• میری کہانی… اور میرا مشن

    سال 2015 میں
    میں صرف پانچ سال کا تھا۔

    شروع میں یہ بس ایک عام بیماری جیسی لگ رہی تھی۔
    بخار تھا۔ کمزوری تھی۔ جسم ٹوٹ رہا تھا۔

    کسی کو اندازہ نہیں تھا
    کہ میرے جسم میں ایک خطرناک بیکٹیریا داخل ہو چکا ہے۔

    بعد میں ہمیں معلوم ہوا
    کہ یہ Meningococcal Disease تھی
    جس نے میرے جسم میں جا کر Septicemia پیدا کر دی۔

    Septicemia کا مطلب ہے
    بیکٹیریا خون میں پھیل جانا۔

    جب یہ ہوتا ہے
    تو خون کی نالیاں متاثر ہوتی ہیں
    خون کا بہاؤ رک جاتا ہے
    اور جسم کے حصوں تک آکسیجن نہیں پہنچتی۔

    اسی وجہ سے
    میرے ہاتھ کی انگلیاں
    اور میرے پاؤں متاثر ہوئے۔

    ڈاکٹرز نے پوری کوشش کی۔

    لیکن انفیکشن بہت تیزی سے بڑھ چکا تھا۔

    بعد میں مجھے معلوم ہوا
    کہ دنیا میں ہر سال ہزاروں کیسز Meningococcal Disease کے رپورٹ ہوتے ہیں۔
    ترقی پذیر ممالک میں اس کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔
    بعض کیسز میں شرح اموات 10٪ سے 20٪ تک ہو سکتی ہے۔
    اور جو بچ جاتے ہیں
    ان میں سے کچھ کو سننے کی طاقت، نظر یا اعضا کا نقصان ہو سکتا ہے۔

    یعنی یہ بیماری:

    • اچانک شروع ہوتی ہے
    • شروع میں عام بخار جیسی لگتی ہے
    • چند گھنٹوں میں جان لیوا بن سکتی ہے
    • اور تاخیر کی صورت میں گینگرین اور امپیوٹیشن کا سبب بن سکتی ہے

    لیکن ایک اور حقیقت بھی ہے۔

    یہ بیماری قابلِ علاج ہے۔
    اس کے ویکسینز موجود ہیں۔
    ابتدائی علامات پہچان لی جائیں تو جان اور اعضا بچائے جا سکتے ہیں۔

    مسئلہ کیا ہے؟

    آگاہی کی کمی۔

    میری ٹارگٹ آڈیئنس کون ہے؟

    میں کام کرنا چاہتا ہوں:

    • والدین کے ساتھ
    • سکولوں اور کالجز کے ساتھ
    • ہاسٹلز اور بورڈنگ سسٹمز کے ساتھ
    • نوجوانوں کے ساتھ
    • صحت کے شعبے کے لوگوں کے ساتھ
    • اور ان کمیونٹیز کے ساتھ جہاں آگاہی کم ہے

    کیونکہ یہ بیماری قریبی رابطے سے پھیل سکتی ہے۔

    بخار + کمزوری + غیر معمولی rash
    یہ emergency signs ہو سکتے ہیں۔

    میرا مقصد کیا ہے؟

    میں ہمدردی نہیں مانگ رہا۔

    میں ایک مشن شروع کر رہا ہوں۔

    میرا مقصد ہے:

    10 لاکھ لوگوں تک
    Sepsis اور Meningococcal Disease کے بارے میں آگاہی پہنچانا۔

    میں چاہتا ہوں:

    • کوئی بچہ صرف اس لیے ہاتھ یا پاؤں نہ کھوئے
    کیونکہ والدین نے بخار کو معمولی سمجھا
    • کوئی سکول تاخیر نہ کرے
    • کوئی ڈاکٹر ریفرل میں دیر نہ کرے
    • کوئی خاندان لاعلمی کا شکار نہ ہو

    میرا پیغام

    ابتدائی علامات کو سنجیدہ لیں۔
    غیر معمولی rash کو ignore نہ کریں۔
    شدید بخار میں تاخیر نہ کریں۔
    ویکسین کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔

    میں پانچ سال کی عمر میں بچ گیا۔

    لیکن ہر کوئی نہیں بچتا۔

    اگر میری کہانی
    ایک بچے کو بھی بچا دے
    تو یہ مشن کامیاب ہوگا۔

    میں زندہ بچ گیا۔

    اب میں بچانا چاہتا ہوں۔

    — ابرار گینگرین والا

    #SepsisAwareness
    #MeningococcalDisease
    #EarlyDetection
    #ProtectChildren
    #PublicHealth
    میری کہانی… اور میرا مشن سال 2015 میں میں صرف پانچ سال کا تھا۔ شروع میں یہ بس ایک عام بیماری جیسی لگ رہی تھی۔ بخار تھا۔ کمزوری تھی۔ جسم ٹوٹ رہا تھا۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ میرے جسم میں ایک خطرناک بیکٹیریا داخل ہو چکا ہے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ یہ Meningococcal Disease تھی جس نے میرے جسم میں جا کر Septicemia پیدا کر دی۔ Septicemia کا مطلب ہے بیکٹیریا خون میں پھیل جانا۔ جب یہ ہوتا ہے تو خون کی نالیاں متاثر ہوتی ہیں خون کا بہاؤ رک جاتا ہے اور جسم کے حصوں تک آکسیجن نہیں پہنچتی۔ اسی وجہ سے میرے ہاتھ کی انگلیاں اور میرے پاؤں متاثر ہوئے۔ ڈاکٹرز نے پوری کوشش کی۔ لیکن انفیکشن بہت تیزی سے بڑھ چکا تھا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ دنیا میں ہر سال ہزاروں کیسز Meningococcal Disease کے رپورٹ ہوتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں اس کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ بعض کیسز میں شرح اموات 10٪ سے 20٪ تک ہو سکتی ہے۔ اور جو بچ جاتے ہیں ان میں سے کچھ کو سننے کی طاقت، نظر یا اعضا کا نقصان ہو سکتا ہے۔ یعنی یہ بیماری: • اچانک شروع ہوتی ہے • شروع میں عام بخار جیسی لگتی ہے • چند گھنٹوں میں جان لیوا بن سکتی ہے • اور تاخیر کی صورت میں گینگرین اور امپیوٹیشن کا سبب بن سکتی ہے لیکن ایک اور حقیقت بھی ہے۔ یہ بیماری قابلِ علاج ہے۔ اس کے ویکسینز موجود ہیں۔ ابتدائی علامات پہچان لی جائیں تو جان اور اعضا بچائے جا سکتے ہیں۔ مسئلہ کیا ہے؟ آگاہی کی کمی۔ میری ٹارگٹ آڈیئنس کون ہے؟ میں کام کرنا چاہتا ہوں: • والدین کے ساتھ • سکولوں اور کالجز کے ساتھ • ہاسٹلز اور بورڈنگ سسٹمز کے ساتھ • نوجوانوں کے ساتھ • صحت کے شعبے کے لوگوں کے ساتھ • اور ان کمیونٹیز کے ساتھ جہاں آگاہی کم ہے کیونکہ یہ بیماری قریبی رابطے سے پھیل سکتی ہے۔ بخار + کمزوری + غیر معمولی rash یہ emergency signs ہو سکتے ہیں۔ میرا مقصد کیا ہے؟ میں ہمدردی نہیں مانگ رہا۔ میں ایک مشن شروع کر رہا ہوں۔ میرا مقصد ہے: 10 لاکھ لوگوں تک Sepsis اور Meningococcal Disease کے بارے میں آگاہی پہنچانا۔ میں چاہتا ہوں: • کوئی بچہ صرف اس لیے ہاتھ یا پاؤں نہ کھوئے کیونکہ والدین نے بخار کو معمولی سمجھا • کوئی سکول تاخیر نہ کرے • کوئی ڈاکٹر ریفرل میں دیر نہ کرے • کوئی خاندان لاعلمی کا شکار نہ ہو میرا پیغام ابتدائی علامات کو سنجیدہ لیں۔ غیر معمولی rash کو ignore نہ کریں۔ شدید بخار میں تاخیر نہ کریں۔ ویکسین کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ میں پانچ سال کی عمر میں بچ گیا۔ لیکن ہر کوئی نہیں بچتا۔ اگر میری کہانی ایک بچے کو بھی بچا دے تو یہ مشن کامیاب ہوگا۔ میں زندہ بچ گیا۔ اب میں بچانا چاہتا ہوں۔ — ابرار گینگرین والا #SepsisAwareness #MeningococcalDisease #EarlyDetection #ProtectChildren #PublicHealth
    0 Comments 0 Shares 2281 Views 0
  • میری طرف سے آپ کے لیئے امن اور سلامتی کا پیغام ۔

    دنیا میں ھر کارباری اور صنعت کار کی خواہش ھوتی ھے کہ اسکے لیے کام کرنے والا منجھا ھوا ھو تاکہ اسکا کاروبار بہترین چلے۔ انٹرویو دیکھکر تھوڑی سی مایوسی ھوئ شائد آپ دونوں وہ وقت بھول گئے جب آپ دونوں ھی تنکے کے سہارے تلاش کر ھے تھے لیکن لگاتار اپنی جسمانی ، ذھنی مشقت اور ضدی طبیعت کے باعث مالی بحرانوں سے نکل آے۔

    آپ دونوں کی نیت پر شک نہی کیا جا سکتا کہ آپ پاکستانی جوانوں کی معاشی اور معاشرتی ابتری سے پریشان ھیں ۔ جن بچوں کو آپ طریقئہ کاروبار بلخصوص آئ ۔ ٹی کے حوالے سے سکھلانے نکلے ھیں انکے معاشی اور معاشرتی رویوں اور حالات کا تجزیہ آپکو اپنے موجودہ معشای حالات کی بنیاد پر نہی اپنے ابتدائ ادوار کی بنیاد پر کرنا چاھیے۔

    ھمارے ھاں آئ ۔ ٹی نیا ھے آن لائین کام کا خوب شور شرابہ ھے اسکے لیے ریحان صاحب کی تجویز کہ ان بچوں کی ذمہ داری لی جائے جنمیں اس کام کو کرنے کی لگن اور ضد پائ جائے۔ میرا نہی خیال کہ آپکو بچے تلاش کرنے میں مشکل ھو گی۔ طریقہ کار اور آپکی لگن میں کمی ھو سکتی ھے اسپر تنقیدی جائزہ لیں۔

    بچہ جب چن لیا جائے تو اس بات آپنے اپنے آپ سے وعدہ کرنا ھے کہ تربیت کی میعاد ھر صورت میں پوری کرنی ھے بلکل ایسے ھی جیسے کسی سکول میں کچی پکی کلاس کا بچہ داخل ھوتا ھے لیکن ھر کوئ کوشش میں ھوتا ھے کہ پڑھائ \ تربیت مکلمل ھو [ میری رائے میں آپ دونوں ] اس نقطے پر توجہ نہی دے رھے، اور کوشش میں ھیں کہ بچہ فوری اپنے پاوں پر کھڑا ھو جائے اور شائد تھوڑے سے مطلبی بھی ۔

    بچے کو بلا کسی زاتی مفاد کے کام سکھایے ۔ اگر آپ انکی دال روٹی کا خیال رکھیں گے تو وہ بچہ آپکے لیے کافی عرصے تک فائدہ مند ثابت ھو سکتا ھے ۔ بچوں کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھتے رھیں ۔ بلکل ایک سکول یا فوجی ادارے یا بنک کے ادارے یا سرکار ادارے کی طرح جو بچہ اگلا کورس کاروبار کے ساتھ کرتا رھے مالی اور عہدے کی ترقی کا اھل اھلیت کی بنیاد پر پائے گا۔

    قاسم حسین صاحب کے لیے وقت مسلہ ھے انکو چاھیے کہ اپنے ھاتھ سے کام کرنا چھوڑ دیں دوسروں پر ذمہ داری بتجریج ڈالتے رھیں لیکن گہری نظر رکھیں ایک سال کا ٹارگٹ رکھیں وقت فالتو ھو گا ۔ قاسم صاحب خوف سے نکلیں کہ میرے بغیر کاروبار خراب ھو گا ۔

    بنیادی نقطہ مد نظر رھے کہ آپ نے کام بلا کسی مالی فائدے کے کرنا ھے۔ اسی میں سبکی بھلائ ھے۔ مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔۔ جن لوگوں اقوام کی مثالیں آپ دیتے ھیں انھوں پچیس تیس سال لگایے ھیں اور لگاتار مالی انویسٹمنٹ کر ھے ھیں۔

    Faisal Pony Wala
    فیصل پونی والا
    میری طرف سے آپ کے لیئے امن اور سلامتی کا پیغام ۔ دنیا میں ھر کارباری اور صنعت کار کی خواہش ھوتی ھے کہ اسکے لیے کام کرنے والا منجھا ھوا ھو تاکہ اسکا کاروبار بہترین چلے۔ انٹرویو دیکھکر تھوڑی سی مایوسی ھوئ شائد آپ دونوں وہ وقت بھول گئے جب آپ دونوں ھی تنکے کے سہارے تلاش کر ھے تھے لیکن لگاتار اپنی جسمانی ، ذھنی مشقت اور ضدی طبیعت کے باعث مالی بحرانوں سے نکل آے۔ آپ دونوں کی نیت پر شک نہی کیا جا سکتا کہ آپ پاکستانی جوانوں کی معاشی اور معاشرتی ابتری سے پریشان ھیں ۔ جن بچوں کو آپ طریقئہ کاروبار بلخصوص آئ ۔ ٹی کے حوالے سے سکھلانے نکلے ھیں انکے معاشی اور معاشرتی رویوں اور حالات کا تجزیہ آپکو اپنے موجودہ معشای حالات کی بنیاد پر نہی اپنے ابتدائ ادوار کی بنیاد پر کرنا چاھیے۔ ھمارے ھاں آئ ۔ ٹی نیا ھے آن لائین کام کا خوب شور شرابہ ھے اسکے لیے ریحان صاحب کی تجویز کہ ان بچوں کی ذمہ داری لی جائے جنمیں اس کام کو کرنے کی لگن اور ضد پائ جائے۔ میرا نہی خیال کہ آپکو بچے تلاش کرنے میں مشکل ھو گی۔ طریقہ کار اور آپکی لگن میں کمی ھو سکتی ھے اسپر تنقیدی جائزہ لیں۔ بچہ جب چن لیا جائے تو اس بات آپنے اپنے آپ سے وعدہ کرنا ھے کہ تربیت کی میعاد ھر صورت میں پوری کرنی ھے بلکل ایسے ھی جیسے کسی سکول میں کچی پکی کلاس کا بچہ داخل ھوتا ھے لیکن ھر کوئ کوشش میں ھوتا ھے کہ پڑھائ \ تربیت مکلمل ھو [ میری رائے میں آپ دونوں ] اس نقطے پر توجہ نہی دے رھے، اور کوشش میں ھیں کہ بچہ فوری اپنے پاوں پر کھڑا ھو جائے اور شائد تھوڑے سے مطلبی بھی ۔ بچے کو بلا کسی زاتی مفاد کے کام سکھایے ۔ اگر آپ انکی دال روٹی کا خیال رکھیں گے تو وہ بچہ آپکے لیے کافی عرصے تک فائدہ مند ثابت ھو سکتا ھے ۔ بچوں کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھتے رھیں ۔ بلکل ایک سکول یا فوجی ادارے یا بنک کے ادارے یا سرکار ادارے کی طرح جو بچہ اگلا کورس کاروبار کے ساتھ کرتا رھے مالی اور عہدے کی ترقی کا اھل اھلیت کی بنیاد پر پائے گا۔ قاسم حسین صاحب کے لیے وقت مسلہ ھے انکو چاھیے کہ اپنے ھاتھ سے کام کرنا چھوڑ دیں دوسروں پر ذمہ داری بتجریج ڈالتے رھیں لیکن گہری نظر رکھیں ایک سال کا ٹارگٹ رکھیں وقت فالتو ھو گا ۔ قاسم صاحب خوف سے نکلیں کہ میرے بغیر کاروبار خراب ھو گا ۔ بنیادی نقطہ مد نظر رھے کہ آپ نے کام بلا کسی مالی فائدے کے کرنا ھے۔ اسی میں سبکی بھلائ ھے۔ مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔۔ جن لوگوں اقوام کی مثالیں آپ دیتے ھیں انھوں پچیس تیس سال لگایے ھیں اور لگاتار مالی انویسٹمنٹ کر ھے ھیں۔ Faisal Pony Wala فیصل پونی والا
    0 Comments 0 Shares 649 Views
  • اگر آپ اپنی خادمہ کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مہینے کے 100,000 روپے کما سکے تو درج ذیل تجاویز پر عمل کریں

    ہنر سیکھنے کی مدد کریں: انہیں ایسے ہنر سیکھائیں جو مقبول ہیں، جیسے کھانا پکانا، سلائی یا ہاتھ کے کام کا سامان۔ آپ یا تو انہیں خود سکھا سکتے ہیں یا کسی مقامی تربیتی مرکز میں داخلہ دلوا سکتے ہیں۔
    گھریلو کاروبار شروع کریں: ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ گھریلو کاروبار شروع کر سکیں، جیسے کہ خود بنائے ہوئے کھانے کے اشیاء، سلائی کپڑے یا ہاتھ کے کام کا سامان بیچنے کا کام۔ آپ ان کے کاروبار کی ابتدائی مدد، رہنمائی اور تشہیر کر سکتے ہیں۔
    اضافی خدمات پیش کرنے کی مدد کریں: ان کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے علاقے میں دیگر گھرانوں کو بچوں کی دیکھ بھال، بوڑھوں کی نگرانی یا کپڑوں کی دھلائی کی خدمات فراہم کر سکیں۔ اس سے ان کی آمدنی بڑھ جائے گی۔
    روزگاری ایجنسیوں سے رابطہ کریں: مقامی روزگاری ایجنسیوں یا سماجی تنظیموں سے رابطہ کریں جو ان
    کے بہتر مواقع کی تلاش میں مدد کرسکتی ہیں یا ان کے لئے ممکنہ گاہکوں کے ساتھ رابطہ قائم کرسکتی ہیں۔

    مالی مدد: اگر ممکن ہو تو آپ ان کو سود خوری کے بغیر قرض یا مالی تعاون فراہم کرکے ان کے لئے چھوٹے کاروبار شروع کرنے یا پیشہ ورانہ کورسز کے ذریعے نئے مہارت سیکھنے میں مدد کرسکتے ہیں۔
    ان کے کام کو فروغ دیں: اپنی سوشل میڈیا موجودگی اور ذاتی تعلقات کا استعمال کرکے ان کی خدمات کا اشتہار کریں، تاکہ ان کے گاہکوں کی تعداد بڑھ جائے اور ان کو زیادہ کام مل سکے۔
    یاد رکھیں کہ ان کی مطلوبہ آمدنی تک پہنچنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن استقامت، مدد اور پر جوشی کے ساتھ یہ ممکن ہے۔ ان کو ہمیشہ نئی مہارتوں سیکھنے اور نئے چیلنجز قبول کرنے کے لئے کہنے کی کوشش کریں۔
    اگر آپ اپنی خادمہ کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مہینے کے 100,000 روپے کما سکے تو درج ذیل تجاویز پر عمل کریں ہنر سیکھنے کی مدد کریں: انہیں ایسے ہنر سیکھائیں جو مقبول ہیں، جیسے کھانا پکانا، سلائی یا ہاتھ کے کام کا سامان۔ آپ یا تو انہیں خود سکھا سکتے ہیں یا کسی مقامی تربیتی مرکز میں داخلہ دلوا سکتے ہیں۔ گھریلو کاروبار شروع کریں: ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ گھریلو کاروبار شروع کر سکیں، جیسے کہ خود بنائے ہوئے کھانے کے اشیاء، سلائی کپڑے یا ہاتھ کے کام کا سامان بیچنے کا کام۔ آپ ان کے کاروبار کی ابتدائی مدد، رہنمائی اور تشہیر کر سکتے ہیں۔ اضافی خدمات پیش کرنے کی مدد کریں: ان کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے علاقے میں دیگر گھرانوں کو بچوں کی دیکھ بھال، بوڑھوں کی نگرانی یا کپڑوں کی دھلائی کی خدمات فراہم کر سکیں۔ اس سے ان کی آمدنی بڑھ جائے گی۔ روزگاری ایجنسیوں سے رابطہ کریں: مقامی روزگاری ایجنسیوں یا سماجی تنظیموں سے رابطہ کریں جو ان کے بہتر مواقع کی تلاش میں مدد کرسکتی ہیں یا ان کے لئے ممکنہ گاہکوں کے ساتھ رابطہ قائم کرسکتی ہیں۔ مالی مدد: اگر ممکن ہو تو آپ ان کو سود خوری کے بغیر قرض یا مالی تعاون فراہم کرکے ان کے لئے چھوٹے کاروبار شروع کرنے یا پیشہ ورانہ کورسز کے ذریعے نئے مہارت سیکھنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ ان کے کام کو فروغ دیں: اپنی سوشل میڈیا موجودگی اور ذاتی تعلقات کا استعمال کرکے ان کی خدمات کا اشتہار کریں، تاکہ ان کے گاہکوں کی تعداد بڑھ جائے اور ان کو زیادہ کام مل سکے۔ یاد رکھیں کہ ان کی مطلوبہ آمدنی تک پہنچنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن استقامت، مدد اور پر جوشی کے ساتھ یہ ممکن ہے۔ ان کو ہمیشہ نئی مہارتوں سیکھنے اور نئے چیلنجز قبول کرنے کے لئے کہنے کی کوشش کریں۔
    0 Comments 0 Shares 925 Views
  • سب سے بڑی پرابلم نوکری کے حصول میں ہمارے لوگوں کو خود پر اعتماد نہ ہونا اور خود کو کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لئے تیار نہ ہونا ہے - مجھے آج تک یعنی پہلی نوکری سے لے کر آج تک تمام کاروبار یا نوکریوں میں جو ایک ابتدائ سے لے کر اعلیٰ ترین عہدہ بھی اس میں کبھی تعلیمی اسناد کے دکھائے بغیر ملی ہیں - اور جو بھی کیا وہ اگر اس کو نہی جانتا تھا تو سیکھا اور جب بھی ناکامی ہوئ تو اور محنت کر کے اس مقام کو جیتا - تعلیم کو صرف کتابوں تک محدود نہی رکھا اور سیکھنے کو کسی ایک مہارت تک محدود نہی سمجھا - آج اپنی اس عمر میں جب لوگ ریٹائر ہونے کا سوچتے ہیں - چار ماسٹرز ڈگریز کے باوجود ایک نئی ڈگری گزشتہ برس کی اور اب بھی پی ایچ ڈی کا پروگرام ہے - مختصر سیکھو سیکھتے رہو اور خود پر اعتماد رکھو - دنیا کی کوئ نوکری یا کاروبار یا کامیابی ایسی نہی جو آپ نہ حاصل کرسکتے ہوں مگر خواب نہی حقیقت میں رہو اور کامیاب بنو -

    Via Shahid Khan
    سب سے بڑی پرابلم نوکری کے حصول میں ہمارے لوگوں کو خود پر اعتماد نہ ہونا اور خود کو کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لئے تیار نہ ہونا ہے - مجھے آج تک یعنی پہلی نوکری سے لے کر آج تک تمام کاروبار یا نوکریوں میں جو ایک ابتدائ سے لے کر اعلیٰ ترین عہدہ بھی اس میں کبھی تعلیمی اسناد کے دکھائے بغیر ملی ہیں - اور جو بھی کیا وہ اگر اس کو نہی جانتا تھا تو سیکھا اور جب بھی ناکامی ہوئ تو اور محنت کر کے اس مقام کو جیتا - تعلیم کو صرف کتابوں تک محدود نہی رکھا اور سیکھنے کو کسی ایک مہارت تک محدود نہی سمجھا - آج اپنی اس عمر میں جب لوگ ریٹائر ہونے کا سوچتے ہیں - چار ماسٹرز ڈگریز کے باوجود ایک نئی ڈگری گزشتہ برس کی اور اب بھی پی ایچ ڈی کا پروگرام ہے - مختصر سیکھو سیکھتے رہو اور خود پر اعتماد رکھو - دنیا کی کوئ نوکری یا کاروبار یا کامیابی ایسی نہی جو آپ نہ حاصل کرسکتے ہوں مگر خواب نہی حقیقت میں رہو اور کامیاب بنو - Via Shahid Khan
    0 Comments 0 Shares 144 Views
  • محمود احمد اللہ والا ، اللہ کے پاس چلا گیا

    تحریر۔ عارف الحق عارف

    اسلامی جمیعت طلبہ کی وسیع و عریض کہکشاں کا درخشاں ستارہ

    جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    محمود احمد اللہ والا ہم سے بہت جونیئر تھا اور وہ جمیعت سے ہماری فراغت کے ۸ سال بعد ۱۹۷۶ میں ایک ایسے دور میں اسلامی جمیعت طلبہ کے نامزد امید وار کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا صدر منتخب ہوا جب ہمارے اپنوں کی لغزشوں اور مستیوں کی وجہ سے جمیعت کی مقبولیت کا گراف کافی گر گیا تھا اور ۱۹۷۵ کے انتخابات میں اس کا فائدہ لبرل پینل نے اٹھایا تھا اور سردار رحیم صدر منتخب ہوئے تھے۔سردار رحیم وہی ہیں جو با بی کیو ٹو نائٹ کے مالک اور ہمارے دوست ہیں اور اب تک ان سے بردارانہ رابطہ ہے۔

    محمود احمد اللہ والا کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ بڑا کم گو اور صالح نوجوان ہے اور اس کو لیڈر بننے یا کسی انتخاب میں کسی بھی عہدے کےلئے امیدوار تک بننے کی کوئی تمنا ہے اور نا کوئی شوق ۔وہ اس کو بھاری ذمہ داری سمجھتا اور جانتا تھا اور کسی بھی عہدے کےلئے امیدواری کو نااہلیت سمجھتا تھا۔جمیعت کے اس وقت کے کچھ ساتھیوں کے مطابق جب جمیعت نے اس کو صدارتی امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کو اس سے آگاہ کیا گیا تو اس نے یہ فیصلہ اس بنا پر قبول کرنے سے معذوری ظاہر کی کہ وہ اس عہدے کی ذمہ دار یوں کا بوجھ برداداشت نہیں کر سکتا، اس لئے کسی اور کو الیکشن لڑایا جائے۔ لیکن پھر عبدالملک مجاہد نے اس کو رضامند کیا اور اس کی سادگی، صالحیت اور کم گوئی کو دیکھتے ہوئے یہ نعرہ جامعہ کراچی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک گونجنے لگا۔

    سیدھا سادھا بھولا بھالا۔
    محمود احمد اللہ والا

    پھر اس نے اس شان سے یہ الیکشن جیتا کہ پورا پینل کامیاب ہوا۔اس کے ساتھ غلام مجتبی،جنرل سیکریٹری،عافیہ سلام، جوائنٹ سیکریٹری (گرلز) اور آصف سید، جوائنٹ سیکریٹری (بوائز) کامیاب ہوئے۔انتخاب جیتنے کے بعد وہ اپنے مرشد مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی سے ملنے اچھرا لاہور بھی گیا تھا اس کے ساتھ جنرل سیکریٹری غلام مجتبی بھی تھا ۔ ان کا دور صدارت بڑا کامیاب رہا اس کسمیاب پینل کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے جمیعت کو آئندہ کے انتخابات میں کوئی بڑی مشکل پیش نہیں آئی۔اس نے اس کے بعد ملک کی سیاست میں بھی طبع آزمائی کی جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر ایک بار صوبائی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا۔

    محمود احمد اللہ والا جہاں گم گو تھا وہیں وہ بہترین مقرر بھی تھا اور جب مائک اس کے ہاتھ آتا تو پھر ایسے بولتا جیسے پر سکون دریا اپنے بہاؤ میں رواں دواں ہوتا ہے۔جمیعت کے ۱۹۷۰ اور ۱۹۸۰ کے عشرے کے جامعہ کراچی کے سب عہدیداروں سے ہمارے مراسم دو وجوہ سے تھے۔ ایک یہ کہ ہم جمیعت میں اس کے مرکزی سیکریٹری نشرواشاعت اور ناظم ادارہ مطبوعات طلبہ رہ چکے تھے اور ہم جمیعت والوں کو اپنے خاندان مودودی کا کنبہ سمجھتے اور ان سے محبت کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ہمارا تعلق اس وقت کے سب سے بڑے اخبار جنگ سے تھا اور ہم اس کے چیف رپورٹر تھے۔ان سب کو اپنی اپنی خبریں چھپوانے کےلئے ہم سے ہر حال میں رابطہ کرنا پڑتا تھا لیکن جمیعت کے جس لیڈر سے ہمارا سب سے کم رابطہ تھا وہ یہی محمود احمد اللہ والا تھا۔ہمیں یاد ہے ایک بار کسی تقریب میں یا کسی تحریکی جلسے میں ہمیں محمود اللہ والا مل گیا تو ہم نے اس سے اس بات کا شکوہ کیا تو اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا، اس کے پاس کھڑے ہمارے ایک واقف کار ایک اور صاحب نے کہا کہ “ یہی اس کا اسٹائل ہے آپ پریشان نہ ہوں اس کا ملنے ملانے کا یہی انداز سب کے ساتھ ہے۔لیکن مجھے علم ہے کہ یہ صرف اللہ کےلئے سب سے محبت کرتا ہے اور آپ کو بھی وہ ان ہی محبت کرنے والوں شامل رکھتا اور سمجھتا ہے۔

    محمود احمد اللہ والا کا تعلق دہلی سوداگران سے تھا۔ان کے والد سلطان رفیع کو لکھنے لکھانے کا شوق تھا اور بڑے لکھاری مشہور تھے وہ کافی عرصے تک ماہنامہ دہلی سوداگرکے ایڈیٹر بھی رہے۔اور مجموعی طور پر تیس سال سے زیادہ انجمن دہلی سودگران کی مختلف حیثیتوں سے خدمت کی۔ وہ کچھ عرصہ انجمن کے سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کا خاندان بھی دہلی سوداگروں کی طرح کاروباری اور دین سے گہرا لگاؤ رکھنے والاہے اور اپنی دیانت اور امانتداری کی وجہ سے مشہور ہے۔ محمود احمد اللہ والا نے ڈی ایم اے اور مقبول عام اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کی تکمیل جامعہ کراچی سے کی۔اس نے پسمانگان میں بیوہ، تین بیٹوں احسن،صبیح اور رضا محمود اور تین بھائیوں خلیل احمد،منظور احمد اور تسنیم احمد کے علاوہ اسلامی جمیعت طلبہ ؤر تحریک اسلامی کے ہزاروں کارکنوں کو چھوڑا ہے۔
    محمود احمد اللہ والا ، اللہ کے پاس چلا گیا تحریر۔ عارف الحق عارف اسلامی جمیعت طلبہ کی وسیع و عریض کہکشاں کا درخشاں ستارہ جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا محمود احمد اللہ والا ہم سے بہت جونیئر تھا اور وہ جمیعت سے ہماری فراغت کے ۸ سال بعد ۱۹۷۶ میں ایک ایسے دور میں اسلامی جمیعت طلبہ کے نامزد امید وار کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا صدر منتخب ہوا جب ہمارے اپنوں کی لغزشوں اور مستیوں کی وجہ سے جمیعت کی مقبولیت کا گراف کافی گر گیا تھا اور ۱۹۷۵ کے انتخابات میں اس کا فائدہ لبرل پینل نے اٹھایا تھا اور سردار رحیم صدر منتخب ہوئے تھے۔سردار رحیم وہی ہیں جو با بی کیو ٹو نائٹ کے مالک اور ہمارے دوست ہیں اور اب تک ان سے بردارانہ رابطہ ہے۔ محمود احمد اللہ والا کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ بڑا کم گو اور صالح نوجوان ہے اور اس کو لیڈر بننے یا کسی انتخاب میں کسی بھی عہدے کےلئے امیدوار تک بننے کی کوئی تمنا ہے اور نا کوئی شوق ۔وہ اس کو بھاری ذمہ داری سمجھتا اور جانتا تھا اور کسی بھی عہدے کےلئے امیدواری کو نااہلیت سمجھتا تھا۔جمیعت کے اس وقت کے کچھ ساتھیوں کے مطابق جب جمیعت نے اس کو صدارتی امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کو اس سے آگاہ کیا گیا تو اس نے یہ فیصلہ اس بنا پر قبول کرنے سے معذوری ظاہر کی کہ وہ اس عہدے کی ذمہ دار یوں کا بوجھ برداداشت نہیں کر سکتا، اس لئے کسی اور کو الیکشن لڑایا جائے۔ لیکن پھر عبدالملک مجاہد نے اس کو رضامند کیا اور اس کی سادگی، صالحیت اور کم گوئی کو دیکھتے ہوئے یہ نعرہ جامعہ کراچی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک گونجنے لگا۔ سیدھا سادھا بھولا بھالا۔ محمود احمد اللہ والا پھر اس نے اس شان سے یہ الیکشن جیتا کہ پورا پینل کامیاب ہوا۔اس کے ساتھ غلام مجتبی،جنرل سیکریٹری،عافیہ سلام، جوائنٹ سیکریٹری (گرلز) اور آصف سید، جوائنٹ سیکریٹری (بوائز) کامیاب ہوئے۔انتخاب جیتنے کے بعد وہ اپنے مرشد مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی سے ملنے اچھرا لاہور بھی گیا تھا اس کے ساتھ جنرل سیکریٹری غلام مجتبی بھی تھا ۔ ان کا دور صدارت بڑا کامیاب رہا اس کسمیاب پینل کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے جمیعت کو آئندہ کے انتخابات میں کوئی بڑی مشکل پیش نہیں آئی۔اس نے اس کے بعد ملک کی سیاست میں بھی طبع آزمائی کی جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر ایک بار صوبائی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا۔ محمود احمد اللہ والا جہاں گم گو تھا وہیں وہ بہترین مقرر بھی تھا اور جب مائک اس کے ہاتھ آتا تو پھر ایسے بولتا جیسے پر سکون دریا اپنے بہاؤ میں رواں دواں ہوتا ہے۔جمیعت کے ۱۹۷۰ اور ۱۹۸۰ کے عشرے کے جامعہ کراچی کے سب عہدیداروں سے ہمارے مراسم دو وجوہ سے تھے۔ ایک یہ کہ ہم جمیعت میں اس کے مرکزی سیکریٹری نشرواشاعت اور ناظم ادارہ مطبوعات طلبہ رہ چکے تھے اور ہم جمیعت والوں کو اپنے خاندان مودودی کا کنبہ سمجھتے اور ان سے محبت کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ہمارا تعلق اس وقت کے سب سے بڑے اخبار جنگ سے تھا اور ہم اس کے چیف رپورٹر تھے۔ان سب کو اپنی اپنی خبریں چھپوانے کےلئے ہم سے ہر حال میں رابطہ کرنا پڑتا تھا لیکن جمیعت کے جس لیڈر سے ہمارا سب سے کم رابطہ تھا وہ یہی محمود احمد اللہ والا تھا۔ہمیں یاد ہے ایک بار کسی تقریب میں یا کسی تحریکی جلسے میں ہمیں محمود اللہ والا مل گیا تو ہم نے اس سے اس بات کا شکوہ کیا تو اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا، اس کے پاس کھڑے ہمارے ایک واقف کار ایک اور صاحب نے کہا کہ “ یہی اس کا اسٹائل ہے آپ پریشان نہ ہوں اس کا ملنے ملانے کا یہی انداز سب کے ساتھ ہے۔لیکن مجھے علم ہے کہ یہ صرف اللہ کےلئے سب سے محبت کرتا ہے اور آپ کو بھی وہ ان ہی محبت کرنے والوں شامل رکھتا اور سمجھتا ہے۔ محمود احمد اللہ والا کا تعلق دہلی سوداگران سے تھا۔ان کے والد سلطان رفیع کو لکھنے لکھانے کا شوق تھا اور بڑے لکھاری مشہور تھے وہ کافی عرصے تک ماہنامہ دہلی سوداگرکے ایڈیٹر بھی رہے۔اور مجموعی طور پر تیس سال سے زیادہ انجمن دہلی سودگران کی مختلف حیثیتوں سے خدمت کی۔ وہ کچھ عرصہ انجمن کے سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کا خاندان بھی دہلی سوداگروں کی طرح کاروباری اور دین سے گہرا لگاؤ رکھنے والاہے اور اپنی دیانت اور امانتداری کی وجہ سے مشہور ہے۔ محمود احمد اللہ والا نے ڈی ایم اے اور مقبول عام اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کی تکمیل جامعہ کراچی سے کی۔اس نے پسمانگان میں بیوہ، تین بیٹوں احسن،صبیح اور رضا محمود اور تین بھائیوں خلیل احمد،منظور احمد اور تسنیم احمد کے علاوہ اسلامی جمیعت طلبہ ؤر تحریک اسلامی کے ہزاروں کارکنوں کو چھوڑا ہے۔
    0 Comments 0 Shares 245 Views
  • ### محبت اور خواہش کو سائنسی طور پر سمجھنا

    محبت اور خواہش انسانی تجربات کے دو پیچیدہ اور اہم پہلو ہیں، جنہیں سائنسی لحاظ سے مختلف عوامل کے مجموعے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان عوامل میں حیاتیاتی، کیمیائی، نفسیاتی، اور سماجی عناصر شامل ہوتے ہیں۔

    ### محبت (Love)

    محبت ایک پیچیدہ جذباتی حالت ہے جو مختلف اقسام میں ظاہر ہو سکتی ہے، جیسے کہ رومانوی محبت، والدین کی محبت، اور دوستانہ محبت۔ سائنسی طور پر محبت کو سمجھنے کے لیے مختلف عوامل پر غور کیا جاتا ہے:

    1. **عصبی کیمیکلز (Neurochemicals)**:
    - **آکسیٹوسن (Oxytocin)**: آکسیٹوسن کو "محبت کا ہارمون" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمون جسمانی تعلقات، گلے ملنے، اور ماں کے بچے سے تعلقات کے دوران خارج ہوتا ہے اور اعتماد، پیار، اور بندھن کو بڑھاتا ہے۔
    - **ڈوپامین (Dopamine)**: یہ خوشی اور انعام سے وابستہ ہارمون ہے۔ محبت کے ابتدائی مراحل میں ڈوپامین کی سطح بلند ہوتی ہے، جس کی وجہ سے خوشی اور جوش کا احساس ہوتا ہے۔
    - **سیروٹونن (Serotonin)**: محبت کے دوران سیروٹونن کی سطح میں کمی آ سکتی ہے، جس کی وجہ سے کچھ لوگ محبت کے بارے میں فکر مند یا مشتاق محسوس کر سکتے ہیں۔

    2. **دماغی علاقوں (Brain Regions)**:
    - **وی ٹی اے (Ventral Tegmental Area)**: یہ دماغ کا ایک حصہ ہے جو محبت اور انعام کے تجربات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ڈوپامین کو خارج کرتا ہے، جس سے خوشی اور محبت کے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔
    - **امیگڈالا (Amygdala)**: یہ دماغی حصہ خوف اور جذباتی ردعمل کے تجربات میں شامل ہوتا ہے، اور محبت کے دوران اس کی فعالیت کم ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے خطرات کے احساس میں کمی آ سکتی ہے۔

    ### خواہش (Desire)

    خواہش یا جنسی تحریک بھی حیاتیاتی، کیمیائی، اور نفسیاتی عوامل کے مرکب سے پیدا ہوتی ہے:

    1. **عصبی کیمیکلز (Neurochemicals)**:
    - **ٹیسٹوسٹیرون (Testosterone)**: یہ ہارمون مردوں اور عورتوں دونوں میں جنسی تحریک کو بڑھاتا ہے۔ مردوں میں اس کی سطح زیادہ ہوتی ہے، لیکن عورتوں میں بھی یہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔
    - **ایسٹروجن (Estrogen)**: یہ ہارمون عورتوں میں جنسی تحریک کو بڑھاتا ہے اور جنسی تعلقات کے دوران خوشی کے احساسات کو بھی متاثر کرتا ہے۔

    2. **دماغی علاقوں (Brain Regions)**:
    - **ہائپوتھیلمس (Hypothalamus)**: یہ دماغ کا ایک حصہ ہے جو جنسی تحریک اور خواہش کو منظم کرتا ہے۔
    - **امیگڈالا (Amygdala)**: یہ خوف اور جذباتی ردعمل کے تجربات میں شامل ہوتا ہے، اور جنسی تحریک کے دوران اس کی فعالیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    ### نفسیاتی عوامل (Psychological Factors)

    محبت اور خواہش میں نفسیاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جیسے کہ:

    - **وابستگی (Attachment)**: بچپن کے تجربات اور والدین کے ساتھ تعلقات محبت اور خواہش کے احساسات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
    - **تجربات اور یادیں (Experiences and Memories)**: ماضی کے تجربات اور یادیں محبت اور خواہش کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
    - **ثقافتی اور سماجی اثرات (Cultural and Social Influences)**: معاشرتی معیار، ثقافتی روایات، اور سماجی عوامل محبت اور خواہش کی نوعیت اور شدت کو متاثر کرتے ہیں۔

    ### خلاصہ

    محبت اور خواہش کے سائنسی مطالعے میں حیاتیاتی، کیمیائی، نفسیاتی، اور سماجی عوامل کا مجموعہ شامل ہوتا ہے۔ یہ تجربات انسانی بقا اور سماجی تعلقات کے لیے اہم ہیں، اور ان کی پیچیدگی کو مختلف سائنسی شعبوں کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔
    ### محبت اور خواہش کو سائنسی طور پر سمجھنا محبت اور خواہش انسانی تجربات کے دو پیچیدہ اور اہم پہلو ہیں، جنہیں سائنسی لحاظ سے مختلف عوامل کے مجموعے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان عوامل میں حیاتیاتی، کیمیائی، نفسیاتی، اور سماجی عناصر شامل ہوتے ہیں۔ ### محبت (Love) محبت ایک پیچیدہ جذباتی حالت ہے جو مختلف اقسام میں ظاہر ہو سکتی ہے، جیسے کہ رومانوی محبت، والدین کی محبت، اور دوستانہ محبت۔ سائنسی طور پر محبت کو سمجھنے کے لیے مختلف عوامل پر غور کیا جاتا ہے: 1. **عصبی کیمیکلز (Neurochemicals)**: - **آکسیٹوسن (Oxytocin)**: آکسیٹوسن کو "محبت کا ہارمون" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمون جسمانی تعلقات، گلے ملنے، اور ماں کے بچے سے تعلقات کے دوران خارج ہوتا ہے اور اعتماد، پیار، اور بندھن کو بڑھاتا ہے۔ - **ڈوپامین (Dopamine)**: یہ خوشی اور انعام سے وابستہ ہارمون ہے۔ محبت کے ابتدائی مراحل میں ڈوپامین کی سطح بلند ہوتی ہے، جس کی وجہ سے خوشی اور جوش کا احساس ہوتا ہے۔ - **سیروٹونن (Serotonin)**: محبت کے دوران سیروٹونن کی سطح میں کمی آ سکتی ہے، جس کی وجہ سے کچھ لوگ محبت کے بارے میں فکر مند یا مشتاق محسوس کر سکتے ہیں۔ 2. **دماغی علاقوں (Brain Regions)**: - **وی ٹی اے (Ventral Tegmental Area)**: یہ دماغ کا ایک حصہ ہے جو محبت اور انعام کے تجربات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ڈوپامین کو خارج کرتا ہے، جس سے خوشی اور محبت کے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ - **امیگڈالا (Amygdala)**: یہ دماغی حصہ خوف اور جذباتی ردعمل کے تجربات میں شامل ہوتا ہے، اور محبت کے دوران اس کی فعالیت کم ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے خطرات کے احساس میں کمی آ سکتی ہے۔ ### خواہش (Desire) خواہش یا جنسی تحریک بھی حیاتیاتی، کیمیائی، اور نفسیاتی عوامل کے مرکب سے پیدا ہوتی ہے: 1. **عصبی کیمیکلز (Neurochemicals)**: - **ٹیسٹوسٹیرون (Testosterone)**: یہ ہارمون مردوں اور عورتوں دونوں میں جنسی تحریک کو بڑھاتا ہے۔ مردوں میں اس کی سطح زیادہ ہوتی ہے، لیکن عورتوں میں بھی یہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ - **ایسٹروجن (Estrogen)**: یہ ہارمون عورتوں میں جنسی تحریک کو بڑھاتا ہے اور جنسی تعلقات کے دوران خوشی کے احساسات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ 2. **دماغی علاقوں (Brain Regions)**: - **ہائپوتھیلمس (Hypothalamus)**: یہ دماغ کا ایک حصہ ہے جو جنسی تحریک اور خواہش کو منظم کرتا ہے۔ - **امیگڈالا (Amygdala)**: یہ خوف اور جذباتی ردعمل کے تجربات میں شامل ہوتا ہے، اور جنسی تحریک کے دوران اس کی فعالیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ### نفسیاتی عوامل (Psychological Factors) محبت اور خواہش میں نفسیاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جیسے کہ: - **وابستگی (Attachment)**: بچپن کے تجربات اور والدین کے ساتھ تعلقات محبت اور خواہش کے احساسات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ - **تجربات اور یادیں (Experiences and Memories)**: ماضی کے تجربات اور یادیں محبت اور خواہش کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ - **ثقافتی اور سماجی اثرات (Cultural and Social Influences)**: معاشرتی معیار، ثقافتی روایات، اور سماجی عوامل محبت اور خواہش کی نوعیت اور شدت کو متاثر کرتے ہیں۔ ### خلاصہ محبت اور خواہش کے سائنسی مطالعے میں حیاتیاتی، کیمیائی، نفسیاتی، اور سماجی عوامل کا مجموعہ شامل ہوتا ہے۔ یہ تجربات انسانی بقا اور سماجی تعلقات کے لیے اہم ہیں، اور ان کی پیچیدگی کو مختلف سائنسی شعبوں کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔
    0 Comments 0 Shares 236 Views
  • **وزیر اعظم کا خطاب: پاکستان کو AI-First قوم قرار دینا**

    میرے عزیز ہم وطنوں،

    السلام علیکم،

    آج میں آپ کے سامنے ایک ویژن کے ساتھ کھڑا ہوں جو ہمارے پیارے ملک کو جدیدیت، ترقی، اور خوشحالی کا مینار بنا دے گا۔ یہ بڑے فخر اور امید کے ساتھ ہے کہ میں پاکستان کو AI-First قوم قرار دیتا ہوں۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جو ہمارے مستقبل کی تشکیل کرے گا، ہمارے لوگوں کو بااختیار بنائے گا، اور ہمیں عالمی تکنیکی انقلاب کے مرکز میں رکھے گا۔

    اس بلند نظر منصوبے کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے، مجھے خوشی ہے کہ میں وزارتِ مصنوعی ذہانت کے قیام کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ وزارت ہمارے معاشرت، معیشت، اور حکومت کے ہر پہلو میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کی ہماری کوششوں کی قیادت کرے گی۔

    AI-First قوم بننے کے فوائد وسیع اور دور رس ہیں:

    1. **تعلیم اور مہارت کی ترقی**: اس وقت، ہمارے لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ AI تعلیم کو انقلاب کی صورت میں تبدیل کر سکتا ہے، ذاتی تعلیم کے تجربات فراہم کرکے اور ہر پاکستانی بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کر کے، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔ مصنوعی ذہانت کا فائدہ اٹھا کر، ہم یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم ملے، اور وہ مستقبل کی مہارتوں سے لیس ہو۔

    - AI کی وزارت پاکستان کے ہر شہری کو موبائل فون، لیپ ٹاپ، اور انٹرنیٹ تک رسائی جیسے ضروری ہارڈویئر فراہم کرنے میں معاون ہوگی۔ یہ ڈیجیٹل خلا کو ختم کرے گا اور ہر ایک کو ڈیجیٹل معیشت میں حصہ لینے کے لئے ضروری اوزار فراہم کرے گا۔

    - ہم ایک قومی سطح پر اساتذہ کی تربیت کا پروگرام شروع کریں گے تاکہ ہر اسکول کا ہر استاد AI کو پڑھانے اور استعمال کرنے کے قابل ہو۔ یہ ہمارے معلمین کو اپنے کلاس رومز میں AI کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لئے تیار کرے گا۔ تربیت سب سے پہلے پاکستان کے 2.2 ملین اساتذہ اور ہمارے 7ویں جماعت کے بچوں سے شروع ہوگی، تاکہ وہ دوسروں کی تربیت کے لیے محرک بن سکیں۔

    - AI کو ہمارے ملک کے تمام اسکولوں میں 7ویں جماعت میں متعارف کرایا جائے گا، جہاں یہ ایک تدریسی معاون کے طور پر کام کرے گا، اور طلباء کے سیکھنے کے تجربے کو بڑھائے گا۔ یہ ابتدائی نمائش ہمارے بچوں کو کم عمری میں ہی AI میں ماہر بننے میں مدد دے گی۔

    2. **روزگار کے مواقع**: ہماری قوم کو بے روزگاری کے چیلنج کا سامنا ہے۔ AI کو اپنا کر، ہم AI کی ترقی، ڈیٹا تجزیہ، اور دیگر ٹیک سے متعلقہ شعبوں میں نئے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، AI ہمارے لوگوں کو عالمی سطح پر کام تلاش کرنے کے قابل بنائے گا۔ ہمارے باصلاحیت نوجوان بین الاقوامی کمپنیوں کے لئے اپنے گھروں سے ہی ریموٹ جاب حاصل کر سکیں گے، اس طرح بے روزگاری میں نمایاں کمی آئے گی۔

    3. **معاشی ترقی**: اس وقت لاکھوں پاکستانی اکاؤنٹنٹ اور دیگر کمپیوٹر سے متعلقہ نوکریوں میں کام کر رہے ہیں۔ AI-First قوم بن کر، ہم وزارتِ ریموٹ جابز قائم کریں گے، جو ہمارے ماہر پیشہ ور افراد کو عالمی سطح پر آن لائن مقامات پر تعینات کرنے میں معاون ہوگی۔ اس سے نہ صرف ان کی آمدنی 10 گنا بڑھ جائے گی بلکہ ہماری معیشت میں بہت ضروری غیر ملکی زرمبادلہ بھی آئے گا۔

    4. **صحت کی دیکھ بھال**: AI ہمارے صحت کے نظام میں انقلاب برپا کرے گا، تشخیص، علاج کے منصوبوں، اور مریضوں کی دیکھ بھال کو بہتر بنائے گا۔ AI کی مدد سے، ہم اپنے دیہی اور محروم آبادیوں کو بہتر صحت کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں، اور ایک صحت مند قوم کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

    5. **زراعت**: AI سے چلنے والی ٹیکنالوجیز ہماری زرعی پیداوار میں اضافہ کریں گی، فصلوں کی پیداوار کو بہتر بنائیں گی، ضیاع کو کم کریں گی، اور سپلائی چین کے انتظام کو بہتر بنائیں گی۔ اس سے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور ہمارے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

    6. **حکومت اور عوامی خدمات**: AI ہمیں زیادہ موثر اور شفاف عوامی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنائے گا۔ انتظامی عمل کو ہموار کرنے سے لے کر بدعنوانی سے لڑنے تک، AI ہمارے حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بڑھائے گا۔

    7. **حفاظت اور سیکیورٹی**: AI ہماری قومی سلامتی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے، ہماری نگرانی کی صلاحیتوں کو بڑھا سکتا ہے، مجرمانہ سرگرمیوں کی پیش گوئی اور روک تھام کر سکتا ہے، اور ہمارے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتا ہے۔

    8. **جدت اور تحقیق**: AI تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کر کے، ہم پاکستان کو تکنیکی جدت میں عالمی رہنما کے طور پر متعین کریں گے۔ اس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تعاون کو متوجہ کیا جائے گا، اور ہماری معیشت کو مزید فروغ ملے گا۔

    9. **فی کس آمدنی اور GDP میں اضافہ**: ان اقدامات کو نافذ کرنے سے، ہم اگلے پانچ سالوں میں اپنی فی کس آمدنی میں 30% اضافے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ہماری GDP سالانہ 2% اضافی بڑھنے کی توقع ہے، جس سے ایک زیادہ خوشحال اور مستحکم معیشت حاصل ہوگی۔

    10. **عالمی مسابقت**: AI کو اپنانے سے ہماری عالمی مسابقت میں اضافہ ہوگا، پاکستان کو ٹیک کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ایک پرکشش مقام بنایا جائے گا۔ اس سے مزید روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی ترقی کو بڑھایا جائے گا۔

    آخر میں، AI-First قوم بن کر، ہم نہ صرف مستقبل کو اپنا رہے ہیں بلکہ یہ بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ ہر پاکستانی کو عالمی معیشت میں ترقی کرنے کا موقع ملے۔ یہ منصوبہ ہماری معاشرت کو تبدیل کرے گا، ہمارے لوگوں کو بلند کرے گا، اور ہماری قوم کو خوشحالی کی نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔

    آئیے، ہم مل کر جدت اور ترقی کے اس سفر پر نکلیں۔ آئیے، ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک روشن مستقبل تعمیر کریں۔ پاکستان زندہ باد!

    شکریہ۔
    **وزیر اعظم کا خطاب: پاکستان کو AI-First قوم قرار دینا** میرے عزیز ہم وطنوں، السلام علیکم، آج میں آپ کے سامنے ایک ویژن کے ساتھ کھڑا ہوں جو ہمارے پیارے ملک کو جدیدیت، ترقی، اور خوشحالی کا مینار بنا دے گا۔ یہ بڑے فخر اور امید کے ساتھ ہے کہ میں پاکستان کو AI-First قوم قرار دیتا ہوں۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جو ہمارے مستقبل کی تشکیل کرے گا، ہمارے لوگوں کو بااختیار بنائے گا، اور ہمیں عالمی تکنیکی انقلاب کے مرکز میں رکھے گا۔ اس بلند نظر منصوبے کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے، مجھے خوشی ہے کہ میں وزارتِ مصنوعی ذہانت کے قیام کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ وزارت ہمارے معاشرت، معیشت، اور حکومت کے ہر پہلو میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کی ہماری کوششوں کی قیادت کرے گی۔ AI-First قوم بننے کے فوائد وسیع اور دور رس ہیں: 1. **تعلیم اور مہارت کی ترقی**: اس وقت، ہمارے لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ AI تعلیم کو انقلاب کی صورت میں تبدیل کر سکتا ہے، ذاتی تعلیم کے تجربات فراہم کرکے اور ہر پاکستانی بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کر کے، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔ مصنوعی ذہانت کا فائدہ اٹھا کر، ہم یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم ملے، اور وہ مستقبل کی مہارتوں سے لیس ہو۔ - AI کی وزارت پاکستان کے ہر شہری کو موبائل فون، لیپ ٹاپ، اور انٹرنیٹ تک رسائی جیسے ضروری ہارڈویئر فراہم کرنے میں معاون ہوگی۔ یہ ڈیجیٹل خلا کو ختم کرے گا اور ہر ایک کو ڈیجیٹل معیشت میں حصہ لینے کے لئے ضروری اوزار فراہم کرے گا۔ - ہم ایک قومی سطح پر اساتذہ کی تربیت کا پروگرام شروع کریں گے تاکہ ہر اسکول کا ہر استاد AI کو پڑھانے اور استعمال کرنے کے قابل ہو۔ یہ ہمارے معلمین کو اپنے کلاس رومز میں AI کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لئے تیار کرے گا۔ تربیت سب سے پہلے پاکستان کے 2.2 ملین اساتذہ اور ہمارے 7ویں جماعت کے بچوں سے شروع ہوگی، تاکہ وہ دوسروں کی تربیت کے لیے محرک بن سکیں۔ - AI کو ہمارے ملک کے تمام اسکولوں میں 7ویں جماعت میں متعارف کرایا جائے گا، جہاں یہ ایک تدریسی معاون کے طور پر کام کرے گا، اور طلباء کے سیکھنے کے تجربے کو بڑھائے گا۔ یہ ابتدائی نمائش ہمارے بچوں کو کم عمری میں ہی AI میں ماہر بننے میں مدد دے گی۔ 2. **روزگار کے مواقع**: ہماری قوم کو بے روزگاری کے چیلنج کا سامنا ہے۔ AI کو اپنا کر، ہم AI کی ترقی، ڈیٹا تجزیہ، اور دیگر ٹیک سے متعلقہ شعبوں میں نئے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، AI ہمارے لوگوں کو عالمی سطح پر کام تلاش کرنے کے قابل بنائے گا۔ ہمارے باصلاحیت نوجوان بین الاقوامی کمپنیوں کے لئے اپنے گھروں سے ہی ریموٹ جاب حاصل کر سکیں گے، اس طرح بے روزگاری میں نمایاں کمی آئے گی۔ 3. **معاشی ترقی**: اس وقت لاکھوں پاکستانی اکاؤنٹنٹ اور دیگر کمپیوٹر سے متعلقہ نوکریوں میں کام کر رہے ہیں۔ AI-First قوم بن کر، ہم وزارتِ ریموٹ جابز قائم کریں گے، جو ہمارے ماہر پیشہ ور افراد کو عالمی سطح پر آن لائن مقامات پر تعینات کرنے میں معاون ہوگی۔ اس سے نہ صرف ان کی آمدنی 10 گنا بڑھ جائے گی بلکہ ہماری معیشت میں بہت ضروری غیر ملکی زرمبادلہ بھی آئے گا۔ 4. **صحت کی دیکھ بھال**: AI ہمارے صحت کے نظام میں انقلاب برپا کرے گا، تشخیص، علاج کے منصوبوں، اور مریضوں کی دیکھ بھال کو بہتر بنائے گا۔ AI کی مدد سے، ہم اپنے دیہی اور محروم آبادیوں کو بہتر صحت کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں، اور ایک صحت مند قوم کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ 5. **زراعت**: AI سے چلنے والی ٹیکنالوجیز ہماری زرعی پیداوار میں اضافہ کریں گی، فصلوں کی پیداوار کو بہتر بنائیں گی، ضیاع کو کم کریں گی، اور سپلائی چین کے انتظام کو بہتر بنائیں گی۔ اس سے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور ہمارے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ 6. **حکومت اور عوامی خدمات**: AI ہمیں زیادہ موثر اور شفاف عوامی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنائے گا۔ انتظامی عمل کو ہموار کرنے سے لے کر بدعنوانی سے لڑنے تک، AI ہمارے حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بڑھائے گا۔ 7. **حفاظت اور سیکیورٹی**: AI ہماری قومی سلامتی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے، ہماری نگرانی کی صلاحیتوں کو بڑھا سکتا ہے، مجرمانہ سرگرمیوں کی پیش گوئی اور روک تھام کر سکتا ہے، اور ہمارے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتا ہے۔ 8. **جدت اور تحقیق**: AI تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کر کے، ہم پاکستان کو تکنیکی جدت میں عالمی رہنما کے طور پر متعین کریں گے۔ اس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تعاون کو متوجہ کیا جائے گا، اور ہماری معیشت کو مزید فروغ ملے گا۔ 9. **فی کس آمدنی اور GDP میں اضافہ**: ان اقدامات کو نافذ کرنے سے، ہم اگلے پانچ سالوں میں اپنی فی کس آمدنی میں 30% اضافے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ہماری GDP سالانہ 2% اضافی بڑھنے کی توقع ہے، جس سے ایک زیادہ خوشحال اور مستحکم معیشت حاصل ہوگی۔ 10. **عالمی مسابقت**: AI کو اپنانے سے ہماری عالمی مسابقت میں اضافہ ہوگا، پاکستان کو ٹیک کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ایک پرکشش مقام بنایا جائے گا۔ اس سے مزید روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی ترقی کو بڑھایا جائے گا۔ آخر میں، AI-First قوم بن کر، ہم نہ صرف مستقبل کو اپنا رہے ہیں بلکہ یہ بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ ہر پاکستانی کو عالمی معیشت میں ترقی کرنے کا موقع ملے۔ یہ منصوبہ ہماری معاشرت کو تبدیل کرے گا، ہمارے لوگوں کو بلند کرے گا، اور ہماری قوم کو خوشحالی کی نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔ آئیے، ہم مل کر جدت اور ترقی کے اس سفر پر نکلیں۔ آئیے، ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک روشن مستقبل تعمیر کریں۔ پاکستان زندہ باد! شکریہ۔
    0 Comments 0 Shares 1236 Views
  • میں امیر پاپکارن والا ہوں، امیر پاپ کارن والا آن لائن سکول (APOS) کا بانی۔ ہمارا مشن موبائل فون استعمال کرنے والوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم اور تربیت فراہم کرکے انتہائی غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔ ابتدائی افراد کے لیے یہ منفرد فری لانسنگ اسکول افراد کو اپنے موبائل آلات کا استعمال کرتے ہوئے فری لانسنگ کے ذریعے روزی کمانے کے لیے بااختیار بناتا ہے، جس سے ہر کسی کے لیے ہر جگہ تعلیم کو قابل رسائی اور مؤثر بنایا جاتا ہے۔ مزید معلومات کے لیے 03006739186
    میں امیر پاپکارن والا ہوں، امیر پاپ کارن والا آن لائن سکول (APOS) کا بانی۔ ہمارا مشن موبائل فون استعمال کرنے والوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم اور تربیت فراہم کرکے انتہائی غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔ ابتدائی افراد کے لیے یہ منفرد فری لانسنگ اسکول افراد کو اپنے موبائل آلات کا استعمال کرتے ہوئے فری لانسنگ کے ذریعے روزی کمانے کے لیے بااختیار بناتا ہے، جس سے ہر کسی کے لیے ہر جگہ تعلیم کو قابل رسائی اور مؤثر بنایا جاتا ہے۔ مزید معلومات کے لیے 03006739186
    0 Comments 0 Shares 488 Views
  • پرنٹنگ پریس کی کہانی ایک ایسی جدت کی کہانی ہے جس نے معلومات اور علم کے پھیلاؤ کو انقلاب میں بدل دیا، اور اس کے نتیجے میں ثقافتی، سماجی، اور سیاسی تبدیلیاں آئیں۔ یہاں اس کی تاریخ اور اس کی ایجاد کے اہم واقعات کا خلاصہ دیا گیا ہے:

    پرنٹنگ پریس سے پہلے کا دور

    • دست نوشت کا کلچر: پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے پہلے، کتابیں ہاتھ سے نقل کی جاتی تھیں، جو زیادہ تر خانقاہوں میں کاتبوں یا ماہرین کی جانب سے کی جاتی تھیں۔ یہ عمل محنت طلب، وقت طلب، اور مہنگا تھا، جس کی وجہ سے کتابیں نایاب اور صرف اشرافیہ کے لئے دستیاب تھیں۔
    • ابتدائی پرنٹنگ کی تکنیکیں:
    • قدیم چین میں بلاک پرنٹنگ (جہاں پورے صفحے لکڑی کے بلاکس میں تراشے جاتے تھے) نویں صدی سے استعمال ہو رہی تھی۔ یہ طریقہ متعدد نقول کے لئے ممکن تھا، مگر پھر بھی محنت طلب تھا۔
    • گیارہویں صدی میں، بی شینگ، ایک چینی موجد، نے مٹی کے ٹائپ کا استعمال کرتے ہوئے مووایبل ٹائپ پرنٹنگ تیار کی، جو یورپ میں بعد کی ترقیات کی پیشرو تھی۔

    یوهانس گٹن برگ اور ایجاد (تقریباً 1440)

    • یوهانس گٹن برگ، ایک جرمن سوناگر اور موجد، جدید پرنٹنگ پریس کی ایجاد کا سہرا 1440 کے آس پاس لیتے ہیں۔ ان کی شراکت صرف پریس تک محدود نہیں تھی، بلکہ انہوں نے متعدد عناصر کو یکجا کیا جو پرنٹنگ کو زیادہ مؤثر اور کارگر بناتے تھے:
    1. مووایبل میٹل ٹائپ: گٹن برگ نے پرانی تکنیکوں کو بہتر بنایا اور دھات کے حروف بنائے جو کہ متحرک اور دوبارہ استعمال کیے جا سکتے تھے۔
    2. پریس میکانزم: انہوں نے ایک شراب یا زیتون کے پریس کو پہلی پرنٹنگ پریس میں تبدیل کیا، جو کاغذ پر یکساں دباؤ ڈالنے کی اجازت دیتا تھا، جس سے اعلی معیار کی پرنٹنگ ممکن ہوئی۔
    3. سیاہی: گٹن برگ نے ایک خاص تیل پر مبنی سیاہی تیار کی جو دھات کے ٹائپ اور کاغذ پر اچھی طرح جمتی تھی۔
    4. کاغذ: ولّم یا چرم کے بجائے کاغذ کے استعمال نے پرنٹنگ کو تیز اور سستا بنا دیا۔

    پہلا بڑا مطبوعہ کام - گٹن برگ بائبل (1455)

    • 1455 میں، گٹن برگ نے گٹن برگ بائبل مکمل کی، جسے “42 لائن بائبل” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ہر صفحے پر 42 لائنیں تھیں۔ یہ یورپ میں مووایبل ٹائپ کا استعمال کرتے ہوئے چھپنے والی پہلی بڑی کتاب تھی۔
    • بائبل کی خصوصیت اس کی اعلی معیار، خوبصورت ٹائپوگرافی، اور درستگی تھی، جو اس نئی پرنٹنگ تکنیک کی طاقت کو ظاہر کرتی تھی۔ اس سے ثابت ہوا کہ کتابوں کو بڑے پیمانے پر اور اعلی معیار کے ساتھ تیار کیا جا سکتا ہے۔

    پرنٹنگ پریس کے اثرات

    1. کتابوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار: پرنٹنگ پریس نے کتابوں کو تیزی سے اور بڑی تعداد میں تیار کرنا ممکن بنایا، جس نے کتابوں کی قیمت میں کمی کی اور انہیں عوام کے لئے قابل رسائی بنایا۔
    2. علم کا پھیلاؤ: مطبوعہ مواد کی تیز رفتار تقسیم نے علم کو تیزی سے پھیلایا، جس سے عام لوگوں میں خواندگی میں اضافہ ہوا۔
    3. نشاۃ ثانیہ: کلاسیکی نصوص کی دستیابی نے نشاۃ ثانیہ کو ہوا دی، جو آرٹ، سائنس، اور ادب میں تجدید کی ایک مدت تھی۔
    4. اصلاحات: پرنٹنگ پریس نے پروٹسٹنٹ اصلاحات میں اہم کردار ادا کیا، جس سے مارٹن لوتھر کے نظریات پورے یورپ میں تیزی سے پھیلے۔
    5. سائنسی انقلاب: اس نے سائنسدانوں کو دریافتیں شیئر کرنے کا موقع فراہم کیا، جس سے نظریات کا تیز رفتار تبادلہ ہوا اور سائنسی انقلاب کی راہیں ہموار ہوئیں۔

    یہ کیسے ایجاد ہوئی

    • گٹن برگ کا ابتدائی کیریئر: گٹن برگ ایک دھاتی کاریگر، سوناگر، اور موجد تھے۔ انہیں دھات کاری کی تکنیکوں کا علم تھا، جس نے انہیں درست اور دوبارہ استعمال کے قابل دھات کا ٹائپ تیار کرنے میں مدد دی۔
    • پروٹوٹائپ کی تیاری: 1439-1440 کے آس پاس، مائنز، جرمنی میں، گٹن برگ نے مووایبل ٹائپ، پریس میکانزم، اور سیاہی کے ساتھ تجربات شروع کیے۔ انہوں نے کئی پروٹوٹائپس کے ذریعے اس عمل کو مکمل کیا۔
    • کاروباری شراکت داری: گٹن برگ نے اپنے منصوبے کی مالی اعانت کے لئے کاروباری شراکتیں کیں۔ ایک مشہور شراکت دار، جان فسٹر نے ایک پرنٹنگ ورکشاپ قائم کرنے کے لئے فنڈ فراہم کیا۔
    • ری فائنمنٹ اور تکمیل: 1450 کی دہائی کے اوائل تک، گٹن برگ کے پاس ایک فعال پریس تھا، اور ان کا پہلا بڑے پیمانے پر پرنٹنگ منصوبہ بائبل تھی۔ تاہم، فسٹر کے ساتھ مالی تنازعات کی وجہ سے، گٹن برگ نے اپنا پریس اور ورکشاپ کھو دیا، مگر یہ تکنیک پہلے ہی ظاہر ہو چکی تھی اور تیزی سے پورے یورپ میں پھیل گئی۔

    پرنٹنگ پریس کا پھیلاؤ

    • پندرہویں صدی کے آخر تک، یورپ بھر کے 200 سے زائد شہروں میں پرنٹنگ پریس قائم ہو چکے تھے۔
    • یہ ٹیکنالوجی تیزی سے پھیلی، ٹائپ ڈیزائن، پرنٹنگ تکنیکوں، اور کتابوں کی پیداوار میں بہتری آئی۔

    طویل مدتی اثرات

    پرنٹنگ پریس کو اکثر تاریخ کی سب سے بااثر ایجادات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس نے پرنٹنگ انقلاب کو جنم دیا، جس نے جدید علم کی معیشت کی بنیاد رکھی، معلومات کو جمہوری بنایا، اور اہم ثقافتی تبدیلیوں کے لئے راہ ہموار کی، بشمول روشن خیالی اور جدید سائنس کی ترقی۔

    خلاصہ یہ ہے کہ پرنٹنگ پریس ایک اہم ایجاد تھی جس نے کتابوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار کو مؤثر بنایا، جس سے ابلاغ، تعلیم، اور معاشرے میں زبردست تبدیلی آئی۔
    پرنٹنگ پریس کی کہانی ایک ایسی جدت کی کہانی ہے جس نے معلومات اور علم کے پھیلاؤ کو انقلاب میں بدل دیا، اور اس کے نتیجے میں ثقافتی، سماجی، اور سیاسی تبدیلیاں آئیں۔ یہاں اس کی تاریخ اور اس کی ایجاد کے اہم واقعات کا خلاصہ دیا گیا ہے: پرنٹنگ پریس سے پہلے کا دور • دست نوشت کا کلچر: پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے پہلے، کتابیں ہاتھ سے نقل کی جاتی تھیں، جو زیادہ تر خانقاہوں میں کاتبوں یا ماہرین کی جانب سے کی جاتی تھیں۔ یہ عمل محنت طلب، وقت طلب، اور مہنگا تھا، جس کی وجہ سے کتابیں نایاب اور صرف اشرافیہ کے لئے دستیاب تھیں۔ • ابتدائی پرنٹنگ کی تکنیکیں: • قدیم چین میں بلاک پرنٹنگ (جہاں پورے صفحے لکڑی کے بلاکس میں تراشے جاتے تھے) نویں صدی سے استعمال ہو رہی تھی۔ یہ طریقہ متعدد نقول کے لئے ممکن تھا، مگر پھر بھی محنت طلب تھا۔ • گیارہویں صدی میں، بی شینگ، ایک چینی موجد، نے مٹی کے ٹائپ کا استعمال کرتے ہوئے مووایبل ٹائپ پرنٹنگ تیار کی، جو یورپ میں بعد کی ترقیات کی پیشرو تھی۔ یوهانس گٹن برگ اور ایجاد (تقریباً 1440) • یوهانس گٹن برگ، ایک جرمن سوناگر اور موجد، جدید پرنٹنگ پریس کی ایجاد کا سہرا 1440 کے آس پاس لیتے ہیں۔ ان کی شراکت صرف پریس تک محدود نہیں تھی، بلکہ انہوں نے متعدد عناصر کو یکجا کیا جو پرنٹنگ کو زیادہ مؤثر اور کارگر بناتے تھے: 1. مووایبل میٹل ٹائپ: گٹن برگ نے پرانی تکنیکوں کو بہتر بنایا اور دھات کے حروف بنائے جو کہ متحرک اور دوبارہ استعمال کیے جا سکتے تھے۔ 2. پریس میکانزم: انہوں نے ایک شراب یا زیتون کے پریس کو پہلی پرنٹنگ پریس میں تبدیل کیا، جو کاغذ پر یکساں دباؤ ڈالنے کی اجازت دیتا تھا، جس سے اعلی معیار کی پرنٹنگ ممکن ہوئی۔ 3. سیاہی: گٹن برگ نے ایک خاص تیل پر مبنی سیاہی تیار کی جو دھات کے ٹائپ اور کاغذ پر اچھی طرح جمتی تھی۔ 4. کاغذ: ولّم یا چرم کے بجائے کاغذ کے استعمال نے پرنٹنگ کو تیز اور سستا بنا دیا۔ پہلا بڑا مطبوعہ کام - گٹن برگ بائبل (1455) • 1455 میں، گٹن برگ نے گٹن برگ بائبل مکمل کی، جسے “42 لائن بائبل” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ہر صفحے پر 42 لائنیں تھیں۔ یہ یورپ میں مووایبل ٹائپ کا استعمال کرتے ہوئے چھپنے والی پہلی بڑی کتاب تھی۔ • بائبل کی خصوصیت اس کی اعلی معیار، خوبصورت ٹائپوگرافی، اور درستگی تھی، جو اس نئی پرنٹنگ تکنیک کی طاقت کو ظاہر کرتی تھی۔ اس سے ثابت ہوا کہ کتابوں کو بڑے پیمانے پر اور اعلی معیار کے ساتھ تیار کیا جا سکتا ہے۔ پرنٹنگ پریس کے اثرات 1. کتابوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار: پرنٹنگ پریس نے کتابوں کو تیزی سے اور بڑی تعداد میں تیار کرنا ممکن بنایا، جس نے کتابوں کی قیمت میں کمی کی اور انہیں عوام کے لئے قابل رسائی بنایا۔ 2. علم کا پھیلاؤ: مطبوعہ مواد کی تیز رفتار تقسیم نے علم کو تیزی سے پھیلایا، جس سے عام لوگوں میں خواندگی میں اضافہ ہوا۔ 3. نشاۃ ثانیہ: کلاسیکی نصوص کی دستیابی نے نشاۃ ثانیہ کو ہوا دی، جو آرٹ، سائنس، اور ادب میں تجدید کی ایک مدت تھی۔ 4. اصلاحات: پرنٹنگ پریس نے پروٹسٹنٹ اصلاحات میں اہم کردار ادا کیا، جس سے مارٹن لوتھر کے نظریات پورے یورپ میں تیزی سے پھیلے۔ 5. سائنسی انقلاب: اس نے سائنسدانوں کو دریافتیں شیئر کرنے کا موقع فراہم کیا، جس سے نظریات کا تیز رفتار تبادلہ ہوا اور سائنسی انقلاب کی راہیں ہموار ہوئیں۔ یہ کیسے ایجاد ہوئی • گٹن برگ کا ابتدائی کیریئر: گٹن برگ ایک دھاتی کاریگر، سوناگر، اور موجد تھے۔ انہیں دھات کاری کی تکنیکوں کا علم تھا، جس نے انہیں درست اور دوبارہ استعمال کے قابل دھات کا ٹائپ تیار کرنے میں مدد دی۔ • پروٹوٹائپ کی تیاری: 1439-1440 کے آس پاس، مائنز، جرمنی میں، گٹن برگ نے مووایبل ٹائپ، پریس میکانزم، اور سیاہی کے ساتھ تجربات شروع کیے۔ انہوں نے کئی پروٹوٹائپس کے ذریعے اس عمل کو مکمل کیا۔ • کاروباری شراکت داری: گٹن برگ نے اپنے منصوبے کی مالی اعانت کے لئے کاروباری شراکتیں کیں۔ ایک مشہور شراکت دار، جان فسٹر نے ایک پرنٹنگ ورکشاپ قائم کرنے کے لئے فنڈ فراہم کیا۔ • ری فائنمنٹ اور تکمیل: 1450 کی دہائی کے اوائل تک، گٹن برگ کے پاس ایک فعال پریس تھا، اور ان کا پہلا بڑے پیمانے پر پرنٹنگ منصوبہ بائبل تھی۔ تاہم، فسٹر کے ساتھ مالی تنازعات کی وجہ سے، گٹن برگ نے اپنا پریس اور ورکشاپ کھو دیا، مگر یہ تکنیک پہلے ہی ظاہر ہو چکی تھی اور تیزی سے پورے یورپ میں پھیل گئی۔ پرنٹنگ پریس کا پھیلاؤ • پندرہویں صدی کے آخر تک، یورپ بھر کے 200 سے زائد شہروں میں پرنٹنگ پریس قائم ہو چکے تھے۔ • یہ ٹیکنالوجی تیزی سے پھیلی، ٹائپ ڈیزائن، پرنٹنگ تکنیکوں، اور کتابوں کی پیداوار میں بہتری آئی۔ طویل مدتی اثرات پرنٹنگ پریس کو اکثر تاریخ کی سب سے بااثر ایجادات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس نے پرنٹنگ انقلاب کو جنم دیا، جس نے جدید علم کی معیشت کی بنیاد رکھی، معلومات کو جمہوری بنایا، اور اہم ثقافتی تبدیلیوں کے لئے راہ ہموار کی، بشمول روشن خیالی اور جدید سائنس کی ترقی۔ خلاصہ یہ ہے کہ پرنٹنگ پریس ایک اہم ایجاد تھی جس نے کتابوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار کو مؤثر بنایا، جس سے ابلاغ، تعلیم، اور معاشرے میں زبردست تبدیلی آئی۔
    0 Comments 0 Shares 284 Views
  • جہنم کا لفظ ایک تاریخی اور مذہبی پس منظر رکھتا ہے، جس کی جڑیں قدیم سامی زبانوں اور مذاہب سے ملتی ہیں جو اسلام سے پہلے موجود تھے۔ یہاں اس کے تاریخی پس منظر کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے:

    سامی جڑیں اور گہنہ

    “جہنم” کا لفظ غالباً عبرانی زبان کے لفظ گیہنہ (یا گہنہ) سے نکلا ہے، جو کہ قدیم یروشلم کے قریب وادی ہنوم کو ظاہر کرتا ہے۔ عبرانی بائبل میں، اس وادی کا ذکر بعض بت پرستانہ رسوم کے حوالے سے آتا ہے، جن میں بچوں کی قربانیاں بھی شامل تھیں۔ یہ وادی یہودیوں کے نزدیک گناہ، ناپاکی اور سزا کی علامت بن گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ، گیہنہ ایک ایسی جگہ کی علامت بن گیا جہاں خدا کے عتاب اور سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خصوصاً یہودی مذہبی تعلیمات میں۔

    یہودی روایات میں تصور

    یہودی تعلیمات میں گیہنہ کو عموماً ایک ایسی جگہ کے طور پر سمجھا جاتا تھا جہاں بدکار روحوں کو عارضی سزا دی جاتی ہے۔ یہ تصور ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ ایک پاکیزگی کے عمل کے طور پر لیا جاتا تھا، جس کے بعد روح ایک اعلیٰ مقام کی طرف بڑھ سکتی تھی۔ یہ تصور بعد میں ابتدائی عیسائی عقائد پر بھی اثرانداز ہوا، جس میں بعد از موت انصاف اور سزا کا تصور شامل ہوا۔

    اسلام میں “جہنم” کا استعمال

    ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کے پھیلاؤ کے ساتھ، آخرت، انصاف اور خدا کی طرف سے سزا کے تصورات اسلامی تعلیمات میں شامل ہوگئے۔ “جہنم” کا لفظ قرآن میں ایک ایسے مقام کے طور پر آیا جہاں نافرمانوں کو سزا دی جاتی ہے، اور یہ اسلامی نظریات کے ساتھ ساتھ موجودہ ثقافتی عقائد کی عکاسی کرتا ہے۔

    قرآن مجید میں، جہنم کو ایک ایسی جگہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے جہاں شدید عذاب اور آگ کا سامنا ہوتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو خدا کے احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں جہنم کو انصاف کا مقام مانا گیا ہے، جہاں ہر فرد کو اس کے اعمال کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔ یہ تصور لوگوں کو برائی سے بچنے اور نیکی کی طرف راغب کرنے کے لیے ایک انتباہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

    اسلامی علماء کی تشریحات

    صدیوں کے دوران، اسلامی علماء اور مفسرین نے قرآن کی ان تفصیلات کو مزید وضاحت کے ساتھ پیش کیا، جس میں مختلف قسم کی سزائیں، جہنم میں داخل ہونے والی روحوں کی حالت، اور توبہ اور مغفرت کی شرائط بیان کی گئیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ جہنم سزا کا مقام ہے، لیکن خدا کی رحمت سے ماورا نہیں ہے؛ بعض تفسیروں کے مطابق، بعض لوگوں کو عارضی سزا کے بعد جہنم سے نجات بھی دی جا سکتی ہے، اگر خدا چاہے۔

    جدید دور میں استعمال

    آج کے دور میں “جہنم” کا لفظ زیادہ تر اسلامی گفتگو میں استعمال ہوتا ہے جو آخرت اور اخلاقیات سے متعلق ہوتی ہے۔ انگریزی میں “hell” کی طرح عام زبان میں استعمال نہیں ہوتا، بلکہ یہ لفظ زیادہ تر مذہبی اور روحانی سیاق و سباق میں استعمال کیا جاتا ہے اور مسلم معاشروں میں انصاف اور اخلاقی ذمہ داری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    یوں، لفظ “جہنم” کی تاریخ ایک ایسے تصور کی عکاسی کرتی ہے جو اسلام میں یہودیت اور عیسائیت کے کچھ عقائد کو اپنا کر خدا کے انصاف اور انسان کی اخلاقی جوابدہی کے معنی میں ڈھل گیا ہے۔
    جہنم کا لفظ ایک تاریخی اور مذہبی پس منظر رکھتا ہے، جس کی جڑیں قدیم سامی زبانوں اور مذاہب سے ملتی ہیں جو اسلام سے پہلے موجود تھے۔ یہاں اس کے تاریخی پس منظر کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے: سامی جڑیں اور گہنہ “جہنم” کا لفظ غالباً عبرانی زبان کے لفظ گیہنہ (یا گہنہ) سے نکلا ہے، جو کہ قدیم یروشلم کے قریب وادی ہنوم کو ظاہر کرتا ہے۔ عبرانی بائبل میں، اس وادی کا ذکر بعض بت پرستانہ رسوم کے حوالے سے آتا ہے، جن میں بچوں کی قربانیاں بھی شامل تھیں۔ یہ وادی یہودیوں کے نزدیک گناہ، ناپاکی اور سزا کی علامت بن گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ، گیہنہ ایک ایسی جگہ کی علامت بن گیا جہاں خدا کے عتاب اور سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خصوصاً یہودی مذہبی تعلیمات میں۔ یہودی روایات میں تصور یہودی تعلیمات میں گیہنہ کو عموماً ایک ایسی جگہ کے طور پر سمجھا جاتا تھا جہاں بدکار روحوں کو عارضی سزا دی جاتی ہے۔ یہ تصور ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ ایک پاکیزگی کے عمل کے طور پر لیا جاتا تھا، جس کے بعد روح ایک اعلیٰ مقام کی طرف بڑھ سکتی تھی۔ یہ تصور بعد میں ابتدائی عیسائی عقائد پر بھی اثرانداز ہوا، جس میں بعد از موت انصاف اور سزا کا تصور شامل ہوا۔ اسلام میں “جہنم” کا استعمال ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کے پھیلاؤ کے ساتھ، آخرت، انصاف اور خدا کی طرف سے سزا کے تصورات اسلامی تعلیمات میں شامل ہوگئے۔ “جہنم” کا لفظ قرآن میں ایک ایسے مقام کے طور پر آیا جہاں نافرمانوں کو سزا دی جاتی ہے، اور یہ اسلامی نظریات کے ساتھ ساتھ موجودہ ثقافتی عقائد کی عکاسی کرتا ہے۔ قرآن مجید میں، جہنم کو ایک ایسی جگہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے جہاں شدید عذاب اور آگ کا سامنا ہوتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو خدا کے احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں جہنم کو انصاف کا مقام مانا گیا ہے، جہاں ہر فرد کو اس کے اعمال کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔ یہ تصور لوگوں کو برائی سے بچنے اور نیکی کی طرف راغب کرنے کے لیے ایک انتباہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اسلامی علماء کی تشریحات صدیوں کے دوران، اسلامی علماء اور مفسرین نے قرآن کی ان تفصیلات کو مزید وضاحت کے ساتھ پیش کیا، جس میں مختلف قسم کی سزائیں، جہنم میں داخل ہونے والی روحوں کی حالت، اور توبہ اور مغفرت کی شرائط بیان کی گئیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ جہنم سزا کا مقام ہے، لیکن خدا کی رحمت سے ماورا نہیں ہے؛ بعض تفسیروں کے مطابق، بعض لوگوں کو عارضی سزا کے بعد جہنم سے نجات بھی دی جا سکتی ہے، اگر خدا چاہے۔ جدید دور میں استعمال آج کے دور میں “جہنم” کا لفظ زیادہ تر اسلامی گفتگو میں استعمال ہوتا ہے جو آخرت اور اخلاقیات سے متعلق ہوتی ہے۔ انگریزی میں “hell” کی طرح عام زبان میں استعمال نہیں ہوتا، بلکہ یہ لفظ زیادہ تر مذہبی اور روحانی سیاق و سباق میں استعمال کیا جاتا ہے اور مسلم معاشروں میں انصاف اور اخلاقی ذمہ داری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یوں، لفظ “جہنم” کی تاریخ ایک ایسے تصور کی عکاسی کرتی ہے جو اسلام میں یہودیت اور عیسائیت کے کچھ عقائد کو اپنا کر خدا کے انصاف اور انسان کی اخلاقی جوابدہی کے معنی میں ڈھل گیا ہے۔
    0 Comments 0 Shares 241 Views
More Results