• انٹرنیٹ اور اِس کے فوائد

    مصنف: ریحان اللہ والا،ناشر: رہبر پبلشرز، کراچی،

    صفحات:48، قیمت:100 روپے

    یہ کتاب، بلکہ کتابچہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ، ریحان اللہ والا کی کاوش ہے۔ ریحان امریکا میں ٹیلی فون کمپنیز کو سافٹ ویئر سروسز فراہم کرنے والا ایک ادارہ چلاتے ہیں۔ اُنھوں نے غربت کے خاتمے کے لیے ’’ریحان فائونڈیشن‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بھی شروع کر رکھا ہے، جو تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے۔ چوں کہ مصنف خود کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے آدمی ہیں، سو انٹرنیٹ کے فوائد اور اثرات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

    انھوں نے اس کے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لینے کی کوشش کی، نتیجہ کتاب کی صورت سامنے آیا۔ یہ کتاب مختصر ضرور ہے، مگر دل چسپ ہے۔ مصنف نے سادہ پیرایے میں اظہار خیال کیا۔ موضوع انٹرنیٹ ہے، سو انگریزی الفاظ بھی بہ کثرت ہیں۔ بلاشبہہ زبان کی بہتری کا امکان موجود ہے۔ اشاعت کے معاملے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، البتہ مختصر ہونے کے باوجود یہ کتاب نوجوان نسل، بالخصوص بچوں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔

    Iqbal Khursheed Thank you
    انٹرنیٹ اور اِس کے فوائد مصنف: ریحان اللہ والا،ناشر: رہبر پبلشرز، کراچی، صفحات:48، قیمت:100 روپے یہ کتاب، بلکہ کتابچہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ، ریحان اللہ والا کی کاوش ہے۔ ریحان امریکا میں ٹیلی فون کمپنیز کو سافٹ ویئر سروسز فراہم کرنے والا ایک ادارہ چلاتے ہیں۔ اُنھوں نے غربت کے خاتمے کے لیے ’’ریحان فائونڈیشن‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بھی شروع کر رکھا ہے، جو تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے۔ چوں کہ مصنف خود کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے آدمی ہیں، سو انٹرنیٹ کے فوائد اور اثرات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے اس کے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لینے کی کوشش کی، نتیجہ کتاب کی صورت سامنے آیا۔ یہ کتاب مختصر ضرور ہے، مگر دل چسپ ہے۔ مصنف نے سادہ پیرایے میں اظہار خیال کیا۔ موضوع انٹرنیٹ ہے، سو انگریزی الفاظ بھی بہ کثرت ہیں۔ بلاشبہہ زبان کی بہتری کا امکان موجود ہے۔ اشاعت کے معاملے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، البتہ مختصر ہونے کے باوجود یہ کتاب نوجوان نسل، بالخصوص بچوں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔ Iqbal Khursheed Thank you
    0 التعليقات 0 المشاركات 976 مشاهدة
  • عشق حقیقی ,,عشق مجازی ,,من چلے کا سودا ،
    ارشاد : اپنی انا اور اپنے نفس کو کسی ایک انسان کے سامنے پامال کر دینے کا نام عشق مجازی ہے اور اپنی انا اور نفس کو سب کے آگے پامال کر دینے کا نام عشق حقیقی ہے ،، معاملہ انا کی پامالی کا ہے ہر حال میں !
    عشق حقیقی ,,عشق مجازی ,,من چلے کا سودا ، ارشاد : اپنی انا اور اپنے نفس کو کسی ایک انسان کے سامنے پامال کر دینے کا نام عشق مجازی ہے اور اپنی انا اور نفس کو سب کے آگے پامال کر دینے کا نام عشق حقیقی ہے ،، معاملہ انا کی پامالی کا ہے ہر حال میں !
    0 التعليقات 0 المشاركات 129 مشاهدة
  • Shared by Munawwar Ikhlas Allahwala

    کیا ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے ؟
    جرمنی ایک صنعتی ملک ہے جہاں دُنیا کی بہترین مصنوعات اور بڑے بڑے برانڈز مثلاً مرسیڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور سیمنز پروڈکٹس بنتے ہیں۔ ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے پمپ تو محض اس ملک کے…
    ایک چھوٹے سے گاؤں میں بنتے ہیں۔ اس طرح کے ترقی یافتہ ملک کے بارے میں کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ وہاں لوگ کس طرح عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہونگے، کم از کم میرا خیال تو اُس وقت یہی تھا جب میں پہلی بار اپنی تعلیم کے سلسلے میں سعودیہ سے جرمنی جا رہا تھا۔
    میں جس وقت ہمبرگ پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود میرے دوست میرے استقبال کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں دعوت کا پروگرام بنا چکے تھے۔ جس وقت ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے اس وقت وہاں گاہک نا ہونے کے برابر اور اکثر میزیں خالی نظر آ رہی تھیں۔ ہمیں جو میز دی گئی اس کے اطراف میں ایک میز پر نوجوان میاں بیوی کھانا کھانے میں مشغول تھے ، اُن کے سامنے صرف ایک ڈش میں کھانا رکھا ہوا تھا جس کو وہ اپنی اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھا رہے اور شاید دونوں کے سامنے ایک ایک گلاس جوس بھی رکھا ہوا نظر آ رہا تھا جس سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ بیچاروں کا رومانوی ماحول میں بیٹھ کر کھانا کھانے کوتو دل چاہ رہا ہوگا مگر جیب زیادہ اجازت نا دیتی ہو گی۔ ریسٹورنٹ میں ان کے علاوہ کچھ عمر رسیدہ خواتین نظر آ رہی تھیں۔
    ہم سب کی بھوک اپنے عروج پر تھی اور اسی بھوک کا حساب لگاتے ہوئے میرے دوستوں نے کھانے کا فراخدلی سے آرڈر لکھوایا۔ ریسٹورنٹ میں گاہکوں کے نا ہونے کی وجہ سے ہمارا کھانے لگنے میں زیادہ وقت نا لگا اور ہم نے بھی کھانے میں خیر سے کوئی خاص دیر نا لگائی۔
    پیسے ادا کر کے جب ہم جانے کیلئے اُٹھے تو ہماری پلیٹوں میں کم از کم ایک تہائی کھانا ابھی بھی بچا ہوا تھا۔ باہر جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے ریسٹورنٹ میں موجود اُن بڑھیاؤں نے ہمیں آوازیں دینا شروع کر دیں۔ ہم نے مڑ کر دیکھا تو وہ ساری اپنی جگہ کھڑی ہو کر زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اور ہم نے یہی اندازہ لگایا کہ اُنکا موضوع ہمارا ضرورت سے زیادہ کھانا طلب کرنا اور اس طرح بچا کر ضائع کرتے ہوئے جانا تھا۔ میرے دوست نے جواباً اُنہیں کہا کہ ہم نے جو کچھ آرڈر کیا تھا اُس کے پیسے ادا کر دیئے ہیں اور تمہاری اس پریشانی اور ایسے معاملے میں جس کا تم سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا میں دخل اندازی کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ایک عورت یہ بات سُنتے ہی ٹیلیفون کی طرف لپکی اور کسی کو فوراً وہاں آنے کو کہا۔ ایسی صورتحال میں ہمارا وہاں سے جانا یا کھسک جانا ہمارے لیئے مزید مسائل کھڑے کر سکتا تھا اس لئے ہم وہیں ٹھہرے رہے۔
    کچھ ہی دیر میں وہاں ایک باوردی شخص آیا جس نے اپنا تعارف ہمیں سوشل سیکیوریٹی محکمہ کے ایک افسر کی حیثیت سے کرایا۔ صورتحال کو دیکھ اور سن کر اُس نے ہم پر پچاس فرانک کا جرما نہ عائد کر۔ اس دوران ہم چپ چاپ کھڑے رہے۔ میرے دوست نے آفیسر سے معذرت کرتے ہوئے پچاس فرانک جرمانہ ادا کیا اور اس نے ایک رسید بنا کر میرے دوست کو تھما دی۔
    آفیسر نے جرمانہ وصول کرنے کے بعد شدید لہجے میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ : آئندہ جب بھی کھانا طلب کرو تو اُتنا ہی منگواؤ جتنا تم کھا سکتے ہو۔ تمہارے پیسے تمہاری ملکیت ضرور ہیں مگر وسائل معاشرے کی امانت ہیں۔ اس دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جو غذائی کمی کا شکار ہیں۔ تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ تم کھانے پینے کی اشیاء کو اس طرح ضائع کرتے پھرو۔
    بے عزتی کے احساس اور شرمساری سے ہمارے چہرے سرخ ہورہے تھے۔ ہمارے پاس اُس آفیسر کی بات کو سننے اور اس سے اتفاق کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ ذہنی طور پر ہر اُس بات کے قائل ہو چکے تھے جو اُس نے ہمیں کہی تھیں۔ مگر کیا کریں ہم لوگ ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جو وسائل کے معاملے میں تو خود کفیل نہیں ہے مگر ہماری عادتیں کچھ اس طرح کی بن گئی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی مہمان آ جائے تو اپنا منہ رکھنے کیلئے یا اپنی جھوٹی عزت یا خود ساختہ اور فرسودہ روایات کی پاسداری خاطر دستر خوان پر کھانے کا ڈھیر لگا دیں گے۔ نتیجتاً بہت سا ایسا کھانا کوڑے کے ڈھیر کی نظر ہوجاتا ہے جس کے حصول کیلیئے کئی دوسرے ترس رہے ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی ان بری عادتوں کو تبدیل کریں اور نعمتوں کا اس طرح ضیاع اور انکا اس طرح سے کفران نا کریں۔
    ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر میرے دوست نے سامنے کی ایک دکان سے جرمانے کی رسید کی فوٹو کاپیاں بنوا کر ہم سب کو اس واقعہ کی یادگار کے طور پر دیں تاکہ ہم گھر جا کر اسے نمایاں طور پر کہیں آویزاں کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہآئندہ کبھی بھی اس طرح کا اسراف نہیں کریں گے۔
    جی ہاں! آپکا مال یقیناً آپکی مِلکیت ہے مگر وسائل سارے معاشرے کیلئے ہیں۔
    Shared by Munawwar Ikhlas Allahwala کیا ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے ؟ جرمنی ایک صنعتی ملک ہے جہاں دُنیا کی بہترین مصنوعات اور بڑے بڑے برانڈز مثلاً مرسیڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور سیمنز پروڈکٹس بنتے ہیں۔ ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے پمپ تو محض اس ملک کے… ایک چھوٹے سے گاؤں میں بنتے ہیں۔ اس طرح کے ترقی یافتہ ملک کے بارے میں کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ وہاں لوگ کس طرح عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہونگے، کم از کم میرا خیال تو اُس وقت یہی تھا جب میں پہلی بار اپنی تعلیم کے سلسلے میں سعودیہ سے جرمنی جا رہا تھا۔ میں جس وقت ہمبرگ پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود میرے دوست میرے استقبال کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں دعوت کا پروگرام بنا چکے تھے۔ جس وقت ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے اس وقت وہاں گاہک نا ہونے کے برابر اور اکثر میزیں خالی نظر آ رہی تھیں۔ ہمیں جو میز دی گئی اس کے اطراف میں ایک میز پر نوجوان میاں بیوی کھانا کھانے میں مشغول تھے ، اُن کے سامنے صرف ایک ڈش میں کھانا رکھا ہوا تھا جس کو وہ اپنی اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھا رہے اور شاید دونوں کے سامنے ایک ایک گلاس جوس بھی رکھا ہوا نظر آ رہا تھا جس سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ بیچاروں کا رومانوی ماحول میں بیٹھ کر کھانا کھانے کوتو دل چاہ رہا ہوگا مگر جیب زیادہ اجازت نا دیتی ہو گی۔ ریسٹورنٹ میں ان کے علاوہ کچھ عمر رسیدہ خواتین نظر آ رہی تھیں۔ ہم سب کی بھوک اپنے عروج پر تھی اور اسی بھوک کا حساب لگاتے ہوئے میرے دوستوں نے کھانے کا فراخدلی سے آرڈر لکھوایا۔ ریسٹورنٹ میں گاہکوں کے نا ہونے کی وجہ سے ہمارا کھانے لگنے میں زیادہ وقت نا لگا اور ہم نے بھی کھانے میں خیر سے کوئی خاص دیر نا لگائی۔ پیسے ادا کر کے جب ہم جانے کیلئے اُٹھے تو ہماری پلیٹوں میں کم از کم ایک تہائی کھانا ابھی بھی بچا ہوا تھا۔ باہر جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے ریسٹورنٹ میں موجود اُن بڑھیاؤں نے ہمیں آوازیں دینا شروع کر دیں۔ ہم نے مڑ کر دیکھا تو وہ ساری اپنی جگہ کھڑی ہو کر زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اور ہم نے یہی اندازہ لگایا کہ اُنکا موضوع ہمارا ضرورت سے زیادہ کھانا طلب کرنا اور اس طرح بچا کر ضائع کرتے ہوئے جانا تھا۔ میرے دوست نے جواباً اُنہیں کہا کہ ہم نے جو کچھ آرڈر کیا تھا اُس کے پیسے ادا کر دیئے ہیں اور تمہاری اس پریشانی اور ایسے معاملے میں جس کا تم سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا میں دخل اندازی کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ایک عورت یہ بات سُنتے ہی ٹیلیفون کی طرف لپکی اور کسی کو فوراً وہاں آنے کو کہا۔ ایسی صورتحال میں ہمارا وہاں سے جانا یا کھسک جانا ہمارے لیئے مزید مسائل کھڑے کر سکتا تھا اس لئے ہم وہیں ٹھہرے رہے۔ کچھ ہی دیر میں وہاں ایک باوردی شخص آیا جس نے اپنا تعارف ہمیں سوشل سیکیوریٹی محکمہ کے ایک افسر کی حیثیت سے کرایا۔ صورتحال کو دیکھ اور سن کر اُس نے ہم پر پچاس فرانک کا جرما نہ عائد کر۔ اس دوران ہم چپ چاپ کھڑے رہے۔ میرے دوست نے آفیسر سے معذرت کرتے ہوئے پچاس فرانک جرمانہ ادا کیا اور اس نے ایک رسید بنا کر میرے دوست کو تھما دی۔ آفیسر نے جرمانہ وصول کرنے کے بعد شدید لہجے میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ : آئندہ جب بھی کھانا طلب کرو تو اُتنا ہی منگواؤ جتنا تم کھا سکتے ہو۔ تمہارے پیسے تمہاری ملکیت ضرور ہیں مگر وسائل معاشرے کی امانت ہیں۔ اس دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جو غذائی کمی کا شکار ہیں۔ تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ تم کھانے پینے کی اشیاء کو اس طرح ضائع کرتے پھرو۔ بے عزتی کے احساس اور شرمساری سے ہمارے چہرے سرخ ہورہے تھے۔ ہمارے پاس اُس آفیسر کی بات کو سننے اور اس سے اتفاق کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ ذہنی طور پر ہر اُس بات کے قائل ہو چکے تھے جو اُس نے ہمیں کہی تھیں۔ مگر کیا کریں ہم لوگ ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جو وسائل کے معاملے میں تو خود کفیل نہیں ہے مگر ہماری عادتیں کچھ اس طرح کی بن گئی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی مہمان آ جائے تو اپنا منہ رکھنے کیلئے یا اپنی جھوٹی عزت یا خود ساختہ اور فرسودہ روایات کی پاسداری خاطر دستر خوان پر کھانے کا ڈھیر لگا دیں گے۔ نتیجتاً بہت سا ایسا کھانا کوڑے کے ڈھیر کی نظر ہوجاتا ہے جس کے حصول کیلیئے کئی دوسرے ترس رہے ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی ان بری عادتوں کو تبدیل کریں اور نعمتوں کا اس طرح ضیاع اور انکا اس طرح سے کفران نا کریں۔ ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر میرے دوست نے سامنے کی ایک دکان سے جرمانے کی رسید کی فوٹو کاپیاں بنوا کر ہم سب کو اس واقعہ کی یادگار کے طور پر دیں تاکہ ہم گھر جا کر اسے نمایاں طور پر کہیں آویزاں کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہآئندہ کبھی بھی اس طرح کا اسراف نہیں کریں گے۔ جی ہاں! آپکا مال یقیناً آپکی مِلکیت ہے مگر وسائل سارے معاشرے کیلئے ہیں۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 420 مشاهدة
  • My First Urdu short Story :) - Happy Independence day
    ==========================================

    ایک دن ایک بیج نے دھوپ سے کہا ،

    تم اتنی سخت کیوں ہو؟

    اتنی تپش کیوں لوگوں پر ڈالتی ہو؟
    لوگ گرمی سے نڈھال اور پریشان ہو جاتے ہیں.

    دھوپ مسکرا کر بولی ،

    "میاں بیج آپ کو معلوم ہے کے اگر میں نہ ہوں تو ان لوگوں میں وٹامن ڈی پیدا نہ ہو، جس کی وجہ سے باقی تمام جسم کمزو ہو جاتا ہے، اود ہڈیاں بھی، میں نہ ہوں تو آپ کے اندر کلوروفِل پیدا نہیں ہوگا ، اور آپ ایک بارے تنے دار درکت میں بھی تبدیل نہیں ہوں گے.

    میں اپنا کام کرتی ہوں، آپ اپنا کام کریں.

    بیج نے کہا، میرا کام؟ میرا کیا کام ہے ؟

    دھوپ نہ کہا، آپ کا کاپ ہے، کے مجھ کو سہ کر، پودا بن جائیں، پھردرکت ، اور پھر سایا بن کر لوگوں کی مدد کریں "

    بیج نہ سوچا اور کہا، پر اس میں تو بھوت ساللگ جائیں گے؟

    دھوپ بھر مسکرائی ور بولی،گی ہاں ، لیکن یہیقدرت کا نظام ہے،

    آپ کےبزرکوں نے بھی یہی کیا، درخت بنے ، پھر ان میں پھل اے ، اور آج آپ موجود ہیں !

    دھوپ سے لڑیں نہیں،بلکے اس کو استعمال کریں،درکت بن جائیں، اور سایا پیدا کریں، پھل پیدا کریں، اور بہت بہت پھل پیدا کریں، تاکے ، ان میں بہت سے آپ جیسے بیج ہوں، اور دوسرے بیج بھی درکت بن جائیں، اور ایک جنگل پیدا ہو جاۓ .

    اس میں وقت تو لگے گا ، پر الله کا قانون یہی ہے :)

    پیارے ہم وطنوں ، دنیا کے سارے مسائل بھی اسی دھوپ کے جیسے ہیں ، آپ انہی مسائل کو لٹھیک کرنے کے لیے ، اپنے لیے کاروبار بنائیں ،اور بہوت ساروں کو انسپائر کریں،اور جنگل کی ترحان اچھائی کو پھیلا دیں ، بس یہی ہے جو آپ کا کام ہے ، مسائل سے لڑنا نہیں،پر ان کو استعمال کرنا !!!

    خوش رہیں ، آباد رہیں

    یومِ آزادی مبارک

    پاکستان زدہ باد

    ریحان الله والا
    My First Urdu short Story :) - Happy Independence day ========================================== ایک دن ایک بیج نے دھوپ سے کہا ، تم اتنی سخت کیوں ہو؟ اتنی تپش کیوں لوگوں پر ڈالتی ہو؟ لوگ گرمی سے نڈھال اور پریشان ہو جاتے ہیں. دھوپ مسکرا کر بولی ، "میاں بیج آپ کو معلوم ہے کے اگر میں نہ ہوں تو ان لوگوں میں وٹامن ڈی پیدا نہ ہو، جس کی وجہ سے باقی تمام جسم کمزو ہو جاتا ہے، اود ہڈیاں بھی، میں نہ ہوں تو آپ کے اندر کلوروفِل پیدا نہیں ہوگا ، اور آپ ایک بارے تنے دار درکت میں بھی تبدیل نہیں ہوں گے. میں اپنا کام کرتی ہوں، آپ اپنا کام کریں. بیج نے کہا، میرا کام؟ میرا کیا کام ہے ؟ دھوپ نہ کہا، آپ کا کاپ ہے، کے مجھ کو سہ کر، پودا بن جائیں، پھردرکت ، اور پھر سایا بن کر لوگوں کی مدد کریں " بیج نہ سوچا اور کہا، پر اس میں تو بھوت ساللگ جائیں گے؟ دھوپ بھر مسکرائی ور بولی،گی ہاں ، لیکن یہیقدرت کا نظام ہے، آپ کےبزرکوں نے بھی یہی کیا، درخت بنے ، پھر ان میں پھل اے ، اور آج آپ موجود ہیں ! دھوپ سے لڑیں نہیں،بلکے اس کو استعمال کریں،درکت بن جائیں، اور سایا پیدا کریں، پھل پیدا کریں، اور بہت بہت پھل پیدا کریں، تاکے ، ان میں بہت سے آپ جیسے بیج ہوں، اور دوسرے بیج بھی درکت بن جائیں، اور ایک جنگل پیدا ہو جاۓ . اس میں وقت تو لگے گا ، پر الله کا قانون یہی ہے :) پیارے ہم وطنوں ، دنیا کے سارے مسائل بھی اسی دھوپ کے جیسے ہیں ، آپ انہی مسائل کو لٹھیک کرنے کے لیے ، اپنے لیے کاروبار بنائیں ،اور بہوت ساروں کو انسپائر کریں،اور جنگل کی ترحان اچھائی کو پھیلا دیں ، بس یہی ہے جو آپ کا کام ہے ، مسائل سے لڑنا نہیں،پر ان کو استعمال کرنا !!! خوش رہیں ، آباد رہیں یومِ آزادی مبارک پاکستان زدہ باد ریحان الله والا
    0 التعليقات 0 المشاركات 383 مشاهدة
  • ایک دن ایک بیج نے دھوپ سے کہا ،

    تم اتنی سخت کیوں ہو؟

    اتنی تپش کیوں لوگوں پر ڈالتی ہو؟
    لوگ گرمی سے نڈھال اور پریشان ہو جاتے ہیں.

    دھوپ مسکرا کر بولی ،

    "میاں بیج آپ کو معلوم ہے کے اگر میں نہ ہوں تو ان لوگوں میں وٹامن ڈی پیدا نہ ہو، جس کی وجہ سے باقی تمام جسم کمزو ہو جاتا ہے، اود ہڈیاں بھی، میں نہ ہوں تو آپ کے اندر کلوروفِل پیدا نہیں ہوگا ، اور آپ ایک بارے تنے دار درکت میں بھی تبدیل نہیں ہوں گے.

    میں اپنا کام کرتی ہوں، آپ اپنا کام کریں.

    بیج نے کہا، میرا کام؟ میرا کیا کام ہے ؟

    دھوپ نہ کہا، آپ کا کاپ ہے، کے مجھ کو سہ کر، پودا بن جائیں، پھردرکت ، اور پھر سایا بن کر لوگوں کی مدد کریں "

    بیج نہ سوچا اور کہا، پر اس میں تو بھوت ساللگ جائیں گے؟

    دھوپ بھر مسکرائی ور بولی،گی ہاں ، لیکن یہیقدرت کا نظام ہے،

    آپ کےبزرکوں نے بھی یہی کیا، درخت بنے ، پھر ان میں پھل اے ، اور آج آپ موجود ہیں !

    دھوپ سے لڑیں نہیں،بلکے اس کو استعمال کریں،درکت بن جائیں، اور سایا پیدا کریں، پھل پیدا کریں، اور بہت بہت پھل پیدا کریں، تاکے ، ان میں بہت سے آپ جیسے بیج ہوں، اور دوسرے بیج بھی درکت بن جائیں، اور ایک جنگل پیدا ہو جاۓ .

    اس میں وقت تو لگے گا ، پر الله کا قانون یہی ہے :)

    پیارے ہم وطنوں ، دنیا کے سارے مسائل بھی اسی دھوپ کے جیسے ہیں ، آپ انہی مسائل کو لٹھیک کرنے کے لیے ، اپنے لیے کاروبار بنائیں ،اور بہوت ساروں کو انسپائر کریں،اور جنگل کی ترحان اچھائی کو پھیلا دیں ، بس یہی ہے جو آپ کا کام ہے ، مسائل سے لڑنا نہیں،پر ان کو استعمال کرنا !!!

    خوش رہیں ، آباد رہیں

    یومِ آزادی مبارک

    پاکستان زدہ باد

    ریحان الله والا
    ایک دن ایک بیج نے دھوپ سے کہا ، تم اتنی سخت کیوں ہو؟ اتنی تپش کیوں لوگوں پر ڈالتی ہو؟ لوگ گرمی سے نڈھال اور پریشان ہو جاتے ہیں. دھوپ مسکرا کر بولی ، "میاں بیج آپ کو معلوم ہے کے اگر میں نہ ہوں تو ان لوگوں میں وٹامن ڈی پیدا نہ ہو، جس کی وجہ سے باقی تمام جسم کمزو ہو جاتا ہے، اود ہڈیاں بھی، میں نہ ہوں تو آپ کے اندر کلوروفِل پیدا نہیں ہوگا ، اور آپ ایک بارے تنے دار درکت میں بھی تبدیل نہیں ہوں گے. میں اپنا کام کرتی ہوں، آپ اپنا کام کریں. بیج نے کہا، میرا کام؟ میرا کیا کام ہے ؟ دھوپ نہ کہا، آپ کا کاپ ہے، کے مجھ کو سہ کر، پودا بن جائیں، پھردرکت ، اور پھر سایا بن کر لوگوں کی مدد کریں " بیج نہ سوچا اور کہا، پر اس میں تو بھوت ساللگ جائیں گے؟ دھوپ بھر مسکرائی ور بولی،گی ہاں ، لیکن یہیقدرت کا نظام ہے، آپ کےبزرکوں نے بھی یہی کیا، درخت بنے ، پھر ان میں پھل اے ، اور آج آپ موجود ہیں ! دھوپ سے لڑیں نہیں،بلکے اس کو استعمال کریں،درکت بن جائیں، اور سایا پیدا کریں، پھل پیدا کریں، اور بہت بہت پھل پیدا کریں، تاکے ، ان میں بہت سے آپ جیسے بیج ہوں، اور دوسرے بیج بھی درکت بن جائیں، اور ایک جنگل پیدا ہو جاۓ . اس میں وقت تو لگے گا ، پر الله کا قانون یہی ہے :) پیارے ہم وطنوں ، دنیا کے سارے مسائل بھی اسی دھوپ کے جیسے ہیں ، آپ انہی مسائل کو لٹھیک کرنے کے لیے ، اپنے لیے کاروبار بنائیں ،اور بہوت ساروں کو انسپائر کریں،اور جنگل کی ترحان اچھائی کو پھیلا دیں ، بس یہی ہے جو آپ کا کام ہے ، مسائل سے لڑنا نہیں،پر ان کو استعمال کرنا !!! خوش رہیں ، آباد رہیں یومِ آزادی مبارک پاکستان زدہ باد ریحان الله والا
    0 التعليقات 0 المشاركات 362 مشاهدة
  • میرا نام جان علی ملک ہےاور میں ضلح چکوال کے قصبے میں رہتا ہوں۔میں نے ابھی (آی- سی- ایس) مکمل کیا ہے اور اب بی اس (سی ایس) میں داخلہ لینا ہے۔
    میرے والد صاحب کے دوست ہیں وہ کہتے ہیں کے وسائل کی کمی اتنی مہلک نہیں ہے جتنی کے معلومات کی کمی۔

    ایک مخلص دوست کی مدد سے میری رسائی فیس بک پر ریحان اللہ والا تک ہوئی۔میں نے انکی پہلی پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے لکھا کے میرے 500 دوستوں کو چرا کے اپنا بنائیں جسکے بدلے میں آپکو لیپ ٹاپ گفٹ کروں گا۔مجھ میں تجسس پیدا ہو گیا ہے اسکی کیا وجہ ہے۔۔۔؟
    اُس پوسٹ کے کمنٹ میں ریحان صاحب نے ایک ویڈیو کا لنک دیا ہوا تھا میں نے وہ لنک کھولا اور سننے لگا ۔اس ویڈیو میں ریحان صاحب نے بتایا کے میں نے 7 سال کی طویل محنت کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں کے 5000 پروفیشنل لوگوں کو دوست بنایا ہے اگر کوئی میرے ان پانچ ہزار دوستوں میں سے پانچ سو کو اپنا میوچل دوست بناے گا اور روزانہ چند سے بات چیت کرے گا اُسکی زندگی میں تبدیلی ہونا شروع ہو جاے گی ۔
    میں نے بھی اس ویڈیو کے بعد فیصلہ کیا کے میں بھی ان عظیم لوگوں میں سے جتنوں کو ممکن ہوا دوست بناوں گا۔اب میرے تقریباَ تین سو دوست ہو چکے ہیں۔ میں 25 سے 30 لوگوں سے رابطے میں ہوں۔

    ان عظیم دوستوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا :
    1) : خود اعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا (یہ میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے)
    2) : خوشگوار زندگی (آپ معاشرے میں امن کیسے قائم کر سکتے ہیں،،،اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے دوسروں کا دل کیسے جیتا جا سکتا ہے)
    3) : جدید ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات
    4) : آن لائن ارننگ (فری لانس ، فاریکس ٹریڈنگ ، فائیور ،وغیرہ سے روشناس ہوے)
    5) : بیرونِ ملک کی تعلمی معلومات
    6) : مذھبی ہم آہنگی
    انشاء اللہ اور بھی دوستوں سے بہت کچھ ملے گا،، میں شکریہ ادا کرتا ہوں ریحان اللہ والا کا جنکی وجہ سے میں ان عظیم لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا ۔۔۔۔اور اتنا کچھ سیکھنے کو ملا

    @jan Malik
    میرا نام جان علی ملک ہےاور میں ضلح چکوال کے قصبے میں رہتا ہوں۔میں نے ابھی (آی- سی- ایس) مکمل کیا ہے اور اب بی اس (سی ایس) میں داخلہ لینا ہے۔ میرے والد صاحب کے دوست ہیں وہ کہتے ہیں کے وسائل کی کمی اتنی مہلک نہیں ہے جتنی کے معلومات کی کمی۔ ایک مخلص دوست کی مدد سے میری رسائی فیس بک پر ریحان اللہ والا تک ہوئی۔میں نے انکی پہلی پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے لکھا کے میرے 500 دوستوں کو چرا کے اپنا بنائیں جسکے بدلے میں آپکو لیپ ٹاپ گفٹ کروں گا۔مجھ میں تجسس پیدا ہو گیا ہے اسکی کیا وجہ ہے۔۔۔؟ اُس پوسٹ کے کمنٹ میں ریحان صاحب نے ایک ویڈیو کا لنک دیا ہوا تھا میں نے وہ لنک کھولا اور سننے لگا ۔اس ویڈیو میں ریحان صاحب نے بتایا کے میں نے 7 سال کی طویل محنت کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں کے 5000 پروفیشنل لوگوں کو دوست بنایا ہے اگر کوئی میرے ان پانچ ہزار دوستوں میں سے پانچ سو کو اپنا میوچل دوست بناے گا اور روزانہ چند سے بات چیت کرے گا اُسکی زندگی میں تبدیلی ہونا شروع ہو جاے گی ۔ میں نے بھی اس ویڈیو کے بعد فیصلہ کیا کے میں بھی ان عظیم لوگوں میں سے جتنوں کو ممکن ہوا دوست بناوں گا۔اب میرے تقریباَ تین سو دوست ہو چکے ہیں۔ میں 25 سے 30 لوگوں سے رابطے میں ہوں۔ ان عظیم دوستوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا : 1) : خود اعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا (یہ میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے) 2) : خوشگوار زندگی (آپ معاشرے میں امن کیسے قائم کر سکتے ہیں،،،اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے دوسروں کا دل کیسے جیتا جا سکتا ہے) 3) : جدید ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات 4) : آن لائن ارننگ (فری لانس ، فاریکس ٹریڈنگ ، فائیور ،وغیرہ سے روشناس ہوے) 5) : بیرونِ ملک کی تعلمی معلومات 6) : مذھبی ہم آہنگی انشاء اللہ اور بھی دوستوں سے بہت کچھ ملے گا،، میں شکریہ ادا کرتا ہوں ریحان اللہ والا کا جنکی وجہ سے میں ان عظیم لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا ۔۔۔۔اور اتنا کچھ سیکھنے کو ملا @jan Malik
    0 التعليقات 0 المشاركات 637 مشاهدة
  • تنخواہ(پیسوں)کو مہینے کی آخری تاریخ تک بچانے کا نسخہ
    (عربی سے ترجمہ شدہ)

    یہ واقعہ ایک سعودی نوجوان کا ہے،یہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تها،اس کی تنخواہ صرف چار ہزار ریال تهی،شادی شدہ ہونے کیوجہ سے اس کے اخراجات اس کی تنخواہ سے کہیں زیادہ تهے،مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی تنخواہ ختم ہو جاتی اور اسے قرض لینا پڑتا، یوں وہ آہستہ آہستہ قرضوں کی دلدل میں ڈوبتا جارہا تها ،اور اس کا یقین بنتا جا رہا تها کہ اب اس کی زندگی اسی حال میں ہی گزرے گی، باوجودیکہ اس کی بیوی اسکے مادی حالت کا خیال کرتی ،لیکن قرضوں کے بوجه میں تو سانس لینا بهی دشوار ہوتا ہے.
    ایک دن وہ اپنے دوستوں میں مجلس میں گیا ،وہاں اس دن ایک ایسا دوست بهی موجود تها جو صاحب رائے آدمی تها اور اس نوجوان کا کہنا تها کہ میں اپنے اس دوست کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکهتا تها،کہنے لگا میں نے اسے باتوں باتوں میں اپنی کہانی کہہ سنائی اور اپنی مالی مشاکل اس کے سامنے رکهیں ، اس نے میری بات سنی اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ تم اپنی تنخواہ میں سے کچه حصہ صدقہ کے لیے مختص کرو، اس سعودی نوجوان نے حیرت سے کہا : جناب مجهے گهر کے خرچے پورے کرنے لیے قرضے لینے پڑتے ہیں اور آپ صدقہ نکالنے کا کہہ رہے ہیں؟
    خیر میں نے گهر آ کر اپنی بیوی کو ساری بات بتائی تو بیوی کہنے لگی : تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے ؟ ہو سکتا ہے اللہ جل شانہ تم پر رزق کے دروازے کهول دے .
    کہتا ہے میں نے ماہانہ 4 ہزار ریال میں سے 30 ریال صدقہ کے لیے مختص کرنے کا ارادہ کیا.اور مہینے کے آخر میں اسے ادا کرنا شروع کردیا.
    سبحان اللہ ! قسم کها کر کہتا ہوں میری تو حالت ہی بدل گئی، کہاں میں ہر وقت مالی ٹینشوں میں اور سوچوں میں رہتا تها اور کہاں اب میری زندگی گویا پهول ہو گئی تهی ، ہلکی پهلکی آسان ،قرضوں کے باوجود میں خود کو آزاد محسوس کرتا تها ایک ایسا ذہنی سکون تها کہ کیا بتاوں.
    پهر چند ماہ بعد میں نے اپنی زندگی کو سیٹ کرنا شروع کیا ، اپنی تنخواہ کو حصوں میں تقسیم کیا ، اور یوں ایسی برکت ہوئی جیسے پہلے کبهی نہی ہوئی تهی.میں حساب لگا لیا اور مجهے اندازہ ہو گیا کہ کتنی مدت میں اِنشاءاللہ قرضوں کے بوجه سے میری جان چهوٹ جائی گی.
    پهر اللہ جل شانہ نے ایک اور راستہ کهولا اور میں نے اپنے ایک عزیز کے ساته اس کے پراپرٹی ڈیلنگ کے کام میں حصہ لینا شروع کیا ، میں اسے گاہک لا کردیتا اور اس پر مجهے مناسب پرافٹ حاصل ہوتا.
    الحمدللہ ! میں جب بهی کسی گاہک کے پاس جاتا وہ مجهے کسی دوسرے تک راہنمائی ضرور کرتا .
    میں یہاں پر بهی وہی عمل دوہراتا کہ مجهے جب بهی پرافٹ ملتا میں اس میں سے اللہ کے لیے صدقہ ضرور نکالتا.

    اللہ کی قسم صدقہ کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے جس نے اسے آزمایا ہو.
    صدقہ کرو، اور صبر سے چلو ، اللہ کا فضل سے خیر و برکتیں اپنی آنکهوں برستے دیکهو گے.

    نوٹ :
    1. جب آپ کسی مسلمان کو تنخواہ میں سے صدقہ کے لیے رقم مختص کرنےکاکہیں گے اور وہ اس پر عمل کرےگا تو آپ کو بهی اتنا ہی اجرملے گا جتنا صدقہ کرنے والے کو ملے گا، اور صدقہ دینے والے کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی،

    سوچیے !!!
    آپ اس دنیا سے چلے جائیں گے اور آپکے سبب آپکے پیچهے کوئی صدقہ کررہاہو گا

    2. ایسے ہی اگر آپ نے یہ رسالہ (میسج) آگے نشرکیا اور کسی نے صدقہ دینے کا معمول بنا لیاآپ کے لیے بهی صدقہ دینے والے کے مثل اجرہے.
    (جیسے میں نے اس میسج کو پڑه کر صدقہ کرنے کا معمول بنایا ، اور قسم کها کہتا ہوں مجهے سب سے زیادہ فرق میری ذہنی حالت پر پڑا ،ایک ایسا اطمئنان محسوس ہوتا ہے کہ جسکا جواب نہیں.مترجم)
    میرے عزیز!!!
    اگرچہ آپ طالب علم ہیں ، اور آپکو لگا بندها وظیفہ ملتاہے تب بهی آپ تهوڑا بہت جتناہوجائے کچه رقم صدقہ کے لیے ضرور مختص کریں.

    اگر صدقہ کرنے والا جان لے اور سمجه لے کہ اس کا صدقہ فقیر کے ہاته میں جانے سے پہلے اللہ کے ہاته میں جاتا ہے تو یقینا دینے والے کو لذت لینے والے سے کہیں زیادہ ہو گی.

    کیا آپ صدقہ کے فوائد معلوم ہیں؟
    خاص طور پر 17، 18، 19 کو توجہ سے پڑهیے گآ

    سن لیں !
    صدقہ دینے والے بهی اور جو اس کا سبب بنتے ہیں وہ بهی!!!
    1. صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے
    2. صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کهانا کهلانا ہے.
    3. صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا
    4. صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹهنڈا کرتا ہے، اور قبر کی گرمی کی ٹهنڈک کا سامان ہے
    5. میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑهاتے رہتے ہیں
    6. صدقہ مصفی ہے، نفس کی پاکی کا ذریعہ اور نیکیوں کو بڑهاتا ہے
    7. صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سرور اور تازگی کا سبب ہے
    8. صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے ، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا.
    9. صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سئیات کا کفارہ ہے.
    10. صدقہ خوشخبری ہے حسن خاتمہ کی ، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے
    11. صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے ، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہو.
    12. صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے
    13. خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کے مخلوق محبت کرتی ہے.
    14. صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے
    15. صدقہ دعاوں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے
    16. صدقہ بلاء )مصیبت( کو دور کرتا ہے ، اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے
    17. صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے.کام یابی اور رزق کا سبب ہے.
    18. صدقہ علاج بهی ہے دواء بهی اور شفاء بهی...
    19. صدقہ آگ سے جلنے، غرق ہونے ، چوری اور بری موت کو روکتا ہے
    20. صدقہ کا اجرملتا ہے ، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں ناہو..
    آخری بات :
    بہترین صدقہ اس وقت یہ ہے کہ آپ اس میسج کو صدقہ کی نیت سے آگے نشر کر دیں.

    Shred via Munawwar Ikhlas Allahwala
    تنخواہ(پیسوں)کو مہینے کی آخری تاریخ تک بچانے کا نسخہ (عربی سے ترجمہ شدہ) یہ واقعہ ایک سعودی نوجوان کا ہے،یہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تها،اس کی تنخواہ صرف چار ہزار ریال تهی،شادی شدہ ہونے کیوجہ سے اس کے اخراجات اس کی تنخواہ سے کہیں زیادہ تهے،مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی تنخواہ ختم ہو جاتی اور اسے قرض لینا پڑتا، یوں وہ آہستہ آہستہ قرضوں کی دلدل میں ڈوبتا جارہا تها ،اور اس کا یقین بنتا جا رہا تها کہ اب اس کی زندگی اسی حال میں ہی گزرے گی، باوجودیکہ اس کی بیوی اسکے مادی حالت کا خیال کرتی ،لیکن قرضوں کے بوجه میں تو سانس لینا بهی دشوار ہوتا ہے. ایک دن وہ اپنے دوستوں میں مجلس میں گیا ،وہاں اس دن ایک ایسا دوست بهی موجود تها جو صاحب رائے آدمی تها اور اس نوجوان کا کہنا تها کہ میں اپنے اس دوست کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکهتا تها،کہنے لگا میں نے اسے باتوں باتوں میں اپنی کہانی کہہ سنائی اور اپنی مالی مشاکل اس کے سامنے رکهیں ، اس نے میری بات سنی اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ تم اپنی تنخواہ میں سے کچه حصہ صدقہ کے لیے مختص کرو، اس سعودی نوجوان نے حیرت سے کہا : جناب مجهے گهر کے خرچے پورے کرنے لیے قرضے لینے پڑتے ہیں اور آپ صدقہ نکالنے کا کہہ رہے ہیں؟ خیر میں نے گهر آ کر اپنی بیوی کو ساری بات بتائی تو بیوی کہنے لگی : تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے ؟ ہو سکتا ہے اللہ جل شانہ تم پر رزق کے دروازے کهول دے . کہتا ہے میں نے ماہانہ 4 ہزار ریال میں سے 30 ریال صدقہ کے لیے مختص کرنے کا ارادہ کیا.اور مہینے کے آخر میں اسے ادا کرنا شروع کردیا. سبحان اللہ ! قسم کها کر کہتا ہوں میری تو حالت ہی بدل گئی، کہاں میں ہر وقت مالی ٹینشوں میں اور سوچوں میں رہتا تها اور کہاں اب میری زندگی گویا پهول ہو گئی تهی ، ہلکی پهلکی آسان ،قرضوں کے باوجود میں خود کو آزاد محسوس کرتا تها ایک ایسا ذہنی سکون تها کہ کیا بتاوں. پهر چند ماہ بعد میں نے اپنی زندگی کو سیٹ کرنا شروع کیا ، اپنی تنخواہ کو حصوں میں تقسیم کیا ، اور یوں ایسی برکت ہوئی جیسے پہلے کبهی نہی ہوئی تهی.میں حساب لگا لیا اور مجهے اندازہ ہو گیا کہ کتنی مدت میں اِنشاءاللہ قرضوں کے بوجه سے میری جان چهوٹ جائی گی. پهر اللہ جل شانہ نے ایک اور راستہ کهولا اور میں نے اپنے ایک عزیز کے ساته اس کے پراپرٹی ڈیلنگ کے کام میں حصہ لینا شروع کیا ، میں اسے گاہک لا کردیتا اور اس پر مجهے مناسب پرافٹ حاصل ہوتا. الحمدللہ ! میں جب بهی کسی گاہک کے پاس جاتا وہ مجهے کسی دوسرے تک راہنمائی ضرور کرتا . میں یہاں پر بهی وہی عمل دوہراتا کہ مجهے جب بهی پرافٹ ملتا میں اس میں سے اللہ کے لیے صدقہ ضرور نکالتا. اللہ کی قسم صدقہ کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے جس نے اسے آزمایا ہو. صدقہ کرو، اور صبر سے چلو ، اللہ کا فضل سے خیر و برکتیں اپنی آنکهوں برستے دیکهو گے. نوٹ : 1. جب آپ کسی مسلمان کو تنخواہ میں سے صدقہ کے لیے رقم مختص کرنےکاکہیں گے اور وہ اس پر عمل کرےگا تو آپ کو بهی اتنا ہی اجرملے گا جتنا صدقہ کرنے والے کو ملے گا، اور صدقہ دینے والے کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، سوچیے !!! آپ اس دنیا سے چلے جائیں گے اور آپکے سبب آپکے پیچهے کوئی صدقہ کررہاہو گا 2. ایسے ہی اگر آپ نے یہ رسالہ (میسج) آگے نشرکیا اور کسی نے صدقہ دینے کا معمول بنا لیاآپ کے لیے بهی صدقہ دینے والے کے مثل اجرہے. (جیسے میں نے اس میسج کو پڑه کر صدقہ کرنے کا معمول بنایا ، اور قسم کها کہتا ہوں مجهے سب سے زیادہ فرق میری ذہنی حالت پر پڑا ،ایک ایسا اطمئنان محسوس ہوتا ہے کہ جسکا جواب نہیں.مترجم) میرے عزیز!!! اگرچہ آپ طالب علم ہیں ، اور آپکو لگا بندها وظیفہ ملتاہے تب بهی آپ تهوڑا بہت جتناہوجائے کچه رقم صدقہ کے لیے ضرور مختص کریں. اگر صدقہ کرنے والا جان لے اور سمجه لے کہ اس کا صدقہ فقیر کے ہاته میں جانے سے پہلے اللہ کے ہاته میں جاتا ہے تو یقینا دینے والے کو لذت لینے والے سے کہیں زیادہ ہو گی. کیا آپ صدقہ کے فوائد معلوم ہیں؟ خاص طور پر 17، 18، 19 کو توجہ سے پڑهیے گآ سن لیں ! صدقہ دینے والے بهی اور جو اس کا سبب بنتے ہیں وہ بهی!!! 1. صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے 2. صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کهانا کهلانا ہے. 3. صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا 4. صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹهنڈا کرتا ہے، اور قبر کی گرمی کی ٹهنڈک کا سامان ہے 5. میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑهاتے رہتے ہیں 6. صدقہ مصفی ہے، نفس کی پاکی کا ذریعہ اور نیکیوں کو بڑهاتا ہے 7. صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سرور اور تازگی کا سبب ہے 8. صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے ، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا. 9. صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سئیات کا کفارہ ہے. 10. صدقہ خوشخبری ہے حسن خاتمہ کی ، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے 11. صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے ، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہو. 12. صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے 13. خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کے مخلوق محبت کرتی ہے. 14. صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے 15. صدقہ دعاوں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے 16. صدقہ بلاء )مصیبت( کو دور کرتا ہے ، اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے 17. صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے.کام یابی اور رزق کا سبب ہے. 18. صدقہ علاج بهی ہے دواء بهی اور شفاء بهی... 19. صدقہ آگ سے جلنے، غرق ہونے ، چوری اور بری موت کو روکتا ہے 20. صدقہ کا اجرملتا ہے ، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں ناہو.. آخری بات : بہترین صدقہ اس وقت یہ ہے کہ آپ اس میسج کو صدقہ کی نیت سے آگے نشر کر دیں. Shred via Munawwar Ikhlas Allahwala
    0 التعليقات 0 المشاركات 666 مشاهدة
  • وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔
    اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔
    وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔
    اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔
    وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔
    ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔
    حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔
    نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔
    كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔
    پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔
    اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔ اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔ وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔ اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔ وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔ وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔ ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔ حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔ نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔ كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔ پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔ اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 733 مشاهدة
  • ایک چڑیا کی تین نصیحتیں

    ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا..
    چڑیا نے اس سے کہا.. ” اے انسان ! تم نے کئی ہرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ھیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ھے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ہے اس سے تمہارا کیا بنے گا..؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مجھے آزاد کردو تو میں تمہیں تین نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ھوگا..

    ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی کروں گی.. جبکہ دوسری اس وقت جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کروں گی جب دیوار سے اڑکرسامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.. ”
    اس شخص کے دل میں تجسس پیدا ھوا کہ نہ جانے چڑیا کیا فائدہ مند نصیحتیں کرے .. اس نے چڑیا کی بات مانتے ہوئے اس سے پوچھا.. ” تم مجھے پہلی نصیحت کرو ‘ پھر میں تمہیں چھوڑ دونگا.. ”
    چنانچہ چڑیا نے کہا.. ” میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ” جو بات کبھی نہیں ہو سکتی اسکا یقین مت کرنا.. ”
    یہ سن کر اس آدمی نے چڑیا کو چھوڑ دیا اور وہ سامنے دیوار پر جا بیٹھی.. پھر بولی.. ” میری دوسری نصیحت یہ ھے کہ “جو بات ھو جاۓ اسکا غم نہ کرنا..”
    اور پھر کہنے لگی.. ” اے بھلے مانس! تم نے مجھے چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی.. کیونکہ میرے پیٹ میں پاؤ بھر کا انتہائی نایاب پتھر ھے.. اگر تم مجھے ذبح کرتے اور میرے پیٹ سے اس موتی کو نکال لیتے تو اس کے فروخت کرنے سے تمہیں اس قدردولت حاصل ھوتی کہ تمہاری آنے والی کئی نسلوں کے لئے کافی ھوتی.. اور تم بہت بڑے رئیس ھو جاتے.. ”
    اس شخص نے جو یہ بات سنی تو لگا افسوس کرنے.. اور پچھتایا.. کہ اس چڑیا کو چھوڑ کراپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی.. اگر اسے نہ چھوڑتا تو میری نسلیں سنور جاتیں..
    چڑیا نے اسے اس طرح سوچ میں پڑے دیکھا تو اڑ کر درخت کی شاخ پرجا بیٹھی اور پولی.. ” اے بھلے مانس! ابھی میں نے تمہیں پہلی نصیحت کی جسے تم بھول گئے کہ “جو بات نہ ہوسکنے والی ھو اسکا ھر گز یقین نہ کرنا..” لیکن تم نے میری اس بات کا اعتبار کرلیا کہ میں چھٹاک بھر وزن رکھنے والی چڑیا اپنے پیٹ میں پاؤ وزن کا موتی رکھتی ھوں.. کیا یہ ممکن ہے..؟
    میں نے تمہیں دوسری نصیحت یہ کی تھی کہ ” جو بات ھو جاۓ اسکا غم نہ کرنا”۔ مگر تم نے دوسری نصیحت کا بھی کوئی اثر نہ لیا اور غم و افسوس میں مبتلا ہو گئے کہ خواہ مخواہ مجھے جانے دیا..
    تمہیں کوئی بھی نصیحت کرنا بالکل بیکار ھے.. تم نے میری پہلی دو نصیحتوں پر کب عمل کیا جو تیسری پر کرو گے.. تم نصیحت کے قابل نہیں.. ”
    یہ کہتے ہوۓ چڑیا پھر سے اڑی.. اورہوا میں پرواز کر گئی.. وہ شخص وہیں کھڑا چڑیا کی باتوں پر غور و فکر کرتے ھوۓ سوچوں میں کھو گیا..!!
    وہ لوگ خوش نصیب ھوتے ھیں جنہیں کوئی نصیحت کرنے والا ہو.. ھم اکثر خود کو عقلِ کل سمجھتے ھوۓ اپنے مخلص ساتھیوں اور بزرگوں کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرتے.. اور اس میں نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے..
    یہ نصیحتیں صرف کہنے کی باتیں نہیں ہوتیں کہ کسی نے کہہ لیا ‘ ھم نے سن لیا..بلکہ دانائی اور دوسروں کے تجربات سے حاصل ھونے والے انمول اثاثے ہیں.. جو یقیننا” ہمارے لئے مشعلِ راہ ثابت ھو سکتے ھیں اگر ہم ان نصیحتوں پر عمل بھی کریں..!

    حکایتِ رومی
    ایک چڑیا کی تین نصیحتیں ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا.. چڑیا نے اس سے کہا.. ” اے انسان ! تم نے کئی ہرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ھیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ھے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ہے اس سے تمہارا کیا بنے گا..؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مجھے آزاد کردو تو میں تمہیں تین نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ھوگا.. ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی کروں گی.. جبکہ دوسری اس وقت جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کروں گی جب دیوار سے اڑکرسامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.. ” اس شخص کے دل میں تجسس پیدا ھوا کہ نہ جانے چڑیا کیا فائدہ مند نصیحتیں کرے .. اس نے چڑیا کی بات مانتے ہوئے اس سے پوچھا.. ” تم مجھے پہلی نصیحت کرو ‘ پھر میں تمہیں چھوڑ دونگا.. ” چنانچہ چڑیا نے کہا.. ” میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ” جو بات کبھی نہیں ہو سکتی اسکا یقین مت کرنا.. ” یہ سن کر اس آدمی نے چڑیا کو چھوڑ دیا اور وہ سامنے دیوار پر جا بیٹھی.. پھر بولی.. ” میری دوسری نصیحت یہ ھے کہ “جو بات ھو جاۓ اسکا غم نہ کرنا..” اور پھر کہنے لگی.. ” اے بھلے مانس! تم نے مجھے چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی.. کیونکہ میرے پیٹ میں پاؤ بھر کا انتہائی نایاب پتھر ھے.. اگر تم مجھے ذبح کرتے اور میرے پیٹ سے اس موتی کو نکال لیتے تو اس کے فروخت کرنے سے تمہیں اس قدردولت حاصل ھوتی کہ تمہاری آنے والی کئی نسلوں کے لئے کافی ھوتی.. اور تم بہت بڑے رئیس ھو جاتے.. ” اس شخص نے جو یہ بات سنی تو لگا افسوس کرنے.. اور پچھتایا.. کہ اس چڑیا کو چھوڑ کراپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی.. اگر اسے نہ چھوڑتا تو میری نسلیں سنور جاتیں.. چڑیا نے اسے اس طرح سوچ میں پڑے دیکھا تو اڑ کر درخت کی شاخ پرجا بیٹھی اور پولی.. ” اے بھلے مانس! ابھی میں نے تمہیں پہلی نصیحت کی جسے تم بھول گئے کہ “جو بات نہ ہوسکنے والی ھو اسکا ھر گز یقین نہ کرنا..” لیکن تم نے میری اس بات کا اعتبار کرلیا کہ میں چھٹاک بھر وزن رکھنے والی چڑیا اپنے پیٹ میں پاؤ وزن کا موتی رکھتی ھوں.. کیا یہ ممکن ہے..؟ میں نے تمہیں دوسری نصیحت یہ کی تھی کہ ” جو بات ھو جاۓ اسکا غم نہ کرنا”۔ مگر تم نے دوسری نصیحت کا بھی کوئی اثر نہ لیا اور غم و افسوس میں مبتلا ہو گئے کہ خواہ مخواہ مجھے جانے دیا.. تمہیں کوئی بھی نصیحت کرنا بالکل بیکار ھے.. تم نے میری پہلی دو نصیحتوں پر کب عمل کیا جو تیسری پر کرو گے.. تم نصیحت کے قابل نہیں.. ” یہ کہتے ہوۓ چڑیا پھر سے اڑی.. اورہوا میں پرواز کر گئی.. وہ شخص وہیں کھڑا چڑیا کی باتوں پر غور و فکر کرتے ھوۓ سوچوں میں کھو گیا..!! وہ لوگ خوش نصیب ھوتے ھیں جنہیں کوئی نصیحت کرنے والا ہو.. ھم اکثر خود کو عقلِ کل سمجھتے ھوۓ اپنے مخلص ساتھیوں اور بزرگوں کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرتے.. اور اس میں نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے.. یہ نصیحتیں صرف کہنے کی باتیں نہیں ہوتیں کہ کسی نے کہہ لیا ‘ ھم نے سن لیا..بلکہ دانائی اور دوسروں کے تجربات سے حاصل ھونے والے انمول اثاثے ہیں.. جو یقیننا” ہمارے لئے مشعلِ راہ ثابت ھو سکتے ھیں اگر ہم ان نصیحتوں پر عمل بھی کریں..! حکایتِ رومی
    0 التعليقات 0 المشاركات 191 مشاهدة
  • برداشت :

    صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگا لی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔ قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔ قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔ دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں

    Shared via Hina Iqbal Siddiqui
    برداشت : صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگا لی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔ قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔ قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔ دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں Shared via Hina Iqbal Siddiqui
    0 التعليقات 0 المشاركات 476 مشاهدة
الصفحات المعززة