۔ مجھے یہاں رہ کر بہت اچھا لگا، لیکن افسوس کہ میں آج آپ کو پیسے نہیں دے سکتا۔ میں بعد میں ادائیگی کر دوں گا۔“ یہ سن کر ہوٹل کا مالک حیران رہ گیا اور بولا، ”کیا؟ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ جانے سے پہلے بل ادا کریں گے۔ اب آپ بغیر پیسے دیے کیسے جا سکتے ہیں؟“

    ملا نصرالدین مسکرائے اور سکون سے بولے، ”میرے دوست، میں آپ کو پہلے ہی ادائیگی کر چکا ہوں!“ ہوٹل کا مالک حیران ہو کر پوچھنے لگا، ”آپ نے کب ادائیگی کی؟ مجھے تو آپ نے ایک سکہ بھی نہیں دیا!“

    ملا نے جواب دیا، ”آپ نے مجھ پر بھروسا کیا اور مجھے اپنے ہوٹل میں رہنے کی اجازت دی۔ میں نے اچھے اخلاق سے وقت گزارا اور آپ کے ہوٹل کے بارے میں اچھا تاثر چھوڑا۔ ہر قیمتی چیز کو پیسوں سے نہیں تولا جا سکتا!“

    ہوٹل کے مالک نے ملا کی باتوں پر غور کیا۔ اگرچہ وہ اب بھی چاہتا تھا کہ کمرے اور کھانے کا بل ادا کیا جائے، لیکن اسے سمجھ آ گیا کہ کاروبار میں بھروسا، عزت اور اچھی شہرت بھی اہم ہیں۔ ملا نصرالدین نے ایک بار پھر شکریہ ادا کیا اور مسکراتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ ہوٹل کا مالک ان کے ہوشیار جواب کے بارے میں سوچتا رہ گیا۔

    ## کہانی کا سبق

    **سمجھ داری انسان کو مشکل حالات میں نیا راستہ دکھا سکتی ہے، لیکن ایمانداری، بھروسا اور اپنے وعدے پورے کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔**
    rahan school campus urdu bazar Roll No 16 foundation level studant # Day 12 📖 The Clever Plan of Mulla Nasrudin **Once Upon a Time...** One day, Mulla Nasrudin arrived in a beautiful town. He was tired and hungry after a long journey. While walking through the busy streets, he saw a large and beautiful hotel called “Hotel City.” The hotel looked comfortable, and the smell of delicious food made him even hungrier. He decided to go inside and ask for a room and something to … See more # دن 12 📖 ملا نصرالدین کا ہوشیار منصوبہ **ایک دفعہ کا ذکر ہے...** ایک دن ملا نصرالدین ایک خوبصورت شہر میں پہنچے۔ وہ ایک طویل سفر کے بعد بہت تھکے ہوئے اور بھوکے تھے۔ شہر کی مصروف سڑکوں پر چلتے ہوئے انہوں نے ایک بڑا اور خوبصورت ہوٹل دیکھا جس کا نام ”ہوٹل سٹی“ تھا۔ ہوٹل بہت آرام دہ دکھائی دے رہا تھا اور مزیدار کھانوں کی خوشبو سے ان کی بھوک اور بڑھ گئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہوٹل کے اندر جا کر کھانا کھائیں گے اور آرام کریں گے۔ ہوٹل کے مالک نے ملا نصرالدین کا استقبال کیا اور فخر سے کہا، ”ہمارے ہوٹل میں خوش آمدید! ہمارے پاس مزیدار کھانا، آرام دہ کمرے اور بہترین خدمات ہیں۔“ ملا مسکرائے اور بولے، ”آپ کا ہوٹل واقعی بہت اچھا ہے، لیکن میرے پاس ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ اس وقت میرے پاس کافی پیسے نہیں ہیں۔ کیا آپ مجھے کچھ دن یہاں رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں تاکہ میں بعد میں ادائیگی کر سکوں؟“ ہوٹل کے مالک نے کچھ دیر سوچا۔ اسے ملا پر مکمل یقین نہیں تھا، لیکن آخرکار وہ راضی ہو گیا۔ اس نے کہا، ”ٹھیک ہے، آپ یہاں رہ سکتے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ ہوٹل چھوڑنے سے پہلے آپ کو اپنا بل ادا کرنا ہوگا۔“ ملا نصرالدین نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ہوٹل میں آرام سے رہنے لگے۔ کچھ دن بعد ملا نصرالدین نے اپنا سامان باندھا اور جانے کی تیاری کی۔ وہ ہوٹل کے مالک کے پاس گئے اور بولے، ”آپ کی مہربانی کا بہت شکریہ۔ مجھے یہاں رہ کر بہت اچھا لگا، لیکن افسوس کہ میں آج آپ کو پیسے نہیں دے سکتا۔ میں بعد میں ادائیگی کر دوں گا۔“ یہ سن کر ہوٹل کا مالک حیران رہ گیا اور بولا، ”کیا؟ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ جانے سے پہلے بل ادا کریں گے۔ اب آپ بغیر پیسے دیے کیسے جا سکتے ہیں؟“ ملا نصرالدین مسکرائے اور سکون سے بولے، ”میرے دوست، میں آپ کو پہلے ہی ادائیگی کر چکا ہوں!“ ہوٹل کا مالک حیران ہو کر پوچھنے لگا، ”آپ نے کب ادائیگی کی؟ مجھے تو آپ نے ایک سکہ بھی نہیں دیا!“ ملا نے جواب دیا، ”آپ نے مجھ پر بھروسا کیا اور مجھے اپنے ہوٹل میں رہنے کی اجازت دی۔ میں نے اچھے اخلاق سے وقت گزارا اور آپ کے ہوٹل کے بارے میں اچھا تاثر چھوڑا۔ ہر قیمتی چیز کو پیسوں سے نہیں تولا جا سکتا!“ ہوٹل کے مالک نے ملا کی باتوں پر غور کیا۔ اگرچہ وہ اب بھی چاہتا تھا کہ کمرے اور کھانے کا بل ادا کیا جائے، لیکن اسے سمجھ آ گیا کہ کاروبار میں بھروسا، عزت اور اچھی شہرت بھی اہم ہیں۔ ملا نصرالدین نے ایک بار پھر شکریہ ادا کیا اور مسکراتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ ہوٹل کا مالک ان کے ہوشیار جواب کے بارے میں سوچتا رہ گیا۔ ## 🌟 کہانی کا سبق **سمجھ داری انسان کو مشکل حالات میں نیا راستہ دکھا سکتی ہے، لیکن ایمانداری، بھروسا اور اپنے وعدے پورے کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔**
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 1120 Views
  • ACCL Foundation Level (Rehan School Urdu Bazar Campus)
    Day 13: story post No 4
    Roll no 17
    Accl task
    ایک رات مُلا نصیر الدین اپنے گھر کے باہر گلی میں زمین پر کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں لالٹین تھی۔
    ایک پڑوسی وہاں سے گزرا اور پوچھا، "مُلا جی، کیا ڈھونڈ رہے ہو؟"
    مُلا نے کہا، "میری انگوٹھی گم ہو گئی ہے۔"
    پڑوسی بھی مدد کے لیے نیچے جھک گیا اور دونوں زمین پر ڈھونڈنے لگے۔ کافی دیر ڈھونڈنے کے بعد بھی انگوٹھی نہ ملی۔
    پڑوسی نے پوچھا، "مُلا جی، آپ کو یاد ہے انگوٹھی کہاں گری تھی؟"
    مُلا نے کہا، "ہاں، گھر کے اندر، کمرے میں گری تھی۔"
    پڑوسی حیران ہو کر بولا، "کیا؟ انگوٹھی اندر گری تھی تو آپ باہر کیوں ڈھونڈ رہے ہیں؟"
    مُلا نے بڑے آرام سے جواب دیا، "کیونکہ اندر اندھیرا ہے اور باہر لالٹین کی روشنی ہے۔ یہاں روشنی میں ڈھونڈنا آسان ہے۔"
    سبق: ہم اکثر آسان جگہ پر حل ڈھونڈتے ہیں، صحیح جگہ پر نہیں۔ یہی ہماری سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔
    ---
    ### 2. In English: Mulla Nasrudin's Missing Ring
    One night, Mulla Nasrudin was searching for something on the ground outside his house, holding a lantern.
    A neighbor passed by and asked, "Mulla, what are you searching for?"
    Mulla said, "I lost my ring."
    The neighbor also bent down to help him, and both started searching the ground. After searching for a long time, they couldn't find the ring.
    The neighbor asked, "Mulla, do you remember where you dropped the ring?"
    Mulla said, "Yes, I dropped it inside the house, in my room."
    The neighbor was shocked and said, "What? If you dropped the ring inside, why are you searching outside?"
    Mulla replied very calmly, "Because it is dark inside and there is light from the lantern outside. It is easier to search in the light here."
    Moral: We often look for solutions where it is easy, not where the problem actually is. That is our biggest foolishness. See less
    13m
    ACCL Foundation Level (Rehan School Urdu Bazar Campus) Day 13: story post No 4 Roll no 17 Accl task ایک رات مُلا نصیر الدین اپنے گھر کے باہر گلی میں زمین پر کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں لالٹین تھی۔ ایک پڑوسی وہاں سے گزرا اور پوچھا، "مُلا جی، کیا ڈھونڈ رہے ہو؟" مُلا نے کہا، "میری انگوٹھی گم ہو گئی ہے۔" پڑوسی بھی مدد کے لیے نیچے جھک گیا اور دونوں زمین پر ڈھونڈنے لگے۔ کافی دیر ڈھونڈنے کے بعد بھی انگوٹھی نہ ملی۔ پڑوسی نے پوچھا، "مُلا جی، آپ کو یاد ہے انگوٹھی کہاں گری تھی؟" مُلا نے کہا، "ہاں، گھر کے اندر، کمرے میں گری تھی۔" پڑوسی حیران ہو کر بولا، "کیا؟ انگوٹھی اندر گری تھی تو آپ باہر کیوں ڈھونڈ رہے ہیں؟" مُلا نے بڑے آرام سے جواب دیا، "کیونکہ اندر اندھیرا ہے اور باہر لالٹین کی روشنی ہے۔ یہاں روشنی میں ڈھونڈنا آسان ہے۔" سبق: ہم اکثر آسان جگہ پر حل ڈھونڈتے ہیں، صحیح جگہ پر نہیں۔ یہی ہماری سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ --- ### 2. In English: Mulla Nasrudin's Missing Ring One night, Mulla Nasrudin was searching for something on the ground outside his house, holding a lantern. A neighbor passed by and asked, "Mulla, what are you searching for?" Mulla said, "I lost my ring." The neighbor also bent down to help him, and both started searching the ground. After searching for a long time, they couldn't find the ring. The neighbor asked, "Mulla, do you remember where you dropped the ring?" Mulla said, "Yes, I dropped it inside the house, in my room." The neighbor was shocked and said, "What? If you dropped the ring inside, why are you searching outside?" Mulla replied very calmly, "Because it is dark inside and there is light from the lantern outside. It is easier to search in the light here." Moral: We often look for solutions where it is easy, not where the problem actually is. That is our biggest foolishness. See less 13m
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 602 Views
  • Level 1
    Book 1
    Day 5
    Task story post
    “Write the story of Mulla Nasruddin in Urdu about how he taught a lesson to a thief who tried to steal from him.”

    ایک رات ملا نصرالدین اپنے گھر میں آرام سے سو رہے تھے۔ رات بہت خاموش تھی۔ اچانک ایک چور ‍ ان کے گھر میں داخل ہوا۔ وہ دبے پاؤں گھر میں گھومنے لگا اور قیمتی چیزیں تلاش کرنے لگا۔

    ملا نصرالدین کی آنکھ کھل گئی۔ انہوں نے چور کو دیکھ لیا، لیکن انہوں نے شور نہیں مچایا۔ وہ خاموشی سے چور کو دیکھتے رہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ کیا کرتا ہے۔

    چور نے ایک چیز اٹھائی اور اسے اپنے تھیلے میں ڈالنے لگا۔ ملا نصرالدین نے آرام سے کہا، “بھائی! تم اتنی رات کو میرے گھر میں کیا تلاش کر رہے ہو؟”

    چور اچانک گھبرا گیا۔ اس نے سوچا کہ ملا اسے پکڑ لیں گے۔ وہ بولا، “میں... میں تو بس کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔”

    ملا نصرالدین مسکرائے۔ انہوں نے کہا، “اگر تمہیں واقعی کسی چیز کی ضرورت ہے تو مانگ لو۔ لیکن کسی کی محنت سے کمائی ہوئی چیز چوری کرنا اچھی بات نہیں ہے۔”

    چور شرمندہ ہو گیا۔ مگر ملا نے اسے ڈانٹنے کے بجائے ایک اچھا سبق دینے کا فیصلہ کیا۔

    ملا نے ایک خالی تھیلا چور کے ہاتھ میں دیا اور کہا، “اس تھیلے میں اپنی چوری کی چیزیں نہیں، بلکہ اپنی غلطی رکھو اور اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دو۔”

    چور ملا کی بات سن کر حیران رہ گیا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ غلط راستے پر چل رہا ہے۔

    ملا نے کہا، “دولت انسان کو خوشی نہیں دیتی اگر وہ دوسروں کا حق مار کر حاصل کی جائے۔ اصل کامیابی ایمانداری، محنت اور اچھے کردار میں ہے۔ ”

    چور نے فوراً تمام چیزیں واپس رکھ دیں۔ اس نے ملا نصرالدین سے معافی مانگی۔

    چور نے کہا، “ملا صاحب! آج آپ نے مجھے سزا نہیں دی، بلکہ مجھے اپنی غلطی سمجھا دی۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی چوری نہیں کروں گا۔”

    ملا نصرالدین نے مسکرا کر کہا، “یاد رکھو، غلطی کرنا بری بات نہیں، لیکن غلطی سمجھنے کے بعد بھی اسے جاری رکھنا بری بات ہے۔”

    چور نے ملا کا شکریہ ادا کیا اور گھر سے چلا گیا۔ ‍

    اس رات ملا نصرالدین نے اپنے آپ سے کہا، “کبھی کبھی ایک اچھا مشورہ وہ سبق سکھا دیتا ہے جو سخت سزا بھی نہیں سکھا سکتی۔”

    سبق:
    ایمانداری ہمیشہ چوری سے بہتر ہے۔ دوسروں کی چیز کا حق ادا کرنا چاہیے، اور اگر غلطی ہو جائے تو اسے مان کر درست راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

    Summary | خلاصہ

    ملا نصرالدین کے گھر ایک چور ‍ رات کو چوری کرنے آیا۔ ملا نے اسے ڈانٹنے کے بجائے پیار سے سمجھایا کہ چوری کرنا غلط ہے۔ چور کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے چوری کی ہوئی چیزیں واپس کر دیں۔ اس نے وعدہ کیا کہ آئندہ ایمانداری سے زندگی گزارے گا۔

    Keywords | کلیدی الفاظ

    ‍ چور • ملا نصرالدین • گھر • چوری • دولت • ایمانداری • نیکی • معافی • سبق • اچھا کردار • محنت • سچائی

    Input

    ‍ چور گھر میں داخل ہوا
    چیزیں تلاش کیں
    ملا نے اسے دیکھ لیا
    ملا نے نرمی سے بات کی
    چور کو اپنی غلطی کا احساس ہوا

    Output

    چور نے چیزیں واپس کر دیں
    ملا سے معافی مانگی
    اچھا بننے کا وعدہ کیا
    چوری چھوڑنے کا فیصلہ کیا
    ایمانداری کا سبق سیکھا

    Moral | سبق

    “چوری غلط ہے، لیکن اپنی غلطی مان کر صحیح راستہ اختیار کرنا اچھی بات ہے۔”

    Hashtags

    #MullaNasruddin #MullaNasruddinStory #UrduStory #UrduKahani #MoralStory #MoralLesson #StoryTime #Honesty #Truth #Kindness #GoodCharacter #LifeLesson #FunnyStory #KidsStory #UrduLiterature #IslamicStories #PositiveMessage #Learning #Inspiration #GoodValues #ایمانداری #سچائی #اچھی_بات #سبق #ملا_نصرالدین

    Tania Khan Mentorship Wali
    Imran Khan Street Wala
    @highlight
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Waryam Tharparkar Wala
    Shazia Javed Educationwali
    Level 1 Book 1 Day 5 Task story post “Write the story of Mulla Nasruddin in Urdu about how he taught a lesson to a thief who tried to steal from him.” 🌙 ایک رات ملا نصرالدین اپنے گھر میں آرام سے سو رہے تھے۔ 🛏️😴 رات بہت خاموش تھی۔ اچانک ایک چور 🕵️‍♂️ ان کے گھر میں داخل ہوا۔ وہ دبے پاؤں گھر میں گھومنے لگا اور قیمتی چیزیں تلاش کرنے لگا۔ 🔍💰 ملا نصرالدین کی آنکھ کھل گئی۔ 👀 انہوں نے چور کو دیکھ لیا، لیکن انہوں نے شور نہیں مچایا۔ 🤫 وہ خاموشی سے چور کو دیکھتے رہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ کیا کرتا ہے۔ چور نے ایک چیز اٹھائی اور اسے اپنے تھیلے میں ڈالنے لگا۔ 🎒 ملا نصرالدین نے آرام سے کہا، “بھائی! تم اتنی رات کو میرے گھر میں کیا تلاش کر رہے ہو؟” 😄 چور اچانک گھبرا گیا۔ 😲 اس نے سوچا کہ ملا اسے پکڑ لیں گے۔ وہ بولا، “میں... میں تو بس کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔” ملا نصرالدین مسکرائے۔ 😊 انہوں نے کہا، “اگر تمہیں واقعی کسی چیز کی ضرورت ہے تو مانگ لو۔ لیکن کسی کی محنت سے کمائی ہوئی چیز چوری کرنا اچھی بات نہیں ہے۔” 💡 چور شرمندہ ہو گیا۔ 😔 مگر ملا نے اسے ڈانٹنے کے بجائے ایک اچھا سبق دینے کا فیصلہ کیا۔ ملا نے ایک خالی تھیلا 🛍️ چور کے ہاتھ میں دیا اور کہا، “اس تھیلے میں اپنی چوری کی چیزیں نہیں، بلکہ اپنی غلطی رکھو اور اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دو۔” چور ملا کی بات سن کر حیران رہ گیا۔ 😯 اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ غلط راستے پر چل رہا ہے۔ ملا نے کہا، “دولت 🪙 انسان کو خوشی نہیں دیتی اگر وہ دوسروں کا حق مار کر حاصل کی جائے۔ اصل کامیابی ایمانداری، محنت اور اچھے کردار میں ہے۔ 🌟” چور نے فوراً تمام چیزیں واپس رکھ دیں۔ 📦 اس نے ملا نصرالدین سے معافی مانگی۔ 🙏 چور نے کہا، “ملا صاحب! آج آپ نے مجھے سزا نہیں دی، بلکہ مجھے اپنی غلطی سمجھا دی۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی چوری نہیں کروں گا۔” ملا نصرالدین نے مسکرا کر کہا، “یاد رکھو، غلطی کرنا بری بات نہیں، لیکن غلطی سمجھنے کے بعد بھی اسے جاری رکھنا بری بات ہے۔” ❤️ چور نے ملا کا شکریہ ادا کیا اور گھر سے چلا گیا۔ 🚶‍♂️🌙 اس رات ملا نصرالدین نے اپنے آپ سے کہا، “کبھی کبھی ایک اچھا مشورہ وہ سبق سکھا دیتا ہے جو سخت سزا بھی نہیں سکھا سکتی۔” 💭✨ 🌟 سبق: ایمانداری ہمیشہ چوری سے بہتر ہے۔ دوسروں کی چیز کا حق ادا کرنا چاہیے، اور اگر غلطی ہو جائے تو اسے مان کر درست راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ 🤝❤️🌟 📖✨ Summary | خلاصہ ملا نصرالدین کے گھر ایک چور 🕵️‍♂️ رات کو چوری کرنے آیا۔ ملا نے اسے ڈانٹنے کے بجائے پیار سے سمجھایا کہ چوری کرنا غلط ہے۔ ❤️ چور کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے چوری کی ہوئی چیزیں واپس کر دیں۔ 📦🙏 اس نے وعدہ کیا کہ آئندہ ایمانداری سے زندگی گزارے گا۔ 🌟😊 🔑 Keywords | کلیدی الفاظ 🕵️‍♂️ چور • ملا نصرالدین • 🏠 گھر • چوری • 💰 دولت • ایمانداری • ❤️ نیکی • 🙏 معافی • 💡 سبق • 🌟 اچھا کردار • محنت • سچائی 📥 Input 🕵️‍♂️ چور گھر میں داخل ہوا 🔍 چیزیں تلاش کیں 😲 ملا نے اسے دیکھ لیا 💬 ملا نے نرمی سے بات کی 💡 چور کو اپنی غلطی کا احساس ہوا 📤 Output 📦 چور نے چیزیں واپس کر دیں 🙏 ملا سے معافی مانگی 🤝 اچھا بننے کا وعدہ کیا ❤️ چوری چھوڑنے کا فیصلہ کیا 🌟 ایمانداری کا سبق سیکھا 🌟 Moral | سبق “چوری غلط ہے، لیکن اپنی غلطی مان کر صحیح راستہ اختیار کرنا اچھی بات ہے۔” ❤️🤝✨ 🏷️ Hashtags #MullaNasruddin #MullaNasruddinStory #UrduStory #UrduKahani #MoralStory #MoralLesson #StoryTime #Honesty #Truth #Kindness #GoodCharacter #LifeLesson #FunnyStory #KidsStory #UrduLiterature #IslamicStories #PositiveMessage #Learning #Inspiration #GoodValues #ایمانداری #سچائی #اچھی_بات #سبق #ملا_نصرالدین 📚✨❤️ Tania Khan Mentorship Wali Imran Khan Street Wala @highlight Mohsin Rathore Seo Wala Waryam Tharparkar Wala Shazia Javed Educationwali
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 8092 Views
  • ڈاکٹر تیزی سے ہسپتال میں داخل ہوا ، کپڑے تبدیل کیے اور سیدھا آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھا ۔ اسے ایک بچے کے آپریشن کے لیے فوری اور ہنگامی طور پر بلایا گیا تھا ۔

    ہسپتال میں موجود بچے کا باپ ڈاکٹر کو آتا دیکھ کر چلایا ، ”اتنی دیر لگا دی؟ تمہیں پتا نہیں میرا بیٹا کتنی سخت اذیت میں ہے ، زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ، تم لوگوں میں کوئی احساس ذمہ داری نہیں ہے؟“۔

    ”مجھے افسوس ہے میں ہسپتال میں نہیں تھا ، جیسے ہی مجھے کال ملی میں جتنی جلدی آ سکتا تھا آیا ہوں “ ، ڈاکٹر نے مسکرا کر جواب دیا ۔ ”اب میں چاہوں گا کہ آپ سکون سے بیٹھیئے تاکہ میں اپنا کام شروع کر سکوں“

    ”میں اور سکون سے بیٹھوں ، اگر اس حالت میں تمہارا بیٹا ہوتا تو کیا تم سکون سے بیٹھتے ؟ اگر تمہارا اپنا بیٹا ابھی مر رہا ہو تو تم کیا کرو گے؟“ باپ غصے سے بولا ۔

    ڈاکٹر پھر مسکرا کر کہا، ” ہماری مقدس کتاب کہتی ہے کہ ہم مٹی سے بنے ہیں اور ایک دن ہم سب کو مٹی میں مل جانا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے اور غفور رحیم ہے ڈاکٹر کسی کو زندگی نہیں دیتا نہ کسی کی عمر بڑھا سکتا ہے ۔ اب آپ آرام سے بیٹھیں اور اپنے بیٹے کے لیے دعا کریں ۔ ہم آپ کے بیٹے کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے“۔

    ” بس ان لوگوں کی نصیحتیں سنو چاہےتمہیں ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ بچے کا باپ بڑبڑایا “۔
    آپریشن میں کئی گھنٹے لگ گئے لیکن بالآخر جب ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، ” تمہارا بیٹا اب خطرے سے باہر ہے ، اگر کوئی سوال ہو تو نرس سے پوچھ لینا“ ۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا ۔

    ”کتنا مغرور ہے یہ شخص ، کچھ لمحے کے لیے بھی نہیں رکا کہ میں اپنے بچے کی حالت کے بارے میں ہی کچھ پوچھ لیتا“ ، بچے کے باپ نے ڈاکٹرکے جانے بعد نرس سے کہا ۔

    نرس نے روتے ہوئے جواب دیا ، ” اس کا بیٹا کل ایک ٹریفک کے حادثے کا شکار ہو گیا تھا ، جب ہم نے اسے آپ کے بیٹے کے لیے کال کی تھی تو وہ اس کی تدفین کر رہا تھا ۔ اور اب جبکہ اس نے آپ کے بیٹے کی جان بچالی ہےتو دوبارہ تدفین کو مکمل کرنے گیا ہے“۔

    کبھی کسی پر بےجا تنقید نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ دوسرے کی زندگی کیسی ہے اور وہ کن کن مشکلات میں مبتلا ہے
    تم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے کام آنے کے لیے کتنی بڑی قربانی دے رہا ہے ۔
    ڈاکٹر تیزی سے ہسپتال میں داخل ہوا ، کپڑے تبدیل کیے اور سیدھا آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھا ۔ اسے ایک بچے کے آپریشن کے لیے فوری اور ہنگامی طور پر بلایا گیا تھا ۔ ہسپتال میں موجود بچے کا باپ ڈاکٹر کو آتا دیکھ کر چلایا ، ”اتنی دیر لگا دی؟ تمہیں پتا نہیں میرا بیٹا کتنی سخت اذیت میں ہے ، زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ، تم لوگوں میں کوئی احساس ذمہ داری نہیں ہے؟“۔ ”مجھے افسوس ہے میں ہسپتال میں نہیں تھا ، جیسے ہی مجھے کال ملی میں جتنی جلدی آ سکتا تھا آیا ہوں “ ، ڈاکٹر نے مسکرا کر جواب دیا ۔ ”اب میں چاہوں گا کہ آپ سکون سے بیٹھیئے تاکہ میں اپنا کام شروع کر سکوں“ ”میں اور سکون سے بیٹھوں ، اگر اس حالت میں تمہارا بیٹا ہوتا تو کیا تم سکون سے بیٹھتے ؟ اگر تمہارا اپنا بیٹا ابھی مر رہا ہو تو تم کیا کرو گے؟“ باپ غصے سے بولا ۔ ڈاکٹر پھر مسکرا کر کہا، ” ہماری مقدس کتاب کہتی ہے کہ ہم مٹی سے بنے ہیں اور ایک دن ہم سب کو مٹی میں مل جانا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے اور غفور رحیم ہے ڈاکٹر کسی کو زندگی نہیں دیتا نہ کسی کی عمر بڑھا سکتا ہے ۔ اب آپ آرام سے بیٹھیں اور اپنے بیٹے کے لیے دعا کریں ۔ ہم آپ کے بیٹے کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے“۔ ” بس ان لوگوں کی نصیحتیں سنو چاہےتمہیں ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ بچے کا باپ بڑبڑایا “۔ آپریشن میں کئی گھنٹے لگ گئے لیکن بالآخر جب ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، ” تمہارا بیٹا اب خطرے سے باہر ہے ، اگر کوئی سوال ہو تو نرس سے پوچھ لینا“ ۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا ۔ ”کتنا مغرور ہے یہ شخص ، کچھ لمحے کے لیے بھی نہیں رکا کہ میں اپنے بچے کی حالت کے بارے میں ہی کچھ پوچھ لیتا“ ، بچے کے باپ نے ڈاکٹرکے جانے بعد نرس سے کہا ۔ نرس نے روتے ہوئے جواب دیا ، ” اس کا بیٹا کل ایک ٹریفک کے حادثے کا شکار ہو گیا تھا ، جب ہم نے اسے آپ کے بیٹے کے لیے کال کی تھی تو وہ اس کی تدفین کر رہا تھا ۔ اور اب جبکہ اس نے آپ کے بیٹے کی جان بچالی ہےتو دوبارہ تدفین کو مکمل کرنے گیا ہے“۔ کبھی کسی پر بےجا تنقید نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ دوسرے کی زندگی کیسی ہے اور وہ کن کن مشکلات میں مبتلا ہے تم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے کام آنے کے لیے کتنی بڑی قربانی دے رہا ہے ۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 577 Views
  • ریحان اللہ ۵۰۰ میچوئل دوست بنانے کا کیوں کہتے ہیں؟

    مجھے بہت سال ہوگئے ہیں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سارے کاروبار شروع کئے ، بہت سی چیزیں شروع کیں۔ جو سب سے بڑا چیلنج آتا ہے میرے دوستوں اور بزنس مینس کو آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں یار اچھے لوگ نہیں مِلتے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں دوسو سے زیادہ یونیورسٹیز ہیں، ہزاروں لاکھوں کے حساب سے اسکولز ہیں ۔ کیوں نہیں ہمیں اچھے لوگ مِل پاتے؟ جب آپ اچھے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو اچھے لوگوں سے مُراد یہ ہوتی ہے لوگوں کی کہ ایسے لوگ جو آپ کی بات کو سمجھ سکیںآپ کے ساتھ بات چیت اچھی طرح سے کرسکیں۔آپ کی بات کو سمجھ بھی سکیں صرف بول نہ سکیں بلکہ سمجھ بھی سکیں، اور تیسرا یہ کہ آ پ کے پاس اور اُن کے پاس جو علم ہے وہ ایک جیسی ہو ، آپ کے کام سے متعلق علم ایک جتنا ہو۔ اور جب بات آتی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یا گلوبلائزیشن کی یا گلوبل بزنس کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو پاکستان میں مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں زیادہ تر ۔ اگر کسی کو موقع ملے ، آپ اُٹھا کر دیکھیں کہ جتنے گریجوئٹس ہیں کالج یا اچھی یونیورسٹیز کے وہ مُلک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو جو پیچھے آپ کے لوگ رہ جاتے ہیں وہ کم سفر کرتے ہیں اور وہ پاکستان میں دل سے رہنا نہیں چاہتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ اب بہت سارے لوگ ہوسکتا ہے اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ وہ حقیقت ہے جو مُجھ کو نظرآتی ہے بہت سارے لوگوں کی حقیقت الگ ہوتی ہے اُس کے بعد جو یہ بچے کُچے لوگ رہ جاتے ہیں اُن کو کوئی بات سمجھانا بہت مُشکل ہوجاتا ہے تو اُن کی تھَرو ٹریننگ کی جاتی ہے یا ہم اُن کو کسی ایسی جگہ فِٹ کرتے ہیں کہ وہ سینئر مینجمنٹ کی پوسٹ پر ہوتے ہیں یا کسی سی لیول پر ہوں سی ایم او، سی ایف او ،سی ٹی او، سی ای او۔ تومُشکل ہوتاہے اُن کو سمجھانا تھوڑا مُشکل ہوتا ہے کیوں کہ اُن کو آپ کی بات غیر واضح لگ رہی ہوتی ہے خاص طور پر ڈاٹ کام بزنس میں اور گلوبل ایرینا میں۔ کیونکہ دُنیا انہوں نے نہیں گھومی ہوتی اُن کی حقیقت الگ ہوتی ہے آپ کی حقیقت الگ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میں ۷۰ مُلک گھُوما ہوں ، میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں اگر وہ دو مُلک بھی نہیں گھومے تو اُن کی میری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی اسلئے کہ اُن کو لگے گا کہ یہ سب کچھ باہر کی دُنیا میں ہوسکتا ہے پاکستان میں نہیں ہوسکتا تویہ وہ چیز ہے جو سفر کے ساتھ نظر آتی ہے ، تجربے کے ساتھ نظر آتی ہے پھر میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا کہ جب آپ کسی انسان سے ملتے ہیں تو آپ کی انرجی اور اُس کی انرجی آپس میں شیئر ہوتی ہے آپ کا علم اور اُس کا علم شیئر ہوتا ہے تو وہ آپ کی سوچ اور آپ کو ایک الگ انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی کوشش کے باوجود بھی آپ مُختلف ہوجاتے ہیں جب آپ کسی انسان سے مِلتے ہیں چاہے وہ دس سیکنڈ ہی کیوں نہ ہواگر ایک گھنٹے مُلاقات ہوجائے تو میراتجربہ ہے کہ انسان کم سے کم ایک فیصد ضرور بدل جاتا ہے اگر وہ ایک آدمی سے ایک گھنٹے مُلاقات کرلے اور اُس سے باتیں کرے تواب میں یہ ساری باتیں اور سفر لوگوں کو کراؤں اسکا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا ، اگر مُجھے سوآدمی چاہئیں کام کے لیئے تو جن سے میں کام لینا چاہتا ہوں یا جن کو میں کچھ سمجھانا چاہوں یا مینٹر کرنا چاہتا ہوں تومیں اُنکی متعلقہ معلومات کیسے بدلوں ، اُن کی جو معاشرے کی حقیقتیں ہیں وہ اتنی الگ ہیں جب میں ان کو کوئی بات سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہوں تو وہ ضائع ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایسے نہیں ہوتا ہمارے مُلک میں، تو پھر میں نے کیا کیا کہ میں یہ سات آٹھ سالوں سے کررہا ہوں کہ میں اپنے دوستوں کو ہم خیال کرنا چاہتا ہوں اُن کے پاس باہر کے لوگوں کی آئی ڈی بھیجنا شروع کردیتا ہوں تاکہ اُن کی جو کیپیسٹی ہے معلومات کی وہ بڑھ جائے ، اگر آپ ایک کام کررہے ہیں اور دوسرا بھی کوئی کام کرہا ہے تو دو مل کر کریں گے تو جلدی ہوجائے گا۔ میرا ایک خواب ہے کہ میں پاکستان میں ایک ملین لوگوں کو اِمپاور کرنا چاہتا ہوں جو کہ بزنس مین بن سکیں اب اُس خواب کے اندر جو میرے سامنے سب سے بڑی رُکاوٹ آتی ہے وہ یہ کہ مُجھے ہم خیال لوگ نہیں ملتے۔ جن لوگوں کو میں جاب پر رکھتا ہوں اُنہیں میری بات سمجھ نہیں آتی تھی ان کو میرا طریقہ سمجھ نہیں آتا تھا اور بہت ساری باتیں تھیں۔ اور میں ایک اچھا مینیجر بھی نہیں ہوں۔ میں نے چونکہ باہر مُلک میں بہت سال کام کیا ہے ورچوئلی ہی صحیح لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ خود اعتمادی کے ساتھ مینیجر یا سی ای او کوجو کام بھی دے دیا جاتا ہے اور وہ کام کرتا رہتا ہے اب پاکستان میں ایسے لوگ یا تو بہت مہنگے مِلتے ہیں یا پھر وہ ہوتے ہیں جو مُختلف مُمالک گھوم کر آچُکے ہوں ، اوپن مائینڈڈ ہوں ، ہر چیز کو ایکسیپٹ کرتے ہوں بہت کتابیں پڑھتے ہوں تو اُن کی جو سیلری لیول ہے وہ ایک لاکھ دو لاکھ روپے سے اُپر چلا جاتا ہے ۔ پاکستان میں جو مینیجر بیس سے پچیس ہزار پر آپ ہائر کریں گے ، آپریشنل مینیجر ہائر کرتے ہیں یا ایم بی اے رکھتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ وہ بیس سے پچیس ہزار میں مل جاتا ہے لیکن اُس ایم بی اے کے اندر چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کام نہیں کر پاتااُس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ اُس کی معلومات رٹے والی ہوتی ہے لیکن اُس نے دُنیا نہیں دیکھی ہوتی اور دُنیا نہ دیکھنے کی وجہ سے اُس کی جو تراشائی جیسے ہر ہیرے کو پتھر سے تراشا جاتا ہے،کیونکہ اُس کی مُلاقات بہت سارے لوگوں سے نہیں ہوئی ہوتی تو اُس میں چمک نہیں ہوتی۔ میں نے یہ نوٹ کیا ہے کچھ سالوں پہلے کہ جس آدمی کے بھی مُجھ سے میچوئل دوست بڑھ جاتے ہیں تو اُس کو میری باتیں سمجھ آتی ہیں یا پھر کوئی بہت ذہین آدمی ہوتا ہے اُسے میری بات سمجھ آتی ہے تو میں نے اپنے آفس میں یہ شرط رکھ دی کہ سب نے میرے ۵۰۰ غیر مُلکی دوست بنانے ہیں تو اُس سے میں نے یہ دیکھا کہ بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا میرا کام آسان ہوگیا جو ایک کام ایک گھنٹے میں سمجھانے میں لگتا وہ آدھا منٹ میں سمجھ آجاتا ۔ تو پھر میں نے امریکہ میں اپنے ایک دوست سے کہا کہ اس کو کیسے بڑھاؤں؟تاکہ اس کو چیک کرسکوں۔ تو میرے دوست نے کہا کہ کوئی گفٹ دے دو، لیپ ٹاپ دے دوتو مُجھے یہ آئیڈیا اچھا لگااور میں نے شروع کردیا تو تقریباً آٹھ مہینے میں سولوگوں نے پانچ سو میچوئل دوست بنالئے اُن میں صرف پانچ ایسے ہونگے جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دوسرا چیلنج یہ آیا کہ انہوں نے اُن دوستوں سے بات نہیں کی ، انہوں نے صرف فرینڈ بنالئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا۔ہمارا دماغ معاشرے کی وجہ سے بدلتا ہے ہم اردو اسلئے بولتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں بولی جاتی ہے اگر آپ جاپان چلے جائیں تو ایک سال میں جاپانی زبان بولناشروع ہوجائیں گے کوئی بھی نہیں سِکھارہا ہوگا اُدھر کیونکہ آپ سُنتے جائیں گے تو آپ کا دماغ سیکھ جائے گا ۔کہتے ہیں نا خربوزے کو دیکھ کر خربوزا رنگ پکڑتا ہے تو میرے پاس دُنیا کے پانچ ہزار بہت ہی دلچسپ دوست موجود ہیںآپ جب ان سے بات کریں گے تو اس بات کرنے سے جو آپ ریفلیکشن دیکھیں گے اپنا شیشے کی طرح اُس کی نظر سے تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ آپ کے مُلک میں یہ مسئلہ کیوں ہے؟یا آپ کے کاروبار میں مسئلہ کیوں ہے؟تو آپ سوچیں گے کہ اس کا تو کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ پوچھ رہا ہے تو میں اسے سوچ کر بتاؤں گااور آپ چاہے پھر جھوٹ بولیں یا سچ بولیں لیکن آپ کا دماغ مُختلف طریقوں سے سوچنا شروع ہوجائے گا کہ یہ مسائل کیوں ہیں؟ حالانکہ وہی بات جب آپ کے اپنے مُلک کے لوگ پوچھیں گے تو آپ کہیں گے کہ یہ امریکہ کا مسئلہ ہے لیکن اگر کوئی امریکی ہوگا تو وہ آپ سے پوچھ لے گا کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟تو آپ اس کے اگلے سوال پر پہنچیں گے پھر اس سے اگلے سوال پر تو آپ مسئلہ کی گہرائی تک جائیں گے تو جو بات آپ کو سمجھ نہیں آتی تھیں وہ آپ کو سمجھ آنے لگیں گی اس تراشی کی نتیجے میں مُجھے ایسے لوگ مل رہے ہیں جنہیں میں آرام سے بات سمجھا پاتا ہوں وہ پانچ سو لوگوں کو مناسکتے ہیں اُس سے اُن کی خودی بہت بڑھ جاتی ہے اُس کے اندر کانفیڈنس بڑھ جاتا ہے اُس کے اندر معاشرے کی اور دین کی معلومات ، باہر مُلکوں کی معلومات بہت بڑھ جاتی ہے اُس کا دُنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی آدمی میرے پانچ سو دوست بنالے اور پانچ سے بات کرلے تو یہ ایسا ہے کہ وہ پانچ مُلک سفر کرکے آیا ہے کیونکہ اُسے کم سے کم تین مہینے لگیں گے جو جلدی بنالیتے ہیں اُس کا اثر نہیں ہوتا اثر صرف بات کرنے سے آئے گا جب آپ کو اُن سے کنیکٹ ہونے میں مُشکل آئے گی تو آپ سوچیں گے کہ یہ کیوں نہیں بات کررہا یا مُجھ میں کیا خرابی ہے پھر آپ کو معلوم ہونا شروع ہوجائے گا ۔ میں نے آپ کو ایک پلاٹ فارم دے دیا ہے کہ جہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ میں کیا خرابی ہے اگر کوئی اور آپ کو بتائے گا تو آپ سمجھیں گے کہ یہ تو مطلبی ہے، ہر کوئی اگر میرے پاس آکر پوچھے گا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو میں نے ایک سیلف آرگنائزنگ گروپ بنادیا ہے اس کو آپ جوائن کرسکتے ہیں پانچ سو میچوئل دوستوں کا تجربہ کے نام سے ہے اس میں سات سو لوگ ہیں پھر جب آپ اپنے آپ کو دیکھیں گے تو آپ کو اپنی خرابیاں نظر آنے لگیں گی لیکن اگر آپ کو کوئی اور بتائے گا توآپ اس سے کہیں گے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر میں کچھ بھی کروں تو یہ ہمارے اندر کمزوری ہے تو یہ ہم دوسروں سے بات کرکے ختم کرسکتے ہیں خود کو تراش لیتے ہیں اور یہ ایک ورزش ہے جو میں نے اپنی زندگی میں آزمائی ہے اور بہت ساروں کو کروائی ہے اور اب مُجھے اس کے نتائج بھی معلوم ہیں ایسے میں کسی کو بولتا ہوں جاؤ میرے پانچ سو دوست بنالو تو کوئی بھی نہیں بناتا لیکن یہ اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی لالچ میں بہت سارے لوگ بنانا شروع کرتے ہیں اور جب سو لوگوں سے دوستی کرکے صرف پچیس لوگوں سے بات کرتے ہیں تو مُجھے میسیج کرتے ہیں کہ سر آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہماری زندگی کا پیٹرن ہی بدل دیا ہے اور اب ہم زندگی کو بہت الگ نظر سے دیکھتے ہیں اور میرا مقصد بھی یہی ہے کہ میں ایک ایسا انسان معاشرے کو دے دیتا ہوں جو کسی بھی مسئلے کو حل کر سکے اور اس کو مختلف طریقوں سے دیکھ سکے وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا ایک چھوٹے سے پراسس سے ایک دس ہزار کے تحفے سے کہ وہ کچھ بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔آپ ایک دو سال میں دیکھیں گے کہ اگر آپ اس کی لَمس ، آئی بی اے کے کسی گریجوئٹ سے ٹکر کرادیں تو یہ ان سے اچھا کامیاب انسان ثابت ہوگااگریہ پورے پراسس سے گزرے گا۔ میں نے کوئی اُسے چار سال یا سولہ سال کیلئے کسی یونیورسٹی نہیں بھیجا میں نے صرف اُسے یہ کہا ہے کہ وہ لوگوں سے مُلاقات کرے ۔ تو سفر بہت طاقتور چیز ہے اگر آپ جسمانی سفر نہیں کرسکتے تو ورچوئل سفر کرلیںآپ اسے ضرور آزمائیں اس کا جو رزلٹ ہے وہ بہت ہی زبردست ہے اب ہم اسے ایک کتاب کی شکل دے رہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کو کتنا فائدہ ہورہا ہے ۔ اس پر ہم پیپر لکھ دیں گے کہ آئیے اسے پڑھیں۔ ایک دفعہ مُجھ سے آصف جمالی پوچھ رہے تھے کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ تو میں نے آصف سے پوچھا کہ آپ نے جو اتنے سارے دوست بنالئے ہیں اور سندھ ہیلپ سینٹر کھول لیا ہے اور آپ اس میں لوگوں کی مدد کرتے ہیںآپ ویڈیو بنالیتے ہیں۔دوسرے دوست ایسا کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی شکل دیکھ کر گھبراتے ہیں تو جو قوم اپنی شکل دیکھ کر گھبراتی ہو اور اپنی ویڈیو بناکر فیس بُک پر ڈالنے سے گھبراتی ہو تو وہ قوم کیا کرے گی آگے جاکر؟ وہ کیسے کچھ بڑا حاصل کرے گی؟اگر اپنے آئیڈیے کونہیں بیچ سکتی تو اپنی پراڈکٹ کو کیسے بیچے گی؟
    ریحان اللہ ۵۰۰ میچوئل دوست بنانے کا کیوں کہتے ہیں؟ مجھے بہت سال ہوگئے ہیں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سارے کاروبار شروع کئے ، بہت سی چیزیں شروع کیں۔ جو سب سے بڑا چیلنج آتا ہے میرے دوستوں اور بزنس مینس کو آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں یار اچھے لوگ نہیں مِلتے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں دوسو سے زیادہ یونیورسٹیز ہیں، ہزاروں لاکھوں کے حساب سے اسکولز ہیں ۔ کیوں نہیں ہمیں اچھے لوگ مِل پاتے؟ جب آپ اچھے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو اچھے لوگوں سے مُراد یہ ہوتی ہے لوگوں کی کہ ایسے لوگ جو آپ کی بات کو سمجھ سکیںآپ کے ساتھ بات چیت اچھی طرح سے کرسکیں۔آپ کی بات کو سمجھ بھی سکیں صرف بول نہ سکیں بلکہ سمجھ بھی سکیں، اور تیسرا یہ کہ آ پ کے پاس اور اُن کے پاس جو علم ہے وہ ایک جیسی ہو ، آپ کے کام سے متعلق علم ایک جتنا ہو۔ اور جب بات آتی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یا گلوبلائزیشن کی یا گلوبل بزنس کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو پاکستان میں مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں زیادہ تر ۔ اگر کسی کو موقع ملے ، آپ اُٹھا کر دیکھیں کہ جتنے گریجوئٹس ہیں کالج یا اچھی یونیورسٹیز کے وہ مُلک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو جو پیچھے آپ کے لوگ رہ جاتے ہیں وہ کم سفر کرتے ہیں اور وہ پاکستان میں دل سے رہنا نہیں چاہتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ اب بہت سارے لوگ ہوسکتا ہے اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ وہ حقیقت ہے جو مُجھ کو نظرآتی ہے بہت سارے لوگوں کی حقیقت الگ ہوتی ہے اُس کے بعد جو یہ بچے کُچے لوگ رہ جاتے ہیں اُن کو کوئی بات سمجھانا بہت مُشکل ہوجاتا ہے تو اُن کی تھَرو ٹریننگ کی جاتی ہے یا ہم اُن کو کسی ایسی جگہ فِٹ کرتے ہیں کہ وہ سینئر مینجمنٹ کی پوسٹ پر ہوتے ہیں یا کسی سی لیول پر ہوں سی ایم او، سی ایف او ،سی ٹی او، سی ای او۔ تومُشکل ہوتاہے اُن کو سمجھانا تھوڑا مُشکل ہوتا ہے کیوں کہ اُن کو آپ کی بات غیر واضح لگ رہی ہوتی ہے خاص طور پر ڈاٹ کام بزنس میں اور گلوبل ایرینا میں۔ کیونکہ دُنیا انہوں نے نہیں گھومی ہوتی اُن کی حقیقت الگ ہوتی ہے آپ کی حقیقت الگ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میں ۷۰ مُلک گھُوما ہوں ، میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں اگر وہ دو مُلک بھی نہیں گھومے تو اُن کی میری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی اسلئے کہ اُن کو لگے گا کہ یہ سب کچھ باہر کی دُنیا میں ہوسکتا ہے پاکستان میں نہیں ہوسکتا تویہ وہ چیز ہے جو سفر کے ساتھ نظر آتی ہے ، تجربے کے ساتھ نظر آتی ہے پھر میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا کہ جب آپ کسی انسان سے ملتے ہیں تو آپ کی انرجی اور اُس کی انرجی آپس میں شیئر ہوتی ہے آپ کا علم اور اُس کا علم شیئر ہوتا ہے تو وہ آپ کی سوچ اور آپ کو ایک الگ انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی کوشش کے باوجود بھی آپ مُختلف ہوجاتے ہیں جب آپ کسی انسان سے مِلتے ہیں چاہے وہ دس سیکنڈ ہی کیوں نہ ہواگر ایک گھنٹے مُلاقات ہوجائے تو میراتجربہ ہے کہ انسان کم سے کم ایک فیصد ضرور بدل جاتا ہے اگر وہ ایک آدمی سے ایک گھنٹے مُلاقات کرلے اور اُس سے باتیں کرے تواب میں یہ ساری باتیں اور سفر لوگوں کو کراؤں اسکا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا ، اگر مُجھے سوآدمی چاہئیں کام کے لیئے تو جن سے میں کام لینا چاہتا ہوں یا جن کو میں کچھ سمجھانا چاہوں یا مینٹر کرنا چاہتا ہوں تومیں اُنکی متعلقہ معلومات کیسے بدلوں ، اُن کی جو معاشرے کی حقیقتیں ہیں وہ اتنی الگ ہیں جب میں ان کو کوئی بات سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہوں تو وہ ضائع ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایسے نہیں ہوتا ہمارے مُلک میں، تو پھر میں نے کیا کیا کہ میں یہ سات آٹھ سالوں سے کررہا ہوں کہ میں اپنے دوستوں کو ہم خیال کرنا چاہتا ہوں اُن کے پاس باہر کے لوگوں کی آئی ڈی بھیجنا شروع کردیتا ہوں تاکہ اُن کی جو کیپیسٹی ہے معلومات کی وہ بڑھ جائے ، اگر آپ ایک کام کررہے ہیں اور دوسرا بھی کوئی کام کرہا ہے تو دو مل کر کریں گے تو جلدی ہوجائے گا۔ میرا ایک خواب ہے کہ میں پاکستان میں ایک ملین لوگوں کو اِمپاور کرنا چاہتا ہوں جو کہ بزنس مین بن سکیں اب اُس خواب کے اندر جو میرے سامنے سب سے بڑی رُکاوٹ آتی ہے وہ یہ کہ مُجھے ہم خیال لوگ نہیں ملتے۔ جن لوگوں کو میں جاب پر رکھتا ہوں اُنہیں میری بات سمجھ نہیں آتی تھی ان کو میرا طریقہ سمجھ نہیں آتا تھا اور بہت ساری باتیں تھیں۔ اور میں ایک اچھا مینیجر بھی نہیں ہوں۔ میں نے چونکہ باہر مُلک میں بہت سال کام کیا ہے ورچوئلی ہی صحیح لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ خود اعتمادی کے ساتھ مینیجر یا سی ای او کوجو کام بھی دے دیا جاتا ہے اور وہ کام کرتا رہتا ہے اب پاکستان میں ایسے لوگ یا تو بہت مہنگے مِلتے ہیں یا پھر وہ ہوتے ہیں جو مُختلف مُمالک گھوم کر آچُکے ہوں ، اوپن مائینڈڈ ہوں ، ہر چیز کو ایکسیپٹ کرتے ہوں بہت کتابیں پڑھتے ہوں تو اُن کی جو سیلری لیول ہے وہ ایک لاکھ دو لاکھ روپے سے اُپر چلا جاتا ہے ۔ پاکستان میں جو مینیجر بیس سے پچیس ہزار پر آپ ہائر کریں گے ، آپریشنل مینیجر ہائر کرتے ہیں یا ایم بی اے رکھتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ وہ بیس سے پچیس ہزار میں مل جاتا ہے لیکن اُس ایم بی اے کے اندر چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کام نہیں کر پاتااُس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ اُس کی معلومات رٹے والی ہوتی ہے لیکن اُس نے دُنیا نہیں دیکھی ہوتی اور دُنیا نہ دیکھنے کی وجہ سے اُس کی جو تراشائی جیسے ہر ہیرے کو پتھر سے تراشا جاتا ہے،کیونکہ اُس کی مُلاقات بہت سارے لوگوں سے نہیں ہوئی ہوتی تو اُس میں چمک نہیں ہوتی۔ میں نے یہ نوٹ کیا ہے کچھ سالوں پہلے کہ جس آدمی کے بھی مُجھ سے میچوئل دوست بڑھ جاتے ہیں تو اُس کو میری باتیں سمجھ آتی ہیں یا پھر کوئی بہت ذہین آدمی ہوتا ہے اُسے میری بات سمجھ آتی ہے تو میں نے اپنے آفس میں یہ شرط رکھ دی کہ سب نے میرے ۵۰۰ غیر مُلکی دوست بنانے ہیں تو اُس سے میں نے یہ دیکھا کہ بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا میرا کام آسان ہوگیا جو ایک کام ایک گھنٹے میں سمجھانے میں لگتا وہ آدھا منٹ میں سمجھ آجاتا ۔ تو پھر میں نے امریکہ میں اپنے ایک دوست سے کہا کہ اس کو کیسے بڑھاؤں؟تاکہ اس کو چیک کرسکوں۔ تو میرے دوست نے کہا کہ کوئی گفٹ دے دو، لیپ ٹاپ دے دوتو مُجھے یہ آئیڈیا اچھا لگااور میں نے شروع کردیا تو تقریباً آٹھ مہینے میں سولوگوں نے پانچ سو میچوئل دوست بنالئے اُن میں صرف پانچ ایسے ہونگے جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دوسرا چیلنج یہ آیا کہ انہوں نے اُن دوستوں سے بات نہیں کی ، انہوں نے صرف فرینڈ بنالئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا۔ہمارا دماغ معاشرے کی وجہ سے بدلتا ہے ہم اردو اسلئے بولتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں بولی جاتی ہے اگر آپ جاپان چلے جائیں تو ایک سال میں جاپانی زبان بولناشروع ہوجائیں گے کوئی بھی نہیں سِکھارہا ہوگا اُدھر کیونکہ آپ سُنتے جائیں گے تو آپ کا دماغ سیکھ جائے گا ۔کہتے ہیں نا خربوزے کو دیکھ کر خربوزا رنگ پکڑتا ہے تو میرے پاس دُنیا کے پانچ ہزار بہت ہی دلچسپ دوست موجود ہیںآپ جب ان سے بات کریں گے تو اس بات کرنے سے جو آپ ریفلیکشن دیکھیں گے اپنا شیشے کی طرح اُس کی نظر سے تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ آپ کے مُلک میں یہ مسئلہ کیوں ہے؟یا آپ کے کاروبار میں مسئلہ کیوں ہے؟تو آپ سوچیں گے کہ اس کا تو کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ پوچھ رہا ہے تو میں اسے سوچ کر بتاؤں گااور آپ چاہے پھر جھوٹ بولیں یا سچ بولیں لیکن آپ کا دماغ مُختلف طریقوں سے سوچنا شروع ہوجائے گا کہ یہ مسائل کیوں ہیں؟ حالانکہ وہی بات جب آپ کے اپنے مُلک کے لوگ پوچھیں گے تو آپ کہیں گے کہ یہ امریکہ کا مسئلہ ہے لیکن اگر کوئی امریکی ہوگا تو وہ آپ سے پوچھ لے گا کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟تو آپ اس کے اگلے سوال پر پہنچیں گے پھر اس سے اگلے سوال پر تو آپ مسئلہ کی گہرائی تک جائیں گے تو جو بات آپ کو سمجھ نہیں آتی تھیں وہ آپ کو سمجھ آنے لگیں گی اس تراشی کی نتیجے میں مُجھے ایسے لوگ مل رہے ہیں جنہیں میں آرام سے بات سمجھا پاتا ہوں وہ پانچ سو لوگوں کو مناسکتے ہیں اُس سے اُن کی خودی بہت بڑھ جاتی ہے اُس کے اندر کانفیڈنس بڑھ جاتا ہے اُس کے اندر معاشرے کی اور دین کی معلومات ، باہر مُلکوں کی معلومات بہت بڑھ جاتی ہے اُس کا دُنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی آدمی میرے پانچ سو دوست بنالے اور پانچ سے بات کرلے تو یہ ایسا ہے کہ وہ پانچ مُلک سفر کرکے آیا ہے کیونکہ اُسے کم سے کم تین مہینے لگیں گے جو جلدی بنالیتے ہیں اُس کا اثر نہیں ہوتا اثر صرف بات کرنے سے آئے گا جب آپ کو اُن سے کنیکٹ ہونے میں مُشکل آئے گی تو آپ سوچیں گے کہ یہ کیوں نہیں بات کررہا یا مُجھ میں کیا خرابی ہے پھر آپ کو معلوم ہونا شروع ہوجائے گا ۔ میں نے آپ کو ایک پلاٹ فارم دے دیا ہے کہ جہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ میں کیا خرابی ہے اگر کوئی اور آپ کو بتائے گا تو آپ سمجھیں گے کہ یہ تو مطلبی ہے، ہر کوئی اگر میرے پاس آکر پوچھے گا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو میں نے ایک سیلف آرگنائزنگ گروپ بنادیا ہے اس کو آپ جوائن کرسکتے ہیں پانچ سو میچوئل دوستوں کا تجربہ کے نام سے ہے اس میں سات سو لوگ ہیں پھر جب آپ اپنے آپ کو دیکھیں گے تو آپ کو اپنی خرابیاں نظر آنے لگیں گی لیکن اگر آپ کو کوئی اور بتائے گا توآپ اس سے کہیں گے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر میں کچھ بھی کروں تو یہ ہمارے اندر کمزوری ہے تو یہ ہم دوسروں سے بات کرکے ختم کرسکتے ہیں خود کو تراش لیتے ہیں اور یہ ایک ورزش ہے جو میں نے اپنی زندگی میں آزمائی ہے اور بہت ساروں کو کروائی ہے اور اب مُجھے اس کے نتائج بھی معلوم ہیں ایسے میں کسی کو بولتا ہوں جاؤ میرے پانچ سو دوست بنالو تو کوئی بھی نہیں بناتا لیکن یہ اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی لالچ میں بہت سارے لوگ بنانا شروع کرتے ہیں اور جب سو لوگوں سے دوستی کرکے صرف پچیس لوگوں سے بات کرتے ہیں تو مُجھے میسیج کرتے ہیں کہ سر آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہماری زندگی کا پیٹرن ہی بدل دیا ہے اور اب ہم زندگی کو بہت الگ نظر سے دیکھتے ہیں اور میرا مقصد بھی یہی ہے کہ میں ایک ایسا انسان معاشرے کو دے دیتا ہوں جو کسی بھی مسئلے کو حل کر سکے اور اس کو مختلف طریقوں سے دیکھ سکے وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا ایک چھوٹے سے پراسس سے ایک دس ہزار کے تحفے سے کہ وہ کچھ بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔آپ ایک دو سال میں دیکھیں گے کہ اگر آپ اس کی لَمس ، آئی بی اے کے کسی گریجوئٹ سے ٹکر کرادیں تو یہ ان سے اچھا کامیاب انسان ثابت ہوگااگریہ پورے پراسس سے گزرے گا۔ میں نے کوئی اُسے چار سال یا سولہ سال کیلئے کسی یونیورسٹی نہیں بھیجا میں نے صرف اُسے یہ کہا ہے کہ وہ لوگوں سے مُلاقات کرے ۔ تو سفر بہت طاقتور چیز ہے اگر آپ جسمانی سفر نہیں کرسکتے تو ورچوئل سفر کرلیںآپ اسے ضرور آزمائیں اس کا جو رزلٹ ہے وہ بہت ہی زبردست ہے اب ہم اسے ایک کتاب کی شکل دے رہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کو کتنا فائدہ ہورہا ہے ۔ اس پر ہم پیپر لکھ دیں گے کہ آئیے اسے پڑھیں۔ ایک دفعہ مُجھ سے آصف جمالی پوچھ رہے تھے کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ تو میں نے آصف سے پوچھا کہ آپ نے جو اتنے سارے دوست بنالئے ہیں اور سندھ ہیلپ سینٹر کھول لیا ہے اور آپ اس میں لوگوں کی مدد کرتے ہیںآپ ویڈیو بنالیتے ہیں۔دوسرے دوست ایسا کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی شکل دیکھ کر گھبراتے ہیں تو جو قوم اپنی شکل دیکھ کر گھبراتی ہو اور اپنی ویڈیو بناکر فیس بُک پر ڈالنے سے گھبراتی ہو تو وہ قوم کیا کرے گی آگے جاکر؟ وہ کیسے کچھ بڑا حاصل کرے گی؟اگر اپنے آئیڈیے کونہیں بیچ سکتی تو اپنی پراڈکٹ کو کیسے بیچے گی؟
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 2894 Views
Arama Sonuçları