• انٹرنیٹ اور اِس کے فوائد

    مصنف: ریحان اللہ والا،ناشر: رہبر پبلشرز، کراچی،

    صفحات:48، قیمت:100 روپے

    یہ کتاب، بلکہ کتابچہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ، ریحان اللہ والا کی کاوش ہے۔ ریحان امریکا میں ٹیلی فون کمپنیز کو سافٹ ویئر سروسز فراہم کرنے والا ایک ادارہ چلاتے ہیں۔ اُنھوں نے غربت کے خاتمے کے لیے ’’ریحان فائونڈیشن‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بھی شروع کر رکھا ہے، جو تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے۔ چوں کہ مصنف خود کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے آدمی ہیں، سو انٹرنیٹ کے فوائد اور اثرات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

    انھوں نے اس کے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لینے کی کوشش کی، نتیجہ کتاب کی صورت سامنے آیا۔ یہ کتاب مختصر ضرور ہے، مگر دل چسپ ہے۔ مصنف نے سادہ پیرایے میں اظہار خیال کیا۔ موضوع انٹرنیٹ ہے، سو انگریزی الفاظ بھی بہ کثرت ہیں۔ بلاشبہہ زبان کی بہتری کا امکان موجود ہے۔ اشاعت کے معاملے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، البتہ مختصر ہونے کے باوجود یہ کتاب نوجوان نسل، بالخصوص بچوں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔

    Iqbal Khursheed Thank you
    انٹرنیٹ اور اِس کے فوائد مصنف: ریحان اللہ والا،ناشر: رہبر پبلشرز، کراچی، صفحات:48، قیمت:100 روپے یہ کتاب، بلکہ کتابچہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ، ریحان اللہ والا کی کاوش ہے۔ ریحان امریکا میں ٹیلی فون کمپنیز کو سافٹ ویئر سروسز فراہم کرنے والا ایک ادارہ چلاتے ہیں۔ اُنھوں نے غربت کے خاتمے کے لیے ’’ریحان فائونڈیشن‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بھی شروع کر رکھا ہے، جو تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے۔ چوں کہ مصنف خود کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے آدمی ہیں، سو انٹرنیٹ کے فوائد اور اثرات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے اس کے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لینے کی کوشش کی، نتیجہ کتاب کی صورت سامنے آیا۔ یہ کتاب مختصر ضرور ہے، مگر دل چسپ ہے۔ مصنف نے سادہ پیرایے میں اظہار خیال کیا۔ موضوع انٹرنیٹ ہے، سو انگریزی الفاظ بھی بہ کثرت ہیں۔ بلاشبہہ زبان کی بہتری کا امکان موجود ہے۔ اشاعت کے معاملے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، البتہ مختصر ہونے کے باوجود یہ کتاب نوجوان نسل، بالخصوص بچوں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔ Iqbal Khursheed Thank you
    0 Commentarios 0 Acciones 489 Views
  • What do you think she should do ?

    میں اپنی زندگی کی کہانی ریحان اللہ والا صاحب کو Delegate کرتی ہوں میرا تعلق پشاور کہ ایک مڈل کلاس طبقے سے ہے 2 سال کی تھی جب پولیو جیسے مرض کا شکار ہو گئی وقت آہستہ آ ہستہ کٹتا رہا میں نے ایک سکول میں داخلہ لے لیا اور تعلیم حاصل کرنے لگی اس طرح میں نے ایف اے تک تعلیم حاصل کر لی پر اس دوران مجھے لوگوں کی گھورتی اور ترس بھری نگاہوں نے بہت دل برداشتہ کیا نہ چاہتے ہوئے بھی تعلیم کے شوق میں گھر سے نکلنا پڑا یہ لمبا سفر طے کرنے کہ بعد میری شادی اپنے ہی پڑوس میں ایک لڑکے سے کر دی گئی لڑکا بہت اچھا تھا اس نے مجھے میری معذوری کے ساتھ قبول کیا پر اس کے گھر والوں نے مجھے قبول نہ کیا خیر جیسے تیسے کر کہ ٹائم گذرتا گیا میرے تین بچے ہو گئے اتنے میں ایک دن میرے Husband کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا جس سے ان کا دماغی توازن بگڑ گیا بچے ابھی چھوٹے تھے چھوٹا بچہ نرسری میں پڑھ رہا تھا اور کوئی کمانے کا ذریعہ بھی نہیں تھا ان کی پرائیویٹ جاب تھی اوپر آ سمان تھا اور نیچے ہم بے آ سرا ومددگار ان کی بیماری اور بچوں کی تعلیم کے خرچہ کا سوچ کر میرا اپنا دماغی توازن کام نہیں کر رہا تھا اور اپنی حالت بھی ایسی نہ تھی کہ گھر سے باہر نکل کر کچھ کام کاج کر سکوں کچھ ٹائم گھر پر گزارنے کے بعد میں نے ایک اسٹور پر جاب شروع کر دی جس میں مجھے اپنی اس معذوری کی حالت میں بھی 12 گھنٹے کھڑے ہو کر چیزیں Sale کرنی پڑھتی تھیں صبح بچوں کو بھوکا اسکول بھیجتی تھی اور رات کو بسوں میں دھکے کھاتی گرتی پڑتی گھر پہنچ کر بچوں کو کھانا دیتی تھی ادھر خاوند کی بیماری بڑھتی گئی کبھی ان کو ہسپتال میں داخل کرواتی کبھی گھر لے آ تی پر ان کی بیماری میں اضافہ ہوتا گیا برے حالات میں اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں سب نے کہا بچوں کو اسکول سے اٹھا کر کسی کام پر بیٹھا دو پر میں نہ مانی اور بچوں کی تعلیم جاری رکھی نہ صرف ان کو اچھے اور بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائی بلکہ ان کو ایک اچھا ماحول بھی دیا میڑک میری بیٹی نے ٹاپ ٹین کی پوزیشن میں پاس کیا اس کے بعد میری بیٹی نے BS,c ایڈورڈ کالج پشاور سے کیا اج میری بیٹی پشاور یونیورسٹی سےEnvironmental sciences میں ماسٹر کر رہی ہے دوسرا بچہ بھی BBA کر رہاہے اور تیسرا بچہ سیکنڈ ائر کا امتحان دے چکا ہے ساتھ ساتھ بیٹوں کو الیکٹریشن میں ڈپلومہ بھی کروایا پر میری زندگی کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا مجھے اپنے بچوں کو کسی مقام پر پہنچانا ہے وقت کے دھکے کھاتی گرتی پڑتی مجھے بھی ایک ایسی آ رگنائزیشن میں جاب مل گئی جہاں پر ان کا مقصد ریسپیشن پر یعنی فرنٹ ڈسک پر ایک معذور لڑکی کو جاب دینا تھا اس طرح مجھے اس آ رگنائزیشن میں جاب مل گئی جو کہ ایک بہترین آرگنائزیشن ہے اور مجھے اس میں کام کرتے دس سال ہو گئے ہیں میں نے اپنی زندگی کے 38 سال امتحانات میں گزارے اور نہ معلوم ابھی اور کتنے امتحانات آ گے گزرنا پڑھے کیونکہ ابھی بچوں کی تعلیمی اخراجات میری پہنچ سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ہمارے ملک میں ایسا کوئی ادارہ نہیں کہ وہ میری مدد کرے کہ میں اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکوں ۔اگر آپ حضرات کے پاس میرے لئے کوئی مشورہ ہو تو پلیز مجھ سے شئیر کریں ۔

    Faiza Nuzhat
    What do you think she should do ? میں اپنی زندگی کی کہانی ریحان اللہ والا صاحب کو Delegate کرتی ہوں میرا تعلق پشاور کہ ایک مڈل کلاس طبقے سے ہے 2 سال کی تھی جب پولیو جیسے مرض کا شکار ہو گئی وقت آہستہ آ ہستہ کٹتا رہا میں نے ایک سکول میں داخلہ لے لیا اور تعلیم حاصل کرنے لگی اس طرح میں نے ایف اے تک تعلیم حاصل کر لی پر اس دوران مجھے لوگوں کی گھورتی اور ترس بھری نگاہوں نے بہت دل برداشتہ کیا نہ چاہتے ہوئے بھی تعلیم کے شوق میں گھر سے نکلنا پڑا یہ لمبا سفر طے کرنے کہ بعد میری شادی اپنے ہی پڑوس میں ایک لڑکے سے کر دی گئی لڑکا بہت اچھا تھا اس نے مجھے میری معذوری کے ساتھ قبول کیا پر اس کے گھر والوں نے مجھے قبول نہ کیا خیر جیسے تیسے کر کہ ٹائم گذرتا گیا میرے تین بچے ہو گئے اتنے میں ایک دن میرے Husband کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا جس سے ان کا دماغی توازن بگڑ گیا بچے ابھی چھوٹے تھے چھوٹا بچہ نرسری میں پڑھ رہا تھا اور کوئی کمانے کا ذریعہ بھی نہیں تھا ان کی پرائیویٹ جاب تھی اوپر آ سمان تھا اور نیچے ہم بے آ سرا ومددگار ان کی بیماری اور بچوں کی تعلیم کے خرچہ کا سوچ کر میرا اپنا دماغی توازن کام نہیں کر رہا تھا اور اپنی حالت بھی ایسی نہ تھی کہ گھر سے باہر نکل کر کچھ کام کاج کر سکوں کچھ ٹائم گھر پر گزارنے کے بعد میں نے ایک اسٹور پر جاب شروع کر دی جس میں مجھے اپنی اس معذوری کی حالت میں بھی 12 گھنٹے کھڑے ہو کر چیزیں Sale کرنی پڑھتی تھیں صبح بچوں کو بھوکا اسکول بھیجتی تھی اور رات کو بسوں میں دھکے کھاتی گرتی پڑتی گھر پہنچ کر بچوں کو کھانا دیتی تھی ادھر خاوند کی بیماری بڑھتی گئی کبھی ان کو ہسپتال میں داخل کرواتی کبھی گھر لے آ تی پر ان کی بیماری میں اضافہ ہوتا گیا برے حالات میں اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں سب نے کہا بچوں کو اسکول سے اٹھا کر کسی کام پر بیٹھا دو پر میں نہ مانی اور بچوں کی تعلیم جاری رکھی نہ صرف ان کو اچھے اور بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائی بلکہ ان کو ایک اچھا ماحول بھی دیا میڑک میری بیٹی نے ٹاپ ٹین کی پوزیشن میں پاس کیا اس کے بعد میری بیٹی نے BS,c ایڈورڈ کالج پشاور سے کیا اج میری بیٹی پشاور یونیورسٹی سےEnvironmental sciences میں ماسٹر کر رہی ہے دوسرا بچہ بھی BBA کر رہاہے اور تیسرا بچہ سیکنڈ ائر کا امتحان دے چکا ہے ساتھ ساتھ بیٹوں کو الیکٹریشن میں ڈپلومہ بھی کروایا پر میری زندگی کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا مجھے اپنے بچوں کو کسی مقام پر پہنچانا ہے وقت کے دھکے کھاتی گرتی پڑتی مجھے بھی ایک ایسی آ رگنائزیشن میں جاب مل گئی جہاں پر ان کا مقصد ریسپیشن پر یعنی فرنٹ ڈسک پر ایک معذور لڑکی کو جاب دینا تھا اس طرح مجھے اس آ رگنائزیشن میں جاب مل گئی جو کہ ایک بہترین آرگنائزیشن ہے اور مجھے اس میں کام کرتے دس سال ہو گئے ہیں میں نے اپنی زندگی کے 38 سال امتحانات میں گزارے اور نہ معلوم ابھی اور کتنے امتحانات آ گے گزرنا پڑھے کیونکہ ابھی بچوں کی تعلیمی اخراجات میری پہنچ سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ہمارے ملک میں ایسا کوئی ادارہ نہیں کہ وہ میری مدد کرے کہ میں اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکوں ۔اگر آپ حضرات کے پاس میرے لئے کوئی مشورہ ہو تو پلیز مجھ سے شئیر کریں ۔ Faiza Nuzhat
    0 Commentarios 0 Acciones 451 Views
  • اللہ سے کرے دور، تو تعلیم بھی فتنہ ہے
    املاک بھی اولاد بھی جا گیر بھی فتنہ ہے
    نا حق کے لئے یتھے تو شمشیر بھی فتنہ ہے
    شمشیر ہی کیا نعرۃ تکبیر بھی فتنہ ہے
    . اقبال
    اللہ سے کرے دور، تو تعلیم بھی فتنہ ہے املاک بھی اولاد بھی جا گیر بھی فتنہ ہے نا حق کے لئے یتھے تو شمشیر بھی فتنہ ہے شمشیر ہی کیا نعرۃ تکبیر بھی فتنہ ہے . اقبال
    0 Commentarios 0 Acciones 216 Views
  • Shared by Munawwar Ikhlas Allahwala

    کیا ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے ؟
    جرمنی ایک صنعتی ملک ہے جہاں دُنیا کی بہترین مصنوعات اور بڑے بڑے برانڈز مثلاً مرسیڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور سیمنز پروڈکٹس بنتے ہیں۔ ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے پمپ تو محض اس ملک کے…
    ایک چھوٹے سے گاؤں میں بنتے ہیں۔ اس طرح کے ترقی یافتہ ملک کے بارے میں کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ وہاں لوگ کس طرح عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہونگے، کم از کم میرا خیال تو اُس وقت یہی تھا جب میں پہلی بار اپنی تعلیم کے سلسلے میں سعودیہ سے جرمنی جا رہا تھا۔
    میں جس وقت ہمبرگ پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود میرے دوست میرے استقبال کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں دعوت کا پروگرام بنا چکے تھے۔ جس وقت ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے اس وقت وہاں گاہک نا ہونے کے برابر اور اکثر میزیں خالی نظر آ رہی تھیں۔ ہمیں جو میز دی گئی اس کے اطراف میں ایک میز پر نوجوان میاں بیوی کھانا کھانے میں مشغول تھے ، اُن کے سامنے صرف ایک ڈش میں کھانا رکھا ہوا تھا جس کو وہ اپنی اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھا رہے اور شاید دونوں کے سامنے ایک ایک گلاس جوس بھی رکھا ہوا نظر آ رہا تھا جس سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ بیچاروں کا رومانوی ماحول میں بیٹھ کر کھانا کھانے کوتو دل چاہ رہا ہوگا مگر جیب زیادہ اجازت نا دیتی ہو گی۔ ریسٹورنٹ میں ان کے علاوہ کچھ عمر رسیدہ خواتین نظر آ رہی تھیں۔
    ہم سب کی بھوک اپنے عروج پر تھی اور اسی بھوک کا حساب لگاتے ہوئے میرے دوستوں نے کھانے کا فراخدلی سے آرڈر لکھوایا۔ ریسٹورنٹ میں گاہکوں کے نا ہونے کی وجہ سے ہمارا کھانے لگنے میں زیادہ وقت نا لگا اور ہم نے بھی کھانے میں خیر سے کوئی خاص دیر نا لگائی۔
    پیسے ادا کر کے جب ہم جانے کیلئے اُٹھے تو ہماری پلیٹوں میں کم از کم ایک تہائی کھانا ابھی بھی بچا ہوا تھا۔ باہر جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے ریسٹورنٹ میں موجود اُن بڑھیاؤں نے ہمیں آوازیں دینا شروع کر دیں۔ ہم نے مڑ کر دیکھا تو وہ ساری اپنی جگہ کھڑی ہو کر زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اور ہم نے یہی اندازہ لگایا کہ اُنکا موضوع ہمارا ضرورت سے زیادہ کھانا طلب کرنا اور اس طرح بچا کر ضائع کرتے ہوئے جانا تھا۔ میرے دوست نے جواباً اُنہیں کہا کہ ہم نے جو کچھ آرڈر کیا تھا اُس کے پیسے ادا کر دیئے ہیں اور تمہاری اس پریشانی اور ایسے معاملے میں جس کا تم سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا میں دخل اندازی کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ایک عورت یہ بات سُنتے ہی ٹیلیفون کی طرف لپکی اور کسی کو فوراً وہاں آنے کو کہا۔ ایسی صورتحال میں ہمارا وہاں سے جانا یا کھسک جانا ہمارے لیئے مزید مسائل کھڑے کر سکتا تھا اس لئے ہم وہیں ٹھہرے رہے۔
    کچھ ہی دیر میں وہاں ایک باوردی شخص آیا جس نے اپنا تعارف ہمیں سوشل سیکیوریٹی محکمہ کے ایک افسر کی حیثیت سے کرایا۔ صورتحال کو دیکھ اور سن کر اُس نے ہم پر پچاس فرانک کا جرما نہ عائد کر۔ اس دوران ہم چپ چاپ کھڑے رہے۔ میرے دوست نے آفیسر سے معذرت کرتے ہوئے پچاس فرانک جرمانہ ادا کیا اور اس نے ایک رسید بنا کر میرے دوست کو تھما دی۔
    آفیسر نے جرمانہ وصول کرنے کے بعد شدید لہجے میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ : آئندہ جب بھی کھانا طلب کرو تو اُتنا ہی منگواؤ جتنا تم کھا سکتے ہو۔ تمہارے پیسے تمہاری ملکیت ضرور ہیں مگر وسائل معاشرے کی امانت ہیں۔ اس دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جو غذائی کمی کا شکار ہیں۔ تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ تم کھانے پینے کی اشیاء کو اس طرح ضائع کرتے پھرو۔
    بے عزتی کے احساس اور شرمساری سے ہمارے چہرے سرخ ہورہے تھے۔ ہمارے پاس اُس آفیسر کی بات کو سننے اور اس سے اتفاق کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ ذہنی طور پر ہر اُس بات کے قائل ہو چکے تھے جو اُس نے ہمیں کہی تھیں۔ مگر کیا کریں ہم لوگ ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جو وسائل کے معاملے میں تو خود کفیل نہیں ہے مگر ہماری عادتیں کچھ اس طرح کی بن گئی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی مہمان آ جائے تو اپنا منہ رکھنے کیلئے یا اپنی جھوٹی عزت یا خود ساختہ اور فرسودہ روایات کی پاسداری خاطر دستر خوان پر کھانے کا ڈھیر لگا دیں گے۔ نتیجتاً بہت سا ایسا کھانا کوڑے کے ڈھیر کی نظر ہوجاتا ہے جس کے حصول کیلیئے کئی دوسرے ترس رہے ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی ان بری عادتوں کو تبدیل کریں اور نعمتوں کا اس طرح ضیاع اور انکا اس طرح سے کفران نا کریں۔
    ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر میرے دوست نے سامنے کی ایک دکان سے جرمانے کی رسید کی فوٹو کاپیاں بنوا کر ہم سب کو اس واقعہ کی یادگار کے طور پر دیں تاکہ ہم گھر جا کر اسے نمایاں طور پر کہیں آویزاں کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہآئندہ کبھی بھی اس طرح کا اسراف نہیں کریں گے۔
    جی ہاں! آپکا مال یقیناً آپکی مِلکیت ہے مگر وسائل سارے معاشرے کیلئے ہیں۔
    Shared by Munawwar Ikhlas Allahwala کیا ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے ؟ جرمنی ایک صنعتی ملک ہے جہاں دُنیا کی بہترین مصنوعات اور بڑے بڑے برانڈز مثلاً مرسیڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور سیمنز پروڈکٹس بنتے ہیں۔ ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے پمپ تو محض اس ملک کے… ایک چھوٹے سے گاؤں میں بنتے ہیں۔ اس طرح کے ترقی یافتہ ملک کے بارے میں کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ وہاں لوگ کس طرح عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہونگے، کم از کم میرا خیال تو اُس وقت یہی تھا جب میں پہلی بار اپنی تعلیم کے سلسلے میں سعودیہ سے جرمنی جا رہا تھا۔ میں جس وقت ہمبرگ پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود میرے دوست میرے استقبال کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں دعوت کا پروگرام بنا چکے تھے۔ جس وقت ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے اس وقت وہاں گاہک نا ہونے کے برابر اور اکثر میزیں خالی نظر آ رہی تھیں۔ ہمیں جو میز دی گئی اس کے اطراف میں ایک میز پر نوجوان میاں بیوی کھانا کھانے میں مشغول تھے ، اُن کے سامنے صرف ایک ڈش میں کھانا رکھا ہوا تھا جس کو وہ اپنی اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھا رہے اور شاید دونوں کے سامنے ایک ایک گلاس جوس بھی رکھا ہوا نظر آ رہا تھا جس سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ بیچاروں کا رومانوی ماحول میں بیٹھ کر کھانا کھانے کوتو دل چاہ رہا ہوگا مگر جیب زیادہ اجازت نا دیتی ہو گی۔ ریسٹورنٹ میں ان کے علاوہ کچھ عمر رسیدہ خواتین نظر آ رہی تھیں۔ ہم سب کی بھوک اپنے عروج پر تھی اور اسی بھوک کا حساب لگاتے ہوئے میرے دوستوں نے کھانے کا فراخدلی سے آرڈر لکھوایا۔ ریسٹورنٹ میں گاہکوں کے نا ہونے کی وجہ سے ہمارا کھانے لگنے میں زیادہ وقت نا لگا اور ہم نے بھی کھانے میں خیر سے کوئی خاص دیر نا لگائی۔ پیسے ادا کر کے جب ہم جانے کیلئے اُٹھے تو ہماری پلیٹوں میں کم از کم ایک تہائی کھانا ابھی بھی بچا ہوا تھا۔ باہر جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے ریسٹورنٹ میں موجود اُن بڑھیاؤں نے ہمیں آوازیں دینا شروع کر دیں۔ ہم نے مڑ کر دیکھا تو وہ ساری اپنی جگہ کھڑی ہو کر زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اور ہم نے یہی اندازہ لگایا کہ اُنکا موضوع ہمارا ضرورت سے زیادہ کھانا طلب کرنا اور اس طرح بچا کر ضائع کرتے ہوئے جانا تھا۔ میرے دوست نے جواباً اُنہیں کہا کہ ہم نے جو کچھ آرڈر کیا تھا اُس کے پیسے ادا کر دیئے ہیں اور تمہاری اس پریشانی اور ایسے معاملے میں جس کا تم سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا میں دخل اندازی کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ایک عورت یہ بات سُنتے ہی ٹیلیفون کی طرف لپکی اور کسی کو فوراً وہاں آنے کو کہا۔ ایسی صورتحال میں ہمارا وہاں سے جانا یا کھسک جانا ہمارے لیئے مزید مسائل کھڑے کر سکتا تھا اس لئے ہم وہیں ٹھہرے رہے۔ کچھ ہی دیر میں وہاں ایک باوردی شخص آیا جس نے اپنا تعارف ہمیں سوشل سیکیوریٹی محکمہ کے ایک افسر کی حیثیت سے کرایا۔ صورتحال کو دیکھ اور سن کر اُس نے ہم پر پچاس فرانک کا جرما نہ عائد کر۔ اس دوران ہم چپ چاپ کھڑے رہے۔ میرے دوست نے آفیسر سے معذرت کرتے ہوئے پچاس فرانک جرمانہ ادا کیا اور اس نے ایک رسید بنا کر میرے دوست کو تھما دی۔ آفیسر نے جرمانہ وصول کرنے کے بعد شدید لہجے میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ : آئندہ جب بھی کھانا طلب کرو تو اُتنا ہی منگواؤ جتنا تم کھا سکتے ہو۔ تمہارے پیسے تمہاری ملکیت ضرور ہیں مگر وسائل معاشرے کی امانت ہیں۔ اس دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جو غذائی کمی کا شکار ہیں۔ تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ تم کھانے پینے کی اشیاء کو اس طرح ضائع کرتے پھرو۔ بے عزتی کے احساس اور شرمساری سے ہمارے چہرے سرخ ہورہے تھے۔ ہمارے پاس اُس آفیسر کی بات کو سننے اور اس سے اتفاق کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ ذہنی طور پر ہر اُس بات کے قائل ہو چکے تھے جو اُس نے ہمیں کہی تھیں۔ مگر کیا کریں ہم لوگ ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جو وسائل کے معاملے میں تو خود کفیل نہیں ہے مگر ہماری عادتیں کچھ اس طرح کی بن گئی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی مہمان آ جائے تو اپنا منہ رکھنے کیلئے یا اپنی جھوٹی عزت یا خود ساختہ اور فرسودہ روایات کی پاسداری خاطر دستر خوان پر کھانے کا ڈھیر لگا دیں گے۔ نتیجتاً بہت سا ایسا کھانا کوڑے کے ڈھیر کی نظر ہوجاتا ہے جس کے حصول کیلیئے کئی دوسرے ترس رہے ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی ان بری عادتوں کو تبدیل کریں اور نعمتوں کا اس طرح ضیاع اور انکا اس طرح سے کفران نا کریں۔ ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر میرے دوست نے سامنے کی ایک دکان سے جرمانے کی رسید کی فوٹو کاپیاں بنوا کر ہم سب کو اس واقعہ کی یادگار کے طور پر دیں تاکہ ہم گھر جا کر اسے نمایاں طور پر کہیں آویزاں کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہآئندہ کبھی بھی اس طرح کا اسراف نہیں کریں گے۔ جی ہاں! آپکا مال یقیناً آپکی مِلکیت ہے مگر وسائل سارے معاشرے کیلئے ہیں۔
    0 Commentarios 0 Acciones 221 Views
  • وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔

    وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔

    انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔

    اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔

    لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔

    اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔

    ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔

    اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔

    اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

    انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

    اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔

    وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔

    مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔

    یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔

    اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔

    The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا

    Shared via Liaqat Jawaid
    وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔ وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔ انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔ اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔ لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔ اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔ اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔ اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔ وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔ مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔ اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔ The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا Shared via Liaqat Jawaid
    0 Commentarios 0 Acciones 725 Views
  • گر مجھے وزیر اعظم بنا دیا جاتا میں کم از کم پہلے دس کام کیا کرتا !!!
    سب سے پہلے تو میں ایک قانون بنا کر وزیر اعظم کا عہدہ صدر بنتا اور ایک آرڈیننس جاری کرتا جسکے تحت ہر چار سال بعد عوام براہ راست صدر کا انتخاب کرتے باقی پارلیمانی نمائندے ویسے ہی منتخب ہوتے جیسے اب ہوتے ہیں
    ٢. ایک سالہ کریش پروگرام بناتا جس میں صبح ناشتے سے پہلے دو جج ، دوپہر کھانے کے بعد دو صحافی، شام کی چاے پر دو افسر شاہی اور رات کھانے سے پہلے دو سیاستدان پھانسی پر چڑھاتا
    ٣.ہنگامی بنیادوں پر پورے ملک میں پولیس کی نفری میں اضافہ ، انکی مراعات اور تنخواہ میں اضافہ جدید مواصلاتی نظام اور دیگر جدید اسلحہ اور انفرا سٹرکچر مہیا کرتا جس میں ٹریفک کا انتظام بھی انکے ہاتھ میں ہوتا اور ٹریفک پولیس کا خاتمہ
    ٤ . پورے ملک میں سی سی تی وی کمرے نصب کرواتا
    ٥. تعلیمی بجٹ کم از کم ٥ گنا یا اس سے بھی زیادہ کرتا قرانی تعلیم تمام سکولوں میں لازمی قرار دی جاتی اور کسی بھی مسلمان طالب علم کو ختم القران کے بغیر نویں جماعت میں داخلے کی اجازت نہ ہوتی تمام مدرسوں کو بند اور مدرسے کے دینی اساتذہ کو سکولوں میں ملازمتیں دی جاتیں ، مزید یہ کہ نرسری سے پانچوں جماعت تک ایک نۓ مضمون اخلاقیات کی تعلیم لازمی قرار دی جاتی جس میں بچوں کو سلام کرنا ، شکریہ ادا کرنا ،، وہ دیگر اخلاقی باتیں سکھائی جاتیں جو مہذب معاشروں کا حصّہ ہیں اسمیں اپنی اسلامی اور علاقائی اقدار کو ملحوظ رکھا جاتا
    ٦. ہر یونین کونسل میں کم از کم ایک بڑی لائبریری جس میں دنیا جہاں کی زبانوں کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کروا کر رکھواتا
    ٧.تمام تفریح پروگرام ،، فلم ڈرامہ تھیٹر میں لازم ہوتا کہ کہانی یا پیغام کچھ بھی ہو اس میں پاکستانی ، اسلامی تهذیب کا عکس مثال کے طور پر اذان ، مسجد ، کسی کو نماز پڑھتے ہوے ،، کسی کو سلام کرتے ہوے ،، کسی کو شکریہ کہتے ہوے دکھایا جانا لازمی ہوتا
    ٨. رشوت لینے اور دینے والوں کو پکڑنے کے لئے خصو صی ٹاسک فورس تشکیل دیتا جو عام آدمی کی شکل میں مختلف محکموں میں اپنے کام کے لئے جاتے ہیں اسی طرح اسی ٹاسک فورس کے لوگ افسران کی شکل میں بھی ہوتے تو رشوت دینے اور لینے والے دونوں گھبراتے کہ کہیں یہ حکومت کے ٹاسک فورس کے لوگ ہی نہ ہوں رشوت لینے اور دینے والے کو کڑی سزا اور لازمی جیل بھگتنا ہوتی ،، دس روپے کی رشوت پر بھی کم از کم ایک دن کی جیل
    ٩. ججز اور فوج کی کرپشن کا مقدمہ پارلیمنٹ میں چلایا جاتا اور اسکے لئے اپوزیشن اور حکومت سے لوگ لئے جاتے جبکے کمیٹی کے ٢٠ فیصد فوج اور جرنلسٹ میں سے ہوتا -
    ١٠. اور سب آخری کام یہ کرتا کہ بیدار ہو جاتا ،،، نہاتا دھوتا ،، ناشتہ کرتا اور پھر سے نوکری پر چلا جاتا ،،، کیونکہ بچپن میں پڑھا تھا "اتنا سونا ٹھیک نہیں ہے" ورنہ عجیب عجیب خواب آتے ہیں -
    گر مجھے وزیر اعظم بنا دیا جاتا میں کم از کم پہلے دس کام کیا کرتا !!! سب سے پہلے تو میں ایک قانون بنا کر وزیر اعظم کا عہدہ صدر بنتا اور ایک آرڈیننس جاری کرتا جسکے تحت ہر چار سال بعد عوام براہ راست صدر کا انتخاب کرتے باقی پارلیمانی نمائندے ویسے ہی منتخب ہوتے جیسے اب ہوتے ہیں ٢. ایک سالہ کریش پروگرام بناتا جس میں صبح ناشتے سے پہلے دو جج ، دوپہر کھانے کے بعد دو صحافی، شام کی چاے پر دو افسر شاہی اور رات کھانے سے پہلے دو سیاستدان پھانسی پر چڑھاتا ٣.ہنگامی بنیادوں پر پورے ملک میں پولیس کی نفری میں اضافہ ، انکی مراعات اور تنخواہ میں اضافہ جدید مواصلاتی نظام اور دیگر جدید اسلحہ اور انفرا سٹرکچر مہیا کرتا جس میں ٹریفک کا انتظام بھی انکے ہاتھ میں ہوتا اور ٹریفک پولیس کا خاتمہ ٤ . پورے ملک میں سی سی تی وی کمرے نصب کرواتا ٥. تعلیمی بجٹ کم از کم ٥ گنا یا اس سے بھی زیادہ کرتا قرانی تعلیم تمام سکولوں میں لازمی قرار دی جاتی اور کسی بھی مسلمان طالب علم کو ختم القران کے بغیر نویں جماعت میں داخلے کی اجازت نہ ہوتی تمام مدرسوں کو بند اور مدرسے کے دینی اساتذہ کو سکولوں میں ملازمتیں دی جاتیں ، مزید یہ کہ نرسری سے پانچوں جماعت تک ایک نۓ مضمون اخلاقیات کی تعلیم لازمی قرار دی جاتی جس میں بچوں کو سلام کرنا ، شکریہ ادا کرنا ،، وہ دیگر اخلاقی باتیں سکھائی جاتیں جو مہذب معاشروں کا حصّہ ہیں اسمیں اپنی اسلامی اور علاقائی اقدار کو ملحوظ رکھا جاتا ٦. ہر یونین کونسل میں کم از کم ایک بڑی لائبریری جس میں دنیا جہاں کی زبانوں کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کروا کر رکھواتا ٧.تمام تفریح پروگرام ،، فلم ڈرامہ تھیٹر میں لازم ہوتا کہ کہانی یا پیغام کچھ بھی ہو اس میں پاکستانی ، اسلامی تهذیب کا عکس مثال کے طور پر اذان ، مسجد ، کسی کو نماز پڑھتے ہوے ،، کسی کو سلام کرتے ہوے ،، کسی کو شکریہ کہتے ہوے دکھایا جانا لازمی ہوتا ٨. رشوت لینے اور دینے والوں کو پکڑنے کے لئے خصو صی ٹاسک فورس تشکیل دیتا جو عام آدمی کی شکل میں مختلف محکموں میں اپنے کام کے لئے جاتے ہیں اسی طرح اسی ٹاسک فورس کے لوگ افسران کی شکل میں بھی ہوتے تو رشوت دینے اور لینے والے دونوں گھبراتے کہ کہیں یہ حکومت کے ٹاسک فورس کے لوگ ہی نہ ہوں رشوت لینے اور دینے والے کو کڑی سزا اور لازمی جیل بھگتنا ہوتی ،، دس روپے کی رشوت پر بھی کم از کم ایک دن کی جیل ٩. ججز اور فوج کی کرپشن کا مقدمہ پارلیمنٹ میں چلایا جاتا اور اسکے لئے اپوزیشن اور حکومت سے لوگ لئے جاتے جبکے کمیٹی کے ٢٠ فیصد فوج اور جرنلسٹ میں سے ہوتا - ١٠. اور سب آخری کام یہ کرتا کہ بیدار ہو جاتا ،،، نہاتا دھوتا ،، ناشتہ کرتا اور پھر سے نوکری پر چلا جاتا ،،، کیونکہ بچپن میں پڑھا تھا "اتنا سونا ٹھیک نہیں ہے" ورنہ عجیب عجیب خواب آتے ہیں -
    0 Commentarios 0 Acciones 348 Views
  • ہمیں تو ہماری نصابی کتابوں نے بہت پہلے ہی مار ڈالا۔ کتنے بچے جانتے ہیں کہ پاکستان بنانے والے محمد علی جناح شیعہ خوجہ تھے۔ کس اسکول میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کا پہلا اسپیکر اور پہلا وزیرِ قانون و انصاف ایک نچلی ذات کا بنگالی ہندو جوگندر ناتھ منڈل تھا۔ تین سال تک لیاقت کابینہ میں شامل رہا اور پھر دل برداشتہ ہو کر پاکستان سے ہی چلا گیا۔
    کتنے بچوں کو آج بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کا پہلا وزیرِ خارجہ ایک احمدی سر ظفر اللہ خان تھا جس نے سات برس تک قرار دادِ مقاصد کے معمار سنی العقیدہ نوابزادہ لیاقت علی خان سے محمد علی بوگرا تک تین حکومتوں میں پاکستانی خارجہ پالیسی کو پائلٹ کیا اور پھر عالمی عدالتِ انصاف کا پہلا پاکستانی جج بن گیا۔
    کیا ہماری نصابی کتابوں میں جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلئیس کا ذکر ہے جو ایک دیسی کرسچن تھا اور آٹھ برس تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چیف جسٹس رہا۔ اور اس نے کیسے کیسے اہم فیصلے کیے؟ اور وہ کس قدر درویش طبیعت تھا جس نے زندگی لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کے ایک کمرے میں گذار دی۔
    کیا کسی آٹھ دس سال کے بچے نے اس ہزارہ جنرل محمد موسیٰ کا نام سنا ہے جس نے سن پینسٹھ کی جنگ میں پاکستانی بری فوج کی کمان کی؟ اور اسی جنگ میں ایک کرسچن فلائٹ لیفٹننٹ سیسل چوہدری کو بھارتی فضائیہ کو چنے چبوانے کے اعتراف میں ستارہِ جرات ملا۔ اور کتنی عزت تھی ہم بچوں کے دلوں میں فاتحِ چونڈہ میجر جنرل عبدالعلی ملک اور فاتحِ چھمب جوڑیاں میجر جنرل افتخار جنجوعہ شہید کی۔ معاشرتی علوم کے پینسٹھ کی جنگ کے باب میں ان دونوں جنرلوں کی چکنے کاغذ پر بلیک اینڈ وائٹ تصاویر ہوتی تھیں جن میں ایوب خان دونوں کے سینے پر ہلالِ جرات ٹانک رہے ہیں۔ جب ایک روز پتہ چلا کہ یہ تو احمدی ہیں تو فوراً اسکولی نصاب اور ہم سب کے دلوں سے اتر گئے۔ پھر اس کے بعد باقی مشکوک شخصیات کا بھی اسکول کی کتابوں میں داخلہ مرحلہ وار بند ہوتا چلا گیا اور آج الحمداللہ تعلیمی نصاب ہر طرح کی تاریخی آلائشوں سے پاک ہے۔ (وسعت اللہ خان، ۲۳ ستمبر ۲۰۱۳، روزنامہ ایکسپریس

    Shared via Ijaz Inayat Masih Bishop
    ہمیں تو ہماری نصابی کتابوں نے بہت پہلے ہی مار ڈالا۔ کتنے بچے جانتے ہیں کہ پاکستان بنانے والے محمد علی جناح شیعہ خوجہ تھے۔ کس اسکول میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کا پہلا اسپیکر اور پہلا وزیرِ قانون و انصاف ایک نچلی ذات کا بنگالی ہندو جوگندر ناتھ منڈل تھا۔ تین سال تک لیاقت کابینہ میں شامل رہا اور پھر دل برداشتہ ہو کر پاکستان سے ہی چلا گیا۔ کتنے بچوں کو آج بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کا پہلا وزیرِ خارجہ ایک احمدی سر ظفر اللہ خان تھا جس نے سات برس تک قرار دادِ مقاصد کے معمار سنی العقیدہ نوابزادہ لیاقت علی خان سے محمد علی بوگرا تک تین حکومتوں میں پاکستانی خارجہ پالیسی کو پائلٹ کیا اور پھر عالمی عدالتِ انصاف کا پہلا پاکستانی جج بن گیا۔ کیا ہماری نصابی کتابوں میں جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلئیس کا ذکر ہے جو ایک دیسی کرسچن تھا اور آٹھ برس تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چیف جسٹس رہا۔ اور اس نے کیسے کیسے اہم فیصلے کیے؟ اور وہ کس قدر درویش طبیعت تھا جس نے زندگی لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کے ایک کمرے میں گذار دی۔ کیا کسی آٹھ دس سال کے بچے نے اس ہزارہ جنرل محمد موسیٰ کا نام سنا ہے جس نے سن پینسٹھ کی جنگ میں پاکستانی بری فوج کی کمان کی؟ اور اسی جنگ میں ایک کرسچن فلائٹ لیفٹننٹ سیسل چوہدری کو بھارتی فضائیہ کو چنے چبوانے کے اعتراف میں ستارہِ جرات ملا۔ اور کتنی عزت تھی ہم بچوں کے دلوں میں فاتحِ چونڈہ میجر جنرل عبدالعلی ملک اور فاتحِ چھمب جوڑیاں میجر جنرل افتخار جنجوعہ شہید کی۔ معاشرتی علوم کے پینسٹھ کی جنگ کے باب میں ان دونوں جنرلوں کی چکنے کاغذ پر بلیک اینڈ وائٹ تصاویر ہوتی تھیں جن میں ایوب خان دونوں کے سینے پر ہلالِ جرات ٹانک رہے ہیں۔ جب ایک روز پتہ چلا کہ یہ تو احمدی ہیں تو فوراً اسکولی نصاب اور ہم سب کے دلوں سے اتر گئے۔ پھر اس کے بعد باقی مشکوک شخصیات کا بھی اسکول کی کتابوں میں داخلہ مرحلہ وار بند ہوتا چلا گیا اور آج الحمداللہ تعلیمی نصاب ہر طرح کی تاریخی آلائشوں سے پاک ہے۔ (وسعت اللہ خان، ۲۳ ستمبر ۲۰۱۳، روزنامہ ایکسپریس Shared via Ijaz Inayat Masih Bishop
    0 Commentarios 0 Acciones 271 Views
  • جب تعلیم کا بنیادی مقصد نوکری کا حصول ہو گا تو معاشرہ نوکروں کو ہی جنم دے گا راہنماؤں کو نہیں

    Engr Raza Bugti
    جب تعلیم کا بنیادی مقصد نوکری کا حصول ہو گا تو معاشرہ نوکروں کو ہی جنم دے گا راہنماؤں کو نہیں Engr Raza Bugti
    0 Commentarios 0 Acciones 155 Views
  • مجھے ایک عظیم بزنس مین کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

    اس انٹرویو میں اس نے دلچسپ باتیں کہیں۔
    *"دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا۔"*

    *"انسان کی معاشی زندگی تب شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز خود کرتا ہے۔"*

    اسکی دوسری بات
    *"کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔"*

    *"اگر تعلیم سے روپیہ کمایا جا سکتا تو آج دنیا کا ہر پروفیسر ارب پتی ہوتا۔"*

    اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں۔
    *"ان میں سے کوئی بھی پروفیسر ،ماہر تعلیم شا مل نہیں۔"*

    *"دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی۔"*
    یہ لوگ وقت کی قدروقیمت سمجھتے ہیں اور یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور میں ہی کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔
    *"کامیابی ان کو کالج یا یونیورسٹی کی بجائے کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے۔"*

    میں زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا۔
    *"میری کمپنی میں اسوقت اعلی تعلیم یافتہ 30 ہزار مرد اور خواتین کام کرتے ہیں*
    *یہ تعلیم یا فتہ لوگ مجھ سے وژن، عقل اور دماغ میں بہت بہتر ہیں لیکن ان میں نوکری چھورنے کا حوصلہ نہیں۔*
    انہیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتبارنہیں۔

    "اگرکوئی شخص میرے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ اپنےلیے بھی کر سکتا ہے۔"
    *بس اس کے لیے زرا سا حوصلہ چاہیے۔*

    *"دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا نہیں۔"*

    *"دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں لیکن کام کرنے والوں کے لیے ساری دنیا کھلی پڑی ہے۔"*

    Via Saif Bhai
    مجھے ایک عظیم بزنس مین کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس انٹرویو میں اس نے دلچسپ باتیں کہیں۔ *"دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا۔"* *"انسان کی معاشی زندگی تب شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز خود کرتا ہے۔"* 👈اسکی دوسری بات *"کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔"* *"اگر تعلیم سے روپیہ کمایا جا سکتا تو آج دنیا کا ہر پروفیسر ارب پتی ہوتا۔"* اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں۔ *"ان میں سے کوئی بھی پروفیسر ،ماہر تعلیم شا مل نہیں۔"* *"دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی۔"* یہ لوگ وقت کی قدروقیمت سمجھتے ہیں اور یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور میں ہی کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔ *"کامیابی ان کو کالج یا یونیورسٹی کی بجائے کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے۔"* میں زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا۔ *"میری کمپنی میں اسوقت اعلی تعلیم یافتہ 30 ہزار مرد اور خواتین کام کرتے ہیں* *یہ تعلیم یا فتہ لوگ مجھ سے وژن، عقل اور دماغ میں بہت بہتر ہیں لیکن ان میں نوکری چھورنے کا حوصلہ نہیں۔* انہیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتبارنہیں۔ "اگرکوئی شخص میرے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ اپنےلیے بھی کر سکتا ہے۔" *👈بس اس کے لیے زرا سا حوصلہ چاہیے۔* *"دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا نہیں۔"* *"دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں لیکن کام کرنے والوں کے لیے ساری دنیا کھلی پڑی ہے۔"* Via Saif Bhai
    0 Commentarios 0 Acciones 332 Views
  • السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    موضوع:
    بچوں کی تعلیم و تربیت میں رائج غلط تصورات

    مہمان خصوصی:
    ڈاکٹر محمدعابد علی
    (PhD. in Education)

    بمقام:
    C-27, block-D, North Nazimabad, Near five star chowrangi.

    23 April 2017
    بروز اتوار
    شام 5 بجے
    آپ سے شرکت کی اور وقت کی پابندی کی خصوصی درخواست ہے۔


    جزاک اللّه ہو خیرن و احسن الجزاء

    RSVP Rizwan Ahmed 0333-3353133
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته موضوع: بچوں کی تعلیم و تربیت میں رائج غلط تصورات مہمان خصوصی: ڈاکٹر محمدعابد علی (PhD. in Education) بمقام: C-27, block-D, North Nazimabad, Near five star chowrangi. 23 April 2017 بروز اتوار شام 5 بجے آپ سے شرکت کی اور وقت کی پابندی کی خصوصی درخواست ہے۔ جزاک اللّه ہو خیرن و احسن الجزاء RSVP Rizwan Ahmed 0333-3353133
    0 Commentarios 0 Acciones 207 Views
Resultados de la búsqueda