• Story post : 42
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 9:17:26


    ملا نصرالدین اور سونے کی ہانڈی

    ایک دن ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک ان کی نظر زمین پر پڑی ایک پرانی ہانڈی پر گئی۔ ملا نے ہانڈی اٹھا کر دیکھی تو حیران رہ گئے، کیونکہ اس میں سونے کے سکے بھرے ہوئے تھے۔

    ملا کچھ دیر سوچتے رہے اور پھر ہانڈی کو اپنے گھر لے آئے۔ گھر پہنچ کر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا، “دیکھو! آج قسمت نے ہمارے دروازے پر دستک دی ہے، لیکن ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اس دولت کا کیا کرنا ہے۔”

    ملا نے سونے کے سکوں کو غور سے دیکھا اور کہا، “اگر میں یہ سارا سونا اپنے پاس رکھ لوں تو شاید میں امیر ہو جاؤں، لیکن اگر یہ کسی اور کا ہے تو اسے رکھنا درست نہیں ہوگا۔”

    اگلے دن ملا نصرالدین گاؤں کے لوگوں کے پاس گئے اور پوچھا، “کیا کسی کی سونے کے سکوں والی ہانڈی گم ہوئی ہے؟”

    ایک شخص نے آگے بڑھ کر کہا، “ہاں! وہ ہانڈی میری ہے۔ میں اسے ڈھونڈ رہا تھا!”

    ملا نے ہانڈی اس شخص کے حوالے کر دی۔ وہ شخص بہت خوش ہوا اور ملا کا شکریہ ادا کرنے لگا۔

    ملا مسکرائے اور بولے، “دولت مل جانا بڑی بات نہیں، اصل دولت یہ ہے کہ انسان صحیح کام کرنے کا فیصلہ کرے۔”

    سبق:

    ایمانداری اور نیکی وہ خزانہ ہیں جو سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
    Story post : 42 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 9:17:26 🪙 ملا نصرالدین اور سونے کی ہانڈی ایک دن ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک ان کی نظر زمین پر پڑی ایک پرانی ہانڈی پر گئی۔ ملا نے ہانڈی اٹھا کر دیکھی تو حیران رہ گئے، کیونکہ اس میں سونے کے سکے بھرے ہوئے تھے۔ 🪙✨ ملا کچھ دیر سوچتے رہے اور پھر ہانڈی کو اپنے گھر لے آئے۔ گھر پہنچ کر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا، “دیکھو! آج قسمت نے ہمارے دروازے پر دستک دی ہے، لیکن ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اس دولت کا کیا کرنا ہے۔” ملا نے سونے کے سکوں کو غور سے دیکھا اور کہا، “اگر میں یہ سارا سونا اپنے پاس رکھ لوں تو شاید میں امیر ہو جاؤں، لیکن اگر یہ کسی اور کا ہے تو اسے رکھنا درست نہیں ہوگا۔” اگلے دن ملا نصرالدین گاؤں کے لوگوں کے پاس گئے اور پوچھا، “کیا کسی کی سونے کے سکوں والی ہانڈی گم ہوئی ہے؟” ایک شخص نے آگے بڑھ کر کہا، “ہاں! وہ ہانڈی میری ہے۔ میں اسے ڈھونڈ رہا تھا!” ملا نے ہانڈی اس شخص کے حوالے کر دی۔ وہ شخص بہت خوش ہوا اور ملا کا شکریہ ادا کرنے لگا۔ ❤️ ملا مسکرائے اور بولے، “دولت مل جانا بڑی بات نہیں، اصل دولت یہ ہے کہ انسان صحیح کام کرنے کا فیصلہ کرے۔” 🌟 سبق: ایمانداری اور نیکی وہ خزانہ ہیں جو سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ 🪙❤️
    0 Commentarios 0 Acciones 192 Views
  • Level 1
    Book 1
    Day 5
    Task story post
    “Write the story of Mulla Nasruddin in Urdu about how he taught a lesson to a thief who tried to steal from him.”

    ایک رات ملا نصرالدین اپنے گھر میں آرام سے سو رہے تھے۔ رات بہت خاموش تھی۔ اچانک ایک چور ان کے گھر میں داخل ہوا۔ وہ دبے پاؤں گھر میں گھومنے لگا اور قیمتی چیزیں تلاش کرنے لگا۔

    ملا نصرالدین کی آنکھ کھل گئی۔ انہوں نے چور کو دیکھ لیا، لیکن انہوں نے شور نہیں مچایا۔ وہ خاموشی سے چور کو دیکھتے رہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ کیا کرتا ہے۔

    چور نے ایک چیز اٹھائی اور اسے اپنے تھیلے میں ڈالنے لگا۔ ملا نصرالدین نے آرام سے کہا، “بھائی! تم اتنی رات کو میرے گھر میں کیا تلاش کر رہے ہو؟”

    چور اچانک گھبرا گیا۔ اس نے سوچا کہ ملا اسے پکڑ لیں گے۔ وہ بولا، “میں... میں تو بس کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔”

    ملا نصرالدین مسکرائے۔ انہوں نے کہا، “اگر تمہیں واقعی کسی چیز کی ضرورت ہے تو مانگ لو۔ لیکن کسی کی محنت سے کمائی ہوئی چیز چوری کرنا اچھی بات نہیں ہے۔”

    چور شرمندہ ہو گیا۔ مگر ملا نے اسے ڈانٹنے کے بجائے ایک اچھا سبق دینے کا فیصلہ کیا۔

    ملا نے ایک خالی تھیلا چور کے ہاتھ میں دیا اور کہا، “اس تھیلے میں اپنی چوری کی چیزیں نہیں، بلکہ اپنی غلطی رکھو اور اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دو۔”

    چور ملا کی بات سن کر حیران رہ گیا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ غلط راستے پر چل رہا ہے۔

    ملا نے کہا، “دولت انسان کو خوشی نہیں دیتی اگر وہ دوسروں کا حق مار کر حاصل کی جائے۔ اصل کامیابی ایمانداری، محنت اور اچھے کردار میں ہے۔

    چور نے فوراً تمام چیزیں واپس رکھ دیں۔ اس نے ملا نصرالدین سے معافی مانگی۔

    چور نے کہا، “ملا صاحب! آج آپ نے مجھے سزا نہیں دی، بلکہ مجھے اپنی غلطی سمجھا دی۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی چوری نہیں کروں گا۔”

    ملا نصرالدین نے مسکرا کر کہا، “یاد رکھو، غلطی کرنا بری بات نہیں، لیکن غلطی سمجھنے کے بعد بھی اسے جاری رکھنا بری بات ہے۔”

    چور نے ملا کا شکریہ ادا کیا اور گھر سے چلا گیا۔

    اس رات ملا نصرالدین نے اپنے آپ سے کہا، “کبھی کبھی ایک اچھا مشورہ وہ سبق سکھا دیتا ہے جو سخت سزا بھی نہیں سکھا سکتی۔”

    سبق:
    ایمانداری ہمیشہ چوری سے بہتر ہے۔ دوسروں کی چیز کا حق ادا کرنا چاہیے، اور اگر غلطی ہو جائے تو اسے مان کر درست راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

    Summary | خلاصہ

    ملا نصرالدین کے گھر ایک چور رات کو چوری کرنے آیا۔ ملا نے اسے ڈانٹنے کے بجائے پیار سے سمجھایا کہ چوری کرنا غلط ہے۔ چور کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے چوری کی ہوئی چیزیں واپس کر دیں۔ اس نے وعدہ کیا کہ آئندہ ایمانداری سے زندگی گزارے گا۔

    Keywords | کلیدی الفاظ

    چور • ملا نصرالدین • گھر • چوری • دولت • ایمانداری • نیکی • معافی • سبق • اچھا کردار • محنت • سچائی

    Input

    چور گھر میں داخل ہوا
    چیزیں تلاش کیں
    ملا نے اسے دیکھ لیا
    ملا نے نرمی سے بات کی
    چور کو اپنی غلطی کا احساس ہوا

    Output

    چور نے چیزیں واپس کر دیں
    ملا سے معافی مانگی
    اچھا بننے کا وعدہ کیا
    چوری چھوڑنے کا فیصلہ کیا
    ایمانداری کا سبق سیکھا

    Moral | سبق

    “چوری غلط ہے، لیکن اپنی غلطی مان کر صحیح راستہ اختیار کرنا اچھی بات ہے۔”

    Hashtags

    #MullaNasruddin #MullaNasruddinStory #UrduStory #UrduKahani #MoralStory #MoralLesson #StoryTime #Honesty #Truth #Kindness #GoodCharacter #LifeLesson #FunnyStory #KidsStory #UrduLiterature #IslamicStories #PositiveMessage #Learning #Inspiration #GoodValues #ایمانداری #سچائی #اچھی_بات #سبق #ملا_نصرالدین

    Tania Khan Mentorship Wali
    Imran Khan Street Wala
    @highlight
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Waryam Tharparkar Wala
    Shazia Javed Educationwali
    Level 1 Book 1 Day 5 Task story post “Write the story of Mulla Nasruddin in Urdu about how he taught a lesson to a thief who tried to steal from him.” 🌙 ایک رات ملا نصرالدین اپنے گھر میں آرام سے سو رہے تھے۔ 🛏️😴 رات بہت خاموش تھی۔ اچانک ایک چور 🕵️‍♂️ ان کے گھر میں داخل ہوا۔ وہ دبے پاؤں گھر میں گھومنے لگا اور قیمتی چیزیں تلاش کرنے لگا۔ 🔍💰 ملا نصرالدین کی آنکھ کھل گئی۔ 👀 انہوں نے چور کو دیکھ لیا، لیکن انہوں نے شور نہیں مچایا۔ 🤫 وہ خاموشی سے چور کو دیکھتے رہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ کیا کرتا ہے۔ چور نے ایک چیز اٹھائی اور اسے اپنے تھیلے میں ڈالنے لگا۔ 🎒 ملا نصرالدین نے آرام سے کہا، “بھائی! تم اتنی رات کو میرے گھر میں کیا تلاش کر رہے ہو؟” 😄 چور اچانک گھبرا گیا۔ 😲 اس نے سوچا کہ ملا اسے پکڑ لیں گے۔ وہ بولا، “میں... میں تو بس کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔” ملا نصرالدین مسکرائے۔ 😊 انہوں نے کہا، “اگر تمہیں واقعی کسی چیز کی ضرورت ہے تو مانگ لو۔ لیکن کسی کی محنت سے کمائی ہوئی چیز چوری کرنا اچھی بات نہیں ہے۔” 💡 چور شرمندہ ہو گیا۔ 😔 مگر ملا نے اسے ڈانٹنے کے بجائے ایک اچھا سبق دینے کا فیصلہ کیا۔ ملا نے ایک خالی تھیلا 🛍️ چور کے ہاتھ میں دیا اور کہا، “اس تھیلے میں اپنی چوری کی چیزیں نہیں، بلکہ اپنی غلطی رکھو اور اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دو۔” چور ملا کی بات سن کر حیران رہ گیا۔ 😯 اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ غلط راستے پر چل رہا ہے۔ ملا نے کہا، “دولت 🪙 انسان کو خوشی نہیں دیتی اگر وہ دوسروں کا حق مار کر حاصل کی جائے۔ اصل کامیابی ایمانداری، محنت اور اچھے کردار میں ہے۔ 🌟” چور نے فوراً تمام چیزیں واپس رکھ دیں۔ 📦 اس نے ملا نصرالدین سے معافی مانگی۔ 🙏 چور نے کہا، “ملا صاحب! آج آپ نے مجھے سزا نہیں دی، بلکہ مجھے اپنی غلطی سمجھا دی۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی چوری نہیں کروں گا۔” ملا نصرالدین نے مسکرا کر کہا، “یاد رکھو، غلطی کرنا بری بات نہیں، لیکن غلطی سمجھنے کے بعد بھی اسے جاری رکھنا بری بات ہے۔” ❤️ چور نے ملا کا شکریہ ادا کیا اور گھر سے چلا گیا۔ 🚶‍♂️🌙 اس رات ملا نصرالدین نے اپنے آپ سے کہا، “کبھی کبھی ایک اچھا مشورہ وہ سبق سکھا دیتا ہے جو سخت سزا بھی نہیں سکھا سکتی۔” 💭✨ 🌟 سبق: ایمانداری ہمیشہ چوری سے بہتر ہے۔ دوسروں کی چیز کا حق ادا کرنا چاہیے، اور اگر غلطی ہو جائے تو اسے مان کر درست راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ 🤝❤️🌟 📖✨ Summary | خلاصہ ملا نصرالدین کے گھر ایک چور 🕵️‍♂️ رات کو چوری کرنے آیا۔ ملا نے اسے ڈانٹنے کے بجائے پیار سے سمجھایا کہ چوری کرنا غلط ہے۔ ❤️ چور کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے چوری کی ہوئی چیزیں واپس کر دیں۔ 📦🙏 اس نے وعدہ کیا کہ آئندہ ایمانداری سے زندگی گزارے گا۔ 🌟😊 🔑 Keywords | کلیدی الفاظ 🕵️‍♂️ چور • ملا نصرالدین • 🏠 گھر • چوری • 💰 دولت • ایمانداری • ❤️ نیکی • 🙏 معافی • 💡 سبق • 🌟 اچھا کردار • محنت • سچائی 📥 Input 🕵️‍♂️ چور گھر میں داخل ہوا 🔍 چیزیں تلاش کیں 😲 ملا نے اسے دیکھ لیا 💬 ملا نے نرمی سے بات کی 💡 چور کو اپنی غلطی کا احساس ہوا 📤 Output 📦 چور نے چیزیں واپس کر دیں 🙏 ملا سے معافی مانگی 🤝 اچھا بننے کا وعدہ کیا ❤️ چوری چھوڑنے کا فیصلہ کیا 🌟 ایمانداری کا سبق سیکھا 🌟 Moral | سبق “چوری غلط ہے، لیکن اپنی غلطی مان کر صحیح راستہ اختیار کرنا اچھی بات ہے۔” ❤️🤝✨ 🏷️ Hashtags #MullaNasruddin #MullaNasruddinStory #UrduStory #UrduKahani #MoralStory #MoralLesson #StoryTime #Honesty #Truth #Kindness #GoodCharacter #LifeLesson #FunnyStory #KidsStory #UrduLiterature #IslamicStories #PositiveMessage #Learning #Inspiration #GoodValues #ایمانداری #سچائی #اچھی_بات #سبق #ملا_نصرالدین 📚✨❤️ Tania Khan Mentorship Wali Imran Khan Street Wala @highlight Mohsin Rathore Seo Wala Waryam Tharparkar Wala Shazia Javed Educationwali
    0 Commentarios 0 Acciones 1293 Views
  • Level 1
    Book 1
    Day 7
    Task story post 2
    مولانا نصرالدین اور سونے کی ہانڈی
    ایک دن ملا نصرالدین راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک انہیں زمین میں ایک پرانا برتن نظر آیا۔ انہوں نے برتن نکالا تو اس میں بہت سا سونا تھا۔
    ملا نصرالدین نے سونا دیکھ کر سوچا، "یہ دولت میری نہیں ہے، اس کا اصل مالک ضرور کوئی ہوگا۔"
    وہ سونا لے کر گاؤں گئے اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ برتن کس کا ہے۔ کچھ دیر بعد ایک غریب آدمی ملا جس نے بتایا کہ وہ کئی دنوں سے اپنا برتن ڈھونڈ رہا تھا۔
    ملا نصرالدین نے سارا سونا اسے واپس کر دیا۔ غریب آدمی بہت خوش ہوا اور ملا نصرالدین کا شکریہ ادا کیا۔
    ملا نصرالدین نے کہا، "اصل دولت سونا نہیں، بلکہ ایمانداری ہے۔"
    سبق
    ہمیں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہیے اور دوسروں کی چیز ان کے مالک کو واپس کرنی چاہیے۔
    Summary
    ملا نصرالدین کو راستے میں سونے سے بھرا ایک برتن ملا۔ انہوں نے لالچ نہیں کیا اور سونا اس کے اصل مالک کو واپس کر دیا۔ ان کی ایمانداری نے سب کو خوش کر دیا۔
    Moral
    ایمانداری سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔
    Hashtags
    #MullaNasruddin #MoralStory #Honesty #Truth #GoodValues #UrduStory #LifeLesson #IslamicStories #Kindness #PositiveThinking
    Tania Khan Mentorship Wali
    Imran Khan Street Wala
    Mohsin Rathore Seo Wala
    Shazia Javed
    Waryam Tharparkar Wala
    Level 1 Book 1 Day 7 Task story post 2 مولانا نصرالدین اور سونے کی ہانڈی 🪙 ایک دن ملا نصرالدین راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک انہیں زمین میں ایک پرانا برتن نظر آیا۔ انہوں نے برتن نکالا تو اس میں بہت سا سونا تھا۔ ✨ ملا نصرالدین نے سونا دیکھ کر سوچا، "یہ دولت میری نہیں ہے، اس کا اصل مالک ضرور کوئی ہوگا۔" وہ سونا لے کر گاؤں گئے اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ برتن کس کا ہے۔ کچھ دیر بعد ایک غریب آدمی ملا جس نے بتایا کہ وہ کئی دنوں سے اپنا برتن ڈھونڈ رہا تھا۔ ملا نصرالدین نے سارا سونا اسے واپس کر دیا۔ غریب آدمی بہت خوش ہوا اور ملا نصرالدین کا شکریہ ادا کیا۔ 😊 ملا نصرالدین نے کہا، "اصل دولت سونا نہیں، بلکہ ایمانداری ہے۔" ❤️ سبق 🌟 ہمیں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہیے اور دوسروں کی چیز ان کے مالک کو واپس کرنی چاہیے۔ 📖 Summary ملا نصرالدین کو راستے میں سونے سے بھرا ایک برتن ملا۔ انہوں نے لالچ نہیں کیا اور سونا اس کے اصل مالک کو واپس کر دیا۔ ان کی ایمانداری نے سب کو خوش کر دیا۔ 🌟 Moral ایمانداری سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ 🏷️ Hashtags #MullaNasruddin #MoralStory #Honesty #Truth #GoodValues #UrduStory #LifeLesson #IslamicStories #Kindness #PositiveThinking Tania Khan Mentorship Wali Imran Khan Street Wala Mohsin Rathore Seo Wala Shazia Javed Waryam Tharparkar Wala
    0 Commentarios 0 Acciones 1008 Views
  • وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔

    وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔

    انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔

    اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔

    لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔

    اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔

    ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔

    اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔

    اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

    انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

    اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔

    وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔

    مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔

    یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔

    اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔

    The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا

    Shared via Liaqat Jawaid
    وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔ وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔ انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔ اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔ لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔ اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔ اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔ اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔ وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔ مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔ اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔ The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا Shared via Liaqat Jawaid
    0 Commentarios 0 Acciones 3631 Views
  • آئیے ایمانداری سے بات کریں کہ عمران خان سے کہاں غلطی ہوئی؟ اس نے اصل میں کیا غلط کیا جس کی وجہ سے وہ اس صورت حال سے دوچار ہوا؟ منطق کے ساتھ بحث کریں۔

    let’s honestly discuss where Imran Khan went wrong ? What exactly he did incorrectly that lead him to this situation ? Discuss with logics
    آئیے ایمانداری سے بات کریں کہ عمران خان سے کہاں غلطی ہوئی؟ اس نے اصل میں کیا غلط کیا جس کی وجہ سے وہ اس صورت حال سے دوچار ہوا؟ منطق کے ساتھ بحث کریں۔ let’s honestly discuss where Imran Khan went wrong ? What exactly he did incorrectly that lead him to this situation ? Discuss with logics
    0 Commentarios 0 Acciones 514 Views
  • mehnat , mustakil koshish and honesty say jo chaho ban jain gay

    مہنت، مستکل کوشیش اور ایمانداری سے جو چاہو بن جاو گے
    mehnat , mustakil koshish and honesty say jo chaho ban jain gay مہنت، مستکل کوشیش اور ایمانداری سے جو چاہو بن جاو گے
    0 Commentarios 0 Acciones 360 Views
  • I received !

    بجلی کبھی نہیں بچائے گی۔
    بل کو معاف کرنا چاہیے....!!!!

    کوئی درخت نہیں لگایا جائے گا۔
    لیکن بارش اچھی ہونی چاہیے...!!!!

    کبھی شکایت نہیں کریں گے۔
    لیکن فوری ایکشن کی ضرورت ہے...!!!!

    رشوت کے بغیر کام نہیں چلے گا۔
    کرپشن ختم ہونی چاہیے...!!!!

    ردی کی ٹوکری کو کھڑکی سے باہر پھینک دو
    شہر میں صفائی کی ضرورت ہے...!!!!

    میں کام میں اچھا وقت گزاروں گا۔
    ہر سال نئے پے کمیشن کی ضرورت ہے...!!!!

    ذات کے نام پر مراعات لوں گا۔
    لیکن ملک سیکولر ہونا چاہیے...!!!!

    ووٹ دیتے وقت دیکھوں گا۔
    لیکن ذات پرستی کو روکنا چاہیے...!!!!

    ٹیکس دیتے وقت خامیاں تلاش کروں گا۔
    لیکن ترقی مضبوط ہونی چاہیے...!!!!

    Rehan.ai: please convert this to positive words !

    بجلی بچانے کی کوشش کریں۔
    بل میں کمی کا اہتمام کریں...!!!!

    درخت لگانے کا عمل جاری رکھیں۔
    موسم کو بہتر بنانے کی کوشش کریں...!!!!

    شکایت کرنے کی بجائے حل تلاش کریں۔
    فوری اور مناسب اقدامات اٹھائیں...!!!!

    بغیر رشوت کے کام کرنے کی کوشش کریں۔
    کرپشن کا خاتمہ اہم ہے...!!!!

    صفائی کو اہمیت دیں اور کچرے کو مناسب جگہ پر ڈالیں۔
    شہر کی صفائی میں اپنا کردار ادا کریں...!!!!

    کام کے دوران کارکردگی بہتر کریں۔
    اپنی تنخواہ کو مناسب رکھنے کی کوشش کریں...!!!!

    ذات کے نام پر مراعات کی بجائے انصاف کا دائرہ وسیع کریں۔
    ملک کو سیکولر بنانے کی کوشش کریں...!!!!

    ووٹ دیتے وقت میرٹ کو مد نظر رکھیں۔
    ذات پرستی کو روکنے کی کوشش کریں...!!!!

    ٹیکس ادا کرتے وقت ایمانداری سے عمل کریں۔
    ملک کی ترقی کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں...!!!!
    I received ! بجلی کبھی نہیں بچائے گی۔ بل کو معاف کرنا چاہیے....!!!! کوئی درخت نہیں لگایا جائے گا۔ لیکن بارش اچھی ہونی چاہیے...!!!! کبھی شکایت نہیں کریں گے۔ لیکن فوری ایکشن کی ضرورت ہے...!!!! رشوت کے بغیر کام نہیں چلے گا۔ کرپشن ختم ہونی چاہیے...!!!! ردی کی ٹوکری کو کھڑکی سے باہر پھینک دو شہر میں صفائی کی ضرورت ہے...!!!! میں کام میں اچھا وقت گزاروں گا۔ ہر سال نئے پے کمیشن کی ضرورت ہے...!!!! ذات کے نام پر مراعات لوں گا۔ لیکن ملک سیکولر ہونا چاہیے...!!!! ووٹ دیتے وقت دیکھوں گا۔ لیکن ذات پرستی کو روکنا چاہیے...!!!! ٹیکس دیتے وقت خامیاں تلاش کروں گا۔ لیکن ترقی مضبوط ہونی چاہیے...!!!! Rehan.ai: please convert this to positive words ! بجلی بچانے کی کوشش کریں۔ بل میں کمی کا اہتمام کریں...!!!! درخت لگانے کا عمل جاری رکھیں۔ موسم کو بہتر بنانے کی کوشش کریں...!!!! شکایت کرنے کی بجائے حل تلاش کریں۔ فوری اور مناسب اقدامات اٹھائیں...!!!! بغیر رشوت کے کام کرنے کی کوشش کریں۔ کرپشن کا خاتمہ اہم ہے...!!!! صفائی کو اہمیت دیں اور کچرے کو مناسب جگہ پر ڈالیں۔ شہر کی صفائی میں اپنا کردار ادا کریں...!!!! کام کے دوران کارکردگی بہتر کریں۔ اپنی تنخواہ کو مناسب رکھنے کی کوشش کریں...!!!! ذات کے نام پر مراعات کی بجائے انصاف کا دائرہ وسیع کریں۔ ملک کو سیکولر بنانے کی کوشش کریں...!!!! ووٹ دیتے وقت میرٹ کو مد نظر رکھیں۔ ذات پرستی کو روکنے کی کوشش کریں...!!!! ٹیکس ادا کرتے وقت ایمانداری سے عمل کریں۔ ملک کی ترقی کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں...!!!!
    0 Commentarios 0 Acciones 294 Views
  • **خودی کو تلاشنا اور تراشنا کیسے کیا جاتا ہے؟**

    اقبال کے فلسفۂ خودی میں یہ بات اہم ہے کہ انسان اپنی خودی کو پہچانے، یعنی اپنی اصل کو تلاش کرے اور پھر اسے تراشے تاکہ وہ ایک مضبوط اور کامیاب شخصیت بن سکے۔ خودی کو تلاشنے اور تراشنے کا عمل وقت طلب اور محنت طلب ہے، لیکن یہ انسان کی زندگی میں بہتری لاتا ہے۔

    ### 1. **خودی کو تلاشنا کیسے جاتا ہے؟**

    خودی کو تلاشنے کا مطلب ہے کہ انسان اپنے اندرونی شعور اور صلاحیتوں کو پہچانے۔ اس کے لیے چند اہم اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

    #### (1) **خود کو جاننا (Self-awareness):**
    سب سے پہلے انسان کو اپنی ذات کو جاننا ضروری ہے۔ یہ جاننا کہ آپ کی دلچسپیاں، خواب، اور خواہشات کیا ہیں۔ آپ کو اپنی خوبیاں اور کمزوریاں پہچاننی ہوں گی تاکہ آپ اپنی خودی کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

    #### (2) **اندرونی سوچ (Introspection):**
    اپنے آپ سے سوالات کریں جیسے: "میں دنیا میں کیا بننا چاہتا ہوں؟" یا "میرے اندر کون سی ایسی خوبیاں ہیں جو دوسروں سے مختلف ہیں؟"۔ اقبال کا کہنا تھا کہ اپنے اندر جھانکنا اور غور و فکر کرنا، خودی کی پہچان کے لیے ضروری ہے۔

    #### (3) **مقصد کا تعین کرنا:**
    اقبال کا فلسفہ ہے کہ ہر انسان کو اپنی زندگی کا مقصد تلاش کرنا چاہیے۔ جب ایک انسان کو اپنے مقصد کا پتہ چل جاتا ہے تو وہ اپنی خودی کو بہتر طریقے سے سمجھنے لگتا ہے اور اپنی زندگی کو ایک واضح سمت میں لے جا سکتا ہے۔

    #### (4) **علم حاصل کرنا:**
    علم کا حصول خودی کی تلاش میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ علم نہ صرف انسان کو دنیا کی حقیقتوں سے آگاہ کرتا ہے بلکہ اس سے وہ اپنی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو بھی بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔

    ### 2. **خودی کو تراشنا کیسے جاتا ہے؟**

    خودی کو تراشنا مطلب ہے کہ انسان اپنی پہچان کے بعد خود کو مزید بہتر بنائے اور اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو مضبوط کرے۔ اس کے لیے اقبال چند اصول بتاتے ہیں:

    #### (1) **محنت اور جدوجہد:**
    اقبال کے مطابق خودی کو مضبوط کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ محنت اور مستقل جدوجہد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کو کبھی ہار نہیں ماننی چاہیے اور اپنی منزل کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے۔

    #### (2) **خود اعتمادی (Self-confidence):**
    خود اعتمادی خودی کی تراش خراش میں بنیادی عنصر ہے۔ جب آپ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں اور خود پر اعتماد کرتے ہیں، تو آپ خودی کو مزید بلند کر سکتے ہیں۔

    #### (3) **اچھی عادات اختیار کرنا:**
    خودی کو تراشنا یہ بھی ہے کہ انسان اپنی عادات کو بہتر بنائے۔ ایمانداری، سچائی، مستقل مزاجی، اور دوسروں کی خدمت جیسی اچھی عادات کو اپنانا، خودی کو مضبوط بناتا ہے۔

    #### (4) **خوف اور مشکلات سے لڑنا:**
    خودی کو تراشنا اس وقت بہتر طور پر ہوتا ہے جب آپ زندگی کے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کریں اور ان سے سبق سیکھیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ مشکلات انسان کی خودی کو تراشتی ہیں اور اسے مضبوط بناتی ہیں۔

    #### (5) **معاشرتی خدمت:**
    اقبال کے نزدیک خودی کو تراشنا صرف ذاتی کامیابی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کو دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کریں۔ جب آپ معاشرے کی بھلائی کے لیے کام کرتے ہیں، تو آپ کی خودی اور زیادہ بلند ہوتی ہے۔

    ### **نتیجہ:**

    خودی کو تلاشنا اور تراشنا ایک مسلسل عمل ہے، جس میں انسان خود کو پہچانتا ہے، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے اور زندگی میں مقصد کو حاصل کرتا ہے۔ اقبال کے فلسفے کے مطابق، جو انسان اپنی خودی کو پہچانتا اور مضبوط کرتا ہے، وہی دنیا میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
    **خودی کو تلاشنا اور تراشنا کیسے کیا جاتا ہے؟** اقبال کے فلسفۂ خودی میں یہ بات اہم ہے کہ انسان اپنی خودی کو پہچانے، یعنی اپنی اصل کو تلاش کرے اور پھر اسے تراشے تاکہ وہ ایک مضبوط اور کامیاب شخصیت بن سکے۔ خودی کو تلاشنے اور تراشنے کا عمل وقت طلب اور محنت طلب ہے، لیکن یہ انسان کی زندگی میں بہتری لاتا ہے۔ ### 1. **خودی کو تلاشنا کیسے جاتا ہے؟** خودی کو تلاشنے کا مطلب ہے کہ انسان اپنے اندرونی شعور اور صلاحیتوں کو پہچانے۔ اس کے لیے چند اہم اقدامات کیے جا سکتے ہیں: #### (1) **خود کو جاننا (Self-awareness):** سب سے پہلے انسان کو اپنی ذات کو جاننا ضروری ہے۔ یہ جاننا کہ آپ کی دلچسپیاں، خواب، اور خواہشات کیا ہیں۔ آپ کو اپنی خوبیاں اور کمزوریاں پہچاننی ہوں گی تاکہ آپ اپنی خودی کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ #### (2) **اندرونی سوچ (Introspection):** اپنے آپ سے سوالات کریں جیسے: "میں دنیا میں کیا بننا چاہتا ہوں؟" یا "میرے اندر کون سی ایسی خوبیاں ہیں جو دوسروں سے مختلف ہیں؟"۔ اقبال کا کہنا تھا کہ اپنے اندر جھانکنا اور غور و فکر کرنا، خودی کی پہچان کے لیے ضروری ہے۔ #### (3) **مقصد کا تعین کرنا:** اقبال کا فلسفہ ہے کہ ہر انسان کو اپنی زندگی کا مقصد تلاش کرنا چاہیے۔ جب ایک انسان کو اپنے مقصد کا پتہ چل جاتا ہے تو وہ اپنی خودی کو بہتر طریقے سے سمجھنے لگتا ہے اور اپنی زندگی کو ایک واضح سمت میں لے جا سکتا ہے۔ #### (4) **علم حاصل کرنا:** علم کا حصول خودی کی تلاش میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ علم نہ صرف انسان کو دنیا کی حقیقتوں سے آگاہ کرتا ہے بلکہ اس سے وہ اپنی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو بھی بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ ### 2. **خودی کو تراشنا کیسے جاتا ہے؟** خودی کو تراشنا مطلب ہے کہ انسان اپنی پہچان کے بعد خود کو مزید بہتر بنائے اور اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو مضبوط کرے۔ اس کے لیے اقبال چند اصول بتاتے ہیں: #### (1) **محنت اور جدوجہد:** اقبال کے مطابق خودی کو مضبوط کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ محنت اور مستقل جدوجہد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کو کبھی ہار نہیں ماننی چاہیے اور اپنی منزل کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ #### (2) **خود اعتمادی (Self-confidence):** خود اعتمادی خودی کی تراش خراش میں بنیادی عنصر ہے۔ جب آپ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں اور خود پر اعتماد کرتے ہیں، تو آپ خودی کو مزید بلند کر سکتے ہیں۔ #### (3) **اچھی عادات اختیار کرنا:** خودی کو تراشنا یہ بھی ہے کہ انسان اپنی عادات کو بہتر بنائے۔ ایمانداری، سچائی، مستقل مزاجی، اور دوسروں کی خدمت جیسی اچھی عادات کو اپنانا، خودی کو مضبوط بناتا ہے۔ #### (4) **خوف اور مشکلات سے لڑنا:** خودی کو تراشنا اس وقت بہتر طور پر ہوتا ہے جب آپ زندگی کے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کریں اور ان سے سبق سیکھیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ مشکلات انسان کی خودی کو تراشتی ہیں اور اسے مضبوط بناتی ہیں۔ #### (5) **معاشرتی خدمت:** اقبال کے نزدیک خودی کو تراشنا صرف ذاتی کامیابی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کو دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کریں۔ جب آپ معاشرے کی بھلائی کے لیے کام کرتے ہیں، تو آپ کی خودی اور زیادہ بلند ہوتی ہے۔ ### **نتیجہ:** خودی کو تلاشنا اور تراشنا ایک مسلسل عمل ہے، جس میں انسان خود کو پہچانتا ہے، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے اور زندگی میں مقصد کو حاصل کرتا ہے۔ اقبال کے فلسفے کے مطابق، جو انسان اپنی خودی کو پہچانتا اور مضبوط کرتا ہے، وہی دنیا میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
    0 Commentarios 0 Acciones 634 Views
  • ‏ایک دکاندار عبدالرحمٰن نے ابھی اپنی دکان کھولی ہی تھی کہ ایک خاتون آئی اور بولی :
    “بھائی صاحب، یہ لیجیے آپ کے دس روپے۔”

    عبدالرحمٰن نے حیرت سے عورت کی طرف دیکھا، جیسے پوچھ رہا ہو،
    “میں نے تمہیں دس روپے کب دیے تھے؟”

    عورت بولی:
    “کل شام میں نے آپ سے کچھ سامان خریدا تھا۔ میں نے آپ کو سو روپے دیے،
    سامان ستر روپے کا تھا، آپ نے چالیس روپے واپس دیے،
    جبکہ دینے تیس روپے تھے۔”

    عبدالرحمٰن نے وہ دس روپے پیشانی سے لگائے،
    پیسے کے ڈبے میں رکھے اور بولا:
    “بہن، ایک بات بتاؤ، سامان لیتے وقت تم نے ہر پانچ روپے پر مجھ سے خوب بھاؤ تاؤ کیا،
    اور اب محض دس روپے واپس کرنے کے لیے اتنی دور چلی آئیں؟”

    عورت نے کہا:
    “بھاؤ تاؤ میرا حق ھے، مگر جب ایک قیمت طے ہو جائے،
    تو کم دینا گناہ ھے۔”

    عبدالرحمٰن نے کہا:
    “مگر تم نے کم نہیں دیا، پورے پیسے دیے۔
    یہ دس روپے میری غلطی سے تمہارے پاس گئے،
    اگر تم رکھ لیتیں تو مجھے کوئی فرق نہ پڑتا۔”
    عورت نے جواب دیا:
    “شاید آپ کو فرق نہ پڑتا،
    لیکن میرے ضمیر پر بوجھ رہتا۔
    میں جانتی کہ میں نے کسی کا حق جان بوجھ کر رکھا ہے۔
    اسی لیے میں کل رات ہی واپس کرنے آئی تھی،
    مگر آپ کی دکان بند تھی۔”

    عبدالرحمٰن نے حیران ہو کر پوچھا:
    “تم کہاں رہتی ہو؟”
    عورت بولی:
    “گلشن کالونی سیکٹر8میں۔”

    عبدالرحمٰن کے منہ سے حیرت سے نکلا:
    “سات کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے صرف دس روپے واپس کرنے آئی ہو؟
    اور یہ تمہارا دوسرا چکر ہے؟”

    عورت نے سکون سے کہا:
    “جی ہاں، دوسری بار آئی ہوں۔
    *اگر سکونِ دل چاہیے تو ایسے ہی کام کرنے پڑتے ہیں۔*
    میرے شوہر اب دنیا میں نہیں،
    مگر وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے:
    ‘کبھی کسی کا ایک پیسہ بھی ناحق مت رکھنا۔’

    کیونکہ انسان تو خاموش رہ سکتا ہے،
    مگر اللہ پاک کسی بھی وقت حساب لے سکتا ہے۔
    اور اس حساب کی سزا میرے ساتھ میرے بچوں پر بھی آسکتی ھے۔”

    یہ کہہ کر عورت چلی گئی۔

    عبدالرحمٰن نے فوراً کیش باکس سے 300 روپے نکالے،
    اپنے ملازم سے کہا:
    “دکان کا خیال رکھنا، میں ابھی آتا ہوں۔”
    وہ قریب ھی ایک اور دکاندار فراز کے پاس گیا اور بولا:
    “یہ لو تمہارے 300 روپے،
    کل جب تم سامان لینے آئے تھے،
    میں نے تم سے زیادہ پیسے لے لیے تھے۔”

    فراز ہنس کر بولا:
    “اگر زیادہ لے لیے تھے تو واپس کر دیتے جب میں دوبارہ آتا۔
    اتنی صبح صبح آنے کی کیا ضرورت تھی؟”
    عبدالرحمٰن نے کہا:
    “اگر میں تمہارے آنے سے پہلے مر گیا تو؟
    تمہیں تو پتہ بھی نہ چلتا کہ تمہارے پیسے میرے پاس ہیں۔
    اسی لیے لوٹا دیے۔
    کبھی نہیں پتا کہ اللہ پاک کب حساب لے لے،
    اور سزا میرے بچوں کو نہ بھگتنی پڑے۔”

    یہ سن کر فراز خاموش ہوگیا۔
    اس کے دل میں ایک زخم جاگا
    دس سال پہلے اس نے ایک دوست کاشف سے تین لاکھ روپے قرض لیے تھے۔
    اگلے دن ہی کاشف کا انتقال ہو گیا۔

    کاشف کے گھر والوں کو اس قرض کا علم نہ تھا،
    تو کسی نے تقاضا نہیں کیا۔
    لالچ میں آکر فراز نے کبھی خود بھی واپس نہیں کیا۔
    آج کاشف کا گھرانہ غربت میں زندگی گزار رہا تھا،
    بیوہ عورت گھروں میں نوکریاں کر کے بچوں کو پال رہی تھی،
    اور فراز ان کا حق دبائے بیٹھا تھا۔

    عبدالرحمٰن کے الفاظ “اللہ پاک کسی بھی وقت حساب لے سکتا ھے”
    فراز کے دل و دماغ میں گونجنے لگے۔

    دو تین دن کی بےچینی کے بعد
    فراز کا ضمیر جاگ اٹھا۔
    اس نے بینک سے تین لاکھ روپے نکالے
    اور اپنے دوست کے گھر گیا۔
    کاشف کی بیوہ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔
    فراز نے اس کے قدموں میں گر کر معافی مانگی۔
    تین لاکھ روپے اس کے لیے بہت بڑی رقم تھی
    اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے،
    اور اس نے فراز کو دعائیں دیں۔

    یہ وھی عورت تھی
    جو دس روپے واپس کرنے دو بار دکاندار کے پاس گئی تھی۔

    جو لوگ دیانتداری اور محنت سے جیتے ہیں،
    اللہ پاک ان کا امتحان ضرور لیتا ھے،

    مگر کبھی چھوڑتا نہیں۔
    ایک دن ان کی دعا ضرور سنی جاتی ھے۔
    اللہ پاک پر یقین رکھو۔

    “ایمانداری ایمان کا حصہ ھے، اور ناحق مال انسان کے رزق سے برکت چھین لیتا ھے”

    منقول
    ‏ایک دکاندار عبدالرحمٰن نے ابھی اپنی دکان کھولی ہی تھی کہ ایک خاتون آئی اور بولی : “بھائی صاحب، یہ لیجیے آپ کے دس روپے۔” عبدالرحمٰن نے حیرت سے عورت کی طرف دیکھا، جیسے پوچھ رہا ہو، “میں نے تمہیں دس روپے کب دیے تھے؟” عورت بولی: “کل شام میں نے آپ سے کچھ سامان خریدا تھا۔ میں نے آپ کو سو روپے دیے، سامان ستر روپے کا تھا، آپ نے چالیس روپے واپس دیے، جبکہ دینے تیس روپے تھے۔” عبدالرحمٰن نے وہ دس روپے پیشانی سے لگائے، پیسے کے ڈبے میں رکھے اور بولا: “بہن، ایک بات بتاؤ، سامان لیتے وقت تم نے ہر پانچ روپے پر مجھ سے خوب بھاؤ تاؤ کیا، اور اب محض دس روپے واپس کرنے کے لیے اتنی دور چلی آئیں؟” عورت نے کہا: “بھاؤ تاؤ میرا حق ھے، مگر جب ایک قیمت طے ہو جائے، تو کم دینا گناہ ھے۔” عبدالرحمٰن نے کہا: “مگر تم نے کم نہیں دیا، پورے پیسے دیے۔ یہ دس روپے میری غلطی سے تمہارے پاس گئے، اگر تم رکھ لیتیں تو مجھے کوئی فرق نہ پڑتا۔” عورت نے جواب دیا: “شاید آپ کو فرق نہ پڑتا، لیکن میرے ضمیر پر بوجھ رہتا۔ میں جانتی کہ میں نے کسی کا حق جان بوجھ کر رکھا ہے۔ اسی لیے میں کل رات ہی واپس کرنے آئی تھی، مگر آپ کی دکان بند تھی۔” عبدالرحمٰن نے حیران ہو کر پوچھا: “تم کہاں رہتی ہو؟” عورت بولی: “گلشن کالونی سیکٹر8میں۔” عبدالرحمٰن کے منہ سے حیرت سے نکلا: “سات کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے صرف دس روپے واپس کرنے آئی ہو؟ اور یہ تمہارا دوسرا چکر ہے؟” عورت نے سکون سے کہا: “جی ہاں، دوسری بار آئی ہوں۔ *اگر سکونِ دل چاہیے تو ایسے ہی کام کرنے پڑتے ہیں۔* میرے شوہر اب دنیا میں نہیں، مگر وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے: ‘کبھی کسی کا ایک پیسہ بھی ناحق مت رکھنا۔’ کیونکہ انسان تو خاموش رہ سکتا ہے، مگر اللہ پاک کسی بھی وقت حساب لے سکتا ہے۔ اور اس حساب کی سزا میرے ساتھ میرے بچوں پر بھی آسکتی ھے۔” یہ کہہ کر عورت چلی گئی۔ عبدالرحمٰن نے فوراً کیش باکس سے 300 روپے نکالے، اپنے ملازم سے کہا: “دکان کا خیال رکھنا، میں ابھی آتا ہوں۔” وہ قریب ھی ایک اور دکاندار فراز کے پاس گیا اور بولا: “یہ لو تمہارے 300 روپے، کل جب تم سامان لینے آئے تھے، میں نے تم سے زیادہ پیسے لے لیے تھے۔” فراز ہنس کر بولا: “اگر زیادہ لے لیے تھے تو واپس کر دیتے جب میں دوبارہ آتا۔ اتنی صبح صبح آنے کی کیا ضرورت تھی؟” عبدالرحمٰن نے کہا: “اگر میں تمہارے آنے سے پہلے مر گیا تو؟ تمہیں تو پتہ بھی نہ چلتا کہ تمہارے پیسے میرے پاس ہیں۔ اسی لیے لوٹا دیے۔ کبھی نہیں پتا کہ اللہ پاک کب حساب لے لے، اور سزا میرے بچوں کو نہ بھگتنی پڑے۔” یہ سن کر فراز خاموش ہوگیا۔ اس کے دل میں ایک زخم جاگا دس سال پہلے اس نے ایک دوست کاشف سے تین لاکھ روپے قرض لیے تھے۔ اگلے دن ہی کاشف کا انتقال ہو گیا۔ کاشف کے گھر والوں کو اس قرض کا علم نہ تھا، تو کسی نے تقاضا نہیں کیا۔ لالچ میں آکر فراز نے کبھی خود بھی واپس نہیں کیا۔ آج کاشف کا گھرانہ غربت میں زندگی گزار رہا تھا، بیوہ عورت گھروں میں نوکریاں کر کے بچوں کو پال رہی تھی، اور فراز ان کا حق دبائے بیٹھا تھا۔ عبدالرحمٰن کے الفاظ “اللہ پاک کسی بھی وقت حساب لے سکتا ھے” فراز کے دل و دماغ میں گونجنے لگے۔ دو تین دن کی بےچینی کے بعد فراز کا ضمیر جاگ اٹھا۔ اس نے بینک سے تین لاکھ روپے نکالے اور اپنے دوست کے گھر گیا۔ کاشف کی بیوہ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ فراز نے اس کے قدموں میں گر کر معافی مانگی۔ تین لاکھ روپے اس کے لیے بہت بڑی رقم تھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، اور اس نے فراز کو دعائیں دیں۔ یہ وھی عورت تھی جو دس روپے واپس کرنے دو بار دکاندار کے پاس گئی تھی۔ جو لوگ دیانتداری اور محنت سے جیتے ہیں، اللہ پاک ان کا امتحان ضرور لیتا ھے، مگر کبھی چھوڑتا نہیں۔ ایک دن ان کی دعا ضرور سنی جاتی ھے۔ اللہ پاک پر یقین رکھو۔ “ایمانداری ایمان کا حصہ ھے، اور ناحق مال انسان کے رزق سے برکت چھین لیتا ھے” منقول
    0 Commentarios 0 Acciones 189 Views
  • سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے؟ — ایک جامع مضمون

    انسان ہزاروں سالوں سے ایک ہی سوال کا جواب تلاش کر رہا ہے:

    “کیا واقعی ہے اور کیا غیر حقیقی ہے؟”

    سچ اور جھوٹ کو سمجھنا صرف فلسفہ نہیں، یہ ہمارے فیصلوں، ہمارے رشتوں، ہمارے ملک اور ہماری زندگی کی بنیاد ہے۔
    جو قومیں سچ کے قریب رہتی ہیں، وہ اوپر جاتی ہیں۔
    جو جھوٹ کے ساتھ زندہ رہتی ہیں، وہ ڈوب جاتی ہیں۔

    آئیے اسے بالکل واضح انداز میں سمجھتے ہیں۔



    1. سچ: وہ جو حقیقت سے میل کھائے

    سچ وہ ہے جو حقیقت، ثبوت اور مشاہدے سے ملتا ہو۔
    • جسے پڑتال کیا جا سکے۔
    • جسے دہرایا جائے اور نتیجہ وہی آئے۔
    • جسے کوئی بھی انسان دیکھ کر تصدیق کر سکے۔

    مثالیں:
    • سمندر کی سطح پر پانی 100° پر اُبلتا ہے — قابلِ جانچ۔
    • کششِ ثقل چیزوں کو نیچے کھینچتی ہے — قابلِ مشاہدہ۔
    • ایمانداری ہر معاشرے میں اعتماد پیدا کرتی ہے — ہمیشہ درست۔

    سچ کا کوئی مالک نہیں ہوتا۔
    نہ مذہب، نہ قبیلہ، نہ گروہ — سچ صرف سچ ہوتا ہے۔



    2. جھوٹ: وہ جو حقیقت کے خلاف ہو

    جھوٹ وہ ہے جو حقائق سے ٹکراتا ہو یا ثابت نہ کیا جا سکے۔
    • چاہے کتنا اچھا لگے،
    • چاہے کتنے لوگ مانیں،
    • چاہے جذباتی ہو،
    • لیکن اگر وہ حقیقت سے میل نہیں کھاتا تو وہ جھوٹ ہے۔

    مثالیں:
    • “زمین چپٹی ہے” — صدیوں مانا گیا، پھر بھی غلط۔
    • “بغیر مہارت کے امیر ہوا جا سکتا ہے” — دل کو بھاتا ہے، مگر غلط۔
    • “مسائل کو نظرانداز کرنے سے وہ ختم ہو جاتے ہیں” — سکون دیتا ہے، مگر غلط۔

    جھوٹ اس لیے چلتا ہے کہ انسان سچائی نہیں، آسانی چاہتا ہے۔



    3. انسان سچ سے کیوں بھاگتا ہے؟

    تین بنیادی وجوہات:

    a) انا (Ego)

    انسان سیکھنے سے زیادہ “سہی ثابت ہونے” کو پسند کرتا ہے۔
    اس لیے پرانی باتوں کو پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔

    b) محدود علم

    ہم دنیا کا صرف تھوڑا حصہ دیکھتے ہیں۔
    سچ اکثر اُس علم سے جڑا ہوتا ہے جو ابھی ہمارے پاس نہیں۔

    c) خوف

    سچ کبھی تکلیف دیتا ہے۔
    ہماری غلطیاں دکھاتا ہے۔
    تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے۔

    اسی لیے ہم اکثر خوبصورت جھوٹ کو کڑوے سچ سے بہتر سمجھتے ہیں۔



    4. سچ کی اقسام

    سچ کے کئی درجے ہیں:

    1. سائنسی سچ

    تجربے اور ثبوت پر مبنی۔
    مثال: ویکسین بیماریوں سے بچاتی ہیں۔

    2. تاریخی سچ

    ریکارڈ، دستاویزات اور شواہد پر مبنی۔
    مثال: تعلیم عام ہو تو قومیں اوپر اٹھتی ہیں۔

    3. ذاتی سچ

    انسان کے اپنے تجربات سے۔
    مثال: محبت سے پلے بچے میں اعتماد زیادہ ہوتا ہے۔

    4. اخلاقی سچ

    انسانی قدروں سے جڑا ہوا۔
    مثال: نرمی ہر رشتے کو بہتر بناتی ہے۔

    5. روحانی سچ

    اندرونی احساس، سکون اور شعور سے جڑا۔
    مثال: شکرگزاری انسان کو پرسکون کرتی ہے۔



    5. جھوٹ زیادہ تیزی سے کیوں پھیلتا ہے؟

    کیونکہ جھوٹ:
    • زیادہ جذباتی ہوتا ہے
    • زیادہ سادہ ہوتا ہے
    • زیادہ ڈرامائی لگتا ہے
    • انسان کی خواہشات کو خوش کرتا ہے

    سچ ہمیشہ:
    • تفصیل مانگتا ہے
    • سوچ مانگتا ہے
    • وقت لیتا ہے

    جھوٹ چند منٹ میں جیت جاتا ہے۔
    سچ کئی سال بعد جیتتا ہے — مگر ہمیشہ جیتتا ہے۔



    6. روزمرہ زندگی میں سچ پہچاننے کا طریقہ

    ایک آسان ٹیسٹ:

    1. ثبوت ٹیسٹ

    کیا بات کے پیچھے حقائق ہیں؟

    2. منطق ٹیسٹ

    کیا یہ بات جذبات ہٹا کر بھی صحیح لگتی ہے؟

    3. تسلسل ٹیسٹ

    کیا یہ ہر جگہ اور ہر وقت سچ رہتی ہے؟

    4. فائدہ ٹیسٹ

    کیا اس سے زندگی بہتر ہوتی ہے؟

    5. انسانیت ٹیسٹ

    کیا یہ صرف ایک گروہ نہیں بلکہ سب پر لاگو ہوتی ہے؟

    اگر کوئی بات ان ٹیسٹوں پر پوری اُترتی ہے، تو وہ حقیقت کے قریب ہے۔



    7. لیڈروں اور قوموں کے لیے سچ کیوں ضروری ہے؟

    جو لیڈر سچ سے بھاگتا ہے:
    • کمزور فیصلے کرتا ہے
    • کمزور نظام بناتا ہے
    • کمزور لوگوں کو ساتھ رکھتا ہے

    جو لیڈر سچ کو اپناتا ہے:
    • واضح دیکھتا ہے
    • جلدی سیکھتا ہے
    • مضبوطی سے آگے بڑھتا ہے

    قومیں سچ کو گلے لگائیں تو ترقی کرتی ہیں۔
    قومیں جھوٹ پر کھڑی ہوں تو بکھر جاتی ہیں۔



    8. نتیجہ: سچ ایک روزانہ کی مشق ہے

    سچ کوئی ایک چیز نہیں جو زندگی میں ایک بار مل جائے۔
    یہ ایک عادت ہے — روز کی مشق۔
    • سوال کرنا
    • پرانی باتوں کو چیلنج کرنا
    • ثبوت دیکھنا
    • انا کم کرنا
    • غلطی ماننا
    • دماغ اپ ڈیٹ کرنا
    • شفاف رہنا

    جھوٹ عارضی سکون دیتا ہے،
    سچ دائمی طاقت۔

    جھوٹ آسان راستہ ہے،
    سچ اونچا راستہ — مگر منزل خوبصورت ہے۔
    سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے؟ — ایک جامع مضمون انسان ہزاروں سالوں سے ایک ہی سوال کا جواب تلاش کر رہا ہے: “کیا واقعی ہے اور کیا غیر حقیقی ہے؟” سچ اور جھوٹ کو سمجھنا صرف فلسفہ نہیں، یہ ہمارے فیصلوں، ہمارے رشتوں، ہمارے ملک اور ہماری زندگی کی بنیاد ہے۔ جو قومیں سچ کے قریب رہتی ہیں، وہ اوپر جاتی ہیں۔ جو جھوٹ کے ساتھ زندہ رہتی ہیں، وہ ڈوب جاتی ہیں۔ آئیے اسے بالکل واضح انداز میں سمجھتے ہیں۔ ⸻ 1. سچ: وہ جو حقیقت سے میل کھائے سچ وہ ہے جو حقیقت، ثبوت اور مشاہدے سے ملتا ہو۔ • جسے پڑتال کیا جا سکے۔ • جسے دہرایا جائے اور نتیجہ وہی آئے۔ • جسے کوئی بھی انسان دیکھ کر تصدیق کر سکے۔ مثالیں: • سمندر کی سطح پر پانی 100° پر اُبلتا ہے — قابلِ جانچ۔ • کششِ ثقل چیزوں کو نیچے کھینچتی ہے — قابلِ مشاہدہ۔ • ایمانداری ہر معاشرے میں اعتماد پیدا کرتی ہے — ہمیشہ درست۔ سچ کا کوئی مالک نہیں ہوتا۔ نہ مذہب، نہ قبیلہ، نہ گروہ — سچ صرف سچ ہوتا ہے۔ ⸻ 2. جھوٹ: وہ جو حقیقت کے خلاف ہو جھوٹ وہ ہے جو حقائق سے ٹکراتا ہو یا ثابت نہ کیا جا سکے۔ • چاہے کتنا اچھا لگے، • چاہے کتنے لوگ مانیں، • چاہے جذباتی ہو، • لیکن اگر وہ حقیقت سے میل نہیں کھاتا تو وہ جھوٹ ہے۔ مثالیں: • “زمین چپٹی ہے” — صدیوں مانا گیا، پھر بھی غلط۔ • “بغیر مہارت کے امیر ہوا جا سکتا ہے” — دل کو بھاتا ہے، مگر غلط۔ • “مسائل کو نظرانداز کرنے سے وہ ختم ہو جاتے ہیں” — سکون دیتا ہے، مگر غلط۔ جھوٹ اس لیے چلتا ہے کہ انسان سچائی نہیں، آسانی چاہتا ہے۔ ⸻ 3. انسان سچ سے کیوں بھاگتا ہے؟ تین بنیادی وجوہات: a) انا (Ego) انسان سیکھنے سے زیادہ “سہی ثابت ہونے” کو پسند کرتا ہے۔ اس لیے پرانی باتوں کو پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ b) محدود علم ہم دنیا کا صرف تھوڑا حصہ دیکھتے ہیں۔ سچ اکثر اُس علم سے جڑا ہوتا ہے جو ابھی ہمارے پاس نہیں۔ c) خوف سچ کبھی تکلیف دیتا ہے۔ ہماری غلطیاں دکھاتا ہے۔ تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسی لیے ہم اکثر خوبصورت جھوٹ کو کڑوے سچ سے بہتر سمجھتے ہیں۔ ⸻ 4. سچ کی اقسام سچ کے کئی درجے ہیں: 1. سائنسی سچ تجربے اور ثبوت پر مبنی۔ مثال: ویکسین بیماریوں سے بچاتی ہیں۔ 2. تاریخی سچ ریکارڈ، دستاویزات اور شواہد پر مبنی۔ مثال: تعلیم عام ہو تو قومیں اوپر اٹھتی ہیں۔ 3. ذاتی سچ انسان کے اپنے تجربات سے۔ مثال: محبت سے پلے بچے میں اعتماد زیادہ ہوتا ہے۔ 4. اخلاقی سچ انسانی قدروں سے جڑا ہوا۔ مثال: نرمی ہر رشتے کو بہتر بناتی ہے۔ 5. روحانی سچ اندرونی احساس، سکون اور شعور سے جڑا۔ مثال: شکرگزاری انسان کو پرسکون کرتی ہے۔ ⸻ 5. جھوٹ زیادہ تیزی سے کیوں پھیلتا ہے؟ کیونکہ جھوٹ: • زیادہ جذباتی ہوتا ہے • زیادہ سادہ ہوتا ہے • زیادہ ڈرامائی لگتا ہے • انسان کی خواہشات کو خوش کرتا ہے سچ ہمیشہ: • تفصیل مانگتا ہے • سوچ مانگتا ہے • وقت لیتا ہے جھوٹ چند منٹ میں جیت جاتا ہے۔ سچ کئی سال بعد جیتتا ہے — مگر ہمیشہ جیتتا ہے۔ ⸻ 6. روزمرہ زندگی میں سچ پہچاننے کا طریقہ ایک آسان ٹیسٹ: 1. ثبوت ٹیسٹ کیا بات کے پیچھے حقائق ہیں؟ 2. منطق ٹیسٹ کیا یہ بات جذبات ہٹا کر بھی صحیح لگتی ہے؟ 3. تسلسل ٹیسٹ کیا یہ ہر جگہ اور ہر وقت سچ رہتی ہے؟ 4. فائدہ ٹیسٹ کیا اس سے زندگی بہتر ہوتی ہے؟ 5. انسانیت ٹیسٹ کیا یہ صرف ایک گروہ نہیں بلکہ سب پر لاگو ہوتی ہے؟ اگر کوئی بات ان ٹیسٹوں پر پوری اُترتی ہے، تو وہ حقیقت کے قریب ہے۔ ⸻ 7. لیڈروں اور قوموں کے لیے سچ کیوں ضروری ہے؟ جو لیڈر سچ سے بھاگتا ہے: • کمزور فیصلے کرتا ہے • کمزور نظام بناتا ہے • کمزور لوگوں کو ساتھ رکھتا ہے جو لیڈر سچ کو اپناتا ہے: • واضح دیکھتا ہے • جلدی سیکھتا ہے • مضبوطی سے آگے بڑھتا ہے قومیں سچ کو گلے لگائیں تو ترقی کرتی ہیں۔ قومیں جھوٹ پر کھڑی ہوں تو بکھر جاتی ہیں۔ ⸻ 8. نتیجہ: سچ ایک روزانہ کی مشق ہے سچ کوئی ایک چیز نہیں جو زندگی میں ایک بار مل جائے۔ یہ ایک عادت ہے — روز کی مشق۔ • سوال کرنا • پرانی باتوں کو چیلنج کرنا • ثبوت دیکھنا • انا کم کرنا • غلطی ماننا • دماغ اپ ڈیٹ کرنا • شفاف رہنا جھوٹ عارضی سکون دیتا ہے، سچ دائمی طاقت۔ جھوٹ آسان راستہ ہے، سچ اونچا راستہ — مگر منزل خوبصورت ہے۔
    0 Commentarios 0 Acciones 172 Views
Resultados de la búsqueda